مینار پاکستان کا جنسی درندوں کی عظمت کو سلام

چودہ اگست کے دن مینار پاکستان والے اقبال پارک لاہور میں جنسی ہراسیت اور ٹک ٹاکر عائشہ اکرم پر تشدد نے مردوں کی مردانگی کے مکروہ چہرے پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اس دن سانپوں سے زیادہ زہریلی زبانوں اور غلیظ کردار والے مردوں اور لڑکوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ وہ جانوروں اور وحشیوں سے زیادہ مہذب، باکردار، اور باحیا ہیں۔ عورت کو دیکھ کر ان کے مخصوص حصے پر آگ لگ جاتی ہے۔ آئیں دیکھیں، ان کا جوہر مردانگی کہ کیسے یہ ایک لڑکی کے گلے سے دوپٹہ کھینچ کر اسے رسوا اور ننگے پاؤں بھاگنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔

پھر جان بچا کر بھاگتی ہوئی اس لڑکی کے پیچھے قہقہے لگاتے اسے پکڑنے کو دوڑتے ہیں۔ ان کی زبانیں ہر وقت عورت کو ڈسنے کے لئے تیار ہیں جسے پانی مانگنے کی بھی مہلت نہیں ملتی۔ تب ان کا جسم مہلک ہتھیار بن کر عورت کے جسم پر برسنے لگتا ہے، وہ عورت جو اپنے جسم پر اپنی مرضی کا حق مانگنے لگی ہے۔ یہ کراہت انگیز شکلیں دیکھ کر پتا چلتا ہے کہ پاکستانی مرد یا لڑکا ایسا ہوتا ہے۔

ان عورتوں کی یہ جرات! آخر یہ گھروں میں ٹک کر کیوں نہیں بیٹھتیں؟ باہر ایسا کیا ر کھا ہے جو یہ سڑکوں اور پارکوں میں امڈ آئی ہیں؟ کیا یہ نہیں جانتیں کہ گوشت کو کھلا چھوڑ دینے سے اسے کتے پڑ جاتے ہیں؟ اس کے باوجود یہ اپنا لذت انگیز زنانہ جسم لے کر ہمارے درمیان آ گئی ہے تو باپ کا مال سمجھ کر خوب کھیلو۔ ہمارے نزدیک صرف وہ عورتیں قابل عزت ہیں جو ہمارے خاندان یا گھر کی ہیں۔ (بعض حقیقی مردوں کے نزدیک تو وہ بھی نہیں)۔

ہم نے ان باہر کی عورتوں کی عزت کرنے کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے؟ جب انہیں خود اپنی عزت کا خیال نہیں تو ہم کیوں انہیں چھوڑ دیں؟ آج منہ کالا کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے۔ اب گھر سے نکل آئی ہے تو روتی کیوں ہے؟ بھگتے گھر سے نکلنے کا نتیجہ۔ آج آزادی کی سالگرہ کے دن ہمیں اس کو ذلیل و رسوا کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے۔

یہ تھا وہ حسن غیرت جو چودہ اگست 2021 ء کی شام اس گریٹر اقبال پارک نے دیکھا جہاں 23 مارچ 1940 ء کو قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔ اسی شب چنگ چی رکشے میں بیٹھی دو خواتین کو ایک بدکار اور بدصورت نے ہراساں کیا اور بے حیائی کی انتہا کرتے ہوئے اسے چھونے تک سے گریز نہ کیا۔ اس کے اسی جیسے ایک بے حیا اور بدبخت ساتھی نے ”جی اوئے“ کہہ کر اسے داد دی۔ اس ہوس کے مارے بے غیرت کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور نادرا ریکارڈ کی مدد سے شناخت ہو چکی ہے۔ اسی طریقے سے اب تک مینار پاکستان واقعے میں بھی ساٹھ سے زائد ملوث افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

شوبز شخصیات، تمام حساس افراد، اور صحافی برادری نے ان دونوں مذموم اور کریہہ واقعات کے ذمے داروں کی گرفتاری اور قرار واقعی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ میرا بھی ایک مطالبہ ہے کہ حکومت پاکستان اب ایک ”تمغہ برائے حسن مردانگی“ بھی جاری کرے جو مینار پاکستان واقعے میں ملوث اور اس جیسا کراہت آمیز عمل کرنے والے مردوں اور لڑکوں کو عطا کیا جائے، بلا امتیاز رنگ و نسل و علاقہ و عمر۔ لیکن یہ تمغہ کسی دھات کا نہیں، بلکہ ایک تعویذ نما چمڑے کا بنا ہو جو جنسی ہراسانی اور زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے جوتوں سے تیار کیا جائے۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ ایسے معاملات پر انصار عباسی اور اوریا مقبول جان جیسے عظیم ”ثنا خو ان تقدیس مشرق“ خاموش رہتے ہیں۔ جس کو شرمین عبید کی دستاویزی فلموں میں پاکستان کی بدنامی نظر آتی ہے اور جسے مہوش حیات کا رقص فحش لگتا ہے، یہ تو بتائیں کیا مینار پاکستان واقعے سے ملک کی عزت افزائی ہو گی اور کیا ایک عورت کے خلاف سینکڑوں مردوں کی بے حیائی فحش اور قابل گرفت نہیں؟ پھر اگر ”تقدیس مشرق“ کی ذمہ دار ہم عورتیں ہی ہیں تو ہمارا فیصلہ ہے کہ مرد کو ہماری عزت کرنی ہو گی۔ جو نہ کرے گا، وہ اب قانون کے ہاتھوں ہونے والی ذلت و رسوائی دیکھے گا کیونکہ آہستہ آہستہ ہی سہی، اس موضوع پر بات ہونے لگی ہے اور عورت اپنی عزت کے لئے آواز بلند کرنے لگی ہے۔ اب عورت کو اپنے اس حق کا ادراک ہو گیا ہے کہ اپنے لباس اور گھر سے باہر نکلنے کا فیصلہ وہ خود کرے گی، معاشرے کے مرد نہیں۔

سوچتی ہوں پتا نہیں ان واقعات میں ملوث مرد آئینے میں اپنی صورت کیسے دیکھیں گے؟ جو دیکھنے کی جرات کر سکیں گے، ان کی شجاعت کو سلام! میں کیا، ان مردوں کو تو مینار پاکستان بھی جھک کر خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ جنسی درندوں کے کردار کی عظمت کے سامنے تو مینار پاکستان خود کو چھوٹا محسوس کرتا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words