گرو عاشی کا ریٹائرمنٹ ہوم

بے ڈھنگے میک اپ سے لتھڑے چہرے، مردانہ جسامت اور نسوانی حرکات و سکنات، کبھی کسی سگنل پر چند پیسوں کی قیمت پر دعائیں بیچتے ہوئے، کسی شادی کی تقریب میں رقص کناں، کہیں لڑکے کی پیدائش پر بدھائی کے گیت گاتے ہوئے اور کبھی زمانے کی نظروں سے چھپ کر کسی امیر زادے کی کار میں سوار ہوتے ہوئے، اپ نے کہیں نہ کہیں انہیں ضرور دیکھا ہوگا۔ لوگ انہی ہیجڑا، کھسرا، مورت جیسے لفظوں کے بھالے مار کے ان کا کلیجہ چھلنی کرتے ہیں لیکن یہ پھر بھی ہنستے رہتے ہیں، ناچتے گاتے رہتے ہیں۔ کیونکہ معاشرے میں ان کے لئے کسب کے کوئی اور مواقع میسر ہی نہیں۔

اگرچہ مغل دور کے حرم سراؤں میں خواجہ سرا کا ایک باعزت کردار تھا وہ مردانے اور زنان خانے میں اتصال کا کام انجام دیتے تھے اور کنیزوں کی نگہداشت اور تربیت پر مامور ہوتے تھے۔ لیکن فی زمانہ وہ ایک متروک عمارت کی طرح شکستہ اور ناگفتہ بہ حالات سے دوچار ہیں۔ ناخواندگی، معاشرتی بائیکاٹ، ذریعہ معاش کے مسدود مواقع اور ارباب اختیار کی بے توجہی ان کے نامساعد حالات کی وجوہات ہیں۔

جوانی کے دن تو کسی طرح کٹ جاتے ہیں لیکن جب عمر کی نقدی ختم ہونے لگتی ہے اور قوی مضمحل ہو جاتے ہیں تو پھر ان قسمت کے ماروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ مشرقی معاشرے میں والدین بڑھاپے میں اپنی اولاد پر تکیہ کرتے ہیں بری بھلی ہی سہی چھت تو ہوتی ہے اپنے تو ہوتے ہیں۔ لیکن اس خانماں برباد، بے نیل مرام، تہی دامن خلق خدا کے پاس تو کوئی اپنا نہیں ہوتا۔ اگرچہ خواجہ سراؤں میں گرو چیلہ سسٹم رائج ہے جس کے تحت ایک کہنہ عمر، تجربہ کار خواجہ سرا گرو بن کر نوجوان شاگردوں کو عملی زندگی کے قرینے سکھاتا ہے اور بدلے میں ان کی کمائی میں شراکت دار ہوتا ہے مگر ہر خواجہ سرا کے نصیب میں گرو کا منصب نہیں ہوتا ایسے خواجہ سراؤں کا تو بڑھاپے میں وہ حال ہوتا ہے کہ

پڑے اگر بیمار تو تیماردار نہ ہو
مر جائیے اگر تو نوحہ خواں کوئی نہ ہو

ارباب بست و کشاد نے تو اس۔ مسئلے کے حل پر کبھی غور و فکر کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی، لیکن گرو عاشی بٹ کا حساس دل اس وقت تڑپ اٹھا جب ایک پولیس والے نے یونہی بر سبیل تذکرہ بتایا کہ ایک خواجہ سرا کی لاش ہفتے بھر سے مرہ خانے میں لاوارث پڑی ہے۔ گو کہ یہ پہلا واقعہ نہ تھا یہ تو اس حرماں نصیب طبقے کا معمول ہے مگر عاشی جی کو یوں محسوس ہوا گویا سرد خانے میں پڑی لاش کوئی اور نہیں وہ خود ہیں۔ جیسے انہیں، ایک بے لوح و نشاں قبر میں اتارا جائے گا۔ تب وہ اس کا وارث بن گئیں۔ انہوں نے اس بے نام جسد خاکی کا وارث بن کر حسب توفیق تکریم سے اس کی تدفین کروائی۔ اس واقعے نے عاشی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے سوچا آخر یوں بے یارو مددگار موت خواجہ سراؤں کا مقدر کیوں ہو، کیا وہ انسان نہیں کہ مرے ہوئے جانوروں کی طرح بس زمین میں دبا دیے جائیں۔

انہیں احساس ہوا کہ ایک ایسا ٹھکانہ ہونا چاہیے جہاں یہ بے آسرا افراد فکر معاش سے آزاد ہو کر بڑھاپے کے دن گزار سکیں، بیمار ہوں تو دوا دارو ہو سکے، اور مر جائیں تو آخری رسوم ادا ہوں اور وہ بے نام و نشاں نہ مٹ جائیں۔ ابتدا میں اپنی جمع پونجی لگا کر لاہور میں ایک آشیانے کی بنیاد رکھی اور پھر

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

مخیر احباب نے اس کار خیر میں ساتھ دیا اور آخر یہ ادارہ ایک رفاہی ادارے میں ڈھل گیا جہاں دنیا بھر سے عطیات موصول ہوتے ہیں۔ اٹھ سال کی محنت کے بعد فروری 2019 میں معمر خواجہ سراؤں کے لیے اس گہوارہ سکون کا باقاعدہ افتتاح کیا گیا۔ اولاً اس میں 30 افراد کی رہائش کا انتظام تھا۔ رہائش کے علاوہ خوراک، علاج معالجے۔ ٹیلی وژن، لوڈو اور ایک جوگنگ مشین مہیا کی گئی۔ گرو عاشی کا عزم ہے کہ اسے مزید وسعت دینے اور زیادہ افراد کی پناہ گاہ بنانے کے لئے کوشاں رہیں گی ان کی خواہش ہے کہ ادارے سے ملحق ایک میڈیکل سنٹر بھی قائم کیا جائے تاکہ معمر افراد کو ایمرجنسی میڈیکل کیئر آسانی سے دستیاب ہو سکے۔ گرو عاشی نے عمر رسیدہ خواجہ سرا کے مسائل سے آگاہی کی مہم بھی چلائی ہے وہ نیشنل ٹیلیویژن پر بھی آگہی دیتی نظر آئیں۔

عاشی جی کا یہ ریٹائرمنٹ ہوم کمیونٹی کے ریٹائرڈ افراد کے لئے تو مستقل پناہ گاہ ہے ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ ایک سرائے بھی ہے جہاں تھکے ہارے خواجہ سرا کچھ وقت اپنے دوستوں کے ساتھ گپ شپ کرنے اور مل جل کر وقت گزارنے کے لئے ٹھہرتے ہیں۔ اس سرائے میں فرحت و انبساط کے کچھ لمحے کشید کر کے، کچھ اپنائیت کے جرعے نوش کر کے ایک نئی توانائی اور جولانی کے ساتھ معاش کی مشقت کرنے نکل جاتے ہیں۔ مدھو اور خرم ایسے ہی لوگوں میں سے ہیں جو اپنی عمر کی پانچویں دہائی میں ہیں اور وقتاً فوقتاً محبت اور اپنائیت کی اس گنگا سے فیضیاب ہوتے ہیں۔

گرو عاشی سب سے پیار کرتی ہیں لیکن ان کی سب سے لاڈلی چندہ ہے۔ چندہ جو ان کے پلنگ پر ان کے ساتھ سوتی ہے اور ہر صبح اپنی فلفی دم ان کے چہرے پر مور پنکھ کی طرح لہرا کر انہیں جگاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words