بانی دارالعلوم کا تصور تعلیم

الہامی مدرسہ ( بحوالہ تذکرہ العابدین از مولوی نذیر احمد دیوبندی طبع 1899ء) :

”ایک روز آپ ( حاجی سید عابد صاحب) نے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا صبح کو مولوی فضل الرحمن وغیرہ کو بلایا اور فرمایا“ علم دین اٹھا جاتا ہے کوئی تدبیر کرو کہ علم دین قائم رہے۔ پرانے عالم نہ رہیں گے تو کوئی مسئلہ بتانے والا بھی نہ رہے گا۔ (تذکرۃ العابدین 60 )

مولانا ذوالفقار علی دیوبندی والد محترم حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ اپنے رسالے ”الہدیہ السنیہ فی ذکر المدرسہ الاسلامیہ الدیوبندیہ“ میں لکھتے ہیں : ”چنانچہ سید صاحب نے 1282 ہ میں اہل خیر حضرات کو اس کار ثواب میں تعاون اور اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی دعوت دی تو انہوں نے آپ کی دعوت پر لبیک کہا بس کیا تھا مدرسہ آپ کی مبارک کوششوں کے نتیجہ میں علم اور اہل علم کا گہوارہ، ارباب فضل و کمال کا مرکز، دین اور دین داروں کی پناہ گاہ بن گیا۔ (صفحہ نمبر 17 )

آگے مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں ”۔ چنانچہ آپ نے سید عابد صاحب کے کے طائر خیال کے بال و پر لگا دیے، تو بس اب کیا تھا گلستان علم میں بہار آ گئی، دریائے علم رواں دواں ہو گیا، چمنستان میں برگ و بار آئے ہند جزائر ہند بلاد عرب بلکہ اکناف عالم سے طالبان علم نے اس مدرسہ کا رخ کیا۔ چنانچہ کتنے ہی طالبان علوم نبوت علم سے سرشار اور دستار فضیلت سے سرفراز ہوئے۔ (ص 20 )

اس تحریر کا ایک ایک لفظ یہ بتا رہا ہے کہ اس برگزیدہ شخصیت کے ذہن میں اس وقت کیا تصور رہا ہوگا؟ اور کیا کڑھن! اس کو بے چین کر رہی تھی، مختصر الفاظ میں ذیل نکات پر غور کیا جائے تاکہ بانی دارالعلوم کا مدرسہ قائم کرتے وقت کیا تصور رہا تھا بہ آسانی واضح ہو جائے :

1۔ ”علم دین قائم کرنا اور عالم پیدا کرنا“ اس ایک جملہ کی تفسیر و تشریح کے لئے بڑی بڑی کتب تیار کی جا سکتی ہیں۔

2۔ 19 محرم الحرام 1283 ہ کو شوریٰ نے قیام مدرسہ کا اعلان فرمایا تو مدرسہ کا نام تھا ”مدرسہ عربی فارسی و ریاضی دیوبند“ ۔ فارسی سلطنت مغلیہ کی سرکاری زبان، اردو انگریزی سلطنت کی زبان اور ریاضی مضمون کی اہمیت کو ہر ذی شعور انسان سمجھ سکتا ہے۔

3۔ قیام مدرسہ کے اعلان کے ساتھ شوریٰ نے فارسی و ریاضی کے مدرس کی تقرری کی سفارش کی، مدرس دوم تقرری عمل میں آئی وہ ریاضی داں حضرت مولانا سعید احمد دہلوی تھے۔

4۔ ”تاریخ دارالعلوم دیوبند“ میں دارالعلوم کی حیرت انگیز کامیابی کے عنوان سے درج ہے ”قیام دارالعلوم کا زمانہ بڑی بے سروسامانی کا تھا، نہ پڑھانے کے لیے مناسب جگہ تھی اور نہ طلبا کے رہنے کا کوئی انتظام تھا۔ مگر تہی دستی اور بے مائیگی میں ہی فراغ بالی اور اس پریشان حالی میں بھی جب دل جمعی تھی، چناں چہ دارالعلوم نے قائم ہو تے ہی حیرت انگیز طور پر ترقی کی جانب قدم بڑھانا شروع کر دیا، قرب و جوار کے علاوہ دور دراز مقامات بنارس پنجاب اور افغانستان سے طالبان علم آنے شروع ہو گئے، اور چند ہی دنوں میں یہ معمولی مدرسہ ایک اقامتی درس گاہ میں تبدیل ہو گیا، مدرسین میں بھی اضافہ کیا گیا۔ آخر سال جو روداد شائع ہونی اس میں لکھا ہے :

الحمدللہ کہ 1283 ہ بخیریت تمام ہوا، یہ وہ مبارک سال ہے جس میں بناء مدرسہ عربی دیوبند قائم ہوئی، اور اس عرصہ قلیل میں اتنی رونق پکڑی کہ ہرگز امید نہ تھی، ابتدا میں خیال نہیں آتا تھا کہ اس قدر طلبا جمع ہوں گے، چندہ اور خرج اتنا ہو جا وے گا جمعیت چندہ تو درکنار لوگوں کو تامل تھا کہ پڑھنے والے عربی کے کہاں سے آ ویں گے، مگر عنایت الاہی سے بفور شروع ہونے کے طالب علم اطراف و جوانب سے اور مالک دور دراز سے ایسے جمع ہو گئے کہ گو یا منتظر بیٹھے ہوئے تھے فقط قصبات ضلع سہا رن پور و اضلاع ممالک مغربی کے طلبہ ہی نہیں آئے بلکہ پنجاب، کا بل و بنارس وغیرہ تک کے لوگ جمع ہو گئے۔ ”

• پہلے سال کے شروع میں 21 طلباء تھے سال آخر میں 78 ہوئے۔ ان میں 52 طلباء باہر کے تھے جیسا کہ اوپر آ چکا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک معیاری ادارہ قائم ہوا اور اطراف و جوانب و دور دراز کے لوگ بھی یہی سمجھتے تھے۔ پہلے سال ابتدائی تعلیم کے درجات نہیں رکھے گئے۔

• دوسرے سال طے ہوا کہ قصبہ کے بچوں کی تعلیمی ضرورت کا خیال رکھا جائے اور ابتدائی درجے قرآن فارسی و ریاضی شروع کیا گیا۔

• پہلے سال کا چندہ 649 روپیہ، جبکہ دوسرے سال 1275 روپیہ ہوا۔
مدرسہ کی ترقی کے مدنظر محاسب کی تقرری۔ ( 163 / 1 )

1289 ہ پہلی بار طلباء کو تعلیمی سند دی گئی۔ مدرسہ کی تعلیمی معیار کو دیکھ کر دیگر مدارس سے فارغ التحصیل حضرات بھی دورہ حدیث کے لئے دیوبند حاضر ہونے لگے۔

• محض سات سال کی مدت میں 1290 ہ میں جامع مسجد ( مدرسہ ) کی عمارت تیار ہو گئی اور مدرسہ اس میں منتقل کر دیا گیا۔ جو ایک بہت بڑے کانسیپٹ اور مستقبل کے وسیع پروگرام و پروجیکٹ کی طرف یقیناً اشارہ دے رہی ہے۔ (تاریخ دارالعلوم دیوبند 157 تا 163 جلد اول)

الحمدللہ ان شواہد سے بآسانی سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ بانی دارالعلوم دیوبند کے ذہن میں مستقبل کے وہ تمام پروگرام و مکمل خاکہ تیار تھا جو ایک جامعہ یا دارالعلوم کے لئے ہو سکتا ہے۔ اس سب کے باوجود چند تحریریں ان تاریخی حقائق کو مسخ کرنے کے لئے مارکیٹ میں پیش کی گئیں، کچھ اہل علم کے ذریعے یہ بات لکھا جانا ”حاجی محمد عابد حسین کا ذہن دارالعلوم کے تصور کے بالکل خالی تھا“ ، بانی دارالعلوم کی توہین اور تاریخی حقائق کو جھٹلانا ہے۔

یہاں تک کہ دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر ہے کہ ”مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے دیوبند چھتہ مسجد میں مدرسہ کی بنیاد رکھی، اس نیک کام میں آپ کو مولانا فضل الرحمان دیوبندی، حاجی سید محمد عابد حسین ؒاور دیگر کا علمی تعاون حاصل رہا“ اور وقف دارالعلوم دیوبند کی ویب سائٹ پر ہے ”حجہ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے 30 مئی 1866 ء کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔“ ! معاذ اللہ سب کا نام ختم۔ افسوس! کہ بانی دارالعلوم کی اس تعلیمی تحریک کی توہین اور علمی خیانت ہے جو آپ نے ”علم قائم کرنے“ کے لئے برپا کی تھی۔

عربی رسالہ ”الہدیہ السنیہ فی مدرسہ الاسلامیہ دیو بندیہ طبع اول 1889 ء“ از مولانا ذوالفقار علی دیوبندی والد ماجد حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ جو کہ حاجی عابد صاحب صاحب کے ساتھ مدرسے کے بانیوں اور مجوزین میں سے ہیں، کا ترجمہ ”دار العلوم دیوبند کے ابتدائی نقوش“ کے نام سے دارالعلوم دیوبند نے شائع کیا ہے۔ جس کے حروف اول میں حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن رحمہ اللہ مہتمم دارالعلوم مصنف کی تائید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”سب سے پہلے القاء حضرت عابد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے قلب صافی پر ہوا۔

کام معمولی نہیں تھا، اہم تھا۔ خاص طور پر اس خطرناک دور میں۔ تاہم حضرت عابد صاحب نے باہمی مشورے کے بعد اس القائی خیال کو عملی شکل دینے کا عزم مصمم کر لیا اور تن تنہا چندہ کی فراہمی بھی شروع کردی۔ دارالعلوم دیوبند ایک القائی خیال کے تحت وجود میں آیا جسے مخلصین کی ایک جماعت نے ہم تن جدوجہد کر کے آگے بڑھایا۔ تاریخ کے مطابق ان پاک بازوں میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کا کا اہم کردار رہا ہے۔ ( دار العلوم دیوبند کے ابتدائی نقوش صفحہ 5 )

کتاب کے مترجم ”عرض مترجم“ میں لکھتے ہیں کہ ”مولانا موصوف نے اس مختصر رسالے میں دارالعلوم دیوبند کے کچھ ابتدایئی نقوش اجاگر کیے ہیں۔ چنانچہ آپ نے الحاج سید عابد حسین رحمہ اللہ کے ذریعہ دارالعلوم کے قیام کا اولین خیال، مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کی تحریک میں شمولیت آپ کی خدمات اور وفات کا بصورت نثر و نظم قدرے تفصیل کے ساتھ تذکرہ۔“ آگے صاحب کتاب کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں ”۔ اس رسالہ میں دارالعلوم کی ابتدائی تاریخ، قیام مدرسہ کی افادیت اہمیت اور ضرورت، حضرت حاجی سید محمد عابد رحمہ اللہ کے امتیازات، عالی نصبی، شرافت اور قیام دارالعلوم کا اولین تصور، اور حضرت مولانا محمد قاسم کی قیام مدرسہ کی تحریک میں شمولیت اور اس کے استحکام اور فروغ میں بے مثال جدوجہد۔ یہ سب کچھ مخصوص ادبی اسلوب نگارش میں موجود ہے۔ (ص13)

”بانی دارالعلوم اور تاریخی حقائق“ میں ہے :

” 1284 ہ میں حاجی صاحب کے حج پر جانے کا واقعہ امر عظیم اور حادثہ ضخیم سے تعبیر کیا گیا ہے حضرت نانوتوی ؒ کی آمد و رفت رشتہ کی بنیاد پر کئی عزیزوں سے ملتی ہے اسی آمد و رفت کو بنیاد بنا کر حضرت عابد صاحب سے مدرسی کے سلسلے میں مذاکرات کی شکل دے دی گئی حالانکہ کسی تحریر میں مذاکرات کا اشارہ تک موجود نہیں ہے۔ (ص 93۔ 94 )“

” ایک بات یہ بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ حضرت نانوتوی رحمہ اللہ نے اپنے بجائے ملا محمود صاحب کو پندرہ روپے مشاہراہ پر بھیج دیا اور خود تحقیق حال کے لیے تشریف نہیں لائے بلکہ کم و بیش نو سال بعد دیوبند تشریف آوری ہوئی، حالانکہ تحریک مدرسہ کا تقاضا تھا کہ حضرت والا وقت نکال کر دیوبند تشریف لاتے، پیش رفت کا جائزہ لیتے اور مفید مشوروں سے نوازتے اور تحریک میں نئی روح پھونک دیتے۔“ (ص 112 )

دارالعلوم کے ابتدائی نقوش میں ”تذکرہ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ“ عنوان کے تحت لکھتے ہیں ”چنانچہ آپ نے سید عابد صاحب کے طائر خیال کے بال و پر لگا دیے، بس اب کیا تھا، گلستان علم میں بہار آ گئی، دریا یے علم رواں دواں ہو گیا چمنستان علم و فن میں برگ و بار آئے۔“ (ص 20 )

حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن رحمہ اللہ سابق مہتمم کی یہ تحریر مزید وضاحت فرما رہی ہے ”دارالعلوم دیوبند ایک القائی خیال کے تحت وجود میں آیا جسے مخلصین کی ایک جماعت نے ہمہ تن جدوجہد کر کے آگے بڑھایا۔ تاریخ کے مطابق ان پاک بازوں میں حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمہ اللہ کا اہم کردار رہا ہے۔ (ص 5 )

دارالعلوم کے ابتدائی زمانے سے متعلق ان قدیم ترین دو دستاویزات کے حوالے سے درج بالا نکات پر غور کرنے سے یہ بات آسانی سے واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت حاجی محمد عابد حسین دیوبندی رحمہ اللہ کے ذہن میں ”علم دین کو قائم“ کرنے کا ایک بڑا وژن تھا۔ کہ ”مسئلہ بتانے والے“ عالم یقیناً کسی دارالعلوم سے ہی پیدا ہوں گے۔

اسی وژن کو آگے بڑھانے میں آپ کے رفقاء اور خصوصا حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی ؒ کا عملی و علمی تعاون اہمیت کا حامل ہے۔

Latest posts by شہزاد علی، اتر پردیش، ہندوستان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
شہزاد علی، اتر پردیش، ہندوستان کی دیگر تحریریں