ڈھیری گاؤں کے پنگھٹ (گودر) کا کردار

حیوانات اور نباتات پانی کے بغیر حیات نہیں رہ سکتے۔ کرہ ارض پر پانی کے بغیر زندگی ناممکن ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ اس ساری کائنات کی خوبصورتی کا راز پانی میں پوشیدہ ہے۔ جہاں پانی زیادہ ہوتا ہے، وہاں اتنی ہی زیادہ خوبصورتی اور نکھار ہوتی ہے۔ پانی کے قدرتی ذرائع سمندر، دریا، چشمے، کنویں، پنگھٹ (گودر) ، بارش اور برف ہوتے ہیں۔ ان تمام میں پنگھٹ اور چشموں سے عام لوگ زیادہ مستفید ہوتے ہیں۔ پھر ان دونوں میں پنگھٹ یعنی گودر افادیت کے لحاظ بہت اہمیت کا حامل ہے۔

دنیا میں جو آبادی پہاڑوں کے درمیان ہوتی ہے، وہاں خوڑ (ندی) یا پنگھٹ ضرور ہوتا ہے۔ صرف پاکستان میں نہیں ساری دنیا میں پنگھٹ آبادی کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں لیکن بعض گاؤں ایسے ہوتے ہیں جن کی آبادی کے متصل پنگھٹ بہتے ہیں۔ اسی صورت میں یہ نہ صرف گاؤں کی خوبصورتی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں بلکہ متعلقہ گاؤں کی سماجی، ثقافتی اور معاشی ضروریات پربھی بہت اثر انداز ہوتے ہیں۔

”ڈھیری“ ضلع مالاکنڈ کا ایک ایسا گاؤں ہے جس کو قدرت نے یہ تحفہ عطا کیا ہے۔ اس کے خوبصورت پہاڑوں سے نکلی ہوئی ندی (خوڑ) اس کی آبادی کے متصل بہتی ہے جو اہل گاؤں کے لئے پنگھٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ پنگھٹ ڈھیری گاؤں کے جنوب مغرب کی طرف پہاڑوں بنجو، گیرالہ، اتم بانڈہ، گیروشاہ، جاربٹ، پیزوان بانڈہ اور غونڈئی سے نکلتا ہے۔ یہ وہاں سے نکل کر سانپ کی طرح مختلف جگہوں سے بل کھاتا ہوا ڈھیری گاؤں پہنچ جا تا ہے۔

جن پہاڑوں سے یہ پنگھٹ نکلتا ہے، ایک زمانے میں ان پہاڑوں پر درخت اور گھاس زیادہ ہوتے تھے۔ اس کی وجہ سے زیادہ بارشیں ہوتی تھیں اور پنگھٹ پانی سے ہر وقت بھرا رہتا تھا۔ جو بارش بنجو نامی مقام کی طرف سے آ کر برستی تھی، وہ بہت زیادہ تیز ہو اور موسلادھار ہوتی تھی اور اس کے تیز ہونے کے متعلق ہمارے علاقے میں ایک کہاوت مشہور تھی۔

”چہ د بنجو نہ باران راشی نو طاقتورہ زنانہ تری کٹ نشی منڈو تہ کولے۔“

ترجمہ: بنجو کی طرف سے آنے والی بارش اتنی تیز اور زوردار ہوتی ہے کہ ایک صحت مند اور طاقت ور عورت بھی چارپائی صحن سے برآمدے تک نہیں لے جا سکتی۔

ان پہاڑوں میں زیادہ تر قدرتی چشمے واقع ہیں جن کی وجہ سے بھی پنگھٹ میں پانی ہر وقت رواں دواں رہتا ہے۔ ان چشموں میں چناربانڈہ، جلالکوٹ اور کڑہ مار بدرگرہ کے چشمے قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ جلال کوٹ سے ڈھیری گاؤں تک اس کے کناروں میں بہت زیادہ چھوٹے چھوٹے پانی کے قدرتی چشمے تھے جنہوں نے اس پنگھٹ کی خوبصورتی اور اس کے فراواں پانی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔

اس پنگھٹ نے ڈھیری جولگرام کی معیشت، زراعت، ثقافت اور سماجی میل جول میں بھی مثبت کردار ادا کیا ہے اور اب بھی ادا کر رہا ہے۔ یہ پنگھٹ جلال کوٹ سے ہوتا ہوا مٹی کے ایک بہت بڑے ٹیلے سے گزرتا ہے جس کا نام چندڑئی ہے یہاں یہ پنگھٹ اتنا گہرا ہو گیا تھا کہ لوگ اس میں مچھلیوں کا شکار کرتے تھے۔ اس چندڑئی کے مقام پراس سے ایک ندی (چینل) نکالی گئی تھی جو کئی ایکڑ زمین کو سیراب کرتی تھی۔ چونکہ اس چینل کی وجہ سے یہ زمین ہر وقت ہری بھری رہتی تھی، اس وجہ سے اس کو ”پمبہ زارہ“ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ چندڑئی کے بعد پنگھٹ جس جگہ سے گزرتا ہے، اس جگہ پر پنگھٹ کے دونوں اطراف میں خود رو قدرتی سبزہ زار نے جو حسن و جمال اس مقام کو بخشا ہے، اس کا اندازہ اس وقت ہو سکتا ہے جب شام ڈھلنے سے پہلے آپ وہاں دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں کے لئے بیٹھ جائیں اور قرب و جوار کا سبزہ

آپ کی آنکھوں کو طراوت اور دماغ کو ٹھنڈک بخشنا شروع کردیتا ہے۔ اس جگہ کے بعد یہ پنگھٹ ڈھیری گاؤں کی آبادی سے ہوتا ہوا عام سڑک سے گزر کر جولگرام کی حدود میں داخل ہوتا ہے۔ موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے یہ اب تقریباً ویران پڑا ہے لیکن پنگھٹ کے دونوں اطراف میں سرسبز درخت اور پودے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ پنگھٹ کا اس گاؤں کی خوبصورتی میں ایک مسلمہ کردار رہا ہے۔

ڈھیری گاؤں میں ”زیڑی بابا“ کے ساتھ اس پنگھٹ کے مغربی کنارے پر ایک دوسری بڑی ندی (ولہ) سڑک کے متوازی نکالی گئی تھی جس کو ”منڈی کا ولہ“ کہا جاتا تھا اور اس سے جولگرام کی زمین سیراب ہوتی تھی۔ بنجو نامی مقام کی تیز بارش سے ”منڈی ولہ“ اکثر بپھر جاتا ہے جس کے بارے میں مقامی طور پر لڑکے یہ شعر پڑھ کر گاتے تھے کہ:

پہ بنجو باران راغے ولہئی ویوڑہ د منڈی
ناصر خان کئی چونڈی

ترجمہ: بنجو کی طرف سے جب بارش آ جاتی ہے تومنڈی کے ولہ کو بہا دیتی ہے اور اس سے ناصر خان بہت ڈر جا تا ہے۔ (شاید اس زمانے میں ناصر خان نامی شخص کو منڈی ولہ کی نگہداشت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی)

اس نے علاقے کی ثقافت اور کھیل میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یہاں مختلف قسم کے کھیل فٹ بال اور والی بال کھیلے جاتے تھے اور جب عید کے میلوں میں جواری کا عنصر داخل ہوا تو خونہ بابا کی بجائے عید کے میلے یہاں لگنا شروع ہو گئے۔ یہ مقام ڈھیری گاؤں کے سکول کے فٹ بال کے گراؤنڈ کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس جگہ کا لوگوں کے مذہبی فرائض اور رسومات میں بھی بنیادی کردار رہا ہے۔ گاؤں کی جو مساجد اس پنگھٹ کے نزدیک تھیں، ان کے تقریباً تمام نمازی وضو اس کے پانی سے کرتے تھے۔ اس کی حدود میں ایک باقاعدہ جناز گاہ بھی بنائی گئی ہے جس میں علاقے کے مرحومین کی نماز جنازہ پڑھائی جاتی ہے۔ سیاسی پارٹیاں پنگھٹ کے قرب میں واقع میدان میں سیاسی جلسے اور میٹنگز منعقد کراتے ہیں اور اس وجہ سے اس پنگھٹ کا علاقائی سیاست میں ایک مسلمہ کردار ہے۔

ڈھیری گاؤں کی حدود میں سڑک کے مغربی کنارے پر مختلف قسم کے پیشوں اور کاروبار سے متعلق دکانیں بن گئی ہیں جنہوں نے ایک باقاعدہ مارکیٹ کی شکل اختیار کرلی ہے جو روزگار کے علاوہ ضروریات زندگی لوگوں کو آسانی سے مہیا کر دیتی ہیں۔

ڈھیری کے پنگھٹ نے اس وقت لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی جب یہاں پر باقاعدگی کے ساتھ عیدالاضحٰی سے پہلے مویشیوں کا میلہ لگنا شروع ہوا۔ یہ میلہ عید سے بارہ دس دن پہلے شروع ہو کر عید کی رات تک جاری رہتا ہے۔ علاقے کے وہ تمام کاشتکار، زمیندار اور محنت کش جو زراعت سے وابستہ ہیں، اپنی مویشیوں کو میلہ میں فروخت کر کے زرعی آمدنی میں اضافہ کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق یہاں روزانہ دو سو کے قریب مویشی آس پاس کے مضافات سے لائے جاتے ہیں۔

تقریباً بیس پچیس جانور روزانہ فروخت کیے جاتے ہیں جس سے دس بارہ لاکھ روپے کا کاروبار ہوتا ہے۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا اگر چہ پنگھٹ کی خوبصورتی موسمی تغیرات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے اور پانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ گودر پہلے کی طرح خوبصورت نہیں رہا ہے لیکن پھر بھی میلوں اور دوسری مثبت سرگرمیوں کی بدولت اس نے اپنی اہمیت برقرار رکھی ہوئی ہے۔

اس پنگھٹ کے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کو مزید بربادی سے بچانے کے لیے موجودہ وسائل کے اندر کوشش کرنی چاہیے۔ جس کا بس چلے ملحقہ پہاڑوں پر زیادہ پودے لگائے اور پلاسٹک کی بیکار چیزوں کو اس میں ہرگز نہ پھینکے۔ پنگھٹ کے سنگ

پیدل چلنے کے دوران اگر کسی کو یہ اندازہ ہو جائے کہ یہاں کہیں چشمہ تھا تو اس جگہ کو صاف کر کے اس میں تھوڑی سی کھدائی کی جائے تو شاید اس سے پرانا چشمہ بحال ہو جا سکے۔

پنگھٹ (گودر) کے بغیر ہماری پختونوں کی زندگی ادھوری ہے۔ گودر ہماری پشتون ثقافت کا ایک اہم جز ہے۔ اس کے ساتھ ایک شاعرانہ اور رومانی تصور بھی وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پشتو شاعری میں گودر کا ذکر بہت زیادہ ہواہے۔ پشتو کا کوئی شاعر ایسا نہیں گزرا ہے جس نے پنگھٹ کی خوبصورتی اور جمال کی اپنے اشعار میں منظرکشی نہ کی ہو۔ اکثر رومانوی کہانیوں، محبت بھرے افسانوں اور فلموں کا مرکز بھی گودر ہوتا ہے۔ پنگھٹ محبتیں اور خوبصورتی بانٹتا ہے، اس کی حفاظت ہم سب پر فرض ہے۔

خیر دے وختونہ کہ بدلیگی گودر مہ ورانوئ
پیغلے بہ چرتہ راٹولیگی گودر مہ ورانوئ

ترجمہ: کوئی بات نہیں اگر وقت نے پلٹا کھایا ہے اور اس کے تقاضے بدل رہے ہیں لیکن گودر (پنگھٹ) کو مسمار نہ ہونے دیں۔ دوشیزائیں کہاں اکٹھی ہوں گی، اگر گودر کو مسمار کر دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words