پچھلے ہفتے عثمان مرزا کا تشدد کا واقعہ سامنے آیا۔ اور اسے قبل گھریلو تشدد کے حوالے سے آئین سازی پہ بات ہو رہی ہے۔ گھریلو جسمانی تشدد جس کو تشدد سمجھا ہی نہیں جاتا۔ بلکہ لطیفوں تک میں اس کو مرد کی محبت کا انداز کہا جاتا ہے۔ گھریلو ذہنی تشدد اس کے الگ کہانی ہے۔ ابھی صرف جسمانی تشدد کی بات کر رہے ہیں تو میری جان ہم اس کی آئین سازی کیوں نہیں چاہتے۔ بہت سے سو کالڈ مفکرین کی جاہلانہ رائے پڑھ کر ہمیں اندازہ ہوا کہ تم درست کہتی ہو عورت کے حقوق کی زبانی کلامی بات کرنا اور اس پہ عمل کرنا یکسر مختلف ہے۔
مردوں کی ایک بڑی تعداد نہیں چاہتی کہ جسمانی تشدد کا کوئی قانون بنے۔ عورت اور بچوں کو تحفظ ملے۔ جب بات عمل کرنے کی آتی ہے تو نعرے لگانے والے بھاگ جاتے ہیں۔ اور سب سے افسوس ناک دلیل جو کسی دانشور نے لکھی ہوئی تھی۔ کہ یہ قانون نہیں بننا چاہیے۔ کیونکہ گھر کی عورتوں اور بچوں کو مارنے سے مرد کا کیتھارسس ہو تا ہے۔ اگر یہ کیتھارسس نہیں ہو گا تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو گا۔
Read more