ٹک ٹاکر عائشہ کے متعلق بات کرنا ان چار سو بھیڑیوں کی حمایت بالکل نہیں


گزشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر ایسی متعدد پوسٹس نظر سے گزر رہی جس میں لوگ اپنی فرینڈ لسٹ میں موجود ایسے لوگوں کو ان فرینڈ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں جو ان کے کے مطابق مینار پاکستان پر رونما ہونے والے شرمناک واقعے میں درندوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ میری فیس بک وال پر ایسی ہی ایک پوسٹ نجی چینل سے وابستہ معروف ٹی وی اینکر کے حوالے سے تھی جن کے اوپر الزام تھا کہ وہ درندوں کی حمایت کر رہے ہیں۔ جب ان صاحب کا پروفائل چیک کیا تو معلوم ہوا کہ درندوں کی حمایت تو ہرگز نہیں ہاں متاثرہ ٹک ٹاکر کے حوالے سے کوائف ضرور پوسٹ کیے گئے تھے۔ اب اس میں درندوں کی حمایت کہاں سے در آئی؟ یہ بات میری سمجھ میں تو بالکل نہیں آئی۔

بات کے آغاز سے قبل یہ سمجھ لینا ضروری ہے کہ لاہور واقعہ میں ٹک ٹاکر عائشہ کے متعلق بات کرنا ان چار سو بھیڑیوں کی حمایت بالکل نہیں ہے۔ بلکہ یہ تصویر کا وہ رخ ہے جس پر ”لبرلز“ کے خوف سے لوگ کھل کر بات کرنے سے گھبرا رہے ہیں۔ اور یہ بات بھی ضروری ہے کہ اس خاص واقعے کا جنسی ہراسانی اور زیادتی کے دیگر مکروہ واقعات سے تقابل کرنا کسی طور درست نہیں ہوگا۔

سینکڑوں درندوں کے بیچ پھنسی ایک لڑکی جس کے جسم پر درندے ایسے لپکے جیسے کتا بوٹی پر لپکتا ہے۔ ان ویڈیوز کو غور سے دیکھنا ہمارے کام کی مجبوری تھی۔ ایسا لگتا تھا وہ وحشی درندے عائشہ کے جسم کو نہیں بھنبھوڑ رہے بلکہ ہم سب کو سرعام برہنہ کر رہے ہیں۔ افسوس سا افسوس تھا کہ یہ جانور کس گھر میں پل رہے ہیں۔ قصور والدین کا ہے یا اساتذہ کا، دل چاہتا تھا ان تمام شیطانوں کو اپنے ہاتھ سے گولی مار کر آؤں۔ لیکن کیا آپ یقین کریں گے کہ اسی روز شام میں آنے والی دیگر وائرل ویڈیوز نے ایسا ہزار وولٹ کا جھٹکا دیا کہ عقل دنگ رہ گئی۔ مجھے لگا کسی نے بہت پلاننگ کے ساتھ مجھ سمیت پوری قوم کے جذبات سے کھلواڑ کیا ہے

پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی اسٹاف نرس عائشہ اور ان کے ”پارٹنر“ سہیل ٹک ٹاکر ہیں۔ عائشہ اکرم کو موبائل کے بے تحاشا استعمال کرنے پر دوبارہ نوٹس بھی جاری کیے گئے۔ وائرل ہونے والی ویڈیوز واضح ہے کہ عائشہ کا ٹک ٹاک مواد بے ہودگی پر مبنی ہے۔ جس میں عائشہ سہیل کے گلے کا ہار بنی ہوتی ہیں تو کہیں سہیل انہیں گود میں اٹھائے ناچ رہے ہوتے ہیں۔ ان بے ہودہ ویڈیوز کے طفیل ہزاروں لوگ انہیں فالو کرتے ہیں۔ تیرہ اگست کو عائشہ اپنے ہزاروں فینز کو ”خوش خبری“ سناتی ہیں کہ وہ یوم آزادی کے موقع پر مینار پاکستان پر اپنے ”فینز“ سے ملاقات کریں گی۔ ظاہر ہے جس قسم کی وہ ویڈیوز بنانے کی عادی ہیں اس میں سلجھے ہوئے لوگ تو انہیں فالو کر نہیں سکتے۔ یوں مینار پاکستان کی چھاؤں میں درندوں کا ایک جم غفیر ان کے گرد جمع ہو گیا۔

واقعے سے کچھ دیر قبل کی ویڈیوز میں عائشہ کو ان کے دوست سہیل جس بے ہودہ انداز میں پکڑ کر کھڑے ہیں اسے بھرے مجمع میں ایسا انداز کوئی شخص اپنی بیوی، بہن یا بیٹی کے لیے نہیں اپنا سکتا۔ جس کے بعد سیلفی لینے کے بہانے درندگی کا وہ کھیل شروع ہوا جس نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا۔

بھیانک سانحے سے دوچار ہونے والی ٹک ٹاکر عائشہ نے واقعے کے اگلے ہی روز 15 اگست کو اپنی ایک خوبصورت سی ہنستی مسکراتی تصویر شیئر کی۔ جس کو ان کے چاہنے والوں نے خوب سراہا۔ یعنی وہ اس سانحے کے رونما ہونے کے بعد جس کو دیکھ کر لوگوں کی روحیں کانپ گئیں نہ صرف اپنے حواسوں میں تھیں بلکہ سوشل میڈیا پر پہلے کی طرح ایکٹو بھی ہو گئیں۔ 16 اگست تک مینار پاکستان کے شرمناک واقعے کی فوٹیج وائرل ہو گئی جس کے بعد دو ”صحافیوں“ نے ان کا انٹرویو لیا، ویڈیو کلپ میں وضاحت دی گئی کہ انٹرویو میں چہرہ نہ چھپانے کا فیصلہ خود متاثرہ خاتون کا ہے۔

یاد رہے کہ موٹروے والے سانحے کی متاثرہ خاتون کی کوئی تصویر یا فوٹیج آج تک کسی نے نہیں دیکھی۔ لیکن محترمہ عائشہ اپنی ویڈیوز سے سستی شہرت کی خواہاں نظر آتی ہیں۔ سہیل نامی شخص جسے وہ اپنا ”پارٹنر“ قرار دیتی ہیں کے ساتھ انہوں نے ایک اور ویڈیو بھی اپ لوڈ کی جس میں سہیل قوم کی بیٹی کی عزت تار تار کرنے والوں کے خلاف انصاف کا تقاضا کر رہے ہیں اور بیک گراؤنڈ میں قوم کی بیٹی اداکارہ شبنم کی طرح سسکیاں بھرتی نظر آتی ہیں۔ یہ اداکارانہ صلاحیتیں ان کے ٹک ٹاک مواد کی طرح انتہائی تھرڈ کلاس ہیں جس کی وجہ سے ”فیک“ جذبات کسی اندھے کو بھی صاف نظر آرہے ہیں۔ عائشہ کو شہرت کی تلاش تھی جو اسے مل گئی اور اسے راتوں رات لاکھوں فالورز مل گئے۔

سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ الزام لگا رہے تھے کہ یہ واقعہ پری پلاننگ کا نتیجہ ہے۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ عائشہ اور اس کے ساتھیوں نے ایک نئی دھماکے دار ٹک ٹاک ویڈیو کے لیے یہ سارا منصوبہ تشکیل دیا تھا۔ جہاں اپنے دیدار کے لیے عائشہ نے ان درندوں کو خود مدعو کیا تھا۔ انہوں نے پلان دس فی صد کا کیا تھا جو ہزار فیصد دھماکے سے پھٹ پڑا۔ مینار پاکستان کی چھاؤں میں اس کے بعد جو کچھ ہوا اس سے شیطان بھی کانپ جائے۔ ان درندوں کی گرفتاری جتی ضروری ہے وہاں عائشہ جیسی سستی شہرت کے بھوکے لوگوں کا سدباب نہ ہونا ایسے مزید واقعات کو جنم دے گا۔ شاید اسی لیے آج پولیس نے سہیل عرف ریمبو کو بھی شامل تفتیش کر لیا ہے

عائشہ کا کیس ابھی میڈیا کی زینت ہے اسی لیے چار روز سے ملزمان کو پکڑنے کے دعوے اور باتیں ہو رہی ہیں۔ جنہیں ایک دن پکڑا جاتا ہے اور دوسرے دن رہا کر دیا جاتا ہے کہ یہ وہ نہیں جو فوٹیج میں نظر آرہے ہیں۔ یہ بات میں دعوے سے کہہ سکتی ہوں کہ اگر دوچار ملزمان دھر بھی لیے گئے تو ان میں سے کسی کو بھی سزا نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ مجرموں کی کھوج میں چہرے ہائی لائٹ کرنے کے لیے کئی بار فوٹیج بہت غور سے دیکھی۔ ہمیں جس شخص پر گمان ہوتا کہ وہی مجرم ہے دوسرے لمحے لگتا نہیں یہ تو دراصل خاتون کو درندوں کے شکنجے سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ درندے پکڑے جائیں گے اور یہی دلیل دیں گے کہ ہم تو مظلوم خاتون کو بچانا چاہتے تھے۔

وہ تمام درندے تو شاید ہی ہاتھ لگیں لیکن مینار پاکستان پر موجود سیکیورٹی اہلکار تو سامنے ہی موجود ہیں جنہیں آج وزیراعلیٰ بزدار نے معطل کر دیا۔ سزا دینی ہے تو ان سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی دیجیے جو واقعہ ہونے پر کہیں غائب ہو گئے اور پولیس کو بلانے کی زحمت تک نہیں کی۔ ہجوم میں سے ہی کسی شخص نے پولیس کو اطلاع دی جو اتنی دیر سے آئی کہ قوم اس سانحے پر ہمیشہ شرمسار رہے گی۔

جہاں ان چار سو درندوں کو سزا دینے کی ضرورت ہے وہیں اس بات پر غور کرنا بھی ضروری ہے کہ عائشہ کی حمایت کر کے کہیں ہم ان خواتین کی حق تلفی تو نہیں کر رہے جو روزانہ مردوں کے اس معاشرے میں زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ آئندہ ایسے کوئی بھی واقعات رونما نہ ہو اس کے لیے ہمیں عائشہ سمیت تمام ذمہ داران کو کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words