کیا میرے باپ بھائی شوہر بیٹا انہی چار سو میں شامل ہیں؟

میرا دل کرتا ہے میں کتابیں پڑھوں، بہت سارا کام کروں، پیسے کماؤں، دنیا گھوموں، چھٹیاں مناؤں، ریلیکس ہونے کے لیے اپنی مرضی کے کام کروں اور اپنی مرضی کی جگہوں کی سیر کروں۔ میری ان خواہشوں کے اظہار سے اور انہیں پورا کرنے کے ارادے سے اگر تمہارا سر شرم سے جھک جاتا ہے تو تم ان چار سو مردوں میں سے ہی ہو جو یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی ایسی خواہشات پوری کرنے والی عورتیں گندی ہوتی ہیں اور ان کے ساتھ دراز دستی تو ہو گی اس میں مردوں کا کیا قصور۔

تم ان چار سو مردوں سے مختلف نہیں ہو کیونکہ تمہاری سوچ ان سے مختلف نہیں ہے۔ اور وہ سوچ ہی تو ہے جو عورت کے خلاف اس طرح کے تشدد کا باعث بنتی ہے۔ اور اگر تم ان چار سو عورت دشمن مردوں سے مختلف ہو تو پھر یہ ثابت کرو۔ تمہارا ٹیسٹ ہے۔

میرے پیدا ہونے پر تم نے کیسا محسوس کیا تھا؟ اگر روئے نہیں تھے تو بھی تم اتنے خوش نہیں ہوئے تھے جتنا بیٹا پیدا ہونے پر ہوتے ہو۔ یہ پہلا قدم ہے اور بہت اہم ہے کیونکہ جب تم میری پیدائش پر ہی شرمندہ ہو اور بیٹی کا پیدا ہونا بدقسمتی سمجھتے ہو تو پھر بعد میں کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔

جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے میں دیکھ اور سن رہی ہوں کہ میں اور گھر میں بسنے والی دوسری عورتوں کی زندگیاں گھر میں رہنے والے مردوں کے ماتحت ہیں۔ ہم ان کی خدمت کرنے کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ ہم کم عقل ہیں اور اپنے فیصلے خود نہیں کر سکتے۔ میری زندگی کے فیصلوں میں مجھے وہ آزادی اور اختیار نہیں ہے جو اسی گھر میں رہنے والے مردوں کو ہے۔ اگر تم ان چار سو مردوں میں سے نہیں ہو تو پھر اس بات کا اقرار کرو کہ میرے خلاف عورت ہونے کی وجہ سے امتیازی سلوک ہو رہا ہے اور یہ نا انصافی ہے۔

تم یہ سمجھتے ہو کہ ہمیں یعنی لڑکیوں کو صرف ایک محتاط سی زندگی جینے کا حق ہے۔ ہم ایک آزاد زندگی گزارنے کے قابل نہیں ہیں۔ ہم ادھوری ہیں اور ہماری زندگی کے ہر مرحلے پر ہمیں مرد کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ ہم مردوں کی خدمت اور فرمانبرداری کے لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اور ہم میں سے جو عورت ایسا نہیں کرے گی وہ گندی اور بری عورت ہے۔ اسے جینے کا بھی حق نہیں ہے۔ تو میرے پیارے رکھوالو، اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مجھے اپنی زندگی کسی نہ کسی مرد کی حکومت کے تحت گزارنا چاہیے تو پھر آپ انہی چار سو مردوں میں سے ہو جنہوں نے اس خاتون کو آزاد گھومتا دیکھا اور اس پر حملہ آور ہوئے۔

گھر میں ہر وقت یہ فکر رہتی ہے کہ میری شادی کب اور کس سے ہو گی اور یہ کہ میری ماں نے مجھے ایک اچھی بیوی کے طور پر تیار کر دیا ہے یا نہیں۔ میں کہیں سسرال میں جا کر اپنی زبان تو نہیں چلاؤں گی۔ اپنے مجازی خدا کی خدمت کر کے جنت کما سکوں گی یا نہیں۔ میری شادی کی بات میرے علاوہ ہر کسی سے ہو رہی ہے۔ میری شادی کے متعلق فیصلہ میرا حق ہے۔ میں شادی کرنا چاہتی ہوں یا نہیں، کرنا چاہتی ہوں تو کس سے، کب کرنا چاہی ہوں اور اگر میں نے شادی کر لی ہے تو میں اس کو قائم رکھنا چاہتی ہوں یا نہیں۔ یہ تمام فیصلے کرنا میرا حق ہے۔ اگر میں ان فیصلوں کے سلسلے میں اپنا حق استعمال کرتی ہوں اور تم اس بات شرمندہ ہوتے ہو یا اپنی عزت میں کمی محسوس کرتے ہو تو تم انہی چار سو بزدلوں میں سے ہو جو پارک میں ٹک ٹاک بنانے والی عورت کو پبلک پراپرٹی سمجھ کر اس پر پل پڑے تھے۔

میں زندہ لاش نہیں ہوں۔ میں ایک جیتی جاگتی انسان ہوں۔ مجھے بھوک لگتی ہے۔ پیاس محسوس ہوتی ہے۔ خوش ہوتی ہوں۔ انجوائے کرتی ہوں۔ بور ہوتی ہوں۔ ڈر محسوس کرتی ہوں۔ غمگین ہوتی ہوں ناراض ہوتی ہوں۔ تنگی محسوس کرتی ہوں۔ امیدیں باندھتی ہوں۔ نفرت کرتی ہوں پیار کرتی ہوں۔ اعتماد کرتی ہوں۔ میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں کارنامے کروں، نام کماؤں، مشہور ہوں اور لوگ میرے گن گائیں۔ میں امداد لینے والی کی بجائے مدد کرنے والی بننا چاہتی ہوں۔

پسند اور ناپسند ہے میری۔ رفاقت اور صحبت کی ضرورت محسوس کرتی ہوں۔ میرے فیصلے غلط یا ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ جنسی ضرورت ہے میری اور میں اس پر شرمندہ نہیں ہوں۔ اپنی پسند کے انسان کی طرف کشش محسوس کرتی ہوں۔ چاہے جانے کے خواب جاگتی آنکھوں سے دیکھتی ہوں۔ مرد، عورتیں اور ٹرانسجینڈر سارے انسان ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اگر میرے ان جذبات اور حساسیت پر آپ شرمندہ ہیں یا جب میں ان کا اظہار کروں تو آپ کو اپنی عزت میں کمی محسوس ہوتی ہے تو پھر آپ ان چار سو مردوں میں سے ہی ہیں جنہوں نے ایک لڑکی پر حملہ کیا کیونکہ وہ اپنے طریقے سے خوش ہونے کی کوشش کر رہی تھی۔

آپ سوچیں، تشخیص کریں اور اپنے مقام کا تعین کریں کہ پاکستان میں عورتوں اور لڑکیوں کے خلاف ہونے والی صنفی تفریق اور تشدد کے سلسلے میں آپ پارٹ آف دی پرابلم ہیں یا پارٹ آف دی سالوشن۔ کیا آپ انہی چار سو میں سے ہیں یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words