مرد اور دوسری شادی


جام صاحب فرماتے ہیں کہ اس دنیا کے ننانوے فی صد مرد اپنی شادی شدہ زندگی میں کبھی نہ کبھی دوسری شادی کرنے کا ضرور سوچتے ہیں باقی ایک فی صد جو ہیں ان کے مرد ہونے پر شک کرنا لازم ہے۔ مردوں کی نفسیات بھی عجب ہے ایک طرف تو شادی کو خانہ بربادی، محکومیت اور غلامی گردانتے ہیں دوسری طرف یہ غلامی کا طوق کئی مرتبہ اپنانا چاہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں مردوں کو اسلام کی کوئی دلیل یاد نہیں سوائے اس کے اسلام نے مردوں کو چار شادیوں کی اجازت دی ہے۔

مرد اس کا راگ الاپنا جانتے ہیں اور اپنی بیوی کے سامنے اتنی مرتبہ اسلام کے اس فرمان کی گردان پڑھتے ہیں۔ کہ پہلی بیوی بھی دشمن ہو جاتی ہے اور دوسری بیوی جو کہ صرف خواب تھی، خواب بن کر رہ جاتی ہے۔ ایک دانا کا قول ہے کہ دو بیوی والے مرد کی مثال دھوبی کے کتے جیسی ہے۔ لیکن زیادہ تر مرد انسان سے زیادہ کتا بننا پسند کرتے ہیں۔

دوسری شادی کا زیادہ جوش ان حضرات کو آتا ہے جو کسی وجہ سے جلد مالی آسودگی حاصل کر لیتے ہیں۔ جام صاحب فرماتے ہیں۔ ان مردوں کا خیال ہے کہ ان کی پہلی بیوی اب ہائی سوسائٹی کے قابل نہیں ہے۔ بندہ پوچھے کیا پیسے آنے سے مرد کے اندر ہائی سوسائٹی کی قابلیت در آئی ہے لیکن مرد کیوں سوچے ویسے بھی جس کے پاس روپے پیسے کی ریل پیل ہو۔ وہ سوچنے کا مرض کیوں پالے۔ اس کا تو ہر کام پیسے سے ہو جاتا ہے۔ جلد امیر ہونے والا مرد اگر دوسری شادی نہ بھی کر سکے وہ عیاشی کو اپنے اوپر فرض کر لیتا ہے اس طرح گھر میں ناچاقی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اس کا سب سے برا اثر بچوں پر پڑتا ہے۔

جو ماں باپ کی آئے روز کی لڑائی سے دونوں سے اجنبی بن بیٹھتے ہیں۔ اس طرح کئی اجنبی مل کر گھر میں اکٹھے رہتے ہیں۔ وہ گھر نہیں ہوتا بلکہ ایک ہوسٹل بن جاتا ہے۔ جام صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں کہا جاتا ہے مرد کبھی بوڑھا نہیں ہوتا مرد گھوڑا ہے لیکن اگر مرد بوڑھا نہیں ہوتا وہ عورتوں سے جلدی مر کیوں جاتا ہے۔ جام صاحب کہتے ہیں ان کے خیال میں مرد کی حرکتیں ہی ایسی ہوتی ہیں کہ وہ جلد مر جاتا ہے۔ کچھ لوگوں نے تو اس ضرب المثل کو ایسا اپنایا ہے کہ اللہ کی پناہ یہی وجہ ہے اکثر آپ کو خبر ملتی ہے کہ ستر سالہ بوڑھے نے سترہ سال کی لڑکی سے شادی کر لی اور ولیمہ والے دن ان کا جنازہ تھا۔

کئی لوگ اپنے آپ کو جوان دکھانے کے لیے بھی گھوڑے پر چڑھتے ہیں اور شادی کرتے ہیں۔ بندہ پوچھے کہ اگر گھوڑے پر چڑھنے کا اتنا شوق ہے تو جا کر ریس کورس میں گھوڑے دوڑائیں جام صاحب کے دوست، عالم خان کو شادی کرنے کا بہت شوق تھا، ویسے تو وہ چاہتے تھے کہ ہر روز ایک نئی دلہن گھر میں لے کر آئیں مگر اس کے لیے نہ ان کی جیب اور نہ ہی کمر اجازت دیتی تھی۔ ویسے بھی پکے مسلمان تھے اس سے اسلام کے اصولوں پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے۔

چار شادیوں پر اکتفا کیے ہوئے تھے۔ طلاق دینے سے بھی گریزاں تھے کیونکہ طلاق کو اسلام میں سخت نا پسند کیا گیا ہے۔ اپنی بیویوں میں انصاف کے قائل تھے اس لیے اپنی پسندیدگی کو چاروں بیویوں میں برابر تقسیم کیا ہوا تھا۔ اس مشن پر کام کرتے ہوئے، آج، کل دو جوان بیویوں پر خوب توجہ دے رہے تھے تاکہ ان دونوں سے بھی ان کے درجن بچے ہو جائیں۔ جیسے ان کی دو بڑی بیویوں میں سے تھے۔

عالم خان کا گھر، گھر نہیں کبوتر خانہ لگتا تھا۔ آپ تصور کی آنکھ سے دیکھیں کہ ایک ہی گھر میں 45 لوگ اکٹھے رہ رہے ہوں تو اس کا کیا حال ہو گا۔ آپ کو اپنے بچوں کے نام بھی یاد نہیں تھے۔ اس کا حل آپ نے بڑا انوکھا نکال رکھا تھا۔ آپ نے چار رنگ میں گھرانا تقسیم کیا ہوا تھا۔

بیوی نمبر 1 سبز رنگ
بیوی نمبر 2 نیلا رنگ
بیوی نمبر 3 سرخ رنگ
بیوی نمبر 4 پیلا رنگ

ان رنگوں کے مطابق کپڑوں کے تھان لیے جاتے اور بیویوں میں تقسیم کیے جاتے۔ اگر بڑی بیوی کے بڑے بچے کو آواز دینی ہے تو کہتے سبز نمبر 1 مجھے پانی دو۔

ایک مرتبہ مردم شماری کی ٹیم گھر تشریف لائی تو سکول سمجھ کر واپس چل دی انہوں نے سمجھا کہ بچوں نے یونیفارم پہن رکھے ہیں۔ اور سکول کی کلاسز چل رہی ہیں۔ لیکن عالم خان نے مردم شماری کی ٹیم کو روکا کہ مردم شماری کریں۔ یہ سب ان کے بچے ہیں۔ انشاء اللہ وہ جلد ہی دنیا کا سب سے زیادہ بچوں کے باپ بنیں گا اور عالمی ریکارڈ بنائیں گے۔

Facebook Comments HS