صدارتی تمغہ حسن کارکردگی پانے والے وائلن نواز جاوید اقبال

” میں ریڈیو پاکستان لاہور مرکز سے 1984 کو منسلک ہوا لیکن اس سے کہیں پہلے میں پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز فلمی صنعت سے کر چکا تھا۔ وہاں میں نے موسیقی کی دنیا کے نامور لوگوں کے ساتھ بہت کام کیا۔ جیسے : نثار بزمی صاحب، خواجہ خورشید انور صاحب وغیرہ۔ انہوں نے چھوٹا سمجھ کر پیار بھی کیا اور حوصلہ افزائی بھی کی کہ آج بچے ہیں کل انہوں نے ہی موسیقی کا کام آگے بڑھانا ہے۔ اس طرح سب ہی کمپوزروں نے بہت پیار کیا۔ ان کمپوزروں کو سلام ہے کہ سکھایا بھی اور مناسب پیسے بھی دلوائے۔ یہ میرے والد کی وجہ سے بھی میرا خیال کرتے تھے“ ۔

بھائی چھیلا پٹیالہ والے :

میں نے قطع کلام کرتے ہوئے پوچھا: ”آپ کے والد صاحب کا کیا نام ہے اور ان کا تعلق موسیقی کے کس شعبے سے تھا؟“

” میرے والد صاحب ’بھائی چھیلا پٹیالہ والے‘ تھے تو بہت بڑے گائیک لیکن لوک گیت ان کی پہچان بنے۔ پٹیالہ کے مہاراجہ بھی کمال کے مہاراجہ تھے۔ انہوں نے اپنے اپنے میدان کے ماہر چن کر ریاست میں جمع کر لئے تھے۔ جرنیل اور کرنیل کے ساتھ ابا کو بھی رکھا۔ ابا کے پاس تین گھوڑوں کی بگھی ہوتی تھی۔ جرنیل اور کرنیل کو حکم تھا کہ آپ کو دربار میں گانا ہے اور میرے ابا کو حکم تھا کہ آپ نے میری رانیوں میں گانا ہے۔ چوں کہ میں پاکستان میں پیدا ہوا لہٰذا یہ باتیں مجھے میرے بڑے بھائی بتاتے تھے جو غیر منقسم ہندوستان کی ریاست پٹیالہ میں پلے بڑے۔

ابا رانیوں میں ’سوڈے دیے بند بوتلے۔‘ وغیرہ اور مختلف ٹپے سناتے تھے۔ ابا بتاتے تھے کہ اسی زمانے میں انہیں گورنر ہاؤس لاہور میں گانے آنا تھا۔ جب لاہور ریلوے اسٹیشن پر ریل گاڑی رکی تو گھوڑوں کی شاندار بگھی میں وہ گورنر ہاؤس پہنچے۔ پاکستان کے قیام سے قبل جو ہنگامے پھوٹے ان میں ہماری پہلی امی شہید کر دی گئیں۔ بہرحال پٹیالہ میں حویلیاں اور دوسری جائیداد چھوڑ کر ابا اپنے بچوں سمیت ہجرت کر کے لاہور پہنچ گئے۔

اس وقت ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ اے بخاری صاحب تھے۔ انہیں کہیں سے پتا چلا کہ بھائی چھیلا پٹیالہ والے لاہور آ گئے ہیں تو انہیں پیغام بھیجا کہ آپ ریڈیو آ جائیں۔ پوچھا کہ کیا آپ کوئی ساز بجا سکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں سرود بجاتا ہوں۔ اور یہ بھی بتایا کہ وہ گائیک ہیں یوں پھر ابا ریڈیو سے منسلک ہو گئے۔ ابا کی تنخواہ پچاس یا ساٹھ روپے ماہانہ مقرر ہوئی۔ اس وقت ابا اکیلے ہی تھے کیوں کہ ان کے بچے شادی شدہ تھے“

” بیٹیوں کے مشورے سے ابا نے شادی کر لی۔ وہ شادی اتنی اچھی ہوئی کہ ہم چار بھائی دنیا میں آ گئے۔ ابا مجھ سے بہت پیار کرتے تھے اور اکثر اپنے ساتھ ریڈیو لے آتے۔ ابھی میں اسکول میں ہی تھا کہ ابا ریٹائر ہو گئے۔ اس وقت پنشن نہیں تھی۔ تب میری عمر آٹھ یا نو سال ہو گی۔ ابا کو اس وقت بارہ سو روپے ملے۔ گھر کے خرچے بھی تھے لہٰذا آہستہ آہستہ وہ پیسے ختم ہو نے لگے۔ گھر بھی اپنا نہیں تھا۔ قریب ہی ایک مائی کا مندر تھا اس میں تین سو روپے میں ’کٹڑی‘ قسم کی جگہ ابا نے لے لی۔

اور یوں پیسے ختم ہو گئے۔ میرا بڑا بھائی فرانس نکل گیا۔ میرے علاوہ دو چھوٹے بھائی بھی تھے۔ ابا کہنے لگے :“ جاوید پیسے تو ختم ہو گئے! ”۔ وہ مجھ سے ہر ایک موضوع پر بات کرتے تھے۔“ اب گھر کا خرچہ کیسے چلے گا؟ تمہارا بڑا بھائی تو باہر چلا گیا ”۔ میں نے ابا کے کہے ہوئے الفاظ پر غور کیا اور کہا کہ ابا خرچہ چلے گا اور گھر سے باہر نکلا۔ مجھے کچھ ہی عرصہ پہلے لڈو پیٹھیاں بیچنے والے کی طرف سے پیشکش تھی کہ اگر میں ان کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں۔

میں ان کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا تم صبح آ کر ریڑھی لے جاؤ اور خالی کر کے جتنے بجے بھی واپس لاؤ، میں تمہیں ڈیڑھ روپیہ دوں گا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ میں چار بجے تک پتا نہیں کہاں کہاں بیچ کر فروخت کے پیسے اسے دیتا اور وہ ان میں سے مجھے ڈیڑھ روپیہ دیتا۔ اس کے ساتھ وہ ایک آنہ اور چار پیسے بھی دیتا۔ وہ ایک آنہ میں سنبھال لیتا۔ یوں گھر کا نظام بھی چل پڑا اور ابا کی دعائیں بھی خوب حاصل ہوئیں۔ ڈیڑھ روپیہ میں اللہ نے بے حد برکت ڈال دی۔ یوں ہمارے ہاں تازہ سبزی بھی پکنے لگی“ ۔

کبھی کبھی ابا پیار سے پوچھتے کہ بیٹا اب تمہیں آگے کرنا کیا ہے۔ پھر کہتے کہ بیٹا! میری دعا ہے تمہیں پتا بھی نہیں چلے گا اور اللہ تم پر اپنا کرم کرے گا۔ میں ریڈیو پر جب گانوں میں وائلنوں کے پیس اور فلیش سنتا تو بہت اچھا لگتا۔ اس طرح میں غیر ارادی طور پر وائلن ساز کے قریب ہو گیا۔ انہی ایام میں ایک دن ابا نے پوچھا:۔ ”تم نے گانا سیکھنا ہے یا کچھ اور؟“ ۔ میں نے جواب دیا: ”وائلن سیکھنا ہے!“ ۔ ابا مجھے فلم اسٹوڈیو کے ’میوزک بیچ‘ میں لے گئے جہاں بابا پیٹر موجود تھے۔

انہوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ ابا نے کہا میرے بیٹے کو وائلن چاہیے۔ بابا پیٹر نے جواب دیا کہ مل جائے گا۔ وہ ہی میرے پہلے استاد ہیں۔ انہوں نے موسیقی لکھنا پڑھنا سکھلائی۔ اس کے بعد میرے استاد بابا جعفر ہیں۔ پھر میرے ماموں، استاد طالب حسین صاحب جو کلاسیکل وائلن بجاتے تھے۔ بابا پیٹر نے میرے ہاتھ کی روش کو انگلش کر دیا۔ ابا نے کہا کہ تم جی لگا کر یہ سب کچھ سیکھ لو تا کہ تمہارا رزق فلمی صنعت سے وابستہ ہو سکے۔

پھر میں انشا ء اللہ دو مہینوں میں تمہیں راگ بتاؤں گا جو تمہارے ہاتھ میں آ جائیں گے کیوں کہ یہ تو تمہاری ’جینز‘ میں ہیں۔ میں نے سیکھنے میں کوئی کمی نہیں رکھی اور اپنے گھر، واقع مستی گیٹ سے پیدل ای ایم آئی جا تا۔ اکثر اوقات ناشتہ بھی نہیں کیا ہوتا۔ وہاں وائلن نکالتا پھر استاد کے آنے کے بعد موسیقی کی کتابیں نکال اور سامنے رکھ کر بجانا شروع کر دیتا۔ میری طرح کے کچھ اور بھی لڑکے وہاں آتے تھے۔ بابا پیٹر سب پر برابر توجہ دیتے۔

ہماری انگلیوں سے پھرتی کے ساتھ اسکیل پر مشق کراتے۔ مجھ سے پوچھتے : ”تم ناشتہ کیا؟“ ۔ میں نظریں جھکائے آہستہ سے کہتا جی ہاں کیا۔ وہ کہتے : ”نو! تم ناشتہ نہیں کیا“ ۔ بہت سمجھ دار تھے۔ ای ایم آئی میں ساتھ ہی کینٹین تھی۔ اس زمانے میں مجھے پانچ روپے دیتے۔ میں ٹھیک ٹھاک ناشتہ کرتا پھر بھی چار روپے بچ جاتے۔ بابا پیٹر کے بعد اپنے ماموں استاد طالب حسین سے سبق لیتا۔ بابا جعفر اور بابا پیٹر نے مغربی انداز موسیقی پر میری گرفت بہت مضبوط کروا دی۔

’وولف گینگ موزارٹ‘ ، ’سباستیان باخ‘ ، ’لڈ ویگ بیتھو و ن‘ اور ’پگا نینی‘ کی سمفنی بجائیں۔ ( وکی پیڈیا کے مطابق نکولو پگانینی اطالوی وائلنسٹ، وایولسٹ، گٹارسٹ اور اپنے وقت کا ایک عظیم کمپوزر تھا۔ اس کو جدید وائلن نوازی کی تکنیک کا ایک اہم ستون مانا جاتا ہے ) ۔ بابا پیٹر سے میں نے سیکھا کہ کس طرح مکمل مہارت کے ساتھ نوٹیشن پڑھتے ہوئے ان چار چیزوں کا ہما وقت خیال ر کھا جائے : ایک آنکھوں کی حرکت دوسری انگلیوں کی پوزیشن تیسری گز / Bow اور چوتھی چال یا ٹیمپو۔

یہ اللہ کا کوئی خاص کرم تھا کہ میں نے کم وقت میں سیکھ لیا۔ ابا بھی بہت خوش ہو گئے۔ اس کے بعد ابا نے مجھے راگوں میں بھی پکا کروا دیا۔ جب میں فلم انڈسٹری میں گیا تو وہاں سب میوزیشن ہی ابا کی وجہ سے مجھے جانتے تھے۔ واقفیت ہونا الگ بات ہے لیکن فلم انڈسٹری میں کام ہی دیکھا جاتا تھا۔ لاہور فلمی صنعت میں اس وقت چار بینڈ / بیچ تھے : اے، بی، سی اور ڈی۔ مجھے نیشنل آرکیسٹرا میں رکھا گیا کہ یہ بچہ رفتار والا ہے۔

وہاں کبھی کمپوزر اے حمید صاحب آ رہے ہیں، صفدر صاحب آ رہے ہیں۔ سب ہی کمپوزر آتے تھے۔ اب کس کس کا نام لوں۔ ان سب نامور موسیقاروں کو میرا سلام ہے! اس وقت گانوں کی ریہرسل ای ایم آئی میں ہوتی تھی۔ ہر ایک کمپوزر کو ریہرسل کا وقت ڈیڑھ گھنٹہ دیا جاتا۔ دو چار دن ریہرسلوں کے بعد فلم اسٹوڈیو میں گانے کی ریکارڈنگ ہوتی تھی۔ اس زمانے میں اتنا کام تھا کہ دن کو ای ایم آئی میں ریہرسلیں اور شام کو اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ ”۔

فلم کا پہلا گانا:
” کس موسیقار کے لئے پہلی مرتبہ فلمی گانا ریکارڈ کیا؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” میں نے پہلے ہی دن اسٹوڈیو میں بابا جی اے چشتی صاحب کے تین گانے ریکارڈ کروائے۔ مجھے 54 روپے فی گانے کے حساب سے 162 روپے ملے۔ میں سیدھا گھر گیا۔ وہ پیسے ابا کے قدموں میں رکھ دیے۔ ان میں سے پچاس روپے ابا نے رکھ لئے۔ پیار کیا، مجھے سینے سے لگایا اور ماتھا چوما پھر کہا :“ باقی پیسے ماں کے پیروں میں رکھ دو ”۔ میں نے ویسا ہی کیا۔ اس طرح پھر الحمدللہ یہ سلسلہ چل نکلا اور میں نے فلم انڈسٹری میں بہت کام کیا۔

پھر 1982 میں آہستہ آہستہ میوزک کمپوزر انڈسٹری سے جانا شروع ہو گئے۔ ہمارا کام بھی سست ہونا شروع ہو گیا۔ نثار بزمی صاحب بھی کراچی چلے گئے۔ اب انڈسٹری میں خوف اور دہشت کا عنصر داخل ہو گیا۔ گانوں کی اسٹوڈیو ریکارڈنگ کرتے ہوئے خوف آ تا۔ یوں بتدریج ہماری یہ انڈسٹری ختم ہو گئی۔ میوزیشنوں کے بیچ پرانی کہانی ہو گئے۔ کمپوزر اختر حسین اکھیاں صاحب، خلیل احمد صاحب، امجد بوبی صاحب وغیرہ پاکستان ٹیلی وژن پر آ گئے۔

مجھے بھی انہوں نے کہا کہ یہیں آ جاؤ۔ میں نے پی ٹی وی میں سب ہی کے گانے لکھنے شروع کر دیے۔ اس دور میں ملی نغمے کافی ہوئے۔ جیسے : مہدی حسن کی آواز اور بزمی صاحب کی موسیقی میں کلیم ؔعثمانی صاحب کا یہ گیت ’یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسبان اس کے۔‘ ( اصل گیت 1970 کی دہائی میں پروڈیوسر اختر وقار عظیم صاحب نے پی ٹی وی لاہور سے پیش کیا تھا ) اور استاد امانت حسین کی آواز اور اختر حسین اکھیاں کی موسیقی میں یہ گیت: ’اے وطن پیارے وطن پاک وطن پاک وطن۔‘ وغیرہ“ ۔

ریڈیو پاکستان میں ملازمت :

” اسی دوران 1984 میں ریڈیو پاکستان لاہور میں میوزک سیکشن میں وائلنسٹ کی آسامیاں نکلیں۔ میں نے اللہ سے ریڈیو میں منتخب ہونے کی دعا مانگی کیوں کہ ابا بھی رہے ہیں۔ وہ کوئی ایسا با برکت وقت تھا کہ قبولیت نصیب ہو گئی۔ فلم انڈسٹری کے 14 وائلنسٹ ریڈیو میں انٹرویو کے لئے آئے جن میں چودھواں میں تھا۔ ڈی جی گیلانی صاحب، میوزک کے ماہر پروڈیوسر محمد اعظم صاحب اور بھی کئی اصحاب بیٹھے تھے۔ گیلانی صاحب کو میرا سلام!

وہ فرمائشی آدمی نہیں رکھتے تھے بلکہ صرف کام والے آدمی کو رکھتے تھے۔ یہ ان کی بہت بڑی صفت تھی۔ میرا آٹھواں نمبر آیا۔ مجھے نہیں پتا کہ کس کس سے کیا کیا پوچھا گیا۔ جینز کی پینٹ پہنے ہوئے میں اندر گیا۔ ادب سے سلام کیا۔ مجھے گیلانی صاحب نے کہا:“ آپ وائلن پلیئر ہیں؟ ”۔ میں نے کہا:“ جی سر ”۔ کہنے لگے :“ یہ بورڈ پہ لکھا ہوا بجا سکتے ہیں؟ ”۔ میں نے جواب دیا :“ جی ہاں میں بجا سکتا ہوں ”۔ میں نے وائلن پکڑا جو تھوڑا سا ’آفٹر ٹیون‘ تھا۔ میں نے

کہا: ”معافی چاہتا ہوں یہ وائلن تھوڑا آفٹر ٹیون ہے کیا میں اس کو ٹیون کر لوں؟“ ۔ گیلانی صاحب نے کہا : ”کر لو“ ۔ اور پہلے ہی مجھے دس نمبر دے دیے۔ میرے عین سامنے استاد نذر حسین ہارمونیم لئے بیٹھے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں تو میں پلا ہوں ”۔

” میں نے استاد صاحب اور وہاں موجود سب لوگوں سے اجازت لی۔ میں نے جذبے اور رفتار سے بورڈ پر لکھا آئٹم بجایا۔ وہ کوئی انگلش چیز تھی جسے بجانے میں کوئی دقت نہیں ہوئی۔ گیلانی صاحب نے شاباشی دی اور پھر کہا :“ پاکستان یا بھارت کا پانچ یا تین منٹ دورانئے کا کوئی بھی گانا سنا دیں ”۔ میں نے کہا:“ مجھے مدن موہن کی موسیقی میں نقش لائلپوری کی لکھی اور لتا منگیشکر کی آواز میں فلم ”دل کی راہیں“ ( 1973 ) کی غزل ’رسم الفت کو نبھائیں تو نبھائیں کیسے۔

‘ بہت اچھی لگتی ہے۔ میں نے وہ بجائی۔ طبلے پر سنگت استاد شوکت حسین صاحب نے کی۔ میر ا آئٹم اچھا ہو گیا۔ گیلانی صاحب نے پوچھا: ”آپ جینز کی پینٹ پہنتے ہیں کہیں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے لئے اڑتے پنچھی تو نہیں بنیں گے؟“ ۔ میں نے کہا : ”نہیں جناب! میرے ابا بھی ریڈیو سے وابستہ تھے۔ میں تو خود ریڈیو پاکستان کے رزق سے پلا ہوں۔ ریڈیو پاکستان میرا گھر ہے میں کیسے یہاں سے جا سکتا ہوں“ ۔ مجھ سے والد صاحب کا نام پوچھا گیا۔

میں نے کہا مہر دین۔ میرے ابا کا اصل نام یہی تھا۔ گیلانی صاحب کہنے لگے : ”کون مہر دین؟“ ۔ وہاں موجود تمام لوگ ہی ہنسنے لگے۔ کئی آوازیں ایک ساتھ آئیں کہ یہ ’جی جی صاحب‘ کا بیٹا ہے۔ گیلانی صاحب بے ساختہ بولے : ”بھائی چھیلا پٹیالہ والے کا بیٹا!“ ۔ گیلانی صاحب نے گلے لگایا اور میرا سر چوما اور کہا: ”تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ تم جی جی کے بیٹے ہو“ ۔ اور مجھ سے کہنے لگے کہ ابا کا بھی نام شناختی کارڈ پر لکھوا کر لاؤ۔

اس وقت سے میں ریڈیو پاکستان میں ہوں۔ یہاں الحمدللہ میرا آخری سال چل رہا ہے پھر میں ریڈیو سے ریٹائر ہو جاؤں گا۔ یہ میرا گھر اور میرے ماں باپ بھی ہے۔ میرے ابا کہتے تھے کہ ایک دور آئے گا کہ ریڈیو پاکستان کی ملازمت ملے گے لیکن میرے بیٹے وہ چھوڑنا نہیں! پھر کہتے کہ سنو! ایک وقت آئے گا جب نہ میں ہوں گا نہ تمہاری ماں۔ تب تمہارا ماں باپ ریڈیو ہی ہو گا۔ ان کے انتقال کے بعد یہاں جگہ نکلی اور 14 وائلنسٹوں میں اللہ کے فضل سے میں منتخب ہو گیا۔ وہ دن اور آج کا دن، یہ بات پلے باندھ لی کہ اب ریڈیو چھوڑنا نہیں ہے۔ مجھے پہلی تنخواہ 2800 / روپے ملی۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے ابا کی تربت پہ جا کر ان سے باتیں کیں ”۔

ریڈیو میری ماں :

” پھر 2004 میں مجھے دل کی تکلیف ہوئی اور اسٹنٹ ڈالا گیا۔ ریڈیو پاکستان نے دو لاکھ روپیہ مجھ پر لگایا۔ مجھے ابا کی بات یاد آئی کہ ہم نہ ہوں گے یہ ریڈیو ہی تمہارا ماں باپ ہو گا۔ میری شادی پر ابا بھی موجود تھے۔ مجھے اللہ نے چار بیٹیاں اور دو بیٹے دیے۔ بڑے بیٹے کو ’گڑتی‘ ابا نے دی۔ میری چاروں بیٹیاں ماشاء اللہ اپنے اپنے گھروں میں ہیں۔ دو نوں بیٹوں کی بھی شادی ہو گئی ہے۔ اور اسی سال مجھے دوبارہ دل کی تکلیف ہو گئی۔ پتا نہیں کہ اللہ کی ذات پاک نے مجھ سے کون سا کام لینا ہے کہ اللہ نے بچا لیا کہ جاؤ۔“ ۔

” مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ کو دل کی تکلیف کام کے دوران ہی ہوئی؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” جی میں بوبی وزیر کا کام کر رہا تھا۔ وہ میوزک میں نے لکھا ہوا تھا۔ امریکہ کی پارٹی کا کام تھا۔ بوبی میرا گنڈا بند شاگرد اور بڑا زبردست کمپوزر تھا۔ مجھ سے بہت پیار کرتا تھا۔ ریکارڈنگ سے پہلے ہی بوبی اللہ کو پیارا ہو گیا۔ وہ کام رک گیا۔ پھر بوبی کے بڑے بھائی نعیم وزیر اور اس کے بھتیجے تیمور نے مجھے بلوایا کہ آپ ہمارے بھی استاد ہیں آئیے رکا ہوا کام مکمل کروا دیں کیوں کہ جن کا یہ کام ہے ان کے فون پر فون آ رہے ہیں۔

میں گیا اور شام چھ بجے سے ساری رات چھ گانے وائلن والوں کو یاد کروائے کیوں کہ یہ لکھے بھی میں نے ہی تھے۔ صبح ناشتہ پر یہ لوگ چنے کھا نے لگے میں نے بکرے کا مغز منگوا لیا۔ اگلے دن پھر ساری رات ریکارڈنگ کروائی۔ صبح پھر میں نے وہی مغز منگوا لیا۔ بس کچھ ہی دیر بعد معاملہ الٹا ہو گیا۔ میری حالت غیر ہونے لگی۔ کیا میوزیشن، کیا نعیم، کیا تیمور سب ہی پریشان ہو گئے۔ مجھے شیخ زید ہسپتال لے جایا گیا۔ وہاں سے کارڈیالوجی بھیجا۔ بہرحال! اللہ نے نہ جانے مجھ سے کون سا کام لینا ہے کہ دوبارہ زندگی دے دی“ ۔

دلچسپ سوال جواب:
” آپ کے بیٹوں میں سے دادا اور باپ کے نقش قدم پر بھی کوئی چل رہا ہے؟“ ۔

۔ ”میں نے کوشش کی کہ ایک بیٹے کو وائلن شروع کراؤں لیکن وہ کہتا ہے کہ اس میں بڑی محنت درکار ہے۔ وہ بیس گٹار بجانا چاہتا ہے۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں وہی کر لو۔ اس کو تمام ’کورڈ سسٹم‘ اور ’پیٹرن‘ بتایا۔ دوسرے بیٹے غلام محمد کو ’چیلو‘ شروع کرایا ہے۔ وہ میرے ساتھ کوک اسٹوڈیو میں بھی چیلو بجاتا رہا ہے“ ۔

” ماشاء اللہ! ایک تاثر ہے کہ چیلو غم کا ساز ہے جب کہ میں نے بزمی صاحب اور کریم بھائی المعروف کریم شہاب الدین صاحب کو خوشی کے گیتوں میں بھی یہ استعمال کرتے دیکھا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” چیلو کے تاثر کا انحصار ارینجر، موقع محل کی کیفیت اور صورت حال پر ہے۔ آپ دیکھیں فلم۔“ ٹائی ٹینک ”میں تقریباً چالیس چیلو بجے ہیں۔ اسکرین پر جہاز آ رہا ہے۔ چیلو، ڈبل بیس اور ’واویولا‘ استعمال ہو رہے ہیں۔ بے کراں سمندر ہے اور جہاز۔ ان سازوں کی وجہ سے ہی وہ ماحول بنا جو بننا ضروری تھا۔ چیلو، ڈبل بیس اور وایولا سے ماحول بنانا ہم نے بھی سیکھا ہے۔ مغربی کورڈ سسٹم کو اپنے رنگ اور انگ میں لانا بہت ضروری ہے۔ رہی بات چیلو کی تو یہ خوشی کی کیفیت کو بھی بھرپور ظاہر کرتا ہے۔ صرف گوروں کی نقل کرنا ہی کافی نہیں“ ۔

” یہ بات کہاں تک صحیح ہے کہ ہمارا جو بھی اچھا کام ہوا اس میں ایک طرح یا دوسری طرح بھارت کی نقل ہوئی؟“ ۔

” ہمارا بہت سارا کام خود اپنا تخلیق کردہ اور اصل ہے۔ اس دور میں یہ ہوتا تھا کہ رشید عطرے صاحب کا گانا آیا تو انہوں نے بھی سنا اور پھر اس کا جواب دیا۔ پھر ہمارے ماسٹر عنایت حسین صاحب کا کوئی گانا آیا تو اس کا جواب وہاں سے دیا گیا۔ پھر وہاں سے گانا آیا تو یہاں سے اے حمید صاحب، صفدر صاحب جواب دیتے تھے۔ بڑا زبردست مقابلہ تھا۔ اگر وہاں سے ’کلاوتی‘ میں کوئی گانا آ گیا تو یہاں سے موثر جواب دیا گیا۔ اگر یہاں سے ’بھیرو‘ میں کوئی گانا آیا تو اس کے جواب میں ایک گانا وہاں سے آتا تھا“ ۔

” فلمی موسیقاروں میں سب سے زیادہ مشکل موسیقار کون سے تھے؟“ ۔

” وہ ہمارے خواجہ خورشید انور صاحب تھے۔ میں نے ان کے ساتھ دو فلمیں کیں۔ پھر ان کے بعد نثار بزمی صاحب۔ انہوں نے پاکستان آ کر ہماری موسیقی میں ایک واضح تبدیلی دی“ ۔

” آپ نے بزمی صاحب کے کون کون سے گانے بجائے؟“ ۔

” میں نے بزمی صاحب کے ساتھ پہلا گانا فلم“ امراؤ جان ادا ”( 1972 ) کا ’جو بچا تھا وہ لٹانے کے لئے آئے ہیں۔‘ ۔ پھر تو وہ جب تک لاہور فلم انڈسٹری میں رہے میں نے ان کا کام کیا“ ۔

ربابی گھرانا :

” ہمارا گھرانا ’ربابی‘ ہے جو کمپوزروں کا خاندان ہے۔ میرے ابا بھائی چھیلا پٹیالہ والے، پھر میرے ابا کے زمانے کے بھائی چاند، پھر ان کے بعد آنے والے بھائی نصیرا جو پکھاوج بجانے میں اپنی مثال آپ تھے۔ ہمارے ابا تو گائک تھے لیکن جو دوسرے ربابی افراد تھے وہ گردوارے میں ’شبدھ‘ گانے لگے۔ پھر ہمارے خاندان کے پہلے فلمی کمپوزر ماسٹر غلام حیدر ہیں جنہوں نے لتا منگیشکر کو متعارف کروایا۔ پھر رشید عطرے صاحب نے بہترین گانے بنائے۔

ان کے بعد اے حمید صاحب، صفدر حسین صاحب ( یہ موسیقار رشید عطرے صاحب کے بھانجے تھے ) ، طفیل فاروقی صاحب، وزیر افضل صاحب جو آج کل بیمار ہیں۔ پھر ہمارے خاندان کے ایک ایسے بھی کمپوزر ہیں جنہوں نے پچیس تیس سال فلم انڈسٹری میں حکومت کی ہے۔ یہ وجاہت عطرے صاحب ہیں۔ پھر ان کا شاگرد ذوالفقار عطرے جن کی مشہور فلم“ چوڑیاں ”( 1998 ) ہے۔ پھر امجد بوبی صاحب“ ۔

سائیں اختر حسین:

1963 میں ماسٹر عنایت حسین نے ادا کار اور فلمساز الیاس کاشمیری اور ہدایت کار شریف نیر کی فلم ”عشق پر زور نہیں“ کے لئے مالا سے ایک المیہ گیت ریکارڈ کروایا۔ اس گیت نے حقیقی معنوں میں مالا کو مالا بنا دیا۔ اس گیت پر مالا کو بہترین گلوکارہ ہونے کا پہلا نگار ایوارڈ حاصل ہوا۔ وہ گیت یہ ہے :

دل دیتا ہے رو رو دہائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے
بڑی مہنگی پڑے گی یہ جدائی کسی سے کوئی پیار نہ کرے

یہ حقیقت ہے کہ اس گیت میں اداسی، ملال اور شدت کا رنج سائیں اختر حسین کی المناک تانوں نے پیدا کیا۔ یہ بھی ربابی گھرانے سے ہیں۔ بے شک ماسٹر عنایت حسین کی محنت اس گیت سے عیاں ہے۔ یہ ایک ایسا گیت ہے جو بلا شک و شبہ روزانہ شعر و شاعری والے رات گئے ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں سے سننے کو ملتا ہے۔ میں نے خود ایک سے زیادہ مرتبہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اردو اور ہندی ریڈیو پروگراموں میں اس گیت کو سنا۔ میرے پاس 1986 کی ایک آڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جب لاس اینجلس، کیلی فورنیا، امریکہ سے ریڈیو پروگرام ’سنگم‘ میں مذکورہ گیت نشر کرنے کے بعد فلم اور موسیقار کا نام غلط لیا اور سائیں اختر حسین کا نام نہیں لیا گیا۔ خاکسار نے وہاں فون پر تصحیح کی۔ اگلے گیت کے بعد اس کم تر کی ریڈیو والوں سے گفتگو نشر بھی کی گئی۔ اس گیت کو امر بنانے میں

قتیلؔ شفائی کے بولوں کا بھی برابر کا ہاتھ ہے۔ سائیں اختر حسین کو 14 اگست 1987 میں بعد از مرگ صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی دیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں جاوید صاحب نے کہا : ”ریڈیو پاکستان میں کمپوزر دس پندرہ دن میں ایک گانا یا غزل بنا تا۔ میرا کام کمپوزر کی دھن کو کاغذ پر منتقل کرنا ہوتا۔ اس مرحلہ پر میرے پاس کوئی وائلن نہیں ہو تا۔ صرف کاغذ پینسل۔ پھر جب یہ کام ہو جاتا تو اکثر مجھے کہا جاتا کہ یہ شاعری ہے اس کو سامنے رکھ کر تم ’انٹرو‘ بنا لو۔ میں نے سب کمپوزروں کا کام ایک ہی جیسی محنت، توجہ اور انصاف کے ساتھ کیا“ ۔

” کیا آپ نے محسن رضا خان صاحب کا بھی کام کیا؟“ ۔
” ہاں ان کا بھی بہت زیادہ کام کیا“ ۔

باتوں باتوں میں انہوں نے بتایا: ”میں صدر مشرف کے دور میں 14 اگست کو اسلام آباد پروگرام کرنے جاتا تھا۔ ان کو بھی میرا سلام ہے! ایک مرتبہ خوش ہو کر پورے آرکیسٹرا کو پچھتر لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ اب پاکستان ٹیلی وژن والوں نے یہ کیا کہ اس پروگرام میں بالواسطہ اور بلا واسطہ سب ہی لوگوں کو پینتیس پینتیس ہزار روپے دیے۔ یہ بھی بہت اچھی روایت بنی۔ پھر ریڈیو پاکستان کے ڈائیریکٹر جنرل انور صاحب کو بھی سلام ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ انہوں نے ہمارے سر پر ہاتھ رکھا ہوا ہے اسی لئے ہم سب ان کی سلامتی کی دعائیں کیا کرتے“ ۔

ذکر استاد نذر حسین کا:

” ابھی استاد نذر حسین صاحب کا ذکر ہوا۔ وہ تو اس ’سبتک‘ سے اس ’سبتک‘ تک دھن سے کھیلتے تھے۔ کیا گلوکار اور کیا میوزیشن سب چکرا جاتے تھے۔ آپ کیا کہتے ہیں؟“ ۔

” وہ تو ایسی ہستی تھے کہ کوئی گلوکار بھی آ جائے ان کا گانا یاد کر نا بے حد مشکل کام تھا۔ ایسی دھنیں بناتے کہ لوگ گھوم کر رہ جاتے۔ ایسا بھی ہوا کہ گلوکار کوشش کر رہے ہیں اور ان کو گانا یاد ہی نہیں ہو رہا آخر کار وہ ان کے پیروں میں گر گئے۔ تب استاد صاحب ہنس کر کہتے کہ کوئی بات نہیں گاؤ! میرے سامنے کئی گلوکار آئے جنہیں گانا یاد کرنے میں بے حد دشواری پیش آئی۔ استاد کی دھنیں ایسی ہوتی تھیں کہ آٹھ آٹھ دن گلوکار اس کو یاد کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ’لے‘ بھی ایسی کہ۔“

رات پھیلی ہے تیرے ریشمی آنچل کی طرح :

” ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میڈم ( ملکۂ ترنم ) نے محسن رضا خان صاحب سے کہا کہ میں نے استاد نذر حسین صاحب کی دھن پر پی ٹی وی کے پروگرام ’ترنم‘ میں غزلیں ریکارڈ کروانی ہیں۔ استاد صاحب کو غزلیں دھن بنانے کے لئے دے دی گئیں۔ میں، استاد صاحب اور محسن رضا خان صاحب میڈم کے گھر گئے۔ پہلے استاد نذر حسین صاحب نے کلیمؔ عثمانی صاحب کی غزل : ’رات پھیلی ہے تیرے ریشمی آنچل کی طرح۔‘ کی استھائی باجے پر خود گا کر سنائی۔

اب یہ بہت مشکل دھن ہے۔ سلام ہے میڈم کو، جنت میں ان کا گھر ہے۔ ان سے رہا نہیں گیا کیوں کہ وہ بھی بہت بڑی آرٹسٹ ہیں ایک دم اٹھیں اور پہلے تو کہا واہ! خوب داد دی۔ پھر جب انترا شروع ہوا تو بے خود ہو کر سنتی رہیں اور پھر بے ساختہ کہا کہ میں ابھی آئی اور اندر کمرے میں سے پیسے لائیں اور کہا:“ استاد صاحب یہ آپ کی نذر ”۔ اس وقت میڈم نے استاد نذر حسین صاحب کو دھن بنانے پر خوش ہو کر پچاس ہزار روپے دیے۔ پھر وہ میڈم نے کیا گایا۔ ان غزلوں کے علاوہ بھی میڈم نے استاد نذر حسین صاحب کے سارے گیت و غزلیں ایک سے بڑھ کر ایک گائیں“ ۔

” کیا آپ نے ’رات پھیلی ہے تیرے ریشمی آنچل کی طرح۔‘ میں وائلن بجایا ہے؟“
” جی ہاں میں اس غزل میں شروع تا آخر شریک رہا“ ۔

” میں استاد نذر حسین صاحب کے ساتھ کسی غزل پر میاں عزت مجید صاحب کے ’سچل اسٹوڈیو‘ میں کام کر رہا تھا۔ طے ہوا کہ یہ غزل ہری ہرن گائے۔ استاد صاحب نے دھن بنا لی اور ہری ہرن دبئی سے یہاں لاہور آ گئے۔ وہ استاد صاحب کے پاس ہی بیٹھ گئے۔ استاد صاحب نے باجے پر وہ پوری غزل گا کر سنائی۔ ہری صاحب دم بخود ہو کر بے حس و حرکت سنتے ر ہے۔ ادھر غزل ختم ہوئی ادھر انہوں نے ایک لاکھ روپے بطور نذر استاد صاحب کو پیش کیے ۔

جس طرح ہمارے غلام علی صاحب ہیں بالکل اسی طرح ہری ہرن بھی بہت بڑا آرٹسٹ ہے! اس غزل کو سن کر کہا:“ استاد جی! کیا اس کا آڈیو ٹریک ہو سکتا ہے؟ میں آرام اور اطمینان کے ساتھ گانا چاہتا ہوں ”۔ یہ سن کر استاد صاحب نے مجھے بلایا اور کہا کہ میں اس گانے کا ٹریک ریکارڈ کر دوں۔ جو بھی استاد صاحب کے گانے گاتا اس کی سہولت کے لئے اس گانے کا ٹریک میں ہی بجا تا تھا۔ یہ سن کر ہری ہرن میری جانب حیرانی سے دیکھنے لگے کہ اتنی مشکل دھن بھلا وائلن پر کیوں کر بجے گی! میں نے ایک ہی ٹیک میں وہ ٹریک ریکارڈ کروا دیا۔ ہری ہرن بے ساختہ اٹھے اور مسکرا کر جیبیں جھاڑتے میری جانب بڑھے اور جو بھی باقی بچ رہا تھا سب مجھے نذر کر دیا“ ۔

” بابا نامدار کے بارے میں کچھ بتائیے“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” سبحان اللہ! کیا نام لے دیا! بابا نامدار ہمارے بھی استاد تھے۔ پھر بابا الیاس خان، بھائی اسلام خان اور بھائی یوسف یہ چار ’اے بیچ‘ کے زبردست وائلن نواز تھے۔ ہم نے ان کو دیکھا اور سنا ہے۔ اور ساتھ میں بابا پیٹر!“ ۔

حنیف گٹارسٹ اور جاوید صاحب:

” جاوید صاحب! یہ تو بتائیں کہ میرے دوست حنیف بیس گٹارسٹ کے بھی ایک جاوید نام کے بھائی لاہور کی فلمی صنعت میں وائلن بجاتے تھے۔ بزمی صاحب کے ساتھ حنیف نے پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز میں میرے پروگرام میں بیس گٹار بجائی، وہ جاوید صاحب کون ہیں؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” اس کا بڑا بھائی جاوید اقبال وائلن بجاتا تھا وہ میں ہی ہوں!“ ۔

اس غیر متوقع جواب پر تو میں ششدر رہ گیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے بتایا : ”میں نے جو تکالیف جھیلیں وہ جھیل لیں۔ میری خواہش تھی کہ اپنے دونوں چھوٹے بھائیوں حنیف اور اس سے چھوٹے سمیع کو ان سے نہیں گزرنا پڑے۔ اس وقت یہ دونوں امریکہ میں ہیں۔ میں نے ان کو کسی قسم کی بھی پریشان کن صورت حال سے الگ ہی رکھا۔ میں نے خود حنیف کو بیس گٹار پر تیار کیا۔ ’وولف گینگ موزارٹ‘ ، ’سباستیان باخ‘ ، ’لڈ ویگ بیتھو و ن‘ کی چیزیں اس کے ہاتھ سے نکلوائیں۔ ’کورڈ سسٹم‘ سمجھایا۔ پھر میں اسے اپنے فلمی بیچ میں لے کر گیا۔ پھر جب فلموں کا کام ختم ہوا اور پاکستان ٹیلی وژن میں کام ملا تو اسے بھی ساتھ ر کھا“ ۔

موسیقار سہیل رعنا اور حنیف :

” اب سہیل رعنا صاحب کا ذکر بہت ضروری ہے۔ وہ لاہور میں کسی ریکارڈنگ کے لئے آئے تو حنیف کا کام بہت پسند آ یا۔ انہوں نے حنیف سے پوچھا کہ کیا وہ ان کے ساتھ کراچی چل سکتا ہے؟ اس نے میرا بتایا کہ مجھ سے اجازت لے دیں تو چل سکتا ہوں۔ سہیل رعنا صاحب کے پی ٹی وی کے گانے میں نے ہی لکھے تھے۔ وہ خود بہت بڑے کمپوزر ہیں انہیں بھی سلام! اب رعنا صاحب نے مجھ سے بات کی۔ میں نے کہا کہ پھر آپ کو جاوید بننا پڑے گا۔ وہ فوراً بولے کہ میں جاوید ہوں۔ میں نے کہا کہ پھر آپ لے جائیں اور

رعنا صاحب اسے کراچی لے گئے۔ وہ ضیاء دور تھا۔ 14 اگست کو سہیل رعنا صاحب کی ساری ٹیم اسلام آباد آتی۔ حنیف بھی اس تقریب کے بعد ایک دو دن لاہور رہ کر پھر کراچی چلا جاتا۔ وہاں حنیف نے بہت کام کیا۔ اسی دوران سہیل رعنا صاحب حنیف کو کسی پروگرام میں امریکہ لے گئے۔ وہ مجھ سے مشورہ کرتا رہتا تھا۔ میں نے کہا کہ رعنا صاحب سے اجازت لے لو کہ میں نے اپنی زندگی بنانا ہے اور یہیں قانونی ٹکاؤ کرنا چاہتا ہوں۔ سہیل رعنا صاحب نے کہا کہ تمہارے پاس کارآمد ویزہ موجود ہے اگر تم چاہتے ہو تو رہ جاؤ۔ اب آج ماشاء اللہ وہ خوش و خرم ہے۔ اب الحمدللہ حنیف کا امریکہ میں بھی اپنا گھر ہے۔ حنیف پر سہیل رعنا صاحب کا یہ احسان ہے۔ ”۔

ایک یادگار واقعہ :

” ہوا یہ کہ میں نیرہ نور کے پروگرام کے لئے کراچی گیا۔ فیض احمد فیضؔ کے لئے کسی شو کی تیاری تھی۔ کمپوزر ارشد محمود تھے۔ اس شو سے پہلے مجھے غلام علی خان صاحب نے بھی کہہ رکھا تھا کہ ان کے ساتھ سرکاری دورے پر ماریشیس جانا ہے۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ کب؟ میں نے پاسپورٹ بھی دے دیا۔ اس دوران میں کراچی چلا گیا۔ اب ریہرسل کے دوران غلام علی صاحب کا فون آ گیا کہ ہماری کل فلائٹ ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ کچھ دن پہلے کہا ہوتا میرا تو پرسوں شو ہونے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹھہرو میں بات کرتا ہوں۔ پہلے انہوں نے نیرہ نور سے پتا نہیں کیا بات کی۔ پھر ارشد محمود اور منیزہ ہاشمی سے نہ جانے کیا بات کی۔ ارشد صاحب نے کہا کہ کل غلام علی صاحب کراچی آ رہے ہیں آپ کو گاڑی ائرپورٹ چھوڑ دے گی۔ ان کا پاکستانی سفارتخانے کا پروگرام ہے۔ وہ چھوڑا نہیں جا سکتا لہٰذا اب آپ کا جانا وہاں ضروری ہو گیا ہے۔ جاتے ہوئے باقاعدہ مجھے پوری ادائیگی والا لفافہ بھی دیا گیا۔ ائرپورٹ پر دیکھا تو باقر بانسری والا مجھے ڈھونڈھ رہا ہے۔ غلام علی خان صاحب نے میوزیشنوں کی ڈیوٹی لگا دی تھی کہ جاوید پریشان نہ ہو اسے فوراً میرے پاس لے آؤ۔ باقر کے پاس میرا پاسپورٹ اور ٹکٹ تھا“ ۔

” وہ پروگرام کیسا رہا؟“
” وہ بڑا بہترین پروگرام رہا“ ۔
” آپ کو سب سے زیادہ خوشی کس موقع پر ہوئی؟“ ۔

” جب میں نے اپنی تین بہنوں کی شادی کرائی۔ اور اس وقت جب خود میری شادی میں ابا شریک ہوئے۔ پھر اس وقت جب اللہ نے مجھے چار رحمتیں عطا کیں“ ۔

” کیا آپ والد صاحب کی زندگی میں ریڈیو پاکستان میں ملازم ہو چکے تھے؟“ ۔

” نہیں ابا کی حیات میں ریڈیو پاکستان میں تو نہیں تھا لیکن الحمدللہ اپنے پیروں پر کھڑا ضرور تھا۔ ملک میں اور بیرون ملک بڑے پروگرام کرتا تھا۔ پی ٹی وی کے کام کے علاوہ مقامی شو علیحدہ“ ۔

” کبھی بھارت گئے؟“ ۔
” نہیں وہاں جانے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا“ ۔
آسٹریلیا کے دلچسپ واقعات:
” آپ کا پہلا غیر ملکی شو کس ملک میں ہوا؟“

” وہ آسٹریلیا میں ہوا۔ میں غلام علی صاحب کے ساتھ گیا تھا۔ کراچی سے ارشد علی طبلہ پر ہمارے ساتھ تھے۔ ان کا بیٹا شانی کمپوزر ہے۔ آج کل“ فتور ”ڈرامے میں اس کا تھیم سانگ چل رہا ہے۔ اس گیت میں میرا سولو وائلن بھی ہے۔ بہرحال آسٹریلیا والے پہلے شو میں میرا اور ارشد علی کا کمرہ ایک تھا۔ ایک دن اس نے کہا کہ جب خان صاحب گاتے گاتے آپ کو اشارہ دیں کہ پیس بجاؤ تو آپ نے فوراً کلاسیکل بجانا ہے پیس نہیں! میں نے کہا اس سے کیا ہو گا؟

جواب دیا اس سے داد تو ملے گی ہی لوگ آپ پر آسٹریلین ڈالر بھی نچھاور کریں گے۔ ہم نے ان کی گائی ہوئی ناصرؔ کاظمی کی مشہور غزل : ’دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی۔‘ کی مشق کی اور یوں کسی بھی گیت و غزل کے لئے ہم دونوں تیار ہو گئے۔ لیں جناب! شو میں یہی پہلی غزل انہوں نے شروع کی۔ جب خان صاحب نے مجھے اشارہ کیا میں نے پیس بجاتے بجاتے اپنی ’لے‘ بنا کر کلاسیکل میں رنگ جما دیا پھر واپس اسی اصل ’لے‘ کو ’سم‘ پر ٹھا مارا تو وہاں پر موجود پبلک تو کھڑی ہو گئی۔

غلام علی خان صاحب بڑے لوگ ہیں فوراً کہنے لگے :“ یہ میرا چھوٹا بھائی ہے ”۔ ساتھ ساتھ ہنس بھی رہے تھے کہ میں نے اور ارشد نے شوخی دکھائی۔ البتہ ہمیں خوب ڈالر ملے۔ اب دوسرا گانا شروع ہوا تو تھوڑی دیر بعد سننے والوں کی جانب سے آواز آئی :“ خان صاحب وائلن! ”۔ خیر اس دوران اکبرؔ الہ آبادی کی مشہور غزل شروع ہوئی : ’ہنگامہ ہے کیوں برپا۔‘ اس میں بھی جب مجھے اشارہ ہوا ارشد کے ساتھ مل کر ہم دونوں نے کلاسیکل رنگ دکھا دیا۔

لوگوں کو تو چھوڑیں خود غلام علی خان صاحب نے بھی داد دی۔ پہلی غزل میں اٹھارہ سو آسٹریلین ڈالر ہوئے تھے اب تو اس سے کہیں زیادہ تھے۔ باہر آٹوگراف لینے والوں کا ہجوم۔ غلام علی صاحب کے ساتھ میرے اور ارشد علی کے بھی آٹوگراف لئے گئے۔ وہاں بھی کوئی پچاس تو کوئی بیس ڈالر دے رہا تھا۔ صرف یہ ہی چار ہزار سے زیادہ ہو گئے“ ۔

صدارتی تمغہ حسن کار کردگی:
” آپ کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی ملنے کا کیا پس منظر ہے؟“ ۔

” مجھے 2017 میں صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی عطا ہوا۔ دیکھا جائے تو مجھے ریڈیو کی خدمات کے صلے میں عطا ہوا ہے۔ میں وائلنسٹ تھا، میوزک لکھتا تھا، ارینجر بھی تھا۔ میں نے اپنے کام کو پوری دیانت داری اور انصاف کے ساتھ انجام دیا۔ شاید اسی کو دیکھتے ہوئے مجھے ریڈیو سے یہ تمغہ عطا ہوا“ ۔

” آپ کے شاگرد کہاں کہاں ہیں؟“ ۔
” میرے شاگرد یورپ، امریکہ، اسلام آباد، لاہور، ملتان، کراچی اور دیگر ممالک اور شہروں میں ہیں“ ۔
” ایسا کیا جائے کہ فلم انڈسٹری کا بحران ختم ہو سکے؟“

” فلم کے ہر ایک شعبے میں تعلیم اور فنی تربیت ضروری ہے۔ فلمساز بھی تگڑے ہونا چاہئیں۔ دیکھیں جب یہاں ’‘ ٹائی ٹینیک“ لگی تھی تو اس کے مقابل ”چوڑیاں“ ( 1998 ) اتنی ہٹ گئی کہ ’‘ ٹائی ٹینیک ”کے پوسٹر اتارے جانے لگے۔ گویا جو بزنس“ چوڑیاں ”نے کیا وہ ’‘ ٹائی ٹینیک“ نہیں کر سکی۔ جب نظام بہتر ہو جائے تو ہماری انڈسٹری میں وہی بہاریں دکھائی دیں گی جو ہم نے کبھی دیکھی تھیں ”۔

Comments - User is solely responsible for his/her words