وہ صبح کبھی تو آئے گی

آمنہ مفتی - مصنفہ و کالم نگار

آج کل میرے دوست احباب سب ایک ہی سوال کر رہے ہیں، پاکستانی معاشرے کو کیا ہو گیا ہے؟

جواب سادہ سا ہے کہ ہوا ہوایا کچھ نہیں، بس پردہ اٹھ گیا ہے۔ وہ لڑکیاں جو چپ رہتی تھیں، بولنے لگی ہیں اور اس قدر بولنے لگی ہیں کہ ان کی مخالفت میں چلانے والے، چلاتے چلاتے ہانپ گئے ہیں۔

کس دور میں لڑکیوں کے کالجوں، سکولوں کے باہر لفنگوں کا ہجوم موجود نہیں رہا؟ کس کس لڑکی کا صرف اس جرم میں تعاقب نہیں کیا گیا کہ وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے گھر سے نکلتی ہے؟

لڑکیوں کو رقعے پہنچانا، ان کے فون نمبر بانٹنا، شادی کی ویڈیو میں سے لڑکیوں کے رقص کی تصویریں لے کر عام کرنا، یہ سب فرض منصبی کی طرح سوشل میڈیا سے پہلے بھی ہوتا تھا۔

میلوں ٹھیلوں کا تو حال ہی مت پوچھیں، زنانہ بازاروں میں بھی یہ مسٹنڈے فرض کی طرح عورتوں کو پریشان کرتے پھرتے تھے۔ باپ بھائی بھی چڑ کے لڑکیوں کو ساتھ نہیں لے جاتے تھے اور گھر میں بند لڑکیاں اگر چھت یا کھڑکی پہ چلی گئیں تو محلے کا ہر لونڈا تاڑنے پہ مستعد ہو جاتا تھا۔

چودہ اگست کو مینار پاکستان پہ جانے کا تو کوئی لڑکی خواب میں بھی تصور نہیں کر سکتی تھی۔ چودہ اگست کی رات اگر کسی کام سے باہر نکلنا بھی ہوتا تھا تو اسے ملتوی کرنے پہ ہی غور کیا جاتا تھا۔

سڑکوں پہ ہلڑ بازی، فیملیز اور اکیلی خواتین کو پریشان کرنا، یہ تو ایک روایت سی ہے۔ جو لڑکا جوان ہوتا ہے اسے بڑے لڑکے، چھپ کر سگریٹ پینا اور لڑکیوں کو دق کرنا سکھاتے ہیں۔ یہ ہی ہمارا گلی اور نکڑ کلچر ہے۔

آج یہ ہوا کہ سوشل میڈیا نے معاشرے کا یہ گندا چہرہ سامنے لا کے رکھ دیا ہے۔ پاکستانی مرد اسی قدر، ترسے ہوئے، ندیدے اور جاہل ہیں۔ جتنے آپ کو پچھلے کئی دنوں کی پے در پے ویڈیوز میں نظر آئے ہیں۔

بات تربیت کی کی جاتی ہے اور دوش دین سے دوری کو دیا جاتا ہے۔ وجہ صرف خاموشی تھی۔ عورت خاموش ہے تو مرد طاقتور ہے۔ آج آواز اٹھائی گئی۔ دبانے کی کوشش کی گئی لیکن مجھے خوشی ہے کہ ‘ہاں’ اتنی بلند تھی کہ ‘ناں’ دب گئی۔

پنجاب حکومت ہراسانی کے ان مجرموں کو پکڑ کے فارغ ہو تو اسے ایک اور طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔ سوشل میڈیا پہ نازیبا کمنٹس کرنے والوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہونا چاہیے۔

وقت لگے گا، مگر وہ دن دور نہیں جب اسی ملک میں خواتین، بغیر کسی خوف کے پڑھنے لکھنے، روز مرہ کے کام سر انجام دینے اور تفریح کے لیے کسی بھی لفنگے سے خوفزدہ ہوئے بغیر باہر پھر سکیں گی۔

بس ضرورت اس شہ کی ہے کہ سر اٹھا کے چلتی رہیں۔ چلانے والے بھی کب تک چلائیں گے؟ مجھے امید ہے کہ اگلے برس اسی مینار پاکستان پہ بہت سی لڑکیاں بے خوف و خطر جائیں گی اور انہیں وہاں موجود کسی لڑکے سے کسی طرح کا خوف نہیں ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words