طالبان کی دو نسلوں سے میرے ذاتی رابطوں کی کہانی

پچیس سال پہلے مجھے طالبان ملیشیا سے یہ کہہ کر متعارف کروایا گیا تھا کہ یہ لوگ افغانستان میں ”پائپ لائن پولیس“ کا کردار ادا کریں گے۔ تب طالبان سے میرے رابطے کا انتظام اس وقت کی پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کیا تھا جو طالبان کی حمایت کرنے پر اپنی حکومت پر میری تنقید سے پریشان تھیں۔ انہوں نے اپنے وزیر داخلہ نصیر اللہ خان بابر سے کہا کہ وہ مجھے طالبان کے بارے میں آگاہ کریں۔

نصیر اللہ بابر پاک فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل تھے۔ انہوں نے میرے سامنے کئی بار اعتراف کیا کہ اس نے کئی معروف افغان باغیوں جیسے احمد شاہ مسعود، برہان الدین ربانی اور گلبدین حکمت یار کو 1975 میں فرنٹیئر کور کے آئی جی کی حیثیت سے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو (بے نظیر بھٹو کے والد) کے حکم پر پیسے اور ہتھیار فراہم کیے تھے۔

بابر نے مجھے بتایا کہ انہوں نے 1975 میں افغان باغیوں کی حمایت شروع کی کیونکہ سردار داؤد کی قیادت میں افغان حکومت بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور امریکی طالبان کی حمایت کر رہے ہیں کیونکہ امریکی آئل کمپنی یونوکل (UNOCAL) طالبان کو پائپ لائن پولیس کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے۔

زلمے خلیل زاد (جنہوں نے 2020 میں ملا برادر کے ساتھ دوحہ معاہدے پر دستخط کیے ) نے 1997 میں امریکہ میں واقع یونوکل (UNOCAL) کے کمپنی دفاتر میں طالبان رہنماؤں کے دورے کا اہتمام کیا تھا۔ پاکستان میں سابق امریکی سفیر رابرٹ اوکلے اور حامد کرزئی بھی ان دنوں یونوکل (UNOCAL) کے لیے کام کر رہے تھے۔ نصیر اللہ بابر نے مجھے بتایا کہ یونوکل (UNOCAL) نے 1995 میں طالبان کو قندھار اور کوئٹہ کے درمیان مواصلاتی نظام قائم کرنے کے لیے رقم فراہم کی تھی۔ یونوکل (UNOCAL) چاہتی تھی کہ طالبان ترکمانستان سے افغانستان کے راستے پاکستان جانے والی گیس پائپ لائن کی حفاظت کریں۔

مرحوم ملا عمر سے میری پہلی ملاقات کا اہتمام بھی نصیر اللہ خان بابر نے کیا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ ملا عمر خطے میں تیل کے لئے جاری کشمکش سے زیادہ آگہی نہیں رکھتے تھے۔ انہیں صرف افغانستان میں شریعت کے نفاذ میں دلچسپی تھی اور وہ کہتے تھے کہ پاکستان کو ہمارے ساتھ بھائیوں جیسا سلوک کرنا چاہیے نہ کہ ماتحت کی طرح۔ نصیر اللہ بابر نے برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے انہیں طالبان سے مذاکرات شروع کرنے پر مجبور کر دیا۔

بابر کابل میں ایک وسیع البنیاد حکومت چاہتا تھا جو تمام نسلی گروہوں کی نمائندگی کرے۔ بے نظیر بھٹو امریکی دباؤ کے باوجود طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے گریزاں تھیں۔ بے نظیر حکومت گیس پائپ لائن منصوبے کا ٹھیکہ ارجنٹائن کی تیل کمپنی بریڈاس (Bridas) کو دینا چاہتی تھی۔ انہوں نے ایک بار مجھے بتایا تھا کہ امریکی حکام نے انہیں یونوکل (UNOCAL) کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور کر رہے تھے۔ بے نظیر حکومت کابل میں متحدہ قومی حکومت کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی تھی۔ مشہور ازبک جنگجو عبدالرشید دوستم بھی طالبان کے ساتھ کام کرنے پر رضامندی ظاہر کر چکے تھے لیکن نومبر 1996 میں بے نظیر بھٹو کی حکومت اچانک برطرف کر دی گئی اور پس پردہ افغان امن مذاکرات ختم ہو گئے۔ پائپ لائن منصوبہ یونوکل (UNOCAL) کو مل گیا۔

اسامہ بن لادن کے ساتھ پہلا انٹرویو

بے نظیر بھٹو کی حکومت کی برطرفی کے چند ماہ کے اندر میں نے جلال آباد کے قریب تورا بورا پہاڑوں میں اسامہ بن لادن کا پہلی بار انٹرویو کیا۔ مولوی یونس خالص نے تورا بورا غاروں میں میرا استقبال کر کے مجھے حیران کر دیا۔ اسامہ بن لادن کے ساتھ ان کا تعلق میرے لیے غیر متوقع تھا کیونکہ انہیں تو صوبہ ننگرہار کا بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ اب ان کا بیٹا مطیع اللہ یونس طالبان کا سینئر لیڈر ہے۔ میں نے اسامہ بن لادن کا 1998 میں دوبارہ قندھار میں انٹرویو کیا۔ مجھے یاد ہے کہ مجھے طالبان نے قندھار میں اس لیے گرفتار کر لیا تھا کہ میں نے داڑھی نہیں رکھی تھی۔ مجھے القاعدہ کے جنگجوؤں نے طالبان کے چنگل سے چھڑایا۔

نائن الیون کے دو ماہ بعد اسامہ بن لادن نے مجھے کابل میں تیسرا انٹرویو دیا۔ جب میں اس خصوصی انٹرویو کے بعد واپس آ رہا تھا، ایک طالبان کمانڈر ملا خاکسار نے مجھے کابل کے باہر اقوام متحدہ کے احاطے کے قریب سے گرفتار کر لیا۔ میری گرفتاری کی وجہ میرے پاس ایک کیمرے کی موجودگی تھی۔ ان دنوں افغانستان میں کیمرے پر پابندی عائد تھی۔

میں نے وزیر دفاع ملا عبدالرزاق آخوند سے رابطہ کیا اور انہوں نے میری رہائی کا حکم دیا۔ انہوں نے مجھے اپنے دفتر میں ایک کپ چائے کے لیے مدعو کیا اور معذرت مانگی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ مجھے جلد از جلد افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔ میں نے انہوں سے پوچھا کیا آپ لوگ بھاگ رہے ہو؟ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ”یہ کھیل کا حصہ ہے لیکن ہم یقینی طور پر واپس آئیں گے“ ۔

ملا عبدالرزاق آخوند 2010 میں ایک پاکستانی جیل میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی پیش گوئی 20 سال بعد 15 اگست 2021 کو سچ ثابت ہوئی جب طالبان ہموی گاڑیوں اور ٹینکوں پر سوار اپنا سفید جھنڈا لہراتے ہوئے دوبارہ کابل میں داخل ہوئے۔ بیس سال پہلے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ کے لیے ’صلیبی جنگ‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ یہ اصطلاح بین المذاہب جنگوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ آج کل امریکہ میں صلیبی جنگ کا لفظ عام طور پر استعمال ہوتا ہے اور اس کا کچھ خاص مذہبی تناظر نہیں ہے۔ تاہم امریکی صدر کی طرف سے اس لفظ کے استعمال نے یقینی طور پر طالبان کی مدد کی۔ انہوں نے اپنی مزاحمت کو مذہبی رنگ دے دیا۔ جب بش نے بیس سال پہلے اپنی صلیبی جنگ شروع کی تھی تو طالبان کابل سے بھاگ رہے تھے۔ اب طالبان صدارتی محل میں بیٹھے ہیں اور امریکہ کابل سے بھاگ رہا ہے۔ اس صلیبی جنگ میں ہارنے والا کون ہے اور فاتح کون؟ ہمیں کسی نتیجے پر نہیں پہنچنا چاہیے کیونکہ میری نظر میں طالبان کا اصل امتحان 15 اگست کے بعد شروع ہوا ہے۔

آج کے طالبان مختلف ہیں؟

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ آج کے طالبان 2001 کے طالبان سے مختلف ہیں۔ میرے خیال میں وہ اب بھی اپنے پرانے نظریات پر قائم ہیں لیکن انہوں نے پچھلی دو دہائیوں میں کچھ نئے ہتھکنڈے سیکھے ہیں۔ ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم دراصل ان کے نظریے کے گرد گھومتا ہے۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ کئی برس سے قطر میں کام کرنے والے طالبان کے سیاسی دفتر کو آزادانہ فیصلہ سازی کا اختیار نہیں تھا۔

فیصلہ سازی کے اختیارات ”رہبری شوری“ یا بالائی مشاورتی کونسل تک محدود ہیں اور اس کے بیشتر ارکان افغانستان کے اندر مزاحمت کا حصہ تھے۔ طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ مذہبی، سیاسی اور عسکری امور پر حتمی اختیار رکھتے ہیں۔ وہ اپنے تین نائبین کی مشاورت سے فیصلے کرتا ہے۔

طالبان کے بانی رکن ملا عبدالغنی برادر سیاسی معاملات کو دیکھتے ہیں۔ ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب فوجی امور کے سربراہ ہیں اور افغانستان کے جنوبی علاقوں کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔ مشہور افغان گوریلا کمانڈر مولوی جلال الدین حقانی کے بڑے بیٹے سراج الدین حقانی افغانستان کے مشرقی علاقوں کے نگران ہیں۔ یعقوب اور سراج الدین کو صوبائی اور ضلعی گورنر مقرر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔

طالبان کی صفوں میں غیر پشتون

1990 کی دہائی کے وسط میں بھی غیر پشتون افغان طالبان کا حصہ تھے لیکن اب انہیں طالبان کی صفوں میں زیادہ عزت و احترام مل رہا ہے۔ طالبان نے تاجک، ازبک، ہزارہ اور ترکمان قومیتوں میں گہرا اثر و نفوذ حاصل کر لیا ہے۔ قاری دین محمد اور قاری فصیح الدین بدخشاں کے دو اہم تاجک طالبان رہنما ہیں۔ عبدالسلام حنفی فاریاب سے تعلق رکھنے والے ازبک طالبان رہنما ہیں۔

حال ہی میں، طالبان نے ایک نوجوان تاجک مہدی ارسلان کو پانچ شمالی صوبوں کا کمانڈر مقرر کیا۔ مہدی ارسلان کے انصار اللہ سے قریبی روابط ہیں۔ انصار اللہ نامی جماعت کو تاجکستان میں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ مہدی ارسلان تاجک، ازبک، ہزارہ اور ترکمان عسکریت پسندوں کے ساتھ شمال میں ایک طالبان فورس کی کمان کر رہا ہے۔ کچھ ازبک عسکریت پسندوں کے اسلامی تحریک ازبکستان سے قریبی روابط ہیں۔ گزشتہ سال طالبان نے ایک شیعہ ہزارہ مولوی مہدی کو شمال میں سر پل صوبے کا گورنر مقرر کیا تھا۔ مولوی مہدی نے شمالی افغانستان میں طالبان کی حالیہ فتوحات میں اہم کردار ادا کیا۔

طالبان کے درجہ بندی میں ملا عبدالحکیم بھی بہت اہم شخص ہیں۔ وہ طالبان کے سابق چیف جسٹس ہیں اور ملا ہیبت اللہ کو سیاسی اور مذہبی امور پر مشورہ دیتے ہیں۔ طالبان کے کئی ترجمان ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد 2007 سے ترجمان کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ وہ 14 سال تک افغان اور امریکی انٹیلی جنس کے لیے ایک معما بنے رہے جو ذبیح اللہ مجاہد کو تلاش کرنے میں ناکام رہے۔

ذبیح اللہ مجاہد 17 اگست کو پہلی بار بین الاقوامی میڈیا کے سامنے پیش ہوئے۔ انہوں نے اپنا زیادہ تر وقت افغانستان کے اندر گزارا اور مشرقی اور وسطی افغانستان میں عسکری سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ قاری یوسف احمدی ایک اور ترجمان ہیں جو جنوبی اور شمالی افغانستان میں فوجی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ سہیل شاہین دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ انہوں نے نائن الیون سے پہلے پاکستان میں نائب سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ کابل ٹائمز کے سابق ایڈیٹر ہیں اور زیادہ تر طالبان کی سیاسی حکمت عملی پر بات کرتے ہیں۔

ڈاکٹر نعیم وردک دوحہ میں سیاسی دفتر کے ترجمان ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد سے عربی زبان میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ طالبان قیادت میں ایک اور اہم شخص شیر محمد عباس ستانکزئی ایک سابق فوجی افسر ہیں جنہوں نے 1980 کی دہائی کے اوائل میں ہندوستان سے فوجی تربیت حاصل کی لیکن انہوں نے روسیوں سے لڑنے کے لیے افغان فوج کو چھوڑ دیا۔ ستانکزئی نے گزشتہ سال ماسکو میں کچھ ریٹائرڈ ہندوستانی سفارت کاروں سے رابطے کیے۔ نوجوان طالبان رہنما انس حقانی اساطیری افغان لیڈر مرحوم جلال الدین حقانی کے سب سے چھوٹے بیٹے ہیں۔ انہوں نے کئی سال بگرام جیل میں گزارے۔ وہ ایک شاعر ہیں۔ انہیں ایک آسٹریلوی مغوی ٹموتھی ویکس کے بدلے 2019 میں رہا کیا گیا تھا۔ انس اور ٹموتھی ویکس اب دوست بن چکے ہیں۔ انس حقانی ان دنوں گلبدین حکمت یار اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی مدد سے کابل میں متفقہ حکومت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انس حقانی پاکستان کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں لیکن وہ پاکستان سے زیادہ طالبان کے وفادار ہیں۔ ابراہیم صدر، عبدالقیوم ذاکر، ملا عبدالواثق، امیر خان متقی، مولوی عبدالکبیر، شیریں اخوند، خیر اللہ خیرخواہ، مطیع اللہ یونس، نور اللہ نوری اور شہاب الدین دلاور بھی طالبان قیادت میں بہت اہم ہیں۔ یہ سب ملا عمر کے وفادار تھے اور اب ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کے مطیع ہیں۔

کیا ملا ہیبت اللہ افغانستان میں جمہوریت کی اجازت دیں گے؟ یہ ایک بہت اہم اور بڑا سوال ہے۔ کابل میں نئی پارلیمنٹ کی عمارت کا کیا استعمال ہو گا جو بھارتی حکومت نے افغان حکومت کو تحفے میں دی تھی؟ میری معلومات کے مطابق، طالبان تمام نسلی اقلیتوں، خواتین اور یہاں تک کہ غیر مسلموں کو بھی نئی حکومت میں شامل کرنے کافی لچکدار رویہ رکھتے ہیں لیکن انہیں ”مغربی جمہوریت“ پر سخت تحفظات ہیں۔

ایک طالبان رہنما نے مجھ سے آف دی ریکارڈ پوچھا کہ اگر امریکہ، برطانیہ، بھارت اور پاکستان سعودی عرب جیسی غیر جمہوری ریاست سے دوستی کر سکتے ہیں تو وہ مغربی جمہوریت کو افغانستان پر کیوں مسلط کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے ملا عمر، جلال الدین حقانی اور مولوی یونس خالص کی نسل کو دیکھ رکھا ہے۔ ان کے ساتھ شائستگی سے معاملات ہو سکتے تھگے لیکن وہ سب لوگ کسی کی حاکمیت یا ڈکٹیشن قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کرتے تھے۔ ان کے بیٹے ملا یعقوب، سراج حقانی اور مطیع اللہ یونس صرف حربوں میں اپنے بزرگوں سے مختلف ہیں تاہم ان کے تصورات عین میں وہی ہیں۔ اگر ان سے شائستگی سے پیش آیا جائے تو وہ بین الاقوامی برادری کی بات سن سکتے ہیں ورنہ اپنے باپ دادا کی طرح وہ ہمیشہ نئی جنگیں شروع کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔

بشکریہ: انڈیا ٹوڈے

Comments - User is solely responsible for his/her words