مینار پاکستان اور ہمارا معاشرہ


پاکستان میں گزشتہ دنوں کے دوران دو ایسے واقعات پیش آئے ہیں جنھوں نے لوگوں کو حیرت اور خواتین خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ عائشہ اکرم والے واقعے پر لوگوں کا ملا جلا رجحان ہے لیکن رکشے میں بیٹھی خواتین تو کسی کو پکار نہیں رہی تھی اس کے علاوہ تھوڑا عرصہ پہلے کراچی میں واقعہ پیش آیا جس میں پولیس کے مطابق ایک پانچ سالہ بچی کے ساتھ ریپ کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ ایک اور واقعہ لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے کے قریب ایک خاتون کے ساتھ پیش آیا۔

اس مقدمے کی ایف آئی آر کے مطابق یہ خاتون نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گاڑی کا پٹرول ختم ہونے پر وہ مدد کا انتظار کر رہی تھیں جب دو افراد آئے، گاڑی کا شیشہ توڑا اور انھیں جنگل میں لے جا کر ان کے بچوں کے سامنے ریپ کیا گیا۔ ہم دوسری عورتوں کے متعلق تو بہت جلد بازی میں بیان دیتے ہیں کہ عورتیں دعوت دیتی ہیں۔ عورتیں بدچلن ہوتی ہیں۔ عورتیں مردوں کو بہکاتی ہیں۔ یہ سب خیال ہمیں صرف باہر کی عورتوں کو دیکھ کر آتے ہیں اپنی ماں بہن بیٹی جو کہ وہ بھی عورت ہی ہے کو دیکھ کر نہیں آتے۔

غلطی چاہے اس ٹک ٹاک اسٹار عائشہ اکرم کی ہو۔ لیکن ہمیں ان چار سو لوگوں کی مذمت کرنی چاہیے جو کتوں کی طرح اس لڑکی پر چڑھ دوڑے۔ ہم یہاں پر وہی بات کرتے ہیں جیسے سی سی پی او لاہور نے موٹروے واقعے پر کہا تھا کہ عورت رات کو گھر سے نکلی کیوں۔ مسئلہ اس لڑکی کا مینار پاکستان جانا نہیں ہے یا موٹروے واقع والی عورت کا رات کو گھر سے نکلنا نہیں ہے مسئلہ پاکستان میں لاقانونیت ہے۔ عوام دیکھتی ہے کہ جب ان کا وزیراعظم اس طرح کے کاموں میں ملوث ہو۔

وزیر مشیر یہ کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم ہاؤس فلور نمبر 4 پر اس طرح کے کام ہو رہے ہیں تو عوام بھی وہی کام کرتی ہے۔ عوام سوچتی ہے جب وزیر مشیر ہی ایسے کام کرتے ہیں تو ہمیں بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ملک اس وقت ٹک ٹاک بن چکا ہے کہ ٹک ٹاکر اسٹار لڑکیاں وزیراعظم ہاؤس میں جاکر اپنی ویڈیو بناتی ہیں کبھی کسی وزیر کے ساتھ بیٹھ کر کبھی کسی وزیر کی گود میں بیٹھ کر۔ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ اس وقت لاقانونیت ہے جس کی وجہ سے زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے آپ روزانہ کی بنیاد پر خبریں سنتے ہیں کہ چار سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا چھ سالہ بچے کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔

مسئلہ اس وقت ملک میں لاقانونیت کا ہے۔ جب قانون کی علم برداری ہوگی عوام کو ڈر ہو گا تو اس طرح کے واقعات پیش نہیں آئیں گے ایک اہم سوال یہ ہے کہ قوم کی کسی بیٹی، ماں یا بہن کو کوئی اوباش شخص خدانخواستہ ہراسانی کا نشانہ بنائے تو وہ انصاف کیسے حاصل کرے گی؟ تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ہراسانی کا شکار خواتین عموماً یہ بات زبان پر لائے بغیر چپ چاپ ظلم سہتی رہتی ہیں جبکہ اسلام نے ہمیں سمجھایا ہے کہ ظلم سہنا ظالم کو مزید طاقتور اور کمزور کو مزید پستی کی طرف دھکیلتا ہے۔

ریت میں منہ چھپا لینے سے حقیقت نہیں بدل سکتی تاہم مشرقی خواتین کی اکثریت زیادہ تر کیسز میں خاموشی اختیار کر لیتی ہیں اور یہاں ہمارا اگلا سوال یہ ہے کہ اگر خواتین بولیں اور ہراسانی کا الزام لگا بھی دیں تو اسے ثابت کیسے کیا جائے؟ بعض حالتوں میں خواتین بد ترین جنسی ہراسانی کے باوجود کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکتیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انہیں پوری عمر انصاف نہیں ملتا اور جرم کے بعد بلیک میلنگ، دھمکیاں اور رسوائی الگ مقدر بنتی ہے۔

کسی بھی ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرے۔ ایک عورت کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ بلا خوف و خطر سونے چاندی کے زیورات سے لدی ہوئی ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جائے اور اسے کوئی چور، لٹیرا یا زناکار ہاتھ تک نہ لگا سکے۔ نبی اکرم ﷺ کے دور میں جب کسی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی تھی تو وہ آپ ﷺ سے شکایت کرتی اور اس پر انصاف حاصل کرتی تھی لیکن کوئی صحابی اسے یہ مشورہ نہیں دیتا تھا کہ تم نے جرم کی شکایت کیوں کی؟

تمہیں خاموش ہوجانا چاہیے تھا لیکن آج ہم اسلام کے نام پر ہی خواتین کو جنسی ہراسانی چپ چاپ سہنے کا مشورہ دے کر خود کو بہترین مسلمان ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ بطور مسلمان اور پاکستانی شہری ہمارا یہ اولین فرض ہے کہ خواتین کی عزت کرنا سیکھیں۔ یہ مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہماری ہی عزت و ناموس اور ہمارے ہی ملک کا وقار اور مان ہیں۔ ریاست کا فرض ہے کہ وہ جنسی زیادتی اور ہراسانی سمیت ہر جرم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے لیکن ایک شہری کے طور پر ہماری ذمہ داریاں اس سے کہیں بڑی ہیں۔ ہمیں اپنے آپ سے وعدہ کرنا ہوگا کہ آج کے بعد جب کوئی خاتون گھر سے باہر کسی بھی ضروری کام سے نکلے تو اسے بے جا چبھتی ہوئی نظروں اور چھیڑ چھاڑ سمیت اپنی کسی بھی اوباش حرکت کا نشانہ نہ بنائیں کیونکہ قوم کی بیٹیوں کی عزت سے ہی ہم ایک عزت دار اور قابل احترام قوم بن سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words