گولڈن گرلز: اوئے، ننگی کر دی اوئے…

مصنفہ تحریم عظیم

ہیلو رابعہ،

میں آپ کی خیریت پوچھنا چاہتی ہوں لیکن کیسے پوچھوں۔ میں خود عجیب حال میں ہوں۔ پاکستان کی ہر عورت غم زدہ ہے۔ غصے میں ہے۔ کیا کریں۔

ہم ہر واقعے کے بعد سوچتے ہیں کہ اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے پھر ایک نیا واقعہ منظر عام پر آتا ہے جو پہلے سے زیادہ بھیانک ہوتا ہے۔

میں نے ابھی ایک ویڈیو دیکھی ہے۔ اس میں لڑکے سیٹیاں بجا رہے ہیں۔ قہقہے لگا رہے ہیں۔ جملے کس رہے ہیں۔ ان کے نشانے پر ایک لڑکی ہے۔

جس کا ہاتھ لگ رہا ہے۔ جہاں لگ رہا ہے۔ لگا رہا ہے۔
جس کے ہاتھ جو آ رہا ہے۔ کھینچ رہا ہے۔ کپڑے۔ جسم۔ سب کچھ۔
جو دور کھڑے ہیں وہ یہ منظر دیکھتے ہوئے سیٹیاں بجا رہے ہیں۔ قہقہے لگا رہے ہیں۔ جملے کس رہے ہیں۔

آپ کے آخری خط تک مرد شاید ایک دوسرے کو ”حیا کر یار“ کہا کرتے تھے۔ اب نہیں کہتے۔ اب وہ ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہیں کہ ایسے بھی کر لو یا اس طرح سے کرو۔

ویڈیو میں ایک لڑکا ایسے ہی مشورے دیتا ہوا سنا جا سکتا ہے۔
او۔ لے آ۔ پانی وچ لے آ ایہنوں (او۔ لے آؤ۔ اسے پانی میں لے آؤ)
لے آ۔ لے آ۔ تھلے لے آ تھوڑا (لے آؤ۔ لے آئے۔ تھوڑا نیچے لے آؤ)
اوئے۔ سٹ دے تھلے (اوئے۔ نیچے پھینک دے )
پھر اپنے ساتھیوں کو خبر دیتا ہے۔
اوئے۔ ننگی کرتی۔ اوئے (اوئے۔ اسے ننگا کر دیا ہے۔ اوئے )
پھر رش بڑھتا ہے۔
ننگی عورت۔ ننگی عورت۔ ننگی عورت۔

سب آگے بڑھ رہے ہیں کہ کسی طرح ننگی عورت دیکھ لیں۔ اس کے جسم کا کوئی حصہ چھو لیں۔ اس پر اپنی ہوس کا نشان چھوڑ جائیں۔ اس لڑکی کی میڈیکل رپورٹ بتاتی ہے کہ اس کے جسم پر کئی جگہ خراشیں اور نیل ہیں۔

اف خدایا۔ یہ کون لوگ ہیں۔ کیا ان کے سینوں میں دل نہیں ہیں؟ کیا انہیں خوف نہیں آتا؟ ایسی کون سی ہوس ہے جو پورا ہونے کا نام نہیں لے رہی؟ کیا چاہتے ہیں یہ عورتوں سے؟

ان میں اور نربھیا کے مجرموں میں کیا فرق ہے۔ وہ ایک خالی بس میں اسے نوچتے رہے۔ یہ ایک بڑے سے پارک میں دن کی روشنی میں اس کے جسم کے ساتھ کھیلتے رہے۔

نربھیا کے مجرموں کی ہوس اس کے ریپ سے بھی پوری نہ ہوئی تو انہوں نے اس کے جسم میں لوہے کی سلاخ داخل کر دی۔ اس کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق اس کے جسم میں جو سلاخ داخل کی گئی وہ انگریزی حرف ایل کی شکل میں تھی۔ اس کے جسم کے اعضاء کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

مینار پاکستان سانحے میں شامل لڑکوں کے ہاتھ شاید کوئی سلاخ نہیں لگی تھی یا شاید انہیں نربھیا کیس کا پتہ نہیں تھا ورنہ وہ اتنا بھی کر گزرتے۔

میں نے یہ بلاگ کل رات لکھنا شروع کیا تھا۔ سوچا تھا صبح اٹھ کر ٹھیک کروں گی۔ تب تک ایک نئی ویڈیو آ چکی ہے۔

دو عورتیں ایک بچے کے ساتھ چنگ چی رکشے کے پچھلے حصے میں سوار ہیں۔ ایک لڑکا رکشے پر چھلانگ لگا کر آتا ہے، ایک لڑکی کا چہرہ پکڑ کر اسے بوسہ دیتا ہے اور واپس بھاگ جاتا ہے۔

ویڈیو میں فوراً آواز آتی ہے۔
اوئے تیری بھین کی۔
جی اوئے۔
استاد جی کڑیاں نیں۔ کی ہو گیا اے۔
چمی لے گیا اے۔

اس لڑکے کی آواز میں فخر تھا کہ دیکھو ہمارے ساتھی نے کیسا کارنامہ سر انجام دیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ایک حسرت بھی تھی کہ اس کی جگہ میں کیوں نہیں تھا۔

لڑکے اور مرد اپنی یا اپنی جنس کی کسی حرکت کو غلط نہیں سمجھتے بلکہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں۔ انہیں پتہ ہے کہ انہیں روکنے والا کوئی نہیں ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ ان کی کسی حرکت کی پکڑ نہیں ہوگی۔ انہیں یہ بھی پتہ ہے کہ لڑکیوں کو سننے والا کوئی نہیں ہے۔

ان لڑکیوں نے گھر جا کر کچھ نہیں بتایا ہوگا۔ بتایا بھی ہوگا تو انہیں کیا جواب ملا ہوگا۔ آئندہ باہر نہ جانا۔ ماحول ٹھیک نہیں ہے۔ وہ کبھی باہر نکلیں گی تو چنگ چی کی بجائے مہنگی سواری لیں گی۔ مردوں کی آزادی کی قیمت خواتین کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ قید ہو کر اور زیادہ پیسے خرچ کر کے۔

وہ لڑکیاں چنگ چی کے پچھلے حصے میں اپنا منہ آگے کی طرف کر کے بیٹھی ہوئی تھیں۔ لڑکے انہیں پہلے سے تنگ کر رہے تھے۔ تب ہی تو ویڈیو بن رہی تھی۔ انہوں نے منہ موڑ لیا۔ اس سے زیادہ وہ کیا کر سکتی تھیں۔ پھر بھی اس لڑکے نے انہیں ہراساں کرنا اپنا حق سمجھا۔

اس سڑک پر موجود کوئی آدمی اس کے پیچھے نہیں گیا بلکہ شاید اس کا دوست موٹر سائیکل پر اس کا انتظار کر رہا تھا تاکہ اسے بھگا کر آگے لے جا سکے۔ مینار پاکستان والے واقعے میں بھی کسی نے وہاں موجود لڑکوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ مرد اس طرح ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں۔

ہم ان کے خلاف بولیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم کچھ مردوں کی وجہ سے سب کو کیوں بدنام کر رہے ہیں۔

ہم کسی کو بدنام نہیں کر رہے۔ آدمی خود ثابت کر رہے ہیں کہ وہ سب ایک جیسے ہیں۔ وہ اپنی ہر حرکت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ جو جتنی حیثیت رکھتا ہے وہ اتنا عورت پر ظلم کرتا ہے۔ کسی کو ظلم کرتا دیکھے تو اسے روکنے کی بجائے اسے مشورہ دیتا ہے کہ ایسے کر لے۔ کوئی پکڑا جائے تو اسے بچانے آ جاتے ہیں۔ اس سے بھی رہ جائیں تو ناٹ آل مین تو ہے ہی۔

ٹھیک ہے، ہم نے تمہارا کہا مان لیا۔ تم سب اس میں شامل ہو۔

اب بتاؤ آخر عورت سے ایسی کیا دشمنی ہے؟ کیوں اس کا وجود تم سے برداشت نہیں ہوتا؟ کیوں تم نے عورت کے لیے اترا ہوا ہر لفظ پڑھا ہوا ہے لیکن اپنے لیے بھیجا کوئی پیغام دیکھا تک نہیں؟ عورت تمہارے لیے گوشت ہے اور تم عورت کے لیے کیا ہو؟

خدارا کچھ تو اپنے آپ پر رحم کھاؤ۔ کچھ تو اپنی عزت کرو۔ انسان پیدا ہوئے ہو۔ انسانوں کی طرح جیو۔ جانور ویسے بھی اس دنیا میں بہت ہیں۔

اس سیریز کے دیگر حصےآزادی، عزت اور ”حیا کر یار“ ۔وہ سیکس ڈول تھی، وہ تو کال گرل تھی
Comments - User is solely responsible for his/her words