پلاٹ بخشیاں۔۔۔ عدلیہ اور انصاف کا بول بالا

انور مسعود کی سنجیدہ شاعری ان کی مزاحیہ شاعری کے پیچھے چھپ گئی ہے۔ اس شعر میں وہ اپنی مزاحیہ شاعری میں سنجیدہ اور رنجیدہ معنوں کی بھی اطلاع دے رہے ہیں۔

بڑے نمناک سے ہوتے ہیں انور قہقہے تیرے

کوئی دیوار گریہ ہے تیرے اشعار کے پیچھے

کچھ لطیفے ایسے بھی ہیں کہ اگر ان کو نچوڑا جائے تو ان سے آنسو ٹپک پڑیں۔ ایک ایسی ہی پرمزاح بات جنرل اسلم بیگ نے سنائی۔ جرنیلوں کو ”اقتدار کی مجبوریاں “ بہت ہیں۔ اسی لئے کرنل اشفاق حسین نے اپنی لکھی جنرل اسلم بیگ کی سوانح عمری کا یہی نام رکھا ہے۔ یہ واقعہ اسی کتاب سے لیا گیا۔ مرزا اسلم بیگ نے بتایا۔ ہمارے پیارے ایس ایس جی کے سابق کرنل سید احمد کراچی اسٹیشن کمانڈر مقرر ہوئے۔ انہی دنوں کرنل نعیم بھی وہیں تعینات تھے۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا۔ وہ ہسپتال میں داخل ہو گئے۔ کرنل سید وہاں ان کی عیادت کو پہنچے۔ صحت یابی کی دعا کے بعد کہنے لگے۔ ”نعیم زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ دوستی کا حق ادا کر دوں۔ میں نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے تمہارے نام ایک پلاٹ الاٹ کر دیا ہے۔ اس کی فائل میں ساتھ لایا ہوں“۔ یہ کہتے ہوئے فائل کرنل نعیم کے حوالے کر دی۔ نعیم یہ سن کر بڑے حیران ہوئے کہ ان کے دوست نے ان پر کتنا بڑا احسان کیا ہے۔ جب فائل کھول کر پڑھی تو لکھا دیکھا۔ ”کارنر پلاٹ۔ ویسٹ اوپن۔ گورا قبرستان “۔ کرنل نعیم نے کرنل سید کے اس مذاق کا یقینا برا منایا ہوگا۔ انہیں ہارٹ اٹیک ہوا تھا۔ اب قدرے روبہ صحت بھی ہو گئے ہوں گے۔ لیکن ابھی ہسپتال بیڈ پرہی تھے۔ موت کا خطرہ ابھی ٹلا نہیں تھا۔ لیکن کرنل نعیم اس طبقے سے تعلق رکھتے تھے جنہیں زندگی بسر کرنے کیلئے گھر، پلاٹ اور تدفین کیلئے جگہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ورنہ عام آدمی کو نہ ہی رہنے کو اور نہ ہی دفن کیلئے کہیں جگہ میسر ہے۔

ہم بھی کیا قسمت لے کر آئے ہیں، کیاامیر اور کیا غریب، دن رات بس پلاٹوں کے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔ ہماری ساری زندگی پلاٹوں کے اردگرد ہی گھومتی پھر رہی ہے۔ رہائشی پلاٹ۔ کارنر پلاٹ۔ فیسنگ ٹو پارک پلاٹ۔ کمرشل پلاٹ۔ پشاورمیں ایک اہم ترین ملکی ہاﺅسنگ سوسائٹی نے ایک نئی ہاﺅسنگ سکیم لانچ کرنے کا اعلان کیا۔ اخبارات کے پورے پورے صفحے ان اشتہارات سے بھر گئے۔ دفتر کے افتتاح کی تاریخ کا اعلان ہوا تو بڑے افسروں کے پشاور میں پہلے سے موجود ہاﺅسنگ سوسائٹیوں میں کمرشل پلاٹوں کے نرخ گر گئے۔ بڑے سٹپٹائے۔ انہوں نے اس ہاﺅسنگ سوسائٹی کو لانچنگ سے روک دیا۔ حکم حاکم مرگ مفاجات۔ اب اخبارات کے صفحے افتتاح کی منسوخی کے اشتہارات سے بھر گئے۔ تھوڑے ہی عرصہ میں ان بڑے لوگوں کے پلاٹوں کی قیمت بحال ہو گئی۔ انہیں بیچ دیا گیا۔ جب یہ تمام پلاٹ بک کر دوسرے ہاتھوں میں پہنچ گئے تو نئی ہاﺅسنگ سوسائٹی کیلئے راہ کھل گئی۔ انہیں لانچنگ کی دوبارہ اجازت مل گئی۔

علم سیاسیات کے مطابق ایک ریاست کیلئے چار چیزیں لازم ہیں۔ پہلی رقبہ۔ دوسری آبادی۔ تیسری حکومت۔ اور چوتھی اقتدار اعلیٰ۔ کوئی ریاست اپنے کسی شہری کو زمین کے غیر محدود حقوق ملکیت دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ ملکیت بہت سے قواعد و ضوابط کی پابند ہوتی ہے۔ ریاست اپنے شہریوں کے لئے زمین کی ملکیت کی ایک حد بھی مقرر کر سکتی ہے۔ اگرچہ انیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں مسلم لیگ کا قیام نواب آف ڈھاکہ کے ہاں ہی میں عمل میں آیا تھا۔ پھر بھی مشرقی پاکستان مسلم لیگ پر متوسط طبقے سے قیادت ہی قابض رہی۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے جاگیروں کے خاتمے اور زمین کی حد ملکیت مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔ اہل بصیرت جانتے ہیں کہ مغربی پاکستان کے جاگیرداروں نے اسی روز” بھوکے بنگالیوں“ سے جان چھڑانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بنگلہ دیش کی یہی خشت اول ہے۔

خیر۔ زمین کے دو استعمال ہیں۔ پہلا زرعی اور دوسرا سکنی۔ زرعی استعمال میں کھیت، باغات، پارک اور جنگل آتے ہیں۔ سکنی استعمال میں گھر، کارخانے اور دیگر عمارات کو شمار کیا جاتا ہے۔ پھر یہ پلاٹ شے کیا ہیں؟ اورپاکستان میں ٹاﺅن ڈویلپنگ کیا چیز ہے؟ اللہ کی زمین کو زرعی استعمال سے نکال کر پلاٹوں کی شکل میں غیر معینہ مدت کیلئے بیکار کھلا چھوڑ دینے کو ٹاﺅن ڈویلپنگ کا نام دیا جاتا ہے۔ ہر شہر خالی پلاٹوں سے بھرا ہوا ہے۔ ضرورت سے زیادہ پلاٹ بنائے ہی کیوں جاتے ہیں؟ یورپی ممالک میں ایک پلاٹ کو ایک برس خالی رکھنے کا جرمانہ اس کی مارکیٹ ویلیو کا 25% ہے۔ ہمارے ہاں انڈسٹری بیمار ہو گئی ہے اور یار لوگوں نے فیکٹریاں بند کر کے فیکٹریوں کی زمین کو رہائشی اور کمرشل پلاٹوں میں ڈھال لیا ہے۔ ہاﺅسنگ سوسائٹیوں میں پلاٹوں کی اوپن فائل سسٹم پر سٹہ بازی کے ذریعے پانچ مرلے کے رہائشی پلاٹ کی قیمت پچیس تیس لاکھ روپوں سے کم نہیں رہی۔ کیا گریڈ 17 کا کوئی سرکاری ملازم اپنی تنخواہ سے اسے خرید سکتا ہے؟ ایک رہائشی پلاٹ ایک کنبہ کیلئے دانہ گندم کی طرح ہی ضروری ہے۔ گندم کی ذخیرہ اندوزی کی قانون اور مذہب کوئی بھی اجازت نہیں دیتا۔ تو کیا ہمارے دینی اکابر پلاٹوں کی ذخیرہ اندوزی کی شرعی حیثیت طے کرنے کو تیار ہیں؟

اسی ہفتے اسلام آباد فیڈرل ہاﺅسنگ اتھارٹی کے سیکٹر 14-15 کی قرعہ اندازی ہوئی ہے۔ ہماری عدلیہ کے سربراہ سمیت اعلیٰ عدالتوں کے ججزاور بیورو کریٹس کی ایک لمبی فہرست ہے جنہیں خود مقرر کردہ قیمت پر یہ بیش قیمت پلاٹ ہاتھ آئے ہیں۔ دینی رہنماﺅں کو چھوڑیں۔ انہیں عوام کی دنیا میں بودو باش سے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ دنیا کو عوام کیلئے عارضی ٹھکانہ سمجھتے ہیں۔ ہماری قابل احترام عدلیہ یہ واضح کرے کہ ہماری ”ریاست مدینہ “کے اعلیٰ افسران جو پہلے سے ہی ایک گھر یا رہائشی پلاٹ کے مالک ہوں، مارکیٹ ریٹ سے مضحکہ خیز حد تک کم قیمت پر ایک اور رہائشی پلاٹ لینے کا اخلاقی استحقاق رکھتے ہیں؟ انور مسعود ہی کے ایک دوسرے شعر پر کالم تمام کرتا ہوں۔

اس گھڑی کا خوف لازم ہے کہ انور جس گھڑی

دھر لئے جائیں گے سب اور سب دھرا رہ جائے گا

Comments - User is solely responsible for his/her words