نظام تعلیم کو مغربیت نہیں، مودودیت سے بچائیں

تخلیق آدم کے قرآنی واقعہ میں مذکور ہے کہ خدا نے علم کی بنیاد پر آدم کو فرشتوں پر فضیلت دی (البقرہ 30۔ 34 ) ۔ اس واقعہ سے مسلم علماء یہ استدلال کرتے ہیں کہ دنیا میں بھی امامت اور قیادت کا دار و مدار عقیدے پر نہیں بلکہ علم پر ہے۔

5 جنوری 1941 کو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کی انجمن اتحاد طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مودودی صاحب کا کہنا تھا کہ اس دنیا میں امامت اور قیادت کا تعین علم کی بنیاد پر ہو گا۔ یہ اللہ کا بنایا ہوا اٹل ضابطہ ہے، اور اس میں کوئی رو رعایت نہیں ہے۔ امامت بہر حال اس گروہ کا حصہ ہے جو علم کے میدان میں دیگر انسانی گروہوں سے آگے ہو، چاہے وہ گروہ خدا شناس ہو یا خدا نا شناس۔ یہی وہ ضابطہ ہے جس کی بنیاد پر مسلمانوں کو امامت کے منصب سے ہٹا دیا گیا اور خدا ناشناس مغرب کو اس پر لا بٹھایا (تعلیمات 47 ) ۔ ”

علم اور دنیاوی قیادت کے اس سیکولر تعلق سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دنیاوی علوم مذہبی اعتبار سے غیر جانبدار ہوتے ہیں۔ اور کسی بھی مذہب سے وابستہ افراد حیات و کائنات کے معروضی مطالعہ کے ذریعے حقائق کا کھوج لگا کر آزادانہ نتائج اخذ کر سکتے ہیں، اور ان نتائج کا اطلاق کر کے دنیاوی زندگی کے مسائل کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔

تاہم مودودی صاحب کے نزدیک علوم مذہبی اعتبار سے غیر جانبدار نہیں ہوتے ہیں۔ تمام دنیاوی علوم بشمول ریاضی، جغرافیہ، طبیعیات، کیمیا، حیاتیات، حیوانیات، فلکیات، معاشیات و سیاسیات اسلامی اور غیر اسلامی شناخت رکھتے ہیں، اور ہمارے تعلیمی نظام کا اولین مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ان تمام علوم کو اسلامی نقطہ نظر سے مرتب کیا جائے۔

مودودی لکھتے ہیں : ”اسلام چاہتا ہے کہ آپ کی پوری تعلیم دینی نقطہ نظر سے ہو۔ اگر آپ فلسفہ پڑھیں تو دینی نقطہ نظر سے پڑھیں تاکہ آپ ایک مسلمان فلاسفر بن سکیں۔ آپ تاریخ پڑھیں تو ایک مسلمان کے نقطہ نظر سے پڑھیں تاکہ آپ ایک مسلمان مورخ بن سکیں۔ آپ سائنس پڑھیں تو ایک مسلمان سائنٹسٹ بن کر اٹھیں۔ آپ معاشیات پڑھیں تو اس قابل بنیں کہ اپنے ملک کے پورے معاشی نظام کو اسلام کے سانچے میں ڈھال سکیں۔ آپ سیاسیات پڑھیں تو اس لائق بنیں کہ اپنے ملک کا نظام حکومت اسلام کے اصولوں پر چلا سکیں۔ آپ قانون پڑھیں تو اسلام کے معیار عدل و انصاف پر معاملات کے فیصلے کرنے کے لائق ہوں (تعلیمات 103 ) ۔“

مودودی صاحب مزید لکھتے ہیں کہ ”دین کا تقاضا یہ ہے کہ تمام دنیاوی علوم کو دینی علوم بنا دیا جائے (تعلیمات 59 ) ۔“ آپ کے مطابق ”علوم کو دینی اور دنیوی دو الگ الگ قسموں میں منقسم کرنا دراصل دین اور دنیا کی علیحدگی کے تصور پر مبنی ہے اور یہ تصور غیر اسلامی ہے ( تعلیمات 58 ) ۔“ آپ فرماتے ہیں کہ ”نئے نظام تعلیم میں دینیات کے الگ کورس کی ضرورت نہیں، بلکہ سارے کورس کو دینیات کے کورس میں تبدیل کر دیا جائے ( تعلیمات 60 ) ۔“ ”آپ کو ہر علم و فن کی تعلیم میں اسلامی عنصر کو ایک غالب اور حکمران عنصر کی حیثیت سے داخل کرنا ہوگا (تعلیمات 14 ) ۔“

اس ہمہ گیر تعلیمی تبدیلی کا عمومی طریقہ کار مودودی صاحب کچھ اس طرح تجویز کرتے ہیں : ”شروع ہی سے ایک بچے کو دنیا سے اس طرح روشناس کرائیں کہ گویا وہ خدا کی سلطنت میں ہے، اس کے اپنے وجود میں اور تمام آفاق میں خدا کی آیات پھیلی ہوئی ہیں، ہر چیز میں وہ خدا کی حکمت اور قدرت کے آثار دیکھ رہا ہے۔ ابتدائی مراحل میں تو کوئی دوسرا نقطہ نظر طالب علم کے سامنے آنا ہی نہیں چاہیے۔ البتہ بعد کے مراحل میں تمام علوم اس کے سامنے اس طرح آنے چاہیے کہ معلومات کی ترتیب، حقائق کی توجیہ اور واقعات کی تعبیر تو اسلامی نقطہ نظر سے ہو، مگر اس کے مخالف تمام دوسرے نظریات بھی پوری تنقید کے ساتھ اس حیثیت سے اس کے سامنے رکھ دیے جائیں کہ یہ ضالین (بھٹکے ہوئے گمراہ) اور مغضوب علیہم (جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا) کے نظریات ہیں۔

عملی زندگی سے تعلق رکھنے والے تمام علوم کی بنیاد میں اسلام کے مقصد حیات، اصول اخلاق اور طرز عمل پیوست کیے جائیں۔ اور دوسروں کے اصول اور طریقے اس حیثیت سے طالب علم کو پڑھائے جائیں کہ ان کی فکری اساس، منزل مقصود اور راہ عمل اسلام سے کتنی اور کس کس پہلو سے مختلف ہے۔ یہ طریقہ ہے تمام علوم کو دینی علوم میں تبدیل کرنے کا اور جب اس طریقہ سے تعلیم بھی جائے تو ظاہر ہے اس میں دینیات کے لیے کسی علیحدہ کورس کی کوئی حاجت ہی پیش نہیں آ سکتی (تعلیمات 60 ) ۔“

درج بالا طریقہ کار کے مطابق آٹھ دس سال کی عمومی تعلیم کے دوران بچے کو دنیا، انسان اور زندگی کے متعلق ضروری معلومات خالص اسلامی نقطہ نظر سے دے دی جائیں اور اسے اپنی مادری زبان، عربی زبان، اور کسی ایک یورپی زبان سے واقفیت دی جائے۔ عمومی تعلیم کے بعد چھ یا سات سالہ اختصاصی تعلیم کا مرحلہ آئے گا۔ مودودی صاحب اختصاصی تعلیم کے مختلف شعبہ جات بشمول سائنس، فلسفہ، تاریخ اور دیگر سماجی و عمرانی علوم کا فرداً فرداً تجزیہ کر کے بتاتے ہیں کہ کس طرح ان علوم کو مشرف بہ اسلام کیا جا سکتا ہے۔ تمام علوم کا تذکرہ تو یہاں ممکن نہیں لیکن سائنس کو اسلامائیز کرنے کا مودودی طریقہ کار ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔

مودودی لکھتے ہیں کہ ”یہ کہنا کہ سائنس تو ایک عالم گیر چیز ہے، اس کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں فی الواقع بڑی نافہمی کی بات ہے۔“ اسلامی اور غیر اسلامی سائنس کا فرق مودودی صاحب ایک سائنسی مثال سے واضح کرتے ہیں۔ پانی کی خاصیت ہے کہ دیگر مادی اشیاء کے برعکس ٹھنڈا ہو کر سکڑنے کی بجائے پھیلتا ہے اور برف بن کر ہلکا ہو جاتا ہے۔ اسی وجہ سے برف سطح آب پر تیرنے لگتی ہے۔ اس حوالے سے مودودی صاحب لکھتے ہیں، ”ایک شخص اس بات کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ یہ پانی کی خاصیت ہے اور واقعۃ ایسا ہوا کرتا ہے۔

دوسرا شخص اسی واقعہ کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ خدا نے اپنی حکمت و ربوبیت سے پانی میں یہ خصوصیت رکھی ہے کہ دریاؤں اور سمندروں میں جاندار مخلوق باقی رہ سکے۔ دیکھیے ایک ہی امر واقعہ کو دو شخص اپنی اپنی طرز فکر کے مطابق دو مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور ہر ایک کا بیان پڑھنے سے آدمی کے ذہن پر دو مختلف اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ایک طریقے سے اگر سائنس کو پڑھایا جائے تو اس سے ایک مادہ پرست سائنس دان تیار ہو گا اور دوسرے طریقے سے وہی سائنس پڑھائی جائے تو ایک مسلمان سائنس دان تیار ہو جائے گا (تعلیمات 172 ) ۔“

مودودی صاحب کا قلم اس سوال کے جواب میں خاموش ہے کہ اگر سائنسی نظریات کو خدا کی شان اور حکمت سے وابستہ کر کے پڑھایا جائے تو پھر طالب علم ان نظریات کو سائنسی کے مخصوص تنقیدی نقطہ نظر سے کس طرح سے دیکھ سکیں گے۔ اور بعد ازاں اگر کوئی نظریہ غلط ثابت ہو جائے تو کیا اس صورتحال میں خدا کی حکمت پر سوال نہیں اٹھے گا۔ بہر حال یونیورسٹی میں سائنسی کی تعلیم کے حوالے سے مودودی صاحب لکھتے ہیں : ”سائنس کی مختلف شاخوں کے لئے چند شعبے علیحدہ ہونے چاہئیں جن میں قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا کر نہ صرف اب تک کی جمع شدہ سائنٹیفک معلومات کا جائزہ لیا جائے بلکہ آثار فطرت کا مزید مشاہدہ اور قوانین فطرت کی مزید دریافت کا کام بھی انہیں خطوط پر کیا جائے جو قرآن نے کھینچ دیے ہیں (تعلیمات 65 ) ۔“

مودودی صاحب تسلیم کرتے ہیں کہ اگرچہ قرآن سائنس کی کتاب نہیں ہے نہ اس کے موضوع کا براہ راست سائنس سے تعلق ہے، تاہم ہم وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کے گہرے مطالعہ سے سائنس کے ایک طالب علم کو نہ صرف نظام کائنات کا بنیادی فارمولا معلوم ہوجاتا ہے بلکہ قریب قریب ہر شعبہ میں اسے ایک صحیح نقطہ آغاز اور تلاش و تجسس کے لئے ایک صحیح رخ بھی ملتا ہے۔ اور یہ وہ شاہ کلید (master key) ہے جسے تحقیق کا سیدھا راستہ کھل جاتا ہے (تعلیمات 65 ) ۔

آپ فرماتے ہیں کہ موجودہ سائنس کی گمراہی میں ایک بڑا سبب یہ ہے کہ حقائق کے مشاہدے کی حد تک تو ٹھیک رہتی ہے مگر جب حقائق کو جوڑ کر ان سے نظریات بناتی ہے تو کائنات اور فطرت کی ابتدا اور غایت سے ناواقف ہونے کے باعث ٹھوکریں کھاتی جاتی ہے، جو نہ صرف انسانی قوت کا ضیاع ہے بلکہ فساد تمدن کا باعث بھی ہے۔ ”قرآن کی رہنمائی میں جب ایک مسلم سائنٹسٹ ثابت شدہ حقائق کو نظریات سے الگ کر کے مرتب کرے گا اور مزید حقائق دریافت کر کے ان سے بہتر نظریات نکال بتائے گا تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا ان سائنٹیفک گمراہیوں کو چھوڑنے پر مجبور نہ ہو جائے جن میں آج وہ مبتلا ہے (تعلیمات 65 ) ۔“

نئے اسلامی نظام تعلیم کے خدو خال واضح کرتے ہوئے مودودی صاحب اہم مسئلے کو بھی نظر انداز نہیں کرتے کہ اسلامی نظام تعلیم کے نفاذ سے پہلے تمام علوم کو ان کے بیان کردہ نقشے کے مطابق ازسر تو مدون کرنا ہو گا کیونکہ ان موضوعات پر کتابیں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ کتب کی فراہمی کا مسئلہ کس قدر گمبھیر ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سائنس و دیگر جدید عصری علوم تو ایک طرف، اسلامی فلسفہ اور اسلامی تاریخ جیسے علوم قدیمہ کی موجود ہئیت بھی بقول مودودی اسلام کے مطابق نہیں ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ان موضوعات پر بھی نئے سرے سے کتابیں لکھوانے کی ضرورت ہے۔

مثال کے طور پر اسلامی فلسفہ کی تعلیم کے حوالے سے آپ لکھتے ہیں۔

”جو (طالب علم) فلسفہ لیں، انہیں دوسرے فلسفیانہ نظاموں کے ساتھ اسلامی فلسفہ بھی پڑھایا جائے۔ مگر یہ ملحوظ خاطر رہے کہ اسلامی فلسفے سے مراد وہ فلسفہ اور علم الکلام نہیں ہے جو مسلمانوں نے ارسطو، افلاطون اور فلاطینوس وغیرہ سے لیا اور پھر اسے انہی خطوط پر آگے بڑھایا۔ مسلمان فلاسفہ اور متکلمین کا یہ کام نہ اسلامی فلسفہ تھا اور نہ اسے اس نام سے آج ہمیں اپنے طلبا کو پڑھانا چاہیے ورنہ یہ سخت غلط فہمی کا بلکہ گمراہی کا موجب ہو گا۔ اسلامی فلسفہ دراصل کہیں مرتب شدہ نہیں ہے بلکہ اب اسے نئے سرے سے ان بنیادوں پر مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو ہمیں قرآن میں ملتی ہیں (تعلیمات 146 ) ۔“

اسی طرح اسلامی تاریخ کے مضمون کی مروجہ صورت بھی مودودی صاحب کے نزدیک اسلامی نہیں ہے۔ آپ لکھتے ہیں :

”تاریخ کے طلباء کو دنیا بھر کی تاریخ پڑھانے کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ بھی بڑھائی جائے اور اسلام کے فلسفہ تاریخ سے روشناس کیا جائے۔ مگر میں یہ بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کی تاریخ دو الگ چیزیں ہیں، اور ابن خلدون کے فلسفۂ تاریخ کو اسلام کے فلسفۂ تاریخ سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ افسوس ہے کہ اسلامی فلسفے کی طرح اسلامی تاریخ اور اسلامی فلسفۂ تاریخ پر بھی اس وقت تک کوئی کتاب نہیں لکھی گئی ہے جو نصاب کے طور پر پڑھائی جاسکے۔ ان دونوں موضوعات پر اب کتابیں لکھنے اور لکھوانے کی ضرورت ہے تاکہ اس خلاء کو بھرا جا سکے جو ان کے بغیر ہماری تعلیمی تاریخ میں رہ جائے گا (تعلیمات 147 ) ۔“

علوم و فنون نے اپنی موجودہ ارتقائی حالت میں پہنچنے کے لیے صدیوں کا سفر طے کیا ہے اور یہ ارتقاء اب ابھی جاری ہے۔ بنی نوع انسان کی ڈھائی ہزار سالہ علمی کاوشوں کو ایک نئے زاویے سے ازسر نو مرتب کرنا کوئی آسان کام نہیں ہو سکتا۔ لیکن مودودی صاحب اس معاملے میں بھی حسن ظن سے کام لیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے اپ کو صرف چند صالح افراد، ایک ادارہ اور کچھ مالی تعاون کی ضرورت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ”کچھ اللہ کے بندے جو فطرت ابراہیمی پر پیدا ہوئے، اور کافر گر تعلیمی اداروں سے گزرنے کے باوجود اپنا ایمان بچا لائے، اور جو جفاکش ہیں اور اجتہادی صلاحیتوں حامل ہیں۔

ایسے لوگوں کی اگر خاص قسم کی ذہنی اور اخلاقی تربیت کی جائے، ان کے ذہن میں معلومات کی ترتیب کو ذرا حکمت کے ساتھ بدل دیا جائے تو یہی لوگ تعلیم و مطالعہ سے اس قابل ہو سکتے ہیں کہ علوم کو میرے بیان کردہ نقشے کے مطابق از سر نو مدون کرنا شروع کر دیں (تعلیمات 68 ) ۔“ ہم بے خدا سائنس، بے خدا فلسفہ اور اجتماعی علوم پڑھا کر خدا پرست انسان تیار نہیں کر سکتے۔ ہمیں اگر ایک مسلمان قوم کی حیثیت سے زندہ رہنا ہے تو جلدی سے جلدی ایک ایسا ادارہ قائم کرنا چاہیے جو تمام علوم و فنون کی ترتیب کو بدل دے اور ایسی نصابی کتابیں تیار کرے جن میں ان تمام علوم و فنون کو اسلامی نقطہ نظر سے مرتب کیا جائے (تعلیمات 173 ) ۔ ”

مزید برآں اس نصاب کے پڑھانے والوں کے حوالے کے مودودی سمجھتے ہیں کہ معلمین کا باشرع مسلمان ہونا ضروری ہے۔ آپ لکھتے ہیں : ”اسلامی اسپرٹ پیدا کرنے کا انحصار بڑی حد تک معلمین کے علم و عمل پر ہے۔ جو معلمین خود اس روح سے خالی ہیں ان کے زیر اثر رہ کر متعلمین میں اسلامی اسپرٹ کیسے پیدا ہو سکتی ہے؟ لہذا خواہ کوئی فن ہو، فلسفہ ہو یا سائنس، معاشیات ہو یا قانون، تاریخ ہو یا کوئی اور علم، مسلم یونیورسٹی میں اس کی پروفیسری کے لیے کسی شخص کا محض ماہر فن ہونا کافی نہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ پورا اور پکا مسلمان ہو ( تعلیمات 23 ) ۔“

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب دنیا کی دیگر اقوام عصری علوم کو اسلامائیز کیے بغیر علمی ترقی کی منازل خوش اسلوبی سے طے کر رہی ہیں، تو ہمارے ہاں انہیں مسلمان بنانے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی؟ مودودی صاحب کے افکار میں اس سوال کے دو مختلف جوابات دیکھے جا سکتے ہیں۔

اولاً، مودودی صاحب کے نزدیک مسلم اور غیر مسلم اقوام کی دنیاوی ترقی کے میکنزم میں ایک بنیادی فرق ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ غیر مسلم اقوام تو مادی ترقی کے سہارے دنیا کی امامت اور قیادت کے منصب پر فائز ہو سکتی ہیں، لیکن مسلم قوم دنیاوی علوم میں جتنی بھی ترقی کر لے، اگر وہ ایمان میں کمزور ہے تو وہ دنیا میں آگے نہیں بڑھ سکتی، اور اگر وہ عقیدہ اور ایمان میں پختہ ہو جائے تو چاہے اسے مادی وسائل مہیا نہ ہوں، تب بھی وہ دیگر اقوام سے آگے بڑھ جائے گی۔ یہاں مودودی صاحب کے موقف میں تضاد نوٹ کیا جا سکتا ہے کیونکہ، جیسا کہ اوپر حوالہ دیا گیا، مودودی صاحب یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ دنیا میں قیادت کا تعین صرف علم کی بنیاد پر ہوگا۔

بہر حال مودودی صاحب کے اپنے الفاظ یوں ہیں : ”کوئی قوم سرے سے مسلمان نہ ہو تو ایسی قوم کے لیے بلاشبہ یہ ممکن ہے کہ وہ اسلام سے مختلف اخلاقی، سیاسی، معاشی اور عمرانی اصولوں پر عمل کر کے ترقی کے منتہیٰ کو پہنچ جائے، لیکن مسلمان قوم اگر اسلامی عقائد اور اعمال میں ضعیف ہو، تو اس کا ایک مضبوط اور طاقتور قوم کی حیثیت سے اٹھنا اور دنیا میں سر بلند ہونا قطعاً ناممکن ہے، خواہ وہ قوم مادی ترقی کے وسائل کتنی ہی کثرت اور فراوانی کے ساتھ مہیا کر لے۔ (تنقیحات 196 )

اس انوکھے اور محیر العقل تصور کی تاویل وہ قرآن کے ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ آپ لکھتے ہیں : ”آپ تعجب کریں گے کہ قرآن نے مسلمانوں کی ترقی اور ان کے ایک حکمران جماعت بننے اور سب پر غالب آ جانے کا ذریعہ صرف ایمان و عمل صالح کو قرار دیا اور کہیں یہ نہیں کہا کہ تم یونیورسٹیاں بناؤ، کالج کھولو، کارخانے قائم کرو، جہاز بناؤ، کمپنیاں بناؤ، بنک کھولو، سائنس کے آلات ایجاد کرو۔“ (تنقیحات 195 )

دوم، مودودی صاحب سمجھتے ہیں کہ جدید تعلیم دہریت اور الحاد پرستی کو فروغ دیتی ہے اور نتیجتاً اسلام اور مسلمانوں کے قومی وجود کے لیے خطرے کا باعث ہے۔ آپ لکھتے ہیں کہ ”جدید تعلیم و تہذیب کے مزاج اور اس کی طبیعت پر غور کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ وہ اسلام کے مزاج اور اس کی طبیعت کے بالکل منافی ہے۔ اگر ہم اسے بجنسہ لے کر اپنی نوخیز نسلوں میں پھیلائیں گے تو انہیں ہمیشہ کے لئے ہاتھ سے کھو دیں گے (تعلیمات 12 ) ۔“ لہذا ”اگر ہم مسلمان کی حیثیت سے زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان تمام علوم کو مسلمان بن کر پڑھنا ہوگا ورنہ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، موجودہ ترتیب و بیان کے ساتھ یہ علوم ہمیں نامسلمان بنا کر رہیں گے (تعلیمات 171 ) ۔“

درس گاہوں میں تشکیک و الحاد کے ممکنہ پھیلاؤ کے خدشے کو مودودی صاحب از حد سنجیدگی سے لیتے ہیں، حالانکہ خود اپنے بقول وہ نوجوانی میں ایک ڈیڑھ سال تک ملحد رہ چکے ہیں۔ تشکیک و الحاد کی بیخ معاملے میں مودودی کی سفارشات کا جھکاؤ فاشزم کی طرف مائل ہے۔ آپ لکھتے ہیں : ”ہمارے جن نوجوانوں میں کوئی اسلامی شعور موجود ہے، وہ اپنی درس گاہوں میں الحاد و دہریت اور تشکیک پیدا کرنے والی ہر تحریک کا مقابلہ کریں۔ ہمارے ملک میں کسی درسگاہ میں، کسی کالج، کسی یونیورسٹی اور کسی مدرسے میں ملحدانہ نظریات اور افکار کو نہ پھیلنے دیا جائے اور کسی ایسے فلسفے کو جڑ نہ پکڑنے دی جائے جو اسلام کے بنیادی عقائد میں شک پیدا کرنے والا ہو ( تعلیمات 162 ) ۔

“ ”اسلام کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے والے اساتذہ غدار ہیں ( تعلیمات 170 ) ۔“ ”آپ کے تعلیمی اسٹاف میں جو ملحدین بھر گئے ہیں، انہیں رخصت کیجیے ( تعلیمات 14 ) ۔“ ”ازروئے قاعدہ کوئی ایسا طالب علم مدرسہ میں نہ رہنا چاہیے جو مدرسے کے اوقات میں نماز نہ پڑھتا ہو۔ طلبہ کے اندر ایسی رائے عام پیدا کی جانی چاہیے کہ وہ اپنے درمیان ایسے طالب علموں کو برداشت نہ کریں ( تعلیمات 143 ) ۔“

یہ اس نظام تعلیم کا خاکہ ہے جسے مودودی صاحب اسلامی سمجھتے ہیں، اور جس کو اختیار نہ کیا گیا تو بقول ان کے اسلام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ غیر حقیقی تصورات اور رجعت پسندانہ سوچ کی اس سے واضح مثال ملنا شاید ہی ممکن ہو۔ اور مزید افسوسناک بات یہ کہ مودودی صاحب تعلیم کے معاملے میں جن نظریات کو اسلامی قرار دے کر ان کا فاشسٹ نفاذ کالجوں اور یونیورسٹیوں پہ کرنا چاہتے ہیں، انہی نظریات کا اطلاق اپنی اولاد پر نہیں کرتے۔

جس فرنگیت کا تعلیمی اداروں میں کلی استیصال کرنے کا سبق مودودی عام مسلمانوں کو دیتے ہیں (تعلیمات 22 ) ، اسی فرنگیت کے زیر سایہ ان کے بچے تعلیم حاصل کرتے رہے۔ ان کے بیٹے ان کی زندگی میں امریکہ منتقل ہو گئے۔ حتیٰ کہ مودودی صاحب کا انتقال بھی نیویارک کے اس اسپتال میں ہوا جہاں ان کے صاحبزادے ڈاکٹر احمد فاروق بطور معالج ملازمت کیا کرتے تھے۔

مودودی صاحب کے مجوزہ نظام تعلیم کا بنیادی مقصد علوم و فنون کے ماہرین تیار کرنا نہیں، بلکہ ایسے افراد تیار کرنا ہے بلکہ جو با عقیدہ، باعمل اور مضبوط سیرت و کردار کے حامل مسلمان ہوں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ کام بھی لیکچرار اور پروفیسروں کے سپرد ہے تو مساجد کا کیا مقصد ہے، جو ابتدائے اسلام سے اسی کار منصبی کی حامل ہیں؟ اگر ہمارے ہاں مسلمانوں میں ایمان، سیرت اور کردار کی کمی ہے تو کیا اس کا سوال پروفیسرز کی بجائے مذہبی علماء اور مساجد کے منتظمین سے نہیں کیا جانا چاہیے جنہیں صرف اسی مقصد کے لیے معاشرہ بے بہا مالی تعاون، وقت اور افرادی قوت فراہم کرتا ہے۔

مزید برآں یہ اسلامی تاریخ کا سبق ہے کہ عقلی علوم کو راسخ العقیدگی کے تصرف سے دور رکھنا چاہیے۔ مذہبی علماء اگر چاہیں تو اپنے عقائد کو دینیات یا فکر انسانی کی تاریخ کی جماعت میں پڑھائیں۔ لیکن انہیں سائنسی اور عقلی علوم کی تشکیل و تدریس کا اختیار دینا قوم کے لیے ہلاکت خیز ہے۔ یہ ہلاکت خیزی اسلامی دنیا بارہویں صدی میں دیکھ چکی ہے جب راسخ العقیدہ مذہبی طبقے نے ایک عظیم الشان علمی تہذیب کو برباد کر کے رکھ دیا۔

نویں تا بارہویں صدی اسلامی دنیا میں سائنسی اور عقلی علوم کا سنہرا ترین دور تھا۔ ریاضی، فلکیات، طبیعات، کیمیا، طب اور فلسفہ کے میدان میں مسلمان علمی دنیا کی قیادت کر رہے تھے۔ عقلیت کے عروج نے راسخ العقیدہ مذہبی گروہوں میں بے اطمینانی پیدا کی جو اپنے تئیں عقل کو ایمان کے تابع دیکھنا چاہتے تھے۔ بالآخر وہ گروہ کمزور حکمرانوں کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ غزالی کے تصوف کی موج کے آگے مسلم دانشوریت کا گھروندا خاشاک ہو گیا۔

روشن خیالی کی مدت تمام ہوئی۔ منطق اور فلسفہ کے خلاف شریعت کے سخت گیر احکامات نافذ کیے گئے۔ مرتد کی سزا موت تھی۔ کوئی بھی شخص اس احساس سے بے نیاز نہیں رہ سکتا تھا کہ سماج اس کے مذہبی رجحانات کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ رجعتی علماء کے خیالات سے ہلکی پھلکی روگردانی بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی تھی۔ منطق اور فلسفہ کی حدود و قیود تلوار کی نوک پر کھینچی گئیں۔ فلسفی اور سائنسدان اپنی علمی سرگرمیاں زیر زمین جاری رکھنے پر مجبور ہوئے، لیکن یہ خفیہ علمی کاوشیں بھی زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکیں۔ کئی ایک فلسفہ پڑھنے کے جرم میں جان سے گئے۔ عظیم الشان کتب خانوں کی مولویانہ چھانٹی کی گئی اور ان میں موجود ہئیت اور فلسفے کی ”کفریہ“ کتابیں چن چن کر جلا دی گئیں۔ علم کی شمع بالآخر راسخ العقیدگی کی آندھیوں کے آگے ڈھیر ہو گئی اور اسلام رجعت پسندی اور فکری جمود کے تاریک دور میں جا گرا۔

یہ امر کہ نظام تعلیم کے حوالے سے عمومی پاکستانی فکر پر مودودی صاحب کے مبہم، مہمل، متضاد اور موقع پرست تصورات کا گہرا اثر ہے، افسوسناک تو ضرور ہے، لیکن حیرت ناک ہرگز نہیں۔ پاکستان میں علم کے تمام شعبہ جات پر عوامی رائے عامہ کی تشکیل کا میدان ’صرف مذہبی تعلیم‘ کے حامل قاریوں، مبلغوں اور امام مسجدوں کے لیے کھلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ علوم اور نصابی کتابوں کی اسلامائزیشن کی کوشش بھونڈی، ناکام لیکن جاری ہے۔ زیادہ خطرناک بات یہ کہ اساتذہ، طلبہ اور پالیسی سازوں کی کثیر تعداد مودودی صاحب کے مجوزہ نظام تعلیم کو نظریاتی سطح پر درست مانتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جدید علوم کے حامل پاکستانی دانشور رائے عامہ کی تعمیر کے حوالے سے اپنی سماجی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں کسی ایک علمی تحریک کا نام نہیں گنوایا جا سکتا جس نے سماج کی ذہن سازی میں اور رجعت پسندی کے مقابلے میں سرسید کی علیگڑھ تحریک جیسا فعال کردار ادا کیا ہو۔ جہالت خود بخود ختم نہیں ہوتی۔ اس کے خاتمے کے لیے علم کے ساتھ ساتھ متحرک اور موثر تحریک اور لیڈرشپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور وہ علم جو معاشرے کے بہتری کے لیے استعمال نہ کیا جائے، اس کا حاصل استادی کے احساس کی بے فیض نخوت کے سوا کیا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words