چار سو اوباش لڑکے، ہم لوگوں ہی کے بچے ہیں

یوم آزادی کے موقع پر ”یاد گار آزادی“ پر 400 اوباش لڑکوں نے اپنی ”آزادی“ کا آزادانہ اظہار کر کے ایک لڑکی کی ”آزادی اظہار“ پر ڈاکا ڈال کر ملکی، اپنی اور دوسروں کی آزادیوں کو مجروح کر ڈالا۔

اگر یہ سارا کچھ لڑکی کی خواہش کے برعکس ہوا ہے تو یہ بے غیرتی، بے ہودگی اور درندگی ہے اور اگر ایسا سب کچھ لڑکی کی عین خواہش اور منصوبے کے تحت ہوا ہے تو یہ سراسر بے شرمی، بداخلاقی اور آوارگی ہے۔

معاملہ یہاں رکا نہیں ہے بلکہ اس لچر پن کے اور بھی مظاہر سامنے آتے رہے ہیں۔

اسی جگہ آوارہ لڑکوں کی ایک اور فیملی کو ہراساں کرنے کی ویڈیو بھی گردش میں ہے جبکہ اسی دن کی ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بدخلق لڑکے رکشے میں بیٹھی لڑکیوں پر نہ صرف آوازیں کستے رہتے ہیں بلکہ ایک لڑکے نے لپک کر باقاعدہ ایک لڑکی کا زبردستی بوسہ بھی لیا۔

یوم آزادی کے موقع پر اپنی اپنی ”آزادیوں“ کا آزادانہ اظہار کر کے جو شور و غوغا برپا کیا گیا اور جس بے ہودگی کا مظاہرہ کیا گیا وہ قابل تشویش ہی تھا لیکن ستم یہ کہ اس وقت جب اس جانب متوجہ کیا گیا تو ”آزادی“ کی پرچار کرنے والے بابوں اور بیبیوں نے ”آزادی کے متوالوں“ کی دفاع میں لنگوٹ کس کر میدان میں نکلتے ہوئے اقدار، آداب، شرافت، تہذیب اور وقار کی تعلیم دینے والوں پر پھبتیاں کستے ہوئے انھیں ”آزادی مخالف“ ”رجعت پسند“ تنگ نظر اور جاہل قرار دے دیا اور لفنگوں کو تھپکی دے کر اسے اپنی اشیر باد سے نوازتے ہوئے فرمایا

”جا میرے شیر اس“ مذہبی گھٹن زدہ ماحول ”میں دستیاب آزادیوں کو انجوائے کیجئے اور خوب خرمستیاں کر کر کے“ لذتوں ”کی حصول کے لئے ہر چوکھٹ کو پار کیجئے کہ یہی بہادری ہے، یہی دلاوری ہے، یہی جرات ہے اور یہی جسارت ہے“

معاملہ زیر غور یہ ہے کہ پہلے تو معاشرتی اقدار اور آداب کو توڑنے کی دہائیاں دی جاتی ہیں۔ بے باکی اور بے ہودگی کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہوتی ہے اور کسی بھی قسم کی وعظ و نصیحت کو ”مذہبی رجعت پسندی“ کہ کر رد کیا جاتا ہے لیکن جونہی کوئی واقعہ، حادثہ اور سانحہ رونما ہوتا ہے تو پھر نوحے پڑھ پڑھ کر مذہب کو، مردوں کو اور مشرقی معاشرے کو کوسا جایا جاتا ہے اور ”آگ پر تیل ڈال کر اسے بجھانے کی احمقانہ تراکیب سکھائیں جاتی ہیں“ کہ ”جنسی گھٹن“ کو ختم کرنے کے لیے معاشرے کو کھلا ڈلا کیجئے، ”آزادیوں“ کو پروان چڑھا لیجیے اور کسی بھی قسم کی ”پابندی نما روایات“ کو روندتے ہوئے ”میرا جسم میری مرضی“ کے مطابق جینے کی تصور کو راسخ کیجئے۔

چند مہینے پہلے ائرلائن میں ایک جوڑے کے سرعام بوس و کنار کو سند جواز فراہم کرنے کے لئے زوروں کے دلائل لاکر اسے اظہار محبت اور آزادی کا خوبصورت استعمال قرار دیا گیا۔

ایک محترم نے لکھا،
”ہمیں دوسروں کا بوس و کنار کرنا کیوں نہیں بھاتا؟

”ہم جنسی گھٹن میں مرتے رہتے ہیں لیکن کچھ بھی کر نہیں پاتے۔ اپنے آپ کو مطمئن کرنے کے لیے آسان ترین اور محفوظ ترین راستہ بھی اختیار نہیں کر پاتے کیونکہ حکیم اور مولوی ڈراتے ہیں۔ احساس گناہ مار دیتا ہے۔

ہم نے اظہار محبت جیسے لطیف اور خوب صورت تجربے کا شاید ہی کسی کو موقع دیا ہو۔ کیونکہ ”محبت“ گناہ ہے، گندگی ہے، بے راہروی ہے، بے غیرتی ہے، بے عزتی ہے، پورے خاندان کے لیے شرمندگی ہے، مغرب زدگی ہے، اخلاق سے گری ہوئی حرکت ہے، گالی ہے، زلزلے اور دوسری قدرتی آفات کا سبب ہے ”

جس پہ ہم نے گزارش کی،
محترم،

محبت گناہ نہیں بلکہ جنسی ”گھٹن“ سے نکلنے کے لئے ناجائز ذرائع کا استعمال گناہ ہے۔ فحاشی، عریانی، زنا با الرضا، زنا بالجبر، گناہ ہے۔ آزادی اور محبت جیسے خوشنما الفاظ کے ذریعے دوسروں کی بیٹیوں کو اسلامی و معاشرتی اقدار و آداب سے بغاوت پر آمادہ کر کے ان کی عزتوں، عفتوں اور عصمتوں کا جنازہ نکالنے کی حماقت اور خباثت گناہ ہے۔

ویسے آپ لوگ بار بار جنسی گھٹن کی فریاد کر رہے ہو تو اپ کے محبوب معاشروں یعنی مغرب میں تو یہ گھٹن کب کی ختم ہو چکی ہے اور جنس انتہائی ارزاں اور سستی ہے لیکن پھر بھی جنسی ہوس میں مزید اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور اب تو معاملہ انسانوں سے اگے بڑھ کر جانوروں تک پہنچ گیا ہے لیکن جنسی ہوس ہے کہ پورہ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ مزید کیا کیا جاسکتا ہے اور کیا ہونا چاہیے؟ کہ یہ ”جنسی گھٹن“ مکمل طور پر ختم ہو سکے تاکہ لبرل انسان بلکہ حیوان کی ارمان پوری بھی ہو سکے۔

بدتہذیبی اور بداخلاقی کے پے درپے رونما ہونے والے واقعات دراصل اس ماحول کے مظاہر ہیں جو بہت سائنسی انداز میں منظم طریقے کے ساتھ تخلیق کیا جا رہا ہے۔ یہ حوادث اتفاقی نہیں بلکہ برسوں کی ”محنت“ کا لازمی نتیجہ ہے۔

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔
اخر ہم توقع کس چیز کا رکھئے؟

جب فحاشی و عریانی کا چلن ہو، میڈیا، فلم، ڈرامہ وغیرہ کا مرکزی نکتہ ہی یہی اسلامی و معاشرتی اقدار کا خاتمہ ہو اور تہذیب مغرب کو بزور مسلط کرانے کی جتن ہو تو نتیجہ کیا نکلے گا؟

جنسی فرسٹریشن۔ پھر نہ کوئی ”قبر میں محفوظ ہوگا اور نہ چرچ و مسجد میں، نہ تعلیمی ادارے میں اور نہ ہی گھر میں۔“

”گندگی دکھاو گے تو گندگی ہی دیکھنے کو ملے گی۔“
سوال تو ہمارا یہی ہے کہ جنسی گھٹن جہاں ختم ہے وہاں کی تصویر کیا ہے؟

وہاں تعلیمی ادارے اور چرچ و دیگر کو چھوڑ لیجیے وہاں کے منظم ترین اداروں حتی کے آرمی کی رپورٹ پڑھ لیجیے آنکھیں کھل جائیں گی۔

گزارش یہی ہے کہ اس کائنات کے خالق نے اپنی مخلوق کے لئے جو ضابطے مقرر کیے ہیں اسی پر عمل پیرا ہو کر ہی اس دنیا کو جنت بنایا جاسکتا ہے۔ جلتی پر تیل ڈالنے سے اگ مزید بھڑکے گی۔

‏‎ ”اسلام کی عطا کردہ معاشرتی حد بندی کو اپنائے بغیر پاکیزہ ’محفوظ اور متوازن معاشرہ وجود میں آہی نہی آ سکتا“

ہے زمانہ مری اقدار کی پامالی کا
میری تہذیب کی بخشی ہوئی جا گیر، مدد

خواتین کا مردوں کو اور مردوں کا خواتین کو اور سب کا اسلام اور ”گھٹن زدہ مشرقی معاشروں“ کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے نسل نو کو اسلامی تہذیب اور دینی اقدار سے روشناس کرانے اور ان کی سیرت و کردار کی تعمیر اور انھیں اخلاق حسنہ کی دولت سے مالا مال کرانے سے ہی وہ انسانیت کی معراج پا سکتے ہیں۔

تربیت ایسی کہ تقوی کی ایسی روشنی نصیب ہو پائے کہ ”عورت صاحب حیثیت ہیں، ملکہ ہے، حسن کی دولت سے مالا مال ہیں، محبت کی جذبات موجزن ہیں اور“ دعوت ”بھی ان ہی کی طرف سے ہے بلکہ راغب کرنے کی ہر قسم کی جتن ہے لیکن جوان اور خوبصورت یوسف علیہ السلام رب کی پناہ میں اکر سب کچھ کو لات مار لیتا ہے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے تک جانے کو تیار ہوجاتا ہے۔

”ایسا اعلیٰ معیار۔ ایمان کا اخلاق کا کہ جب“ طعام ”موجود ہو،“ دعوت طعام ”بھی ہو۔

تو ہاتھ یہ کہہ کر روک لیا جائے کہ اللہ رب العٰلمین سے ڈر لگتا ہے۔ یہ ہے وہ اخلاقیات۔ جو ”مذہب“ سکھاتا ہے۔ یہ اس اخلاقیات سے بہت بلند، بہت اعلیٰ اور بہت ارفع ہے۔ جس میں شیطان، ”باہمی رضامندی“ جیسی کوئی گنجائش اور ”میرا جسم میری مرضی“ جیسی کوئی راہ انسان کو سمجھاتا ہے ”

والدین کو اپنی بچوں کی تعلیم و تربیت سے لاتعلق رہنا اور انھیں حالات کے رحم وکرم پر چھوڑنا اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنا اور حد درجہ حماقت ہے۔ جس طرح بچوں کی آسائشوں کا خیال رکھا جاتا ہے اور جسمانی ضرورتوں کو پورہ کیا جاتا ہے اس سے کہی زیادہ ان کی روحانی ضرورتوں کو پورا کرنے کی جانب توجہ دینا فرض ہے۔

کسی سیانے نے کیا خوب کہا ہے کہ
”بچوں کو کھلاؤ سونے کا نوالہ مگر دیکھو عقاب کی نگاہ سے“

بچوں کو سکھانا ہوگا کہ

”اگر دنیا کی ساری عورتیں برہنہ ہوجائیں تو بھی اسلام مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے اور اگر دنیا کے سارے مرد اندھے ہو جائے تو بھی اسلام عورت کو شرم حیا اور حجاب کا درس دیتا ہے“

ایک ایسی پاکیزہ اور حساس معاشرے کی تشکیل ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جہاں کسی بھی قسم کی برائی پر نہ صرف ماتھوں پر شکنیں پڑ جائیں بلکہ اس کی سدباب کے لئے لوگ کھڑے بھی ہو جائیں۔ برائی کے ساتھ نفرت، اس کے خلاف آواز اٹھانا اور حسب استطاعت اس کی روک تھام کے لئے اپنی حیثیت کے مطابق عملی اقدامات اٹھانا ایمان کا تقاضا ہے۔

سید مودودی رحمہ اللہ نے کیا خوب فرمایا ہے کہ

” (معاشرے میں ) کم از کم اتنی ( اخلاقی) قوت پیدا کرنی چاہیے کہ اگر مسلمان عورت بے نقاب ہو تو جہاں اس کو گھورنے کے لئے دو آنکھیں موجود ہوں، وہیں ان آنکھوں کو نکال لینے کے لئے پچاس ہاتھ بھی موجود ہوں“

یعنی عورت کی جان، آبرو، عفت، عصمت اور عزت کا تحفظ سارے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ٹھہرے ”

Comments - User is solely responsible for his/her words