ہراسانی کے واقعات: چند گزارشات


زینب زیادتی کیس سے لے کر نور مقدم قتل کیس اور عائشہ اکرم ہراسانی کیس تک وطن عزیز میں عورتوں، ہر عمر کی بچیوں اور یہاں تک کے بچوں سے زیادتی، تشدد اور جنسی ہراسانی کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ کوئی بھی ایسا واقعہ ہو جانے کے بعد کچھ دن تک سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پہ ایک طوفان آ جاتا ہے۔ لعنت، ملامت، سرزنش، افسوس، احتجاج کا سلسلہ چند دن جاری رہتا ہے یہاں تک کہ دو یا اس سے زائد گروپس بن جاتے ہیں ایک گروپ عورتوں کو تمام تر غلطیوں کی وجہ ثابت کرنے پہ تل جاتا تو دوسرا گروپ مردوں پہ تھو تھو کرتا نظر آتا ہے۔

ایک گروپ کو عورتوں کا لباس، انداز، طور اطوار، نوکری کرنا، ہنسنا بولنا، اکیلے آنا جانا ہر برائی کی جڑ لگتا ہے جبکہ دوسرے گروپ کو مرد کی خصلت، جینز اور خون ہی ہر غلاظت کا سبب دکھائی دیتا ہے۔ مرد اور عورت کی ایک دوسرے پہ یہ بمباری ہر واقعے کے بعد شدت اختیار کر جاتی ہے اور پھر چند روز بعد ہر کوئی سب بھلا کر اپنی اپنی راہ لیتا ہے اور کہانی ختم۔

لیکن کہانی کا یہاں ختم ہونا بنتا نہیں۔ اب اس سے آگے جانا ہو گا اور کہانی کے نئے زاوئیے دیکھنے ہوں گے۔

پہلی بات یہ کہ ہمیں عورت اور مرد کے الگ الگ ڈبوں سے نکل کر انسان بن کر انسانیت کے لیے سوچنا ہو گا۔ نہ تو تمام مرد گھٹیا اور غلیظ سوچ رکھنے والے ہیں اور نہ ہی ساری عورتیں پارسا اور پوری سچی ہیں۔ ظلم و تشدد اور زیادتی صرف بچیوں اور عورتوں کے ساتھ ہی نہیں، چھوٹی عمر کے معصوم بچوں کے ساتھ بھی ہو رہی ہے۔ اسی طرح عورتوں پہ ظلم اور انہیں جھوٹا اور غلط ثابت کرنے والی بھی بے شمار عورتیں ہیں۔ اس لیے یہ مسائل جنس مخالف پہ الزام دھرنے اور اپنی بھڑاس نکالنے سے ختم نہیں ہوں گے۔ ہمیں انسان بن کر انسانیت کے لیے بات کرنا ہوگی۔

دوسری بات یہ کہ ایسے تمام واقعات سے متعلق کہیں نہ کہیں کوئی قانون موجود ہے۔ بات صرف ان قوانین پہ مکمل اور سختی سے عمل کرنے کی ہے۔ اور ایسا سسٹم رائج کرنے کی ضرورت ہے جہاں انصاف سب کو ملے اور قانون سب کے لیے یکساں ہو۔

تیسری بات یہ کہ قوانین صرف کتابوں میں درج کرنے اور صرف وکیلوں کے پڑھنے اور سمجھنے کے لیے نہیں ہوتے، ساری پڑھی لکھی لڑکیوں، عورتوں، بچے بچیوں کو اپنی حفاظت اور ہراسانی سے بچنے والے قوانین کا بنیادی علم ہونا اور اپنی ذاتی حفاظت کے طریقوں کا استعمال آنا بہت ضروری ہے۔ اس کے لیے عوامی شعور اور آگاہی مہم کا چلایا جانا بہت ضروری ہے جس میں ابھی تک ہم بہت پیچھے ہیں۔

چوتھی بات یہ کہ پبلک مقامات، پارکس اور بس سٹاپس وغیرہ پر عورتوں کی حفاظت اور سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ایک سپیشلائزڈ فورس بنائی جائے جو کمیونیٹیز کے ساتھ مل کر سماجی اور فلاحی بنیادوں پر کام کرے اور جس کا مقصد نہ صرف عورتوں اور بچے بچیوں کو بروقت تحفظ فراہم کرنا ہو بلکہ سکولوں، کالجوں اور دفاتر میں اپنی مدد آپ کے تحت حفاظت کی بنیادی ٹریننگز بھی مہیا کرنا ہو۔

پانچویں اور سب سے اہم بات یہ کہ ہم امریکہ اور یورپ کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ایسے ترقی یافتہ اور لبرل ممالک میں بھی ہر چیز کو استعمال کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی ضابطہ اخلاق موجود ہے۔ اٹھارہ سال سے کم عمر بچے ممنوعہ مٹیریل اور ویڈیوز وغیرہ نہیں دیکھ سکتے، مخصوص مقامات پر داخل نہیں ہو سکتے، ڈرنک نہیں کر سکتے وغیرہ وغیرہ۔ ہم نے ہر چیز ہر کسی کے لیے اوپن رکھی ہوئی ہے۔ یو ٹیوب، سنیک ویڈیو، ٹک ٹاک وغیرہ کسی کا کوئی ضابطہ اخلاق کوئی قانون کلیہ نہیں ہے کوئی ایسی ریگولیٹری باڈی نہیں ہے جو سوشل میڈیا کا کوئی ضابطہ اخلاق مرتب کرے اور اس کی خلاف ورزی پر قانونی کاروائی کرے۔

مزید یہ کہ ایک طرف یو ٹیوبز اور دیگر سوشل میڈیا پہ ہر قسم کا جنسی جذبات ابھارنے والا مواد موجود ہے اور جس تک رسائی ہر عمر کے لوگوں کی ہے لیکن ایسے برانگیختہ جذبات لیے ان کے براہ راست اظہار کا کوئی ایگزٹ، کوئی راستہ نہیں ہے۔ یہ فرسٹریشن معاشرے میں انتشار اور مزید ایسے واقعات کو جنم دے رہی ہے۔ اب سوچنا یہ ہے کہ یا تو ہم مکمل اسلامی بن جائیں اور موبائل سمیت ہر چیز پہ پابندی لگا دیں یا پھر موبائل کے بے جا استعمال کے بعد اس کے اثرات سے بچنے کے لیے کوئی سماجی اور معاشی لائحہ عمل ترتیب دیں۔ ورنہ اس سے برے حالات کے لیے تیار رہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words
رضوانہ انجم کی دیگر تحریریں