کیا واقعی پاکستان درندوں کا ملک ہے؟

اگست کو مینار پاکستان میں عائشہ اکرم کے ساتھ ہونے والے واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لڑکی کے کپڑے پھاڑنے والے اس کے جسم پر تشدد کرنے والے کسی بھی دلائل سے بے قصور ثابت نہیں ہوسکتے۔ ایسے ذہنی مریض اور درندے سخت سزا کے مستحق ہیں۔ ویڈیو وائرل ہوئی اور میڈیا کی بریکنگ نیوز کا حصہ بن گئی، ہر ٹاک شو کا ہاٹ ٹاپک یہ ہی تھا۔ تجزیہ نگاروں نے بھی اپنے اپنے تجزیہ دیے۔ سیاسی رہنماؤں کی مذمتیں، معطلی اور تبادلوں کے نوٹسز بھی جاری ہوئے اور متاثرہ لڑکی کو انصاف دلوانے کے دعوے بھی کیے گئے۔ گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

عائشہ اکرم واقعے پر ہر پہلو سے سوال کرنے یا تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان چار سو لوگوں کا دفاع کیا جا رہا ہے۔ یا پھر ان کے اس فعل کو جائز قرار دیا جا رہا ہے۔ اس ہجوم میں موجود درندوں کے ساتھ ساتھ مینار پاکستان میں موجود سیکیورٹی گارڈ اور پولیس اہل کاروں کو بھی سخت سزا دینی چاہیے۔ جو اس شرمناک واقعے سے بے خبر رہے۔ اس واقعے کو لے کر جہاں بہت سے سوالات ذہن میں اٹھے وہاں ایک بہت بنیادی سوال نے بھی سر اٹھایا۔

کہ 14 کو عائشہ کے ساتھ واقعہ پیش آیا۔ بہادری کا ایسا مظاہرہ کہ واقعے کی رپورٹ نہ کرنے بجائے 15 اگست کو اپنی ہشاش بشاش تصویر سوشل میڈیا پر لگا کر اپنے فالووز کو یہ پیغام دینا کہ وہ بہت خوش ہے۔ حیرت کی بات ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ان کے اپنے ساتھی دوست غالباً جس کا نام ریمبو بتایا جاتا ہے۔ وہ عائشہ کے ساتھ ہونے والی زیادتی کا بتاتا ہے۔ اور ساتھ کھڑی عائشہ کے چہرے پر نظر آنے والا اطمینان نا قابل یقین تھا۔

ملک کو درندوں کا ملک کہا گیا۔ جہاں عورت محفوظ نہیں ہے۔ عورت گھر سے باہر نکلیں تو بھیڑیں اور درندے اس کی تاک میں لگے رہتے ہیں۔ پورے ملک کے مردوں کو درندوں کے لقب سے نواز دینا۔ یہ مردوں کے ساتھ زیادتی ہوگی۔ کیونکہ ہر مرد نہ تو درندہ ہے نہ وہ بھیڑیا ہے۔ ہمارے ہی معاشرے میں بیشتر ایسے مرد بھی بستے ہیں۔ جو عورت کی طاقت ہے۔ جو باپ، بھائی، شوہر یا بیٹے کی شکل میں موجود ہیں۔ عورت کو عزت دینے اور عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھنے والے مرد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ جس طرح تعلیمی اداروں میں ہر استاد جنسی لذت کا بچاری نہیں ہوتا بالکل اسی طرح کئی دفاتر میں ایسے مرد بھی موجود ہوتے ہیں۔ جو عورت کو نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔ ایسے مردوں کو درندوں کی لائن میں کھڑا کر دینا، تھوڑی نہیں بلکہ بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ عزت کے پیمانے دونوں جنس کے لیے برابر ہیں۔

لاہور ہی میں 26 جون کو برطانیہ سے آئی ہوئی لڑکی سے مبینہ زیادتی کی خبر کو بڑی پذیرائی ملی۔ مبینہ ملزم نوجوان کی تصویر کلوز شاٹ کے ساتھ دکھائی گئی۔ لیکن اگلے ہی دن پولیس تفتیش کی پیش رفت نے کہانی کا رخ ہی موڑ دیا۔ لڑکی نے جھوٹا الزام لڑکے پر لگایا تھا۔ لڑکی کا کرمنل رکارڈ بھی موجود ہے۔ تفتیش سے پہلے جس طرح لڑکے کی عزت کا جنازہ نکالا گیا۔ کیا اس کا کوئی مداوا ہوگا۔ کیا یہاں لڑکے کی عزت کو عزت سمجھنا میڈیا کی ذمے داری نہیں تھی؟

اس طرح کے واقعات میں میڈیا کو بھی دونوں جنس کی عزت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ کیونکہ کہیں ایسا وقت نہ آ جائے کہ سستی شہرت لینے والے اور قصور وار ہو کر بھی اپنے آپ کو بے قصور پیش کرنے والے غالب آ جائے۔ اور جس کے ساتھ واقعی زیادتی ہو ان کو بھی شک و شبہات سے دیکھا جائے۔ کیوں کہ اس بات سے قطعاً انکار نہیں کہ عورت نہ اپنے گھر میں محفوظ ہے۔ نہ باہر نہ تعلیمی اداروں میں اور تو اس سے بڑھ کر شرمناک بات کیا ہوگی کہ عورت قبر میں محفوظ نہیں ہے۔ مگر پورے ملک کے مردوں کوایک ہی لکڑی سے ہانکنا انصاف کا تقاضا نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words