الزام عورت پر اور مجرم سے ہمدردی

موٹر وے کیس ہو، نور مقدم یا مینار پاکستان، ان میں ایک قدر مشترک ہے اور وہ یہ کہ الزام عورت پر لگایا گیا جبکہ مجرموں کے حق میں ایسے دلائل دیے گئے کہ قصوروار ہونے کے باوجود وہ معصوم نظر آئیں۔ اگر فوری طور پر کوئی دلیل نہ ملے تو وطن عزیز کے خود ساختہ دانشور ایک دو دن میں ہی کوئی نہ کوئی ایسا عذر تراش لیتے ہیں کہ جس کی بدولت متاثرہ عورت خود ہی اس واقعے کی ذمہ دار نظر آئے۔ اس کے بعد سوشل میڈیا پر اس طرح کی خبریں لگتی ہیں کہ فلاں کیس کی اصل حقیقت سامنے آ گئی، فلاں عورت نے خود ہی قاتل کو بلایا تھا۔ بعض لال بجھکڑ تو یہاں تک ثابت کر دیتے ہیں کہ فلاں لڑکی نے پہلے اپنا ریپ کروایا پھر ریپیسٹ سے خود اپنا گلا کٹوا لیا۔ وہ بے چارہ تو بے بس تھا۔

موجودہ مینار پاکستان کیس کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ عائشہ اکرم سے بدسلوکی کے بعد پہلی تھیوری یہ لائی گئی کہ وہ انڈیا کا جھنڈا مینار پاکستان پر لہرا رہی تھی جس کی وجہ سے چار سو نوجوانوں کو غصہ آ گیا۔ اس کے بعد کہا گیا کہ وہ ٹک ٹاکر ہے، اس نے خود ہی اپنے فینز کو بلایا تھا۔ فینز آخر مرد تھے اس لیے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور دست درازی کرنے لگے۔ اس کے بعد ایک اور عجیب و غریب تھیوری لائی گئی کہ لڑکی کے ساتھ کچھ ہوا ہی نہیں۔ وہ گریٹر اقبال پارک میں اپنے فینز سے ملی، ان کے ساتھ سیلفیاں بنوائیں اور بخیر و عافیت اپنے گھر آ گئی۔ بعد ازاں ویڈیو وائرل ہوئی تو اس نے شہرت کے لیے یہ کہانی گھڑ لی۔ اقرار الحسن اور یاسر شامی کو دیا جانے والا انٹرویو اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

اسکے بعد کی تھیوری تو کمال کی ہے کہ سارا پلان ہی اقرار الحسن کا تھا۔ اس نے لڑکی سے کہا کہ چار سو لڑکوں کو بلاؤ، ان سے دست درازی کرواؤ اور ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دو۔ یہ سب کچھ شہرت کے لیے کیا گیا۔ بلکہ یہ بھی کہ اقرار الحسن نے نئی جاب حاصل کرنی تھی اس لیے یہ سب کیا گیا۔

ان سب تھیوریز پر غور کریں، قصوروار عائشہ اکرم نظر آتی ہے۔ اقرارالحسن کو شاید اس بات کی سزا دی گئی کہ اس نے کھل کر اس کی حمایت کی تھی اور بدسلوکی کرنے والوں کو حیوان قرار دیا تھا۔ در اصل یہی وہ رویہ ہے جس کہ وجہ سے ایسے واقعات ایک تسلسل سے ہو رہے ہیں اور ان کے رکنے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ جیسا کہ ابھی ایک رکشے میں سفر کرتی لڑکیوں سے بدسلوکی اور دست درازی کی ویڈیو سامنے آئی ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی ہمارے ”دانشور“ ان لڑکیوں کی مخالفت میں اور بدسلوکی کرنے والے لڑکوں کے حق میں کوئی نہ کوئی دلیل گھڑ لیں گے۔

چند دلائل تو گھڑے گھڑائے ہیں۔ مثلاً لڑکی نے کوئی اشارہ دیا ہو گا، لڑکی کا لباس مناسب نہیں تھا، وہ محرم کے بغیر کیوں نکلی، سنسان سڑک پر جانے کی کیا ضرورت تھی، رش میں جانے کی کیا ضرورت تھی، اس نے چھیڑنے والوں کو خود دعوت دی تھی وغیرہ وغیرہ۔

کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مگر یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں عورتیں نہایت غیر محفوظ ہیں۔ عورت کے ساتھ ریپ، اغوا، قتل، جبری شادی، جنسی ہراسانی، تیزاب گردی، کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ موٹر وے، مینار پاکستان، پارک، سیاسی جلسے، سکول، کالج، یونیورسٹی، مارکیٹ، بس، ٹرین، ہوائی جہاز، دفتر، گھر، قبر، کون سی ایسی جگہ ہے جہاں عورت محفوظ ہے۔

اگر کوئی کالم نگار مظلوم کی حق میں کالم لکھ دے، فلم ساز فلم بنائے، صحافی رپورٹ لکھ دے تو سوشل میڈیا کے صالحین اور خود ساختہ قومی دانشور بھی لٹھ لے کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ وہ ملک کو بدنام کر رہا ہے۔ یعنی ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن ان واقعات کی رپورٹنگ یا ان کی مذمت کرنے سے ملک بدنام ہوتا ہے۔

پھر یہ لوگ فوراً وکٹم بلیمنگ شروع کر دیتے ہیں اور اس سے مجرم کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس عمل سے ایک تو وہ مجرم کی حمایت کرتے ہیں دوسرا مجرم کو اس کے جرم کا جواز فراہم کرتے ہیں۔ جس معاشرے کا یہ مائنڈ سیٹ ہو وہاں جرائم میں کمی نہیں آتی بلکہ اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور یہی ہو رہا ہے۔

عورت پر الزام دھرنے والے ساتھ ہی یہ دعویٰ کرنے سے بھی نہیں چوکتے کہ جتنا احترام ہم عورت کو دیتے ہیں کسی معاشرے میں نہیں۔ مگر عین اسی وقت مجرم سے ہمدردی جتاتے ہوئے وہ اپنے ہی دعوے کی نفی کر رہے ہوتے ہیں۔ چناں چہ سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے سماج میں عورت پر الزام اور مجرم سے ہمدردی کیوں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words