ہمارے چند فکری مغالطے

حالیہ دنوں میں مینار پاکستان کے احاطے میں ایک خاتون ٹک ٹاکر کے ساتھ ہونے والی بد تہذیبی پر دل و دماغ ابھی اضطراب کے بھنور سے نکلنے نہ پائے تھے کہ واعظان خوش خصال کی تنقیدی توپوں کا رخ، دست درازی اور بد تمیزی کا شکار ہونے والی متاثرہ عورت کی طرف پا کر بجھ کر رہ گئے، کہ بقول شاعر

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا۔

اس تازہ واقعے کے تناظر میں دیکھیں تو موٹروے پر سفر کرنے والی خاتون کی آبرو ریزی ہو یا پھر نور مقدم کا بہیمانہ قتل، ماضی میں پیش آنے والے ان چیدہ دلخراش سانحات کا تقاضا تھا کہ ہماری اجتماعی دانش اور قومی شعور ایک جھرجھری لے کر اس قسم کے حادثات روکنے کے لئے بیدار ہو جاتے لیکن ہماری بدقسمتی کہ اس خواب خرگوش سے جاگنا تو درکنار، اکثریت جانے انجانے میں متاثرین کے ساتھ ہوئی زیادتی پر مختلف قسم کے عذر تراش کر ”عذر گناہ بد تر از گناہ“ کے مصداق متاثرین کی اہانت اور ان سفاک مجرموں کے مکروہ فعل کی ڈھکی چھپی اعانت میں مصروف عمل نظر آئی۔

بظاہر واضح اسلامی چھاپ رکھنے والے ملک میں اخلاقی گراوٹ کے اپنی انتہا کو چھونے کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو صحیح اسلامی فہم سے دوری اس کا بڑا سبب ہے۔ قرآن کریم واضح الفاظ میں فرد واحد کو اس کے اپنے اعمال و کردار کا جواب دہ قرار دیتا ہے اور کئی جگہوں پر واضح ارشاد فرماتا ہے کہ ہر نفس اپنا بوجھ خود اٹھائے گا لیکن اس کے برعکس آج معاشرے میں اکثریت دوسرے لوگوں کے گناہ و ثواب بزور لاٹھی تولنے میں مصروف ہے جو کہ ”لا اکراہ فی الدین“ ”دین میں کوئی جبر نہیں“ کے سنہرے اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔

کتاب کے وارث جنہیں دنیا کے لئے مثالی نمونہ ہونا تھا، کتاب سے عورتوں کے اپنی زیب و زینت ظاہر نہ کرنے کا حکم تو دیکھ لیتے ہیں مگر جب ساتھ ہی مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم پاتے ہیں تو اس تعلیم پر اپنی نگاہیں دوسری طرف پھیر لیتے ہیں۔ حیرت مزید بڑھ جاتی ہے کہ جب مذکورہ آیت کی روشنی میں اس طرح کے گھٹیا فعل کے حق میں نرم گوشے کا اظہار کیا جاتا ہے حالانکہ اس آیت میں ایسا کوئی حکم نہیں کہ اگر عورت زیب و زینت ظاہر کرتی ہے تو آپ جیسی بدتمیزی و بے ہودگی چاہیں کر سکتے ہیں۔

انہی سب فکری مغالطوں کا نتیجہ متاثرہ فریق کو ہی کلی یا جزوی طور پر جرم کا سزاوار ٹھہرانے کی صورت میں سامنے آتا ہے جو کہ مزید آگے چل کر ان غیر اخلاقی جرائم کی راہ میں فکری حمایت کا راستہ ہموار کرتا ہے اور معاشرے کی مجموعی سوچ کے دھارے کو ان مذموم غیر اخلاقی رویوں کی بیخ کنی پر مرکوز کرنے کی بجائے ضمنی اور کم ضروری سطح کے مسائل کی طرف الجھا کر ایک مخصوص قسم کی جذباتیت پیدا کرنے کا باعث اور اصل مسئلے اور اس کی حساسیت کو دھندلا دیتا ہے۔

چونکہ ناصحان ملک و ملت اس وکٹم بلیمنگ کے رجحان کو بنیادی مسئلہ سمجھنے سے ہی انکاری و عاری ہیں تو یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز میں بڑھتے ہوئے مذہبی رجحان اور مختلف مذہبی پروگرامز میں زیادہ تر لوگوں کی شرکت کے باوجود عوام الناس کی اکثریت محض نعرے بازی اور سطحی قسم کے مذہبی جذبات سے دل بہلا کر خوش و خرم جبکہ اخلاقی انحطاط کا عمل زور و شور سے جاری و ساری ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جب بھی کوئی فرد اس طرح کے کسی گھناونے جرم کا مرتکب ہو تو فقیہان قوم کو بغیر ریپر ٹافی اور کیڑوں کی فرسودہ مثال سے کام چلانے کی بجائے قومی سطح پر ایسی فکر ترتیب دینی چاہیے جو ہماری نوجوان نسل کو یہ شعور بخش سکے کہ ہم کوئی کیڑے مکوڑے نہیں جو موقعہ کی تاک میں ہوں بلکہ اشرف المخلوقات ہیں اور ہمارے اخلاقی رویے کا انحصار مختلف حالات میں مختلف قسم کی خود ساختہ شرائط کی بجائے ایک اعلی و ارفع اخلاقی اصول اور میزان پر قائم ہے۔

Latest posts by عمر فاروق کاہلوں (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words
عمر فاروق کاہلوں کی دیگر تحریریں