بول کون رہا ہے؟
صنم ایک ہفتے کی چھٹیوں کا بھرپور فائدہ لے کر آج سگنل پر لمبی کال کی، ہیلو بولنے سے پہلے ”مردوں“ کو طویل گالیوں سے بھون دیا، اور کہا کہ موٹروے پر جو معاملہ ہوا، پھر نور مقدم والا کیس اور اس کے بعد مینار پاکستان اور جیسے ہی اس واقعے نے سوشل میڈیا ٹویٹر پر اپنا اسپیس بنایا تو بات ڈجیٹل میڈیا کے ہاتھوں سے نکل کر مین اسٹریم میڈیا کا حصہ بن گیا۔ عین اسی وقت ذہنی معذور اور شرارتی لڑکوں کا ایک جتھہ رکشہ میں سوار ایک لڑکی سے بد تمیزی کرتے نظر آتا ہے۔ ایک اور وڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک خاتون موٹر سائیکل پر مرد کے ساتھ سفر کر رہی ہوتی ہے تو حیوان صفت انسان نے چھیڑ چھاڑ کی، ہر دفعہ سوشل میڈیا کی ایک لمبی فہرست عورت کو قصور وار ٹھہراتی ہے!
تھر کے گاؤں چھاچرو میں بکری سے بدفعلی کا معاملہ رپورٹ ہوا، ! یار تم ہی بتاؤ جب گدھے بھی انسانوں سے محفوظ نہیں رہے، وہ ہی لوگ بول رہے ہیں عورت اکیلی تھی، عورت ٹک ٹاکر تھی، یہ دوسرے معاملات سے دھیان ہٹانے کی سازش ہے؟
دیکھو صنم! میں اور میرے جیسے ہر انسان کو عورت نے جنم دیا ہے۔ جس کو خدا کے بعد عورت نے تخلیق کیا، جس کی زندگی کے حسین رشتے عورت سے جڑے ہیں، جس کی دوستوں سے زیادہ گہری دوست بہن ہے وہ بھی عورت ہے، وہ کبھی سوچ سمجھ کے سازش نہیں کر سکتا، ہم اسے ہر عمل کی مذمت کرتے ہیں، اور اس بات کو دہراتے بھی ہیں کہ فطری خوبصورتی سے سرشار اور حسین کائنات میں رہنے اور زندگی کو اپنے مزے کے مطابق جینے کا حق صرف انسان کو نہیں۔ واقعی تمہاری بات درست ہے ہمارے پاس جو جواب بنے ہوئے ہیں ان میں کوئی لمبی صداقت نہیں، پر جو ہم پلے کارڈ لے کر گلی چوراہوں پر لے کر کھڑے ہو کر کہتے ہیں ان وحشی درندوں کو سرعام لٹکا دینا چاہیے! اتنے حقیقت پسند بھی تو ہوجائیں نا!
ہمارے پاس فالو اپ کا بڑا خال ہے ہم جو ایک بات کرتے ہیں اس کے بعد ہماری جو ذمے داری بنتی ہے اس سے ہم کس قدر واقف ہیں؟
ایک ایسے پرامن علاقے میں سیاسی ٹولا اپنے شہر کے ہر اس غیر انسانی عمل میں ہونے کے باوجود اس کو رپورٹ نہیں کرتا، ایک بڑا نیٹورک چلانے والا اپنے شہر کے ہر خودکشی کے واقعہ کو گھریلو مسئلہ قرار دیتا ہے، کسی شخص کی قریبی اگر بازار میں دن دھاڑے قتل کی جائے تو وہ خد اس بات کو دبانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو اور کئی گھروں کو تباہ کرنے والا ایک شخص ہوتا ہے۔ جس کو عزت کا علمبردار کر کے پیش کیا جاتا ہے۔
وہ کبھی رپورٹ نہیں پڑھی ہوگی۔ ہمارے پاس چھوٹا بچہ جس کا گھر میں کوئی دوست نہیں وہ باہر بلیک میل ہوتا ہے۔ اس نے سوشل میڈیا کی پروفائل پکچر کو اپڈیٹ کرنے میں ڈی ایس ایل آر کے چکر میں بہت سے چکر کاٹے ہوتے ہیں۔ ہم جو کرائم پیٹرول اور ساودھان انڈیا جیسے ڈرامے دیکھ کر گراؤنڈ پر جو بھی کرتے ہیں وہ رپورٹ نہیں ہوتا نہیں تو اچھے بھلے دودھ کے دھلے سامنے آجائیں۔
دیکھو تم باتوں کو گھماؤ نہیں۔ اقرار الحسن اور یاسر شامی پر بھی الزام لگ رہے ہیں کہ وہ گھر جہاں انٹرویو لیا گیا وہ گھر یاسر شامی کا ہے لڑکی کی شرٹ یاسر شامی سے مل رہی ہے کارپٹ میچ ہو رہا ہے۔
صنم میں نے وہ بات نہیں کی۔ پر دیکھو لوگ خوفزدہ ہیں ہر معاملہ لوگوں پر اثر چھوڑتا ہے، ہاسٹل پر رہنے والی ایک لڑکی کا مسئلہ اپنے خوابوں کو حقیقت کی شکل دینا ہے اس سے پہلے اس کی زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ پر ایسے بھی ہوتا ہے گاؤں میں رہنے والی جس کا سوشل میڈیا سے تعلق نہیں ٹک ٹاک پر اکاؤنٹ نہیں علاقے کا نمائندہ زیادتی کا نشانہ اسے بھی بناتا ہے۔ ہم بھاشن دینے والی قوم ہیں جو ٹی وی پر اینکر ہراسمینٹ کے اوپر پروگرام کرتے ہیں جن کی نظر ہر ایشو پر رہتی ہے ان میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو انٹرنشپ کرنے والی لڑکی کو بھی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔
یار! قبر میں سے لاش نکال کر بے حرمتی کرنے والا بھی بولتا ہے عورت قصور وار ہے۔


