شرفا کی لڑکیاں

بچوں کی سلائیڈز کو دیکھ کے کبھی پیٹ میں گدگدی ہوئی ہے؟ مجھے نہیں ہوتی۔ مجھے تو ہمیشہ سلائیڈ کو دیکھ کے وحشت ہی ہوتی ہے۔ جسم پر سرسراتے ان جنگلی جانور نما انسانوں کے ہاتھوں کا لمس تازہ ہوتا ہے، کانوں میں اپنا جملہ گونجتا ہے ”کیا کر رہے ہو؟“ اور پھر بے حسی سے بھرپور جواب سنائی دیتا ہے ”کچھ نہیں، کچھ نہیں، آپ چلیں، آپ کو تو کچھ نہیں کہہ رہا“ ۔ بچے سلائیڈ کی سیڑھیاں صرف چڑھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، میں نے وہ سیڑھیاں چڑھنے کے بجائے اترنے کے لیے استعمال کیں تھیں اور وہ بھی دوڑ کے، کہ اوباشوں کی اس ٹولی سے نجات کا واحد راستہ یہی تھا۔

سلائیڈ سے پھسلنے کے شوق میں سیڑھی پر قدم رکھا تھا، یہ نہیں جانتی تھی کہ میرے آگے اور پیچھے موجود دونوں لڑکے سلائیڈ سے پھسلنے کے لیے اس پر نہیں چڑھ رہے بلکہ وہ اپنا شکار گھیر رہے ہیں۔ میری بدقسمتی تھی کہ کچھ ہی فاصلے پر موجود امو نے مجھے سلائیڈ سے الٹے قدموں اترتے ہوئے تو دیکھا لیکن وہ وجہ نہ جان سکیں۔ زبان گنگ ہونا کسے کہتے ہیں، ان چند لمحوں میں یہ سمجھ آ گیا تھا۔ پارک کے ایک کونے میں جب سب سستانے کے لیے بیٹھے تو ماموں نے اضطراب کے عالم میں گھاس نوچتے دیکھا اور بولے ”ملو گھاس کی دشمن کیوں بنی ہوئی ہو؟

“ کاش اس وقت وہ میرے اندر جھانک پاتے، میں وہ گھاس نہیں نوچ رہی تھی، ان لڑکوں کا منہ نوچ رہی تھی جنہوں نے پہلی بار مجھے یہ احساس دلوایا تھا کہ عورت محفوظ نہیں، نہ بچی نہ بوڑھی، نہ زندہ نہ مردہ، نہ ہجوم میں نہ تنہا۔ عورت کا جرم بس عورت ہونا ہے، اور اس کی سزا اسے ملتی رہے گی۔ جب بھی، جس کو بھی موقع ملے گا وہ عورت کو یہ سزا دیتا رہے گا کہ اس نے پیدا ہونے جیسی غلطی کیوں کی۔

بچپن سے لڑکپن میں قدم رکھتے مردوں کے اس روپ سے یہ میرا پہلا تعارف تو تھا لیکن آخری ہرگز نہیں کہ اس کے بعد بھیڑ میں آوازیں کسی جانے، نامناسب طریقے سے چھوئے جانے کے اس قدر تجربات ہوئے کہ کسی شمار میں نہ رہے۔ البتہ یہ ہوا کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ شعور بیدار ہوتا گیا کہ ان نامناسب رویوں سے کیسے بچنا ہے، رش والی جگہ پر خود کو کیسے محفوظ رکھنا ہے، کچھ امو نے سکھایا کچھ وقت نے سمجھایا اور ہم بڑے ہو گئے۔ بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان کی ہر لڑکی شعور پکڑتی ہے۔

”بیٹا بھائی کو مت بتانا وہ ان اوباشوں سے جھگڑے گا“ کوئی بھائی نہیں تھا اس لیے کبھی یہ جملہ تو سننے کو نہیں ملا لیکن آس پاس کی خواتین کے تجربات میں یہ نصیحت بھی شامل دیکھی۔ بیٹوں کو بچاتی ماؤں نے بیٹیوں کو ہونٹ سینے کا جو درس دیا، وہ پتھر پر ایسا لکیر ہوا کہ آج جب عورتیں خود پر بیتے یہ قیامت خیز لمحات دوسروں کے سامنے دوہرانے کی خود میں ہمت رکھتی ہیں تو بھی اکثریت کسی اگر مگر سے مشروط کیے بغیر، لباس، ماحول کی نزاکت وغیرہ جیسی دلیلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے خالصتاً مظلوم کی حمایت کرنے سے ہچکچاتی ہے۔

ٹک ٹاک بنا رہی تھی جی۔ اچھا! چلو عائشہ کا جرم ٹک ٹاک بنانا تھا تو جو موٹروے پر اپنی گاڑی میں سوار تھی اس کا کیا قصور تھا؟ او جی وہ آدھی رات کو گھر سے نکلی ہی کیوں؟ پٹرول کیوں نہیں چیک کیا تھا؟ چلو مان لیا کہ آدھی رات کو گھر سے قدم نکالنا بھی جرم ہے تو پھر نور کو کیوں بربریت کا نشانہ بنایا گیا؟ وہ جی اللہ کی بنائی ہوئی حدود کو پار کرے گی، آزادانہ میل جول ہوگا تو پھر ایسا تو ہوگا نا جی! سماج کے پیمانے پر تو یہ سب غلطی پر تھیں لیکن قبر سے نکال کے بھنبوڑی گئیں بچیوں، عورتوں کے لیے یہ چال چلن اور ان سے سلوک طے کرنے والے ٹھیکیدار کون سی دلیل لائیں گے؟

غور کیا جائے تو یہ تمام وہی دلیلیں ہیں جن کے ذریعے پاکستانی گھرانوں میں خواتین کو گھروں سے نکلنے سے روکا جاتا ہے۔ ”شرفا کے گھرانوں کی لڑکیوں“ کے نام پر ان دلیلوں کے ذریعے بہو بیٹیوں کے لیے ایسی سرحدیں تعمیر کی جاتی ہیں کہ جن کو پار کرتے ہی خواتین کی نہ تو عزت محفوظ رہتی ہے نہ کردار، کیونکہ پھر یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ جو عورت بھی ان طے کردہ پیمانوں سے ہٹ کے کچھ کرتی دکھائی دے رہی ہے وہ یقیناً غیر شریف ہے اور اس کی عزت برائے فروخت ہے۔

جہاں تک مردوں کے لیے حدود کا تعلق ہے تو جس معاشرے میں یہ سبق گھٹی میں دیا جاتا ہو کہ ”عورت چار مردوں کو لے کے جہنم میں جائے گی“ وہاں بیچارہ معصوم لاچار مرد کیا کرے؟ عورت تو ہے ہی باعث فتنہ و فساد، باہر نکلے گی تو شر تو پھیلائے گی۔ اسی لیے اس سماج نے عورت کے لیے یہ سزا طے کر رکھی ہے کہ وہ دہلیز سے باہر قدم نکالے گی تو اس کا خراج اس ادا کرنا پڑے گا اور یہ چھیڑ خانی، نازیبا آوازیں اور رویے تو بمطابق پیمانہ سب سے معمولی درجہ ہے ورنہ 14 اگست 2008 کو کراچی کی عوام نے ایسی ہی ایک اور عورت کو اجتماعی عصمت دری کی شکل میں سزا چکھائی تھی۔

سماج میں عورتوں کے چال چلن کے ٹھیکیداروں کے مطابق عائشہ نے تو اس واقعے کے اگلے دن بھی ویڈیو اپ لوڈ کی تھی، اور جب سوشل میڈیا پر کہرام بپا ہوا تب ہی اس نے بھی ایف آئی آر درج کروائی۔ گویا یہ طے ہے کہ چونکہ اس نے اس طوفان بدتمیزی کے خلاف آواز اٹھانے میں جلدی نہیں مچائی، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے لیے اس میں کچھ عجب نہ تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ جس ملک کا سربراہ بذات خود ریپ اپالوجسٹ ہو تو ایسے میں عائشہ جیسی لڑکیاں چپ رہنے میں ہی عافیت جانتی ہیں۔

جس معاشرے میں لباس یا پھر ان کے باہر نکلنے کے اوقات کو ہی ”کانسینٹ“ سمجھا جائے وہاں پھر عائشہ جیسی لڑکیاں انگلیاں اٹھنے کے خوف سے چپ رہنے میں ہی عافیت جانتی ہیں۔ جس معاشرے میں ”شرفا کی لڑکیوں“ کا چال چلن درست کرنے پر ہی سب کی توجہ مرکوز ہو، وہاں مینار پاکستان جیسے واقعات ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words