کابل ایئرپورٹ کے داخلی دروازے پر فائرنگ سے افغان اہلکار ہلاک، صورتِ حال بدستور کشیدہ

جرمن ملٹری کے مطابق نامعلوم افراد کے حملے کے بعد امریکی اور جرمن فوج کے اہلکاروں نے بھی مقامی سیکیورٹی فورسز کی معاونت کی تھی۔
ویب ڈیسک — افغان دارالحکومت کابل کے ہوائی اڈے پر مقامی سیکیورٹی فورسز اور نامعلوم حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں افغان فوج کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق جرمن ملٹری نے بتایا ہے کہ فائرنگ کا واقعہ کابل ایئرپورٹ کے شمالی دروازے پر پیر کی صبح پیش آیا۔

جرمن ملٹری کے مطابق نامعلوم افراد کے حملے کے بعد امریکی اور جرمن فوج کے اہلکاروں نے بھی مقامی سیکیورٹی فورسز کی معاونت کی اور جوابی کارروائی میں حصہ لیا۔ تاہم فائرنگ کے تبادلے میں غیر ملکی افواج کے کسی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔

فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے شمالی دروازے پر فائرنگ کرنے والے کون تھے اور ان کا مقصد کیا تھا۔

واضح رہے کہ کابل ایئرپورٹ کے باہر سیکیورٹی کے لیے طالبان کے جنگجو تعینات ہیں۔ تاہم پیر کی صبح پیش آئے واقعے کے دوران طالبان کے جنگجوؤں نے غیر ملکی افواج پر کوئی فائرنگ نہیں کی۔

کابل ایئرپورٹ سے غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کے انخلا کا عمل جاری ہے۔
کابل ایئرپورٹ سے غیر ملکیوں اور افغان شہریوں کے انخلا کا عمل جاری ہے۔

کابل ایئرپورٹ کے باہر پیش آنے والا واقعہ ایسے موقع پر رپورٹ ہوا ہے جب اتوار کو ہی امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ افغانستان سے انخلا کے عمل کے دوران عالمی دہشت گرد تنظیم داعش ایک بڑا خطرہ ہے۔

کابل میں موجود امریکی سفارت خانے نے امریکی شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ داعش کے خطرے کے پیشِ نظر کابل ایئرپورٹ کی جانب سفر سے گریز کریں۔

کابل ایئرپورٹ کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش میں اتوار کو ہی ہنگامہ آرائی کے واقعات سامنے آئے تھے جس میں سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

پندرہ اگست کو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے اب تک ہزاروں افغان شہری ملک چھوڑ چکے ہیں اور ہزاروں اب بھی ملک چھوڑںے کے خواہش مند ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words