کاملا ہیرس کا دورۂ جنوب مشرقی ایشیا: عالمی امور، سیکیورٹی اور خطے کی صورت حال اہم موضوعات

سنگاپور کے وزیر خارجہ اتوار کو نائب صدر کاملا ہیرس کو ایئر پورٹ پر خوش آمدید کرتے ہوئے۔

امریکہ کی نائب صدر کاملا ہیرس جنوب مشرقی ایشیا کے دورے کے آغاز پر اتوار کو سنگاپور پہنچ گئی ہیں۔

وہ پیر کو سنگاپور کی صدر حلیمہ یعقوب اور وزیرِ اعظم لی شین لوونگ سے دو طرفہ امور پر بات چیت کریں گی۔

اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں نائب صدر کاملا ہیرس چنگی نیول بیس بھی جائیں گی جہاں وہ امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ٹلسا میں امریکی بحریہ کے اسٹاف سے ملاقات کریں گی۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کی ایک رپورٹ کے مطابق نائب صدر منگل کو ویت نام پہنچ گی۔ وہ وہاں جانے والی پہلی امریکی نائب صدر ہوں گی۔

ہیرس کا خطے کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ چین کے پھیلتے ہوئے عالمی اثرو رسوخ سے نمٹنے کی کوششوں کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کر رہا ہے۔

نائب صدر کی ترجمان سیمون سینڈرز کے مطابق سنگاپور اور ویت نام کے حکام کے ساتھ مذاکرات میں نائب صدر سیکیورٹی، عالمی آب و ہوا میں تبدیلی، کرونا کی عالمی وبا اور قوائد کی بنیاد پر چلنے والے بین الاقوامی نظام کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششوں پر بات کریں گی۔

ہیرس کے اس دورے سے قبل امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے سنگاپور، ویت نام اور فلپائن کا جولائی میں دورہ کیا تھا جبکہ امریکہ کے وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے چار اگست کو 10 رکنی جنوب مشرقی ایشیائی قوموں کی تنظیم آسیان کے سالانہ اجلاس سے بذریعہ انٹرنیٹ خطاب کیا تھا۔

مبصرین کا کہنا ہے نائب امریکی صدر کا دورہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کی ان کوششوں کا تسلسل دکھائی دیتا ہے جن کے ذریعے وہ 66 کروڑ کی آبادی کے اس اہم خطے میں چین کے اثر و نفوذ کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

خیال رہے کہ ‘فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ’ کے رواں سال جون میں جاری ہونے والے ایک جائزے کے مطابق جنوبی ایشیائی ممالک خطے کی سلامتی کے لیے امریکہ کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

واشنگٹن وقتاً فوقتاً خطے میں اپنے جنگی بحری جہاز بھیجتا رہتا ہے جب کہ کچھ ممالک کو اسلحے کی فروخت کے علاوہ فوجیوں کو تربیت بھی فراہم کرتا ہے۔

البتہ مبصرین کا کہنا ہے کہ 10 رکنی جنوبی ایشیائی تنظیم (آسیان) نے کبھی بھی کسی بیرونی طاقت کے ساتھ خود کو وابستہ نہیں کیا۔

اس خبر میں شامل بعض معلومات خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ سی لی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words