جب اس کا کردار تمہارے سچ کی زد میں آیا
ہم میں سے کچھ لوگوں کو خطرے کا احساس ضرور ہے۔ پاکستان، پاکستان کے عوام اور پاکستان کے حکمران خطرات سے آگاہی رکھتے ہیں۔ ہماری سیاسی اشرافیہ ان خطرات کو سیاسی حوالوں سے دیکھ رہی ہے اور ہماری اہم سیاسی اور مذہبی جماعتیں شتر مرغ کی طرح گردن پروں میں چھپا کر آنکھیں بند کر کے اپنے آپ پر لاگو ان خطرات سے لاتعلق ہونے کا مصنوعی کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔ ہمارے ملک کے اہم ادارے بھی اس موقع پر اپنا کردار ادا کرتے نظر نہیں آرہے، ہمارے پڑوس میں ہمارا کوئی دوست نظر نہیں آ رہا، ملکی اداروں پر تنقید جمہوری نظریہ میں ایک مثبت ردعمل ہوتا ہے مگر اس وقت تنقید مخالفت کے تناظر میں ہوتی نظر آ رہی ہے، ملک کی دو بڑی مذہبی جماعتیں بالکل خاموش اور حیران ہیں کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے، ان کو یقین نہیں آ رہا کہ دنیا میں مسلمانوں کا یہ روپ بھی ہو سکتا ہے، افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے دنیا کا چلن تو بدلنے سے رہا، امریکہ کا ہار جیت کا فلسفہ انوکھا سا ہے اور لگتا نہیں افغانستان میں امریکہ کا زیادہ نقصان ہوا ہے۔
آج سے بیس بائیس سال پہلے جب امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو حصہ داری میں یورپ بھی اس کے ساتھ تھا، یہ تمام خارجی افغانستان میں اتنے سال کیا کرتے رہے وہ اس وقت ایک معمہ ہے۔ بظاہر تو افغانستان میں امریکہ ہارتا نظر آ رہا ہے مگر وہاں پر قابض طالبان جو ایک عرصہ تک قطر میں بیٹھ کر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے اور ان مذاکرات میں کبھی پاکستان بھی شامل ہو جاتا اور امریکہ پاکستان کو باور کرواتا طالبان ایک خطرہ ہیں اور اس خطرہ کو ختم کرنے کے لئے مذاکرات میں دوسرے ممالک بھی شامل ہوتے رہے، مگر خطرہ ابھی ٹلا نہیں، امریکہ نے اس معاملے کا کوئی حل سوچ رکھا ہے اور وہ کیا ہے۔
یہ پاکستان کے لئے بہت ہی اہم ہے اس پر آشوب دور میں عمران خان بہت اہم ہو گیا ہے، عمران خان ماضی میں طالبان کے حوالہ سے امریکہ کو جو مشورے دیتا رہا ہے، پاکستان کی افواج نے بھی ان مشوروں کی افادیت کو تسلیم کیا اور طالبان سے فاصلہ رکھا۔ اب کچھ طالبان یہ بھی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ان کا اگلا ہدف کشمیر ہوگا۔ ان کا کیا کشمیر سے کیا لینا دینا، کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ دنیا کے سامنے ہے، مگر بھارت جیسی منڈی کے تناظر میں کشمیر میں انسانی حقوق کی بات مناسب بھی نہیں۔
اس وقت کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں افغانستان کی سرکار قبول نہیں کرے گا، ایک طرف امریکہ ہے جو کہتا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ چلنے کو تیار ہے اگر وہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے قوانین پر عمل کی یقین دہانی کرا دے، افغانستان کے مہاجر اس وقت ساری دنیا میں ہیں اور سب سے زیادہ تعداد پاکستان میں ہیں وہ لوگ ایران اور بھارت میں بھی اپنی پہچان کرواتے ہیں اور اپنا تعلق طالبان سے نہیں جوڑتے، حالیہ دنوں میں حیرت انگیز مناظر بھی نظر آرہے ہیں اور میڈیا اصل صورت حقیقت بتانے میں مکمل ناکام نظر آ رہا ہے، طالبان کا تاثر ایسا دکھایا جا رہا ہے کہ ان کو دنیا کا کچھ معلوم نہیں ہے، شکر ہے طالبان نے پرانے مسلمانوں کی طرح لوٹ مار نہیں کی، مگر امریکی میڈیا کا کردار حیران کن ہے وہ امریکی فضائیہ کے جہاز تو دکھا رہا ہے اور ایک جہاز جس میں 600 سے زائد افغانی ملک سے فرار ہو رہے ہیں۔ وہ کون ہیں اور امریکی ان پر اتنے مہربان کیوں ہیں، طالبان نے اگرچہ سارے ملک پر قبضہ کا دعویٰ کیا ہے مگر ان کی رسائی اب تک بین الاقوامی افواج کے علاقہ تک نہیں ہے۔
لگتا یوں ہے کہ پاکستان کی سرکار کو اندازہ ہو چکا تھا کہ امریکہ افغانستان میں کوئی نیا کردار ادا کرنے جا رہا ہے، ایک بہت وقت طالبان پر الزام تھا کہ وہ سعودیہ کے جہادی ہیں، پھر سعودی عرب نے اپنا رنگ و روپ بدلنا شروع کیا اور سعودی عرب میں مقیم افغانی نگرانی میں آنے لگے تو ان میں کچھ تو امریکہ اور کینیڈا منتقل ہو گئے ان کی بڑی تعداد بہت امیر کبیر نظر آ رہی ہے اور ان کو خاصا تحفظ بھی دیا جا رہا ہے اور کچھ افغانی اسرائیل کے ساتھ بھی تجارتی تعلقات میں کافی اہمیت کے حامل ہیں اور افغانی پس منظر میں وہ اسرائیل کی مدد بھی کرتے ہیں، اس ساری صورت حال میں بھارت کا میڈیا صرف دانت پستا نظر آ رہا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ مودی سرکار نے بھارت کو دنیا بھر میں ایک بے بس ملک دکھایا ہے اس وقت بھارتی سیاسی رہنما بھی مودی سرکار سے پریشان ہیں اور آنے والے الیکشن میں مودی سرکار کے ساتھ عوام کا سلوک کچھ اچھا نظر نہیں آ رہا۔ افغان سکھ بھی بھارتی رویہ پر پریشان ہیں اور نقل مکانی کا سوچ رہے ہیں۔
بظاہر تو امریکہ بہت شانت نظر آ رہا ہے مگر وہ عالمی طور پر اپنی حیثیت کو بہت ہی خراب محسوس کر رہا ہے اور مشرق وسطیٰ میں اس کی پالیسیوں کی وجہ سے مسلمانوں کی حیثیت بھی متاثر ہوئی ہے، ایسے میں متحدہ عرب ریاستیں جو کچھ عرصہ سے اسرائیل کی بہت قریب نظر آ رہی تھیں۔ ان کے ہاں بھی ایک نامعلوم سا خوف نظر آ رہا ہے۔ افغانستان کی صورت حال پر اسرائیل کا ردعمل بالکل لاتعلق سا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل نے افغانستان میں اپنے تمام لوگ امریکہ کے بہروپ میں شامل کیے ہوئے تھے، ان کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھ رہا ہے اور غبن اور کرپشن کی شاندار کارکردگی افغانستان میں عام نظر آ رہی ہے۔
اتنی فوج پر اخراجات کیے مگر عملی طور پر کہ ہوتا نظر نہیں آیا۔ اس سے پہلے جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو امریکہ نے طالبان کی مدد سے روسیوں کو شکست دی تھی اور ان طالبان سے سعودی عرب کے ذریعے رابطہ رکھا تھا اور پہلے ہی امریکہ پر حملہ آور ہو چکے ہیں۔ اب طالبان کا نیا روپ ہے، وہ مرنا جانتے ہیں اور مانتے ہیں، پاکستان نے ان کو پناہ ضرور دی مگر مانگا کچھ نہیں یہ احسان ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ حیران اور پریشان ہیں کہ امریکہ نے کس کے کہنے پر طالبان پر اعتبار کر لیا اور دنیا بھر میں امریکہ اور نیٹو افواج کی سبکی ہو رہی ہے۔ امریکہ کبھی بھی قابل اعتبار نہ تھا اور ویتنام میں شکست کے بعد بھی منافقت کرنے سے باز نہیں آیا اور ویتنام کی شکست کا بدلہ اس نے روس سے طالبان کو لڑا کر لیا، مگر ہوا کیا کہ طالبان کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ امریکہ ہماری جنگ میں اپنی جنگ میں ہم کو استعمال کر رہا ہے، پاکستان کے ساتھ معاملات کو دیکھ لیں، کشمیر کے معاملہ میں وہ ہندوستان کو خط میں امن کے لئے مجبور کر سکتا تھا مگر وہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے۔ پاکستان کے ساتھ دوستی کا مصنوعی مظاہرہ کرتا رہا۔ اس نے پاکستان کی سرکوبی کے لئے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے ساتھ معاہدے کروائے اور پاکستان کی مالی حالت پریشان کن ہو گئی، پاکستان نے دوستی کے ناتے طالبان سے مشاورت کی اور امریکہ کے ساتھ بات چیت کروائی، پاکستانی افواج کے امریکہ کو باور کروایا کہ طالبان سے مکالمہ کروا کے عمران خان نے اپنے پر الزام لگاوا لیا کہ وہ طالبان خان ہے مگر امریکہ نے اپنی روش نہ بدلی، ایران کے ساتھ معاہدہ کر کے مکر گیا، ایسے میں امریکہ پر اب کون اعتبار کر سکتا ہے۔
اس وقت پاکستان افغانستان کے اندرونی حالات کی وجہ سے بہت محتاط ہے، پاکستان کی افغانستان اور بھارت کے ساتھ طویل سرحد ہے، بھارتی سرحد پر مکمل نگرانی ہے اور بھارت پر واضح کر دیا کہ اگر اس نے جنگ کا سوچا تو پاکستان جواب دینے میں پہل ہی کرے گا اور اپنی ایٹمی قوت کو دنیا پر مکمل ظاہر کردے گا۔ بھارت کو اندازہ ہو گیا ہے کہ امریکی اب قابل اعتبار نہیں، افغانستان کی طویل سرحد پر کسی نہ کسی جگہ کارروائی کا خدشہ ہے، پاکستان اس کے لئے تیار ہے، طالبان کو پاکستان کا اندازہ ہو چکا ہے اور وہ پاکستان کے ساتھ امن اور سکون چاہتے ہیں، ہمارے ملک کے اندر بہت سیاسی خلفشار ہے، بلاول زرداری امریکہ جا رہے ہیں وہ امریکی دعوت پر، اس سے اندازہ کر لیں کہ وہ کتنے سنجیدہ ہیں، سابقہ وزیراعظم نواز شریف کو بھی امریکہ نے استعمال کیا اور برطانیہ بھی ان سے مایوس لگ رہا ہے، خطہ کے حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں اور عمران خان کا کلہ اور لقعہ دونوں مضبوط ہو رہے ہیں۔ عمران خان نئے نظام کے لئے اپنے دو سال استعمال کرنا چاہتا ہے، یہ جمہوری نظام بے کلہ ثابت ہو چکا ہے، ملک میں اہم ضرورت قانون کا احترام اور بروقت انصاف اور ایسے میں بہت کچھ بدلنے جا رہا ہے اور عوام کو اپنا آپ بدلنا پڑے گا۔


