انخلا کا کام مکمل ہونے تک مشن جاری رہے گا، بائیڈن

صدر بائیڈن خطاب کرتے ہوئے۔
ویب ڈیسک — صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ جولائی سے اب تک 18000 سے زائد افراد کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے، جن میں امریکی شہری، اور 20 سال تک امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغان باشندے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انخلا کا کام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک یہ مشن مکمل نہیں ہو جاتا۔

جمعے کے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے، امریکی صدر نے کہا کہ طالبان سے رابطے کے دوران ان پر یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ جن حضرات کے پاس پاسپورٹ اور قانونی کاغذات ہیں انھیں کابل ہوائی اڈے تک پہنچنے سے نہ روکا جائے۔

انھوں نے کہا کہ اس ضمن میں طالبان اب تک تعاون کر رہے ہیں، اور امریکہ نے ان پر واضح کر دیا ہے کہ کسی رکاوٹ کی صورت میں سخت رد عمل کے لیے تیار رہیں۔

صدر نے کہا کہ ان تمام افراد کو افغانستان سےباہر نکالا جا رہاہے جن کی جان کو خطرہ لاحق ہے، ‘ان میں خواتین راہنما اور صحافی بھی شامل ہیں”۔

انھوں نے کہا کہ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کی انتظامیہ سے قریبی رابطہ ہے اور افغانستان سے ان اخباری اداروں سے وابستہ 204 ملازمین کے انخلا کا عمل مکمل کیا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں، صدر نے کہا کہ ”افغانستان میں داعش طالبان کی سخت دشمن ہے”۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا انخلا ہے اور واحد ملک جو دنیا کے اس پار سے اتنی قوت اور انتہائی درست طریقے سے اس سطح کی کارروائی کر سکتا ہے وہ امریکہ ہے۔ 14 اگست کے بعد سے ہم 18,000 لوگوں کو افغانستان سے نکال چکے ہیں اور جولائی کے بعد سے یہ تعداد لگ بھگ 30,000 ہے اور ایک ہزار سے زیادہ امریکی حکومت کی مدد سے نجی اور خصوصی پروازوں کے ذریعے نکالے گئے ہیں۔ اس تعداد میں امریکی شہری، افغان شہری اور سپیشل امیگریشن ویزا (ایس آئی وی) کے ذریعے درخواست دینے والے اور ان کے اہلِ خانہ شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہونا چاہئے کہ انخلا کا یہ مشن خطرناک ہے اور اس سے ہماری مسلح فورسز کو بھی خطرہ ہے۔ اور یہ مشکل حالات میں جاری ہے۔ میں یہ یقین نہیں دلا سکتا کہ حتمی نتیجہ کیا ہوگا مگر ‘کمانڈر ان چیف’ کی حیثیت سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں تمام ضروری وسائل استعمال کروں گا۔

انہوں نے بتایا کہ اگلے ہفتے افغانستان کے مسئلے پر غور کے لیے جی-7 کا اجلاس ہو رہا ہے۔

بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے امریکہ کے کسی اتحادی کو امریکہ کی ساکھ پر سوال اٹھاتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا خیال ہے کہ افغانستان میں ان کے اتحادیوں کو 31 اگست تک ملک سے نکال لیا جائے گا، لیکن جیسے حالات ہوں گے، اسی کے مطابق فیصلہ کیا جائےگا۔

ایک سوال کے جواب میں صدر بائیڈن نے کہا کہ ایسے اشارے نہیں ملے جن سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ طالبان لوگوں کو ایئرپورٹ جانے سے روک رہے ہوں۔ بائیڈن کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو لوگوں کو انخلا کے لیے ایئرپورٹ پہنچانے میں فوج سے مدد لی جا سکتی ہے۔

"​میں یہ مشن سرانجام دینے والے امریکی مسلح افواج کے بہادر مردوں اور خواتین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ ایک بہت اہم مشن ہے۔ ہم لاجسٹکس اور انخلا کا کام کرنے کے ساتھ یہ بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ شہریوں کے لیے ایئرپورٹ محفوظ رہے اور ہر امریکی وہاں پہنچ سکے”۔

انھوں نے کہا کہ کابل ائیر پورٹ سے پروازوں کی آمد و رفت کو زیادہ منظم بنا کر ہم نے لوگوں کو افغانستان سے نکالنے کی رفتار میں اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘آج صبح کچھ دیر کے لئے ہم نے یہ سلسلہ روک دیا تھا تاکہ یہ یقینی بنا سکیں کہ انخلا کے بعد یہ لوگ کہاں پہنچیں گے۔ مگر اب ہماری کمانڈ اور کنٹرول’ نے ایک مرتبہ پھر پروازوں کا آغاز کر دیا ہے۔ کل ہم نے 5700 لوگوں کو نکالا تھا اور ہم درست طریقے سے یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں’۔

صدربائیڈن نے کہا کہ ”ہم اپنے اتحادیوں اور رفقا کو بھی پروازیں مہیا کر رہے ہیں اور ہمارے آپریشنز نیٹو کے ساتھ بھی مربوط ہیں۔ مثال کے طور پر ہم نے فرانسیسی سفارت خانے سے لوگوں کو ایئرپورٹ تک لانے میں مدد دی۔ ہماری کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہمارا مشن پورا نہیں ہو جاتا”۔

صدر بائیڈن نے یہ خطاب ایسے وقت کیا ہے جب افغانستان سے انخلا کے معاملے پر بائیڈن انتظامیہ کو تنقید سامنا ہے۔

صدر بائیڈن نے کہا کہ ہم نے طالبان کو بتا دیا ہے کہ اگر ہماری افواج پر کسی قسم کا حملہ ہوا تو امریکی کی جانب سے فوری جواب آئے گا۔ دہشت گردوں کے حملے کی جانب بھی ہم مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، جن میں داعش اور جیلوں سے نکلنے والے قیدی بھی شامل ہیں۔

صدر بائیڈن اس سے قبل طالبان کی جانب سے تیزی کے ساتھ کابل پر قبضہ کرنے اور افغانستان سے انخلا کے معاملے کے موجودہ رخ اختیار کرنے کی ذمہ داری اشرف غنی کی حکومت پر ڈال چکے ہیں۔

ایک دفاعی اہلکار نے بتایا ہے کہ اب تک امریکی فوج کے سی 17 کے ٹرانسپورٹ طیاروں کی 16پروازوں کے ذریعے کابل سے تقریباً 5700 افراد کا انخلا عمل میں لایا گیا ہے، جن میں لگ بھگ 250 امریکی شہری شامل ہیں۔ گزشتہ دو دنوں کے دوران تقریباً 2000 افراد کو ملک سے نکالا جا چکا ہے۔

طالبان کی جانب سے ملک پر قبضے کے بعد گزشتہ ہفتے اشرف غنی افغانستان چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ جنہیں متحدہ عرب امارات کی حکومت نے میزبانی کی پیشکش کی ہے۔ اشرف غنی نے ایک فیس بک خطاب میں کہا تھا کہ انہوں نے ملک سے نکلنے کا فیصلہ مشاورت سے کیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words