مینار پاکستان اور قرارداد احترام نسواں
” دنیا میں کہیں کسی قرارداد کو منظور کرنے کی یاد اس طرح نہیں منائی گئی کہ جلسہ گاہ میں ایک مینار تعمیر کیا جائے“ بحوالہ: آواز دوست، مختار مسعود۔ مصنف نے یہ بات منٹو پارک ( گریٹر اقبال پارک ) کے بارے میں کہی۔
کون نہیں جانتا کہ اس جگہ کون سی قرارداد پاس ہوئی اس کے نتیجے میں کیا حاصل ہوا۔ اور یہ کہ جلسہ گاہ میں تعمیر مینار کو ”مینار پاکستان“ کہتے ہیں۔ اب تک اس مینار کی شہرت کی وجہ صرف قرارداد پاکستان تھی۔ آنے والے وقتوں میں اس کا حوالہ ایک پاکستانی لڑکی کی ہجوم کے ہاتھوں بے عزتی، رسوائی اور عصمت دری بھی ہوگا اور اس پر ستم یہ کہ یہ سانحہ چودہ اگست کے دن کو ہوا۔ یہ ہجوم قریب قریب سارا ہی مسلمان تھا اور اپنے گھروں میں اپنی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں سے ضرور اعلی اخلاق سے پیش آتا ہوگا۔
چار سے پانچ سو لوگوں نے ایک آزاد وطن کے آزاد شہری ہونے کے ناتے، آزادی سے نے اس لڑکی کو ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور یوں تحریک آزادی کے ایک اور باب کو رقم کیا۔ بہت سے لوگوں کو تاریخ کے کچھ دلگیر واقعات پر یقین نہیں آتا ہوگا کہ کیسے چند سنگ دلوں نے عورتوں کے تقدس کو پامال کیا ہوگا۔ سو عصر حاضر کی اس مثال کو سامنے رکھیں؟ جب انسانیت اندھی ہو تو یہ واقعات رونما ہوتے ہیں۔
اس مینار نے بھی کیا قسمت پائی ہے، قرارداد پاس ہوئی تو قیام پاکستان کے بعد کبھی قرارداد کی تاریخ پر اتفاق نہ ہوا تو کبھی متن پر سوال اٹھتے رہے۔ اور اب یہ انسانیت سوز، اخلاق باختہ حرکت ہے کہ جس نے پھر معاشرے کو تقسیم کر دیا۔ کوئی کہتا ہے وہ ٹک ٹاکر تھی اس نے خود لوگوں کو مدعو کر رکھا تھا۔ پیسے لے کر سیلفی لینے کا اعلان کیا تھا سو ایسا تو ہونا ہی تھا۔ کوئی یہ کہتا ہے کہ جب پتہ تھا کہ اتنے لوگ ہوں گے تو اسے وہاں جانا ہی نہیں چاہیے تھا وغیرہ، وغیرہ۔
کچھ احباب کے ہاں یہ تربیت کی کمی ہے۔ کیا کبھی کسی ملزم نے یہ کہا کہ اس کے والدین نے اسے کوئی جرم کرنے کے لئے اکسایا تھا؟ اگر یہ سب درست مان بھی لیا جائے تو کیا اخلاقیات اس امر کی اجازت دیتی ہے کہ ایک لڑکی کو اپنے درمیاں دیکھ کر اسے یوں کھینچا جائے اور بھنبوڑا جائے کہ درندے بھی پناہ مانگیں اور مظلومہ اپنی زندگی سے شرمندہ ہو جائے؟ ایک مناسب لباس عورت کی شان ہے مگر کیا لباس اس کے لئے ڈھال بھی ثابت ہو سکتی ہے کہ اس کو درندگی سے بچا لے؟ اگر یہ دلیل درست ہے تو اس لڑکی کے لباس میں تو کوئی برائی نہ تھی؟ یورپ میں اور بہت سے مغربی ممالک میں آدھے لباس میں گھومتی پھرتی خواتین پھر کیسے اس طرح کے واقعات سے محفوظ رہتی ہیں؟
کمال یہ ہے کہ یہ وہ قوم ہے جو اس بات پر فخر کرتی نہیں تھکتی کہ ہم پاکستانی عورتوں کی عزت کرتے ہیں۔ کیا واقعی؟ اس نعرے میں کتنا دم خم ہے۔ یہ تو پڑھنے والے جانتے ہوں گے۔ ہر وہ عورت جو کسی روزگار سے منسلک ہے اس بات کا جواب اس سے بہتر کوئی نہیں دے سکتا۔ وہ اس لئے کہ ایسی باہمت خواتین روز ان نظروں کا سامنا کرتی ہیں جو کام کرنے والی خواتین کو اس طرح سے دیکھتی ہیں کہ گویا وہ نمائش کی چیزیں ہوں۔ ظاہر ہے یہ سب مردوں کے لئے نہیں ہے مگر ایک قلیل تعداد بھی ایسی ہے تو بہرحال اس گروہ کی رسوائی کے لئے بہت ہے۔
ایک مرد ہونے کے ناتے اگر کوئی کسی کو محض مسلسل گھورتا رہے تو عجیب ناگواری کا احساس ہوتا ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خواتین کو اس بے چینی کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو؟ کیا پاکستانی معاشرہ یہ طے کر چکا ہے کہ کام کرنے والی خواتین کے اچھے کپڑے پہننا، اچھا نظر آنا، خوش اخلاقی سے بات کرنا اور توجہ سے بات سننا اس امر کا اشارہ ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی مردانہ جنسی تحریک اور پہل کو ہر صورت خوش آمدید کہہ دیں گی؟
کیا ہم یہ طے کر چکے ہیں کہ کام کرنے والی یا کسی بھی ضرورت سے گھر سے باہر قدم رکھنے والی خواتین مردوں کی نظروں، زبان، سماعتوں کے لئے ایک تر نوالہ ہیں؟ مجھے لگتا ہے کہ جس دھڑلے سے اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں ان کے پیچھے یہی بیمار، فرسودہ اور تعصب پر مبنی سوچ ہے۔ ورنہ اپنے خاندان میں ہونے والے شادی بیاہ کے موقع پر بھی تو خواتین کے ہجوم ہوتے ہیں۔ وہاں یہ بیمار درندے کیوں انسان بنے رہتے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں انھیں ان کی حرکتوں کے نتیجے میں ہونے والی شکایات اور خواتین کے احتجاج کے بعد ہونے والی جگ ہنسائی سے ڈر لگتا ہے؟
کوئی عوامی اجتماع ہو، جلسہ ہو کوئی موسیقی کا شو ہو، وہاں آنے والی خواتین کو اکثر اس طرح کے مسائل کا سامنا ہوتا رہتا ہے۔ زبان درازی اور اس سے ہونے والی خواتین کی دل آزاریاں تو بہت ہی عام ہیں۔ کیا اس طرح کی قبیح حرکت کرنے والے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اپنے گھر کی خواتین کے علاوہ اور کسی خاتون کی عزت، عزت نہیں؟
ہر بات پر اسلام، اسلام کی رٹ لگانے والے بھول بیٹھے ہیں کہ عورت کو اس عالمگیر مذہب نے کام کرنے، کمانے، ملکیت، علم، عزت، آزادی، انتخاب، سوچنے، نقل و حمل، شادی وغیرہ کے حق دے رکھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نکاح کے وقت لڑکے اور لڑکی سے پوچھا جاتا ہے تاکہ ایجاب و قبول کی حجت تمام ہو۔ اس معاشرے کو یہ سمجھنے میں اور کتنا وقت لگے گا کہ جب تک زبان سے اقرار نہ ہو نکاح جیسا عمرانی معاہدہ وقوع پذیر نہیں ہوتا۔ اور تو اور ایسے تمام ناجائز اور غیر ازدواجی تعلقات جہان شادی شدہ مرد وزن اپنے اپنے نکاح کو داغدار کرتے ہیں، اس میں بھی باہمی رضا کو عمل دخل ہوتا ہے۔ سو حاصل بحث یہ ہوا کہ کسی قسم کے معاہدے میں فریقین کی باہمی رضا ضروری ہے۔ سو یہ اصول سمجھنے میں کون سا امر مانع ہے جو اوباشوں کو
پھر بھی ان باعث شرمندگی افعال کو کر گزرنے پر اکساتا ہے۔ جس بھی زاویے سے دیکھیں درج ذیل وجوہات ہی نظر آئیں گی:
1۔ ہر وہ عورت جو گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھتی ہے وہ مرد کے لئے اپنی نظری، جسمانی ہوس پوری کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اب چاہے ویگن، بس، ریلوے ہو یا جہاز کی سواری ہر جگہ عورت ہی شکار ہے اور صیاد ہمسفر۔
2۔ اسلام نے خواتین کو اوپر بیان کیے گئے جو حق دے رکھے ہیں۔ معاشرہ انھیں وہ حقوق دینے میں تامل کا شکار ہے۔ اور ظاہر ہے معاشرے سے مطلب وہ لوگ ہیں جن کے نزدیک عورتیں محض اس دنیا میں ان کی تسکین طبع کے لئے ہیں اور اس کے علاوہ انھیں کوئی کام نہیں۔ سو نہ ہی انھیں وراثت میں حق مل سکتا ہے اور نہ ہی اپنی زندگی کو اپنے ڈھنگ اور آہنگ سے گزارنے کی آزادی۔
3۔ متعصب سوچ کہ فنون لطیفہ سے جڑی ہوئی خواتین، خدانخواستہ، بد کردار ہیں۔ اب چاہے کوئی عورت، ٹک ٹاکر ہو، فیس بک، انسٹا گرام، یو ٹیوب پر ہو، یا تفریح کے کسی بھی میدان میں لوگوں کے لئے وہ ایک باکرہ عورت نہیں ہو سکتی۔
4۔ ایک اور پراگندہ سوچ یہ بھی ہے کہ عورت تو کمزور ہے سو وہ بولے گی نہیں اور خاموش رہے گی سو ہاتھ صاف کر لئے جائیں۔
5۔ ذرائع ابلاغ پر عورت کو کمتر، محتاج، بے عقل، توہم پرست اور معاشی طور پر بے کار ہستی اتنے تواتر سے دکھایا جاتا ہے کہ عورتوں کی ایک بڑی تعداد اس سے متاثر ہوتی ہے۔ ایسے معاشرتی نظام کی ترویج کے ہوتے ہوئے عورت کو معاشرے میں موجود مرد بھلا کہاں اپنے برابر کا سمجھ سکتے ہیں۔
5۔ اور آخری وجہ انتظامی ہے۔ آئے دنوں اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے انصاف کے نظام کی سست روی اور پیچیدگی اس طرح کے واقعات میں شکار ہونے والی خواتین کے انتظار کو اس قدر طویل کر دیتے ہیں کہ وہ مدعیت سے ہی دستبردار ہو جاتی ہیں۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ مستقل مزاجی سے کوئی پیروی کرے اور ظالم کو اپنے انجام تک پہنچتا دیکھے۔ یا اس طرح کی خبر کو وزیراعلی یا وزیراعظم ٹی وی پر دیکھ کر نوٹس لے لیں تو کچھ امید بندھ جاتی ہے کہ معاملہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ جائے گا۔
لکھنے پر آئیے تو اور وجوہات بھی مل ہی جائیں گی۔ مگر اس بحث سے کیا حاصل۔ فقط اس سوچ کی ترویج و اشاعت میں کیا برائی ہے کہ عورت ہر روپ میں عزت کی حقدار ہے اور نرمی کی متمنی۔ عورت کے مقام سے متعلق اسلامی حوالے دن رات سوشل میڈیا پر گھومتے ہیں۔ مدرسوں اور سکولوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اب ضرورت ہے کہ ان کی منطق بھی سمجھائی جائے۔ وگرنی محض رٹوانے سے تو کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔ وطن عزیز میں کبھی زینب پامال ہے تو کبھی نور مقدم مظلوم۔ کبھی کوئی دلخراش واقعہ ہے تو کبھی کوئی اور درندگی کی داستان۔
جان لیجیے اگر کوئی شخص کسی معاملے کے بارے میں کوئی نقطہ نظر قائم کر لے تو اس کے ذہن میں کوئی دوسرا خیال نہیں آتا اور ایسی صورت میں وہ دوسروں کے موقف اور سچائی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے نظریے پر قائم رہتا ہے۔ (حکایات رومی سے ماخوذ) ۔ ہمیں عورتوں سے متعلق اپنے نقطہ نظر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ جلد یا بدیر یہی اس سڑاند بھرے معاشرے کا علاج ہے۔
ایک قرارداد کے سات سال بعد پاکستان معرض وجود میں آیا تھا۔ کیا آج ایک اور قرارداد یہ معاشرہ پاس کر سکتا ہے کہ اس کی بقا کی ضامن اس معاشرے سے جڑی وہ خواتین ہیں جو اس کا نصف ہیں اور ان کا احترام ہم پر فرض ہے مزید کہ ہمیں عورتوں سے متعلق اپنے خیالات کو بدلنے یا بہتر کرنے کی ضرورت ہے؟


