طالبان کا ذہنی ارتقا؟

پہلی دفعہ ’’ذہنی ارتقا‘‘ کی اصطلاح مرزا غالب پر ایک تنقیدی مضمون میں نظر سے گزری۔ مصنف کے خیال میں زبان پر استعداد اور شاعری کے اسرار و رموز کی فہم پر غالب کو اِس قدر ناز تھا کہ مشکل پسندی پر مائل ہو گئے۔ اِس روش پر تنقید کے جواب میں فخر سے کہتے ’’گر نہیں ہیں میرے اشعار میں معنی‘ نہ سہی‘‘۔ غالب کے ذہنی ارتقا کا سفر کلکتہ سے شروع ہوا۔ بنگال میں اُردو شاعری کے قدر دان تو میسر نہ ہوئے مگر کلکتہ میں قیام کی یاد اُن کے سینے پر یادوں کے تیر برسانے کے ساتھ شاعری کو آسان فہم بنا گئی۔ غور کرنے پر احساس ہوتا ہے کہ زندگی کے نشیب و فراز سوچ میں تبدیلی اور وُسعت فکر کا باعث بنتے ہیں۔ اِسی لئے تو اقبال بھی اپنی قوم کی جامد سوچ کو تبدیل کرنے کے لئے دُعا مانگتے تھے ’’خُدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے، کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں‘‘۔ ذہنی ارتقاکا عمل ایک فرد سے شروع ہو کر کبھی کبھار پوری قوم کی سوچ بدل دیتا ہے۔ برِ صغیر ہندو پاک کے مذہبی رہنمائوں اور سیاسی جماعتوں کی اجتماعی سوچ تبدیلی کے مختلف مراحل سے گزرتی رہی ہے۔ امریکیوں نے خانہ جنگی کے خونی مراحل سے گزر کر انسانوں کو غلام بنانے کا قانون منسوخ کیا۔ یورپ میں بھی خواتین کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں اُنہیں ووٹ کے ذریعے سیاسی عمل میں شرکت کا حق ملا۔

مغربی دُنیا کے مفکروں کے مطابق مذہبی بنیادوں پر اُستوار کیا گیا حکومتی ڈھانچہ کبھی پائیدار نہیں ہو سکتا۔ اختلاف کرنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ مختلف فرقوں اور لسانی گروہوں میں بٹے ہوئے افغانستان پر قبضہ کرنا تو آسان ہے مگر افغانیوں کو ایک خاص مذہبی سوچ کے جھنڈے تلے متحد کرنا ناممکن کوشش ہوگی۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران راقم الحروف نے طالبان کے متوقع سیکنڈ ایڈیشن کے بارے میں تین کالم لکھے۔ اِن تحریروں پر ردِعمل دیتے ہوئے دوستوں کا خیال تھا کہ طالبان کے پہلے اور سیکنڈ ایڈیشن میں زیادہ فرق نہیں ہوگا مگر گزشتہ ایک ہفتے کے دوران جس سرعت سے صورتِ حال تبدیل ہوئی ہے، اُس نے پوری دُنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ طالبان چند دنوں میں تقریباً پورے افغانستان پر قابض ہو گئے۔ افغان فوج تاش کے پتوں کی طرح بکھر گئی۔ متحارب جنگجو گروہ طالبان سے جا ملے اور اِس تبدیلی میں اِکا دُکا ہلاکتوں کے علاوہ خونریزی نہیں ہوئی۔ یہ ایک اچنبھے کی بات تھی مگر اِس سے بھی زیادہ حیران کن تبدیلی طالبان کے رویے میں نظر آئی۔ مُلا عمر نے اپنی زندگی میں کبھی تصویر نہیں کھنچوائی تھی اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد بھی کیمرے کا سامنا نہیں کرتے تھے مگر پہلی پریس کانفرنس میں طالبان کے اِسی ترجمان کی بااعتماد رونمائی ہوئی۔ غیرملکی صحافیوں میں خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ طالبان کی گزشتہ حکومت کے تناظر میں مشکل سوالات کے نشتر چبھوئے گئے۔ اِس پوچھ گچھ میں زیادہ تر معاملات عورتوں کے حقوق سے متعلق تھے۔ اِن میں خواتین کے لئے پردے کی اقسام، لباس میں برقعے کی لازمی حیثیت، بچیوں کے لئے مذہبی مدارس کے علاوہ عام اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے کا حق، نوکری کرنے کی آزادی اور محرم کی موجودگی کے بغیر خواتین کو نقل و حمل کی اجازت جیسے سوالوں کا جواب بڑی خندہ پیشانی سے دیا گیا۔ اُنہوں نے کھلے دِل سے کہا کہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے اور دفاتر میں کام کرنے کی اجازت ہو گی۔

انسانی معاشرے میں تبدیلیوں کا جائزہ لینے والے صاحبانِ نظر طالبان کے ترجمان کی پہلی کانفرنس میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے تھے کہ گزشتہ 20برسوں میں طالبان جن نشیب و فراز سے گزرے ہیں اُس نے کس حد تک اُن کی سوچ میں تبدیلی پیدا کی ہے۔ اِس پریس کانفرنس کو عالمی میڈیا نے بلا کسی روک ٹوک کے نشر کیا۔ گو ترجمان نے یقین دلایا کہ اسلامی شریعت کے تحت عورتوں کو جو حقوق دیے گئے ہیں، اُن کی مکمل پاسداری کی جائے گی مگر صحافی اور تجزیہ کار اِس جواب پر مطمئن نہیں ہوئے۔

صحافیوں نے آزادیٔ اظہار پر پابندی کے علاوہ اِس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ طالبان حکومت افغان فوج، ملیشیا اور پولیس اہلکاروں کے خلاف انتقامی کارروائی کرے گی۔ اِس معاملے پر بھی بات ہوئی کہ اشرف غنی کی حکومت کے مددگار، عسکری قوتوں کے سہولت کار اور غیر ملکیوں کے لئے افغانی مترجم شدید خوف کا شکار ہیں۔ طالبان کے ترجمان کا جواب ناظرین کے لئے اچنبھے کی حد تک حیرت انگیز تھا۔ مغربی صحافی جو طالبان کو ایک خون آشام جنگجو گروہ کے طور پر پیش کرتے ہیں، اُن کی توقع کے خلاف طالبان کی سوچ میں حیرت انگیز تبدیلی اِس بات سے عیاں ہوئی کہ اُنہوں نے عام معافی کے اعلان کے علاوہ اُن افغان نوجوانوں کو جو غیرملکی افواج، افغان عسکری اداروں، حکومتی اہلکاروں اور غیرسرکاری تنظیموں کے معاون رہے اُنہیں افغانستان کا اثاثہ قرار دیا بلکہ اُن سے اپیل کی کہ وہ ملک چھوڑ کر نہ جائیں، طالبان کی حکومت کو اُن کی خدمات کی ضرورت ہو گی۔ میں چند دوستوں کے ساتھ ذبیح اللہ مجاہد کی پریس کانفرنس دیکھ رہا تھا۔ ایک دوست نے حالیہ واقعات سے نتائج اخذ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی کامیابی سے پہلا سبق یہ ملا کہ مصنوعی طریقے سے قائم کی گئی حکومتیں پائیدار نہیں ہوتیں۔ اُن کے خیال میں دُوسرا سبق غیرممالک سے درآمد شدہ حکمرانوں اور مشیروں کی افادیت سے متعلق تھا جو سیاسی موسم خراب ہونے پر بریف کیس لئے واپس اپنی غیر ملکی پناہ گاہوں کا رُخ کرتے ہیں۔

کچھ دوستوں کو حیرت تھی کہ نہ ترجمان کے لہجے میں تلخی تھی اور نہ ہی اُس کی زبان نے مخالفین پر زہر میں بجھے تیر برسائے۔ طالبان کے حامی ایک دوست کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اشرف غنی کے دورِ حکومت کی بدعنوانی کا جائزہ لینے کے لئے نہ کوئی کمیشن بیٹھے گا، نہ خصوصی عدالتیں لگائی جائیں گی، نہ حکومتی اہلکاروں کے احتساب کا اعلان ہوا اور نہ کسی کو ’’صادق‘‘ اور’’ امین‘‘ کے پل صراط سے گزرنے کے لئے مجبور کیا جائے گا۔ اُنہیں اپنے کانوں پر یقین نہ آیا کہ افغان عوام کی معاشی بہتری کے لئے مخالف قوتوں کو اشتراک میں شامل کیا جائے گا۔ اگر طالبان کی آئندہ حکومت کے ترجمان کی پہلی پریس کانفرنس میں کئے گئے اعلانات پر عمل درآمد ہو گیا تو شاید طالبان نے اپنی سوچ میں لچک کے ذریعے ایسی وُسعتِ فکر حاصل کر لی ہے جو ہم آج تک نہیں کر سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words