محلے کی ماں

بچوں، خصوصاً لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے اندوہناک واقعات کے حوالے سے آج کل ہر قسم کے میڈیا پر انہی مسائل، ان کی وجہ سے ہونے والے نقصانات اور ان سے بچاؤ کے طریقہ کار کے بارے میں ہونے والی بحث اور مکالموں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ انہی سب کے بیچ میں جو ایک اصطلاح بہت زیادہ نمایاں ہو کر ابھری ہے وہ، ہے ’محلے کی ماں‘ ۔ لوگوں کا کہنا ہے ماضی میں محلے میں رہنے والے ایک دوسرے کے ساتھ بہت محبت سے رہتے تھے، ایک دوسرے کی فکر کرتے تھے۔ سب کے دکھ سکھ سانجھے ہوا کرتے تھے۔ اسی لیے ایسے واقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے تھے۔

اس بات کی سچائی میں کوئی دو رائے نہیں۔ یہ سب سچ ہے کوئی کہانی نہیں۔ لیکن شاید آج کل کی نوجوان نسل کے لئے یہ کوئی دیو مالائی کہانی جیسا ہی ہو۔ یہ کوئی ایک دو صدی پہلے کی بات نہیں بس کچھ عشرے پہلے تک مجھ سمیت بہت سے لوگوں نے یہ سب کچھ ہوش و حواس میں دیکھا ہوگا، ان کا لطف اٹھایا ہوگا اور یقیناً اب ان کے ناپید ہونے سے معاشرے میں ایک خلاء بھی محسوس کرتے ہوں گے۔ آج کل کے نفسا نفسی کے دور میں یہ سب خواب سا محسوس ہوتا ہے۔ وہ لوگ، آپس کا پیار، ایثار، خیال، احساس سب کچھ ماضی کا حصہ بن چکا ہے۔

متوسط طبقے کے ان محلوں میں لوگ اس طرح رہتے تھے گویا آپس میں خون کا رشتہ ہو۔ دکھ مل جل کے بانٹے جاتے تھے، خوشیاں مل جل کے منائی جاتی تھیں۔ ضرورت مند کی ضرورت ایسے پوری کی جاتی تھی کہ ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کو خبر نہ ہوتی۔ ایک ہی محلے میں خالہ خالو، ماموں ممانی، چچا چچی، دادا دادی، نانا نانی، پھوپھی، بھائی باجی غرض کون سا رشتہ تھا جو نہ پایا جاتا ہو۔ کہنے کو گویا زبانی رشتے تھے لیکن جس طرح نبھائے جاتے تھے اس کی مثال نہیں ملتی۔

کسی کے گھر میلاد ہے، جگت نانی نے محلے کی لڑکیوں بالیوں کو جمع کیا اور پہنچ گئیں میلاد پڑھنے۔ نہ لڑکیوں کو ہچکچاہٹ نہ ماں باپ کو کوئی اعتراض۔ بیٹیاں بہنیں سب کی سانجھی، مجال ہے جو کوئی نظر بھر کے دیکھ لے۔ چچا اکبر دفتر جاتے وقت باجی شکیلہ کو کالج چھوڑ دیتے تو کبھی احمد بھائی منی کو اسکول چھوڑ آتے۔ سودا سلف لانا ہو یا کسی کی شادی کی خریداری مدد کے لئے ہاتھ ہر وقت تیار رہتے۔ نہ کسی کو وقت کی تنگی کا شکوہ نہ کسی کو مصروفیت کا بہانا۔ بڑی دادی کے پاس سب بچے بچیاں قرآن پڑھنے جاتے، سبق پورا کیا اور دادی کا کام بھی نپٹا دیا، لڑکیوں نے جلدی جلدی جھاڑو پوچھا کیا تو لڑکوں نے سودا سلف لا دیا اور جو کام بھی دادی نے کہا ادب سے پورا کیا۔

موسم کی سوغات ہو یا روزمرہ کا کھانا، رمضان کی افطاری ہو یا عید کی سویاں ایک دو سرے کو کھلائے بغیر کسی کا لقمہ حلق سے نیچے نہ جاتا۔ کبھی کبھی تو فرمائش کر کے پکوان پکوائے جاتے۔ بھابھی رئیسہ بھرواں کریلے بہت مزیدار بناتی تھیں اس لیے کوئی نہ کوئی بھرواں کریلوں کا سامان لئے بھابھی کی خدمت میں حاضر اور بھابھی بھی بڑے مان سے ان فرمائشوں کو پورا کرتیں۔ سہ پہر کے وقت اگر چچی کا مدثر نہ مل رہا ہو تو آنکھ بند کر کے خواجہ صاحب کے گھر چلے جاؤ موصوف عادت کے مطابق پلنگ کے نیچے سوتے ملتے۔

گرمیوں کی لمبی دوپہر میں امینہ چچی کے گھر کے صحن میں بادام کے درخت کے نیچے ایک جھولا چارپائی میں نائلہ اور اس کی سہیلیاں ( مجھ سمیت) پڑی رہتیں اور مصالحہ لگا لگا کر کچے پکے بادام کھاتیں۔ جب مہتاب اور نایاب کی شادی کا موقع آیا تو شادی کے جوڑے ثمینہ آپی نے پیک کر دیے، دوپٹے شہناز نے ٹانک دیے۔ مہندی کلثوم نے لگا دی اور شادی کے دن ناہید باجی نے دلہن تیار کردی لو بھئی سب کام ہو گئے، محلے کی بیٹی کی رخصتی کا فریضہ مل جل کر اس طرح ادا کیا جاتا گویا سب ہی کی بیٹی ہو۔

نہ کوئی تیرا، نہ کوئی میرا۔ جو بھی تھا سب کا سانجھا تھا۔ موقع خوشی کا ہو یا غم کا، راتیں آنکھوں میں کاٹ دی جاتیں۔ جس حوصلے سے رات کے آدھے پہر خواجہ صاحب اپنے جگری دوست اجمل صاحب کو ہسپتال لے کر بھاگے، اور پھر دن ڈھلے ان کو مٹی کے حوالے کر کے آئے، آج بھی بھولتا نہیں۔ صادق ماموں بیمار تھے، ڈاکٹر نے سیب کا جوس تجویز کیا، اب جوس کہاں سے آئے۔ یہ وہ زمانہ تو تھا نہیں کہ گھر گھر مشینیں ہوں۔ سیب کا جوس نکالنے کی مشین جاوید بھائی اپنے ساتھ سعودیہ سے لائے تھے، صرف انہی کے گھر تھی۔

جاوید بھائی کی امی باقاعدگی سے ہر روز صبح ساڑھے دس بجے جوس نکال دیا کرتیں۔ نہ ماتھے پر شکن نہ تیوریوں پر بل۔ جیلانی صاحب کی بیوی کو دوسروں کے گھر کا کچرا بھی اچھا لگتا، ان کے گھر بچے جو نہیں تھے کچرا کرنے کے لیے۔ خوش مزاج خوش شکل دن میں ایک چکر ہمارے گھر کا لگا ہی لیتی تھیں۔ کسی کے دروازے کی کنڈی کبھی نہ لگی دیکھی ہاں کنڈا ضرور لگا ہوتا تھا۔ اگر کسی کے دروازے پر کنڈی لگی دیکھی تو کھٹکا کر کے پوچھ لیا جاتا، ”میاں سب خیریت تو ہے؟ آج کنڈی کیوں لگی ہے دروازے میں؟ ”

بچے گلی میں کسی خوف کے بغیر کھیلتے رہتے اسی دوران اگر کوئی بڑا آواز لگا کر بلا لیتا تو دوڑ کر جاتے اور فٹا فٹ کام پورا کر کے آ جاتے چاہے وہ کام کسی کا بھی ہو۔ کوئی پپو تھا تو کوئی منا، کوئی فدا تو کوئی مچھو۔ حد تو حد پاپڑی اور کالی مرغی بھی، مجال ہے کوئی برا مان جائے۔ پیار میں چھیڑا جاتا اور پیار سے ہی چھڑ جاتے۔ آج کی طرح نہیں کہ جان کے ہی درپے ہو جائیں۔ بچوں کو سرزنش کرنے پر کوئی برا نہ مناتا، ہاں، نہ ڈانٹنے پر ضرور شکوہ کیا جاتا، کہ آپ نے اپنا نہیں سمجھا۔

غرض ایسی ان گنت باتیں ہیں جو لکھنے بیٹھوں تو صفحہ کے صفحہ کالے ہوجائیں پر باتیں نہ ختم ہوں۔ نام نہاد ترقی نے ان سب خوبصورت رشتوں کو اس طرح کچل دیا ہے کہ اگر کوشش کی بھی جائے تو ان کی اصل شکل کو دوبارہ نہیں بنا پائیں گے۔ لیکن پرانی قدروں محبت کرنے والے آج ابھی اسی محبت میں گرفتار ہیں۔ نسلیں جوان ہو گئیں۔ بچے بڑے ہو گئے اور بڑے، بزرگ۔ آدھی صدی پہلے جس کو چچا کہہ دیا، وہ آج بھی چچا ہے، جس دلہن کو برسوں پہلے بھابی کہا، وہ آج بھی جگ بھابی ہے۔ بس تھوڑا سا دل اور بڑا کریں، ماؤں کو سانجھا کردیں، ان کی محبت کے ساتھ ساتھ ان کو مان اور حق بھی دیں، جو پہلے کبھی بنے دیے ہی مل جاتا تھا، پھر دیکھئے۔ بہار ضرور آئے گی۔ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ!

Comments - User is solely responsible for his/her words