لہٰذا خارجیت کے رفو سے کچھ نہیں ہوگا

جب بھی پاکستان میں کوئی زبر جنسی، عصمت دری، ہراساں ہونے کا واقعہ پیش آتا ہے۔ جیسا حال ہی میں مینار پاکستان کے مقام پر آیا۔ ہر مشہور اور جو مشہور نہیں ہیں مجرموں کو سخت سے سخت سزا (جو عموماً سر عام پھانسی ہی یا اس جیسی کوئی سزا ہوتی ہے ) دینے کے لیے آوازہ بلند کرتے ہیں۔ وزیر اعظم اور دیگر وزیر بات کا نوٹس لے لیتے ہیں اور مجرم گرفتار بھی ہو جاتے ہیں۔ مگر کیا جرم ختم ہو جاتا ہے؟ اور ایسا جرم جو آئے دن کسی نہ کسی صورت میں وقوع پذیر ہو رہا ہے؟

اس لیے اب ہمیں اس مسئلے کو کسی اور تناظر سے دیکھنا پڑے گا۔ صرف آ کر انھیں درندہ کہہ دینا، حیوان پکار دینا، کافی نہیں۔ اور مینار پاکستان کے مقام پہ ہوئے واقع سے یہ ظاہر ہے کہ یہ بالکل بھی کافی نہیں ہے، کیوں کہ اب دو یا چار یا پانچ بندے نہیں تھے۔ چار سو تھے! گریبان پکڑنا ہی کافی نہیں ہے، اندر کی داخلی وحشت کو پہچاننا اور اس کا تدارک کرنا ضروری ہے۔

پہلے سوچنا چاہیے کہ ایسا کون لوگ کر سکتے ہیں۔ حالانکہ مینار پاکستان کا واقعہ یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کون نہیں کر سکتا، یعنی جسے بھی موقع ملے گا وہ بھی کر لے گا۔ دراصل اگر آپ وزیر اعظم عمران خان سے پوچھیں گے تو وہ بھی یہ ہی کہیں گے۔ ایچ بی او کو دیے اپنے انٹرویو میں انھوں نے جوناتھن کو بسیط طور پہ سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ ہالی ووڈ کی فلمیں ادھر آتی ہیں، ہمارے نوجوان اور جوان انھیں دیکھتے ہیں، اور چونکہ وہ ”روبوٹس“ نہیں ہیں، تو ان کے اندر جذبات جاگتے ہیں اور ایسے واقعے پیش آتے ہیں۔

اب ہمارے وزیر اعظم کی سوچ اسی دائرے میں گھومتی ہے تو عوام بھی ان ہی کی جیسی ہے۔ میں ملزم کو الزام دینے والے تصور پہ نہیں جا رہا ، میرا مدعا کچھ اور ہے۔ وزیراعظم صاحب اور ہماری عوام کے پاس ان معاملات کے روایتی حل ہیں، اور وہ حل اس جدید دنیا میں کارآمد نہیں ہیں، اس کی وجہ گلوبلائزیشن (عالمگیریت) ہے۔ ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ قوم مختلف زاویے، طریقے، خیالات، تصورات، حرکات و سکنات اور اخلاقیات سے روشناس ہو رہی ہے اور اپنی روایت سے جڑے رہنے اور مذہب سے بندھے رہنے کی عجب ضد بھی ہے۔

ہماری پبلک، ہمارے بڑے، ہمارے حکم ران یہ بھول رہے ہیں کہ وقت بدل گیا ہے اور اس کی رفتار بھی تیز ہو گئی ہے۔ ناصر عباس نئیر کے اسی موضوع پہ لکھے مضمون میں انھوں نے نہ ختم ہونے والی حیرانی کا اظہار کیا کہ مینار پاکستان کے واقعے میں کچھ بچے بھی شامل تھے۔ یہ یاد رہے بچے بارہ تیرہ برس کے تھے۔ اگر وہ بھی اس نسل کی عجلت پسندی سے واقف ہوتے اور اس شتاب وقت سے آگاہ ہوتے تو انھیں اس قدر حیرانی نہ ہوتی۔

میرا کہنا یہ مقصود ہے کہ وقت سے پہلے اب بلوغت کی طرف جایا جا رہا ہے۔ اور اس کو براہ کرم ہر گز برا نہ سمجھا جایا۔ اس کے ساتھ چلا جائے۔ اگر آپ اسے روکنے کی کوشش کریں گے تو وقت کے دھارے میں بہہ جائیں گے۔ بہتر یہ ہے اسے سمجھا جائے اور اس کے مطابق خود کو ڈھالا جائے۔ ہمارے بڑوں کو جن باتوں کا تیس برس کی عمر میں پتا چل رہا تھا، ہمیں کئی برس پہلے معلوم ہو۔ مسئلہ تب آیا جب 2000 سے پہلے اور بعد میں پیدا ہونے والوں (جو بالترتیب ملینیلز اور زلینیلز کہلاتے ہیں ) کے پاس ان عوامل کو بہتر طور پر پروسس کرنے کا وقت اور ذرائع اور طریقے موجود نہ تھے، اور نہ ہی ہیں۔ ہمارے بڑوں نے ”بین بین بین“ ہی کیا (آپ اس لفظ کے ثنوی معنوں سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں! ) ۔

سوال یہ ہے کہ عورت کے جسم کو کیوں ایگزاٹک بنایا جاتا ہے؟ اس کے سینے کا ابھارو کیوں اس کے سینے کو شہوانی جذبات جگانے والا بنا دیتا ہے؟ گو ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں تو عورت عریاں ہو، نیم عریاں ہو، یا پورا لباس پہنا ہو، یا عبایا بھی ہو تب بھی مرد اس ابھارو کو دیکھ کر شہوت جگا لیتے ہیں۔ اس کا حل ’ٹک ٹاک‘ یا پھر ہالی ووڈ فلمیں بین کرنا نہیں ہے۔ اس میں بھی ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے کہ معلوم ہے کہ بین ہو بھی جائیں تو ’وی پی این‘ نامی ٹیکنالوجی استعمال کر کے اسے دیکھا جا سکتا ہے اور ایسے ہی دیکھے جاتے ہیں۔

پاکستان میں پورن فلمیں عام ہیں۔ آپ کچھ بھی بین کر دیں اس ملک کے نوجوان اپنا راستہ بنا لیتے ہیں (اور خاص طور پر ایسے کاموں کے لیے ) ۔ اس کا حل جنسیات کی تعلیم فراہم کرنا ہے۔ لڑکا اور لڑکی دونوں کو۔ بجائے اس کے جو کورس میں تبدیلیاں منظر عام پر آ رہی ہیں (جنھیں اپنے خام خیال میں حکومت اصلاحات کہتی ہے ) ، اس نہایت اہم موضوع پر کمیٹی بلائے جائے اور خدارا اس علم کے ماہروں کو بٹھا کر کورس کا ڈھانچہ بنوایا جائے۔ محض نوٹس لینے اور برانگیخت ہونے سے ان کا حل نہیں نکلنا۔

کم از کم (ابھی کے لیے ) دس سال کی عمر سے جنسیات کی تعلیم شروع ہو جانے چاہیے۔ لڑکے لڑکی کو علیحدہ اور قدرے مختلف طریقے سے پڑھایا جانا چاہیے۔ اور جو یونی ورسٹیوں اور کالجوں میں ہے وہ بھی اپنے الگ کلاس رکھیں گے۔ ظاہر ہے ان کی تعلیم اور دس سال کے لڑکے لڑکیوں کی تعلیم میں فرق ہوگا۔ مزید یہ کہ جو پورن دیکھتے ہوں گے اور مشت زنی کرتے ہوں گے ان کی تعلیم علیحدہ ہوگی؛ اور پھر جس تواتر سے ان کا دیکھنا ہے اور کرنا ہے اسی بنا پر تدریس میں فرق آئے گا۔ تدریسی نقطہ نظر سے ان دونوں کی افراط کو روکنے اور ان کو بہتر طور پہ استعمال کرنے پہ توجہ ہو گی۔

یہ مختصر سا مرکزی خیال ہے، جسے کوئی ادارہ ملے تو مزید بحث ہو سکتی ہے۔ اسی کے ذریعے داخلیت پہ کام ہو گا اور کچھ فرق پڑے گا، وگرنہ اگر یہ پود خود اپنے تئیں سمجھنے کی کوشش نہ کرے، جو مجھے کم ہی امید ہے، تو یہ ہوتا رہے گا!

Comments - User is solely responsible for his/her words
اختر محمود مرزا کی دیگر تحریریں