ڈھنڈورا نہ پیٹو حل ڈھونڈو!

پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان میں سوشل میڈیا کا میدان خاصہ گرم ہے، مینار پاکستان میں ہونے والے ناخوشگوار واقعہ کی وجہ سے بحث چھڑی جو اب انا کی جنگ کا روپ دھار چکی ہے، پاکستان کی عوام دو گروہوں میں بٹی ہوئی ہے ایک وہ جن کو لگتا ہے کہ پاکستان کے مرد درندے ہیں اور یہ ملک عورتوں کے لیے غیر محفوظ ہے، اور دوسرے گروہ کو لگتا ہے کہ عورتیں ہی اس سب کی وجہ ہیں جو سر عام بے حیائی اور نازیبا لباس سے مردوں کو راغب کرتی پھرتی ہیں، ورنہ یہ ملک اور یہاں کے مرد عورتوں کی عزت کے رکھوالے ہیں۔

دونوں گروہوں کے پاس اپنے اپنے دلائل اور ثبوت ہیں، جو ان کو اپنی بات پر قائم رکھنے کے لیے کافی ہیں، سوشل میڈیا پر مسلسل گہما گہمی ہے، دونوں گروہ ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے کی دوڑ میں ہیں، اس باہمی تضاد کی وجہ سے صرف نفرت پنپ رہی، جس کی وجہ سے جو اہم اور ضروری کرنے کا کام ہے اس پر کسی کا دھیان نہیں جا رہا۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں پر اعتدال، تحمل مزاجی، رواداری اور برداشت تقریباً ناپید ہونے کو ہیں، جذباتی باتیں کرنے، مردوں اور عورتوں کو گالیاں دینے سے نکل کر ہمیں اب ان مسائل کے حل کی طرف آنا ہوگا، ہمیں ان واقعات کی پبلسٹی کرنے سے زیادہ اس بات پر فوکس کرنا ہوگا کہ مستقبل میں ملک کو کس طرح ایسے واقعات سے بچایا جا سکتا ہیں، مسلسل پانچ دن ٹوئٹر اور فیس بک پر زیر بحث رہنے والے معاملے پر سب نے تنقید کے نشتر چلائے کسی نے اس کے حل کے لیے کوئی مناسب تحریر نہیں لکھی تو پھر کس طرح ہم ان سب سے نکل پائیں گے، اپنی انا کی تسکین کے لیے ایک دوسرے کو غلط غلط کہنے سے ان مسائل کا حل ممکن نہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اب تحمل کے ساتھ ایک دوسرے کی نظریات کو برداشت کرنا ہوگا تاکہ مزید الجھن نہ بڑھے اور توجہ ان مسائل کے حل پر آئے۔ ہمارا معاشرہ کوئی مثالی معاشرہ نہیں ہے کہ جس میں جرائم کی شرح بالکل ہی زیرو ہو اور نہ ہی اتنا گندا ہے کہ صرف جرائم ہی جرائم ہوں۔ پاکستان کو دنیا کی نظر میں ایک پر امن اور محفوظ ملک ٹھہرانا ہمارا فرض بنتا ہے، اس کے لیے ضروری یہی ہے کہ ہم مسائل کا ڈھونڈورا پیٹنے کی بجائے ان کا حل سوچیں

برائی اور اچھائی ساتھ ساتھ رہتی ہیں، ہمیں خیال اس چیز کا رکھنا ہوتا ہے کہ اچھائی ہمیشہ غالب رہے میری رائے یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی اپنی تعمیر کے مراحل میں ہے اس میں اچھائی اور برائی دونوں اپنی قوتوں کے ساتھ موجود ہیں لیکن ہمیں اچھائی کو غالب رکھنا ہو گا، اگر کوئی جرم کرتا ہے تو اس کے لیے قانون موجود ہے اس کے لیے سزائیں مقرر ہیں۔ خدانخواستہ کوئی اس طرح کا واقعہ پیش آ تا ہے تو چیخ چیخ کر اس کا ڈھونڈورا نہیں پیٹا جائے کہ ہائے یہ ملک تو بس برباد ہو گیا اب کچھ نہیں بچا بلکہ اس واقعہ کے ذمہ داران کو قرار سزا دلوانے کے لیے قانون کے در کو اتنی شدت سے پیٹا جائے۔ اس کے لیے ہر ممکن ذریعہ استعمال کیا جائے تاکہ لوگ عبرت پکڑیں واقعات کی شرح کم ہو۔

لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لیے مخلتف مہمات چلائی جائیں معاشرے کے جو ناسور ہیں ان کی ہمیشہ حوصلہ شکنی کی جائے کوئی اچھا کام کرے تو اس کو بڑھ چڑھ کر پھیلایا جائے تاکہ لوگوں میں کچھ اچھا کرنے کاجذبہ بڑھے۔ برائی کی حوصلہ شکنی ہو۔ ہزاروں حل ممکن ہوتے ہیں اگر اس سمت میں سوچا جائے۔ ایک بات تو پتھر پر لکیر ہے کہ یہ ”تم گندے، تم گندے“ والا کھیل کھیلنے سے صرف اور صرف مسائل بڑھیں گے کبھی کم نہیں ہوں گے تو اپنے آپ کو اس وطن عزیز میں مسائل کو بڑھاوا دینے والا ہاتھ بننے سے بچائیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
ندیم سیف رند کی دیگر تحریریں