ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی
یشودھا کی ہم جنس زلیخا کی بیٹی
پیمبر کی امت زلیخا کی بیٹی
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں
ذرا ملک کے رہبروں کو بلاؤ
یہ کوچے یہ گلیاں یہ منظر دکھاؤ
ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں

ساحر لدھیانوی نے یہ نظم بیسواؤں کی بے کسی پر لکھی تھی لیکن 14 اگست کو مینار پاکستان کے سائے تلے ایک خاتون کی بے کسی تو بیسواؤں سے بھی سوا تھی۔ وہ تو کسی بند دروازے کے پیچھے کسی چار دیواری میں روندی جاتی ہیں پرچم رنگ لباس میں لپٹی اس خاتون کو تو ہزاروں کے مجمعے میں بے حرمت کیا گیا۔ نہ ماہ محرم کی حرمت کسی کو یار رہی، نہ 14 اگست روز تجدید عہد، نہ مینار پاکستان کا تقدس۔

عین اسی مقام پر جہاں اکیاسی سال پہلے ایک علیحدہ ملک حاصل کرنے کی قرارداد منظور کی گئی تھی جہاں مسلمانان ہند اسلام کے مطابق آزادانہ زندگی بسر کرسکیں، دو چار نہیں سینکڑوں مسلمانوں نے ایک خاتون کی آزادی کو یوں نشان عبرت بنایا کہ دنوں مہینوں یا شاید زندگی بھر خواتین اس جگہ جانے کا سوچ کر بھی لرز جائیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ 14، اگست کو مینار پاکستان پر ہجوم متوقع ہوتا ہے اور ناگہانی سے نبٹنے کے لئے انتظامیہ کو مستعد رہنے کی ضرورت تھی۔ قانون نافذ کرنے والے کہاں مدہوش پڑے تھے کہ ڈھائی گھنٹے تک وحشت و بربریت کا یہ کھیل کھیلا جاتا رہا اور کوئی روکنے والا نہ تھا۔ اور آئے تو کیا آئے

سوشل میڈیا کے آرسی مصحف کے بعد اگر افسران ہمدردی کا دکھاوا کرنے مظلوم کے پاس جاتے ہیں تو کیا حاصل۔
آخر شب دید کے قابل تھی حالت بسمل
صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

دل خوش فہم کو امید ہے کہ مجرم گرفت میں آئیں گے اور قرار واقعی سزا پا سکیں گے۔

مقام حیرت یہ بھی ہے کہ جب جنسی بھیڑیے ایک عورت کو نوچ کھسوٹ رہے تھے بے لباس کر رہے تھے تو وہاں موجود بقیہ ہزاروں تماشا دیکھ رہے تھے۔ کسی کی حمیت نہ جاگی کسی کے بازو میں دم نہ تھا۔ ایسا کیوں تھا۔ ایسا اس لیے تھا کہ وہ سارے مرد بھی اپنے گھروں میں اپنی عورتوں کے ساتھ یہی کرتے ہیں۔ یہ مائنڈ سیٹ ہے یہ کلچر ہے۔ روزانہ کتنی خواتین چار دیواری میں یونہی زدو کوب ہوتی ہیں۔ وحشی مردوں کا غیض و غضب صرف بال نوچنے، تھپڑ مارنے، ٹھوکریں لگانے سے ٹھنڈا نہیں ہوتا بلکہ جب تک گریبان پھاڑ کر دامن سے نہ ملا دیں ان کی وحشت کو تسکین نہیں ملتی۔ اور اس کے لئے ان کے پاس جواز بھی موجود ہے کہ نافرمان عورت زبان چلانے سے باز کیوں نہیں آتی۔

یہ وہی مردو زن ہیں جو آج اس بہیمانہ واقعے کی مذمت کرتے بھی ہیں تو لیکن، اگر، مگر کے سابقے لگا دیتے ہیں وہ ٹک ٹاکر تھی، وہ وہاں گئی کیوں تھی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مرے پر بھی سو درے مارتے ہیں۔ اس مائنڈ سیٹ کو بدلنے کے لئے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ اخلاقی انحطاط کے اسباب کو جاننے کی ضرورت ہے۔ کیا والدین نے تربیت سے ہاتھ اٹھا لیا ہے یا استاد کی چوک ہے۔ یا والدین کو بھی تربیت کی ضرورت ہے۔ والدین کو بیٹیوں کی ہی نہیں بیٹوں کو بھی سمجھانے اور سکھانے کی ضرورت ہے کہ اخلاقی اور معاشرتی اقدار کیا ہیں ماں اور بہن کے لئے طیش میں آنے والے بیٹوں کو دوسری عورتوں کی عزت کرنا سکھانے کی ضرورت ہے۔ ساس کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ بہو کے تحفظ پر ڈٹ کر کھڑی ہوگی تو کہیں اور اس کی بیٹی بھی محفوظ رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words