موہن جو داڑو کی ڈانسنگ گرل کے ساتھ آخر کیا ہوا؟

موہن جو داڑو سندھ کئی اعتبار سے مشہور و معروف ہے جیسے اسٹیٹ آف آرٹ، عمارتیں، نکاسی آب، لباس، رہن سہن، تجارت، سندھو دریا، مذہب، آرٹ، تعلیم، یونی کارن جانور، ڈانس، امن و محبت کا پیغام۔ موہن جو داڑو کے دائیں جانب بھلڑیجی کامریڈوں کا شہر جسے لٹل ماسکو بھی کہا جاتا ہے موجود ہے۔ موہن جو داڑو کے بائیں جانب وڈیروں، سرداروں، جاگیرداروں، جو منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے ان کی انگریزوں کی طرف سے تحفے میں دی ہوئی زمینیں، جائیدادیں جسے مقامی زبان میں کیٹی کا نام دیا جاتا ہے واقع ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ان وڈیروں کے آبا و اجداد جنہیں انگریزوں نے خوش ہو کر کہا کہ صبح سے شام تک گھوڑا دوڑاؤ جہاں تک تم پہنچے وہاں تک کی زمین تمہاری ملکیت ہو گی۔ آج کل یہ وڈیرے موہن جو داڑو کی زمین سمیت محکمہ جنگلات کی زمین پر بھی قابض ہیں۔ موہن جو داڑو کے جنوب میں کچے کا علاقہ جہاں پر کسی دور میں بدنام زمانہ ڈاکوں کا راج ہوا کرتا تھا جن میں سر فہرست پرو چانڈیو، نادر، گوہر جن پر مقامی زبان میں فلمیں بھی بنتی رہیں۔

موہن جو داڑو کے شمال میں مشہور زمانہ لوک ادب کے ماہرین سگھڑ جیسے میر جت، جمن فقیر جیسے ملنگ، سائیں غلام نبی شاہ جیسے درویش، مائی سفوراں سہڑی جیسی سیانی اور نڈر عورتیں موجود تھیں جنہیں دیکھ کر بڑے بڑے بدمعاش بھی پناہ مانگتے تھے۔ موہن جو داڑو جہاں وڈیروں کا راج تھا وہیں کامڑید جام ساقی جیسے کمیونسٹ کے بینرز لگا کر انہیں خوش آمدید کہا جاتا تھا اور ساتھ ہی ساتھ نوجوان کامریڈ امرتا سومرو گھر گھر جا کر نوجوانان سے ملاقاتیں کر کے انہیں جاگیردارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا لیکچر دے کر انہیں تحفے میں روسی ادب کی کتب اور سائنسی کتب دے کر کہہ جاتیں کہ کامریڈ اگلی دفعہ پھر ملیں گے۔

انہیں وڈیروں کے دیش میں سائیں سرور منگی جیسے استاد جو بچوں کے تقریری مقابلے، سائنس بھلی یا پرانا زمانہ جیسے عنوانات پر چائے پیتے، سگریٹ پھونکتے کراتے نظر آتے۔ موہن جو داڑو کے اسی دیش میں ایک درویش کیول رام بھی یہ کہتے پھرتے کہ ہر سال رکشھا بندھن کے تہوار پر ڈانسنگ گرل سمبارہ مجھے راکھی باندھنے آتی ہے اور راکھی کا دن قریب ہے مگر سمبارہ موہن جو داڑو سے غائب ہے۔ موہن جو داڑو کے قومی ورثہ کا حصہ سمبارا جسے ڈانسنگ گرل کہا جاتا ہے جسے امن اور پیار و محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے کی کچھ تصاویر مقامی لوگوں نے وائرل کی ہیں کہ پہلے جس مقام پر سمبارہ کا مجسمہ جہاں نصب تھا وہاں سے غائب کیا گیا اور بعد میں درخت کے نیچے کچرے میں بری حالت میں پھینکا گیا۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سمبارہ کا مجسمہ جب غائب تو آس پاس کے علاقوں میں یہ خبر تیزی سے پھیل گئی بعد میں ایک ٹوٹے درخت کے نیچے پڑا اسے دکھایا گیا کہ درخت گرنے کی وجہ سے سمبارا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی مگر تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ڈانسنگ گرل سمبارا کا مجسمہ کہیں بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار نظر نہیں آ رہا اور اگر درخت سمبارہ کے مجسمے پر گرتا تو مٹی کا بنا ہوا مجسمہ باآسانی کئی ٹکروں میں بکھر جاتا۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ سمبارہ کے ساتھ ایسا کیا ہوا جس کی پردہ داری ہے؟ مندر حملہ اور راجہ رنجیت سنگھ کی مجسمے کے ساتھ جو ناخوشگوار واقعات پیش آئے ان کے بعد ذہن میں کئی شکوک و شبہات ذہن میں جنم لے رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words