اردشیر کاﺅس جی اور طالبان

15 اگست سن 2021 کو جب افغانستان کے صدر اشرف غنی عمان کے راستے دوبئی فرار ہوئے۔ ان کے جہاز پر سوار ہوتے وقت ایک منظر تو ہمیں بہت ہی عجب لگا۔ بظاہر تو ہر طرف اپنے ہی لوگ سیکورٹی پر مامور تھے سوٹ میں ملبوس۔ چار سو ایستادہ۔ طالبان کہیں دور دور دکھائی نہ پڑتے تھے۔

 وہ آج ایک ہفتے بعد بھی ایر پورٹ کے انتظام اور انصرام سے خود کو پرے رکھے ہوئے ہیں۔ وہاں ترک وطن کے متلاشی افراد میں جب خنزیر کے گوشت کی تھیلیاں تقسیم کی گئیں تو ایسا لگا کہ جنگ آزادی میں میرٹھ والا ہنگامہ برپا ہونے کو جب پیپر کارتوسوں کو نمی سے محفوظ رکھنے کے لیے ان پر سور کی چربی کی حفاظتی تہہ چڑھائی گئی تھی۔

 امریکہ کی دم رخصت بد دلی اور بے لطفی آپٹکس نے اسے دنیا بھر کے میڈیا میں بہت بے توقیر کیا۔ یہ تو وہ ملک تھا جو اربوں ڈالر سے افغانستان کو فردوس بریں بنانے پر تلا تھا۔ لوگ سوچتے ہیں کہ اس عظیم طاقت سے تو سفارت خانے سے ڈیڑھ سو میٹر کا فاصلہ ہیلی کاپٹروں کے بغیر طے نہ ہو پایا۔ ایک ایرپورٹ نہیں سنبھل پا رہا تو یہ کیا انتظام تھا۔ اب وہاں ہزار سوالوں کا ایک سوال ہر طرف پوچھا جا رہا ہے۔ ہم افغانستان کیوں گئے تھے۔ اسامہ کی ہلاکت کے بعد جو اپنے اصل وقوعے سے بہت پہلے ہو گئی تھی اس وقت اوباما انتخابات جیتتے ہی دس سال قبل انخلا پر کیوں سنجیدہ نہ ہوئے؟ اسامہ کی موت نے ان کی جیت میں سونامی کا کردار ادا کیا تھا؟

اشرف غنی کا فرار عجب تھا۔ نگاہیں نیچی کیے سر جھکائے چلے جاتے تھے

مگر جب ڈالر سے بھرے دو بیگ تھام کر ایک خادم خاص نے لپک کر سیڑھیاں چڑھنا چاہے تو پیچھے سے کھڑے سوٹ میں ملبوس ایک طالب نے بہت آہستہ سے واپس کھینچ لیا۔ اشرف غنی نہ صرف گرگ باراں دیدہ ہیں بلکہ پختون بھی ہیں سو اقبال عظیم کے اس شعر کا بھی مفہوم جانتے تھے کہ

جو نظر بچا کے گزر گئے، مرے سامنے سے، ابھی ابھی

یہ مرے ہی شہر کے لوگ تھے، میرے گھر سے گھر تھا ملا ہوا

صدر مفرور نے اس ناہنجار ہوس کے مارے بار بردار کو پیچھے چھوڑا اور یہ جا وہ جا۔

اب وہ دوبئی میں اپنے ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر کے خزانے کے ڈھیر پر لیٹ کر ففٹی شیڈز آف گرے پڑھتے ہیں

طالبان جب صدارتی محل میں داخل ہوئے تو اس دن ہمیں پیر صابر شاہ لاہوری جن کا مرقد مبارک ٹکسالی گیٹ لاہور میں موجود ہے ،امریکہ کے  مشہور ترین وزیر خارجہ گو وہ وہاں انہیں سیکرٹری آف اسٹیٹ کہتے ہیں یعنی ہنری کسنجر اور اردشیر کاﺅس جی یہ تین ہستیاں بہت یاد آئیں

ویت نام کی جنگ کے خاتمے پر ہنری کسنجر نے دو بہت کمال کے بیان دیے تھے۔

 پہلا۔ امریکہ سے دشمنی میں نقصان ہے اور اس کی دوستی میں سراسر ہلاکت پوشیدہ ہے۔

دوسرا بیان جو دنیا کی اس وقت بہترین مسلم عسکری طاقت طالبان اور یاسر عرفات کی گوریلا تنظیم الفتح کے تناظر میں زیادہ بہتر سمجھ میں آئے۔ آپ چاہیں تو تامل ایلام کو بھی اس میں شامل کرسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ تینوں گوریلا افواج تھیں۔ کسنجر نے کہا تھا۔

بڑی اور روایتی طور پر باقاعدہ فوج کے لیے جنگ کا جیتنا لازم ہے، ورنہ وہ ہار جاتی ہے۔ گوریلا فوج اگر ہار نہ مانے تو ہر جنگ جیت سکتی ہے۔ تامل اور الفتح ہار گئے۔

بیس سال قبل طالبان کے بارے میں دنیا کے مقتدر ترین رسالے ٹائم کے کور پر ان کے خاتمے کی درد بھری سرخی لگی تھی۔ وہ جیت گئے۔ یہی عالم نکسلائیٹ ماﺅسٹ کے زیر انتظام ان کی پیپلز لبریشن گوریلا آرمی کا ہے جس کی شورش نصف کے قریب بھارتی ریاستوں میں جاری ہے۔

پیر صابر شاہ لاہوری رح کا ذکر اب شروع۔ اس میں طالبان کی آمد پر پرچم کی جو تازہ بحث شروع ہوئی ہے اس کا بھی ذکر آئے گا

دوسرا منظر اور بھی عجیب تھا ان کی ٹرپل ون برگیڈ کے جس کمانڈر نے صدارتی محل کا کنٹرول سنبھالا۔ اس وقت ان کا کوئی مرکزی رہنما فتح کے شادیانے بجانے اور فوٹو سیشن کے لیے کابل نہیں آیا ورنہ کچھ مرکزی رہنما تو کابل میں موجود تھے ان کی اصل پاور ٹرائیکا ملا ہیبت اللہ آخوندزادہ جنہیں ان کے آہنی ارادوں کی وجہ سے ملا جبل یا ملا چٹان بھی کہتے ہیں۔ ملا عمر کے صاحبزادے اور ان کے نیپولین ملا یعقوب جو تیس سال سے کچھ ہی بڑے ہیں اور بے تمغہ سپہ سالار ہیں اور سراج الدین حقانی قندھار میں ہی دیگر قیادت کے ساتھ موجود تھے۔ ان ہی میں ہمارے پسندیدہ مولانا شیر محمد ستانک زئی بھی شامل ہیں جن کو ڈیرہ دون ملٹری اکیڈیمی میں تربیت دے کر بھارت انفراسٹرکچر کے چار سو پراجیکٹس میں تین بلین ڈالر برباد کر بیٹھا۔ ان پراجیکٹس میں سلمہ کی یاد میں بنایا ہوا ایک ڈیم اور وہ پارلیمنٹ کی وہ عمارت بھی شامل ہے جو نو کروڑ ڈالر سے تعمیر ہوئی۔

یہ آپ کے لیے معلومات میں اضافے کا باعث ہو کہ افغانستان جیسے چائے کے پیالی جتنے ملک میں بھارت کے کونسل خانوں کی تعداد یورپ کے برابر تھی۔ بھارت کی اس رسوائی اور بربادی پر   مودی کے آبائی علاقے واڈ نگر گجرات میں ایک اصطلاح عام ہے ڈھینڈے نوں ڈام (کولہے کی چوٹ یا جلنے کا نشان)۔ یہ اس خفت یا تکلیف کو کہا جاتا ہے۔ جس کو اظہار ہمدردی یا علاج کے لیے گھاگرا یا پاجامہ کولہے سے نیچے کر کے  کسی کو دکھانا ممکن نہ ہو۔ بھارتی میڈیا اس وقت بولایا ہوا ہے۔ پوپلے منھ سے سارا الزام ہم پر دھرتا ہے۔ حالانکہ ہم کہاں کے دانا ہیں، کس ہنر میں یکتا ہیں۔

 امریکہ کا عالم بھی کچھ عجیب ہے۔ وہاں یہ خیال عام ہے کہ یہ بے مطلب جنگ بلیک واٹر ، لاک ہیڈ، جیسے ٹھیکداروں اور کارپوریشنوں کی جنگ تھی۔ جن کے دس ہزار ڈالرکا شئیر بیس سال میں ایک لاکھ  ڈالر کا ہوگیا۔ جس جنگ میں تین ہزار فوجی مروا کر بیس ہزار نوجوان فوجیوں کو شدید زخمی اور  Traumatize  کر کے اور 1,000,000,000,000 یعنی ایک ٹریلین ڈالر ضائع کر کے اگر ڈرون یا کچھ اور ٹیکنالوجی دنیا کے سامنے لائی گئی تو یہ کام ایک اچھی یونی ورسٹی میں بذریعہ تحقیق اس کی اعشاریہ دو فیصد لاگت سے بغیر ہلاکت کے ہوسکتا تھا۔ ایک کتاب نے امریکہ نے چھ سال پہلے بہت اودھم مچایا تھا The Right Way to Lose a War: America in an Age of Unwinnable Conflicts۔ مصنف تھے Dominic Tierney

ان سے اب جب پوچھا گیا کہ” کیا ہم جنگ ہار گئے ؟“ تو ان کا جواب تھا

”جی ہاں ہم جنگ ہار گئے۔ بیس سال کی اس ناکامی کو شکست کے علاوہ اور کس نام سے پکارا جا سکتا ہے“۔ ہم نے کوئی علاقہ نہیں کھویا مگر ہم دنیا کی نظر میں بہت گر گئے۔

 آپ کے ہمارے نقطہ نگاہ سے کابل کی فتح، ممکن ہے، معمولی کارنامہ ہو مگر یہ آسان نہ تھا۔ بابر نے سترہ برس کی عمر میں یعنی 1504 میں کابل فتح کرلیا تھا۔ وہ خود ہندوستان کی فتح کو کسی شمار قطار میں نہ رکھتا تھا.

جب وہ بیس سال کے بعد کابل سے پانی پت کی جانب فوجیں لے کر روانہ ہو رہا تھا۔ اس سے ایک بیان تاسف منسوب ہے۔ کابل میں داخل ہونا آسان اور بطور فاتح زندہ نکلنا مشکل ہے۔

کابل میں محل کا انتظام سنبھالنے جس کمانڈر کو بھیجا گیا تھا وہ جب صدر کی کرسی پر بیٹھے تو پشت پر وہ تصویر تھی۔ سورہ النصر کی تلاوت کے لیے جس نوجوان کو دعوت دی گئی دنیا نے دیکھا کہ قبائلی رسوم کے عین مطابق کاندھے پر پڑے کپڑے سے کمانڈر صاحب نے احتراماً اس نشست کو صاف کیا جس پر وہ خود براجمان تھے اور یہ صدارتی محل کی کرسی تھی کابل کے کسی ڈھابے کا مونڈھا نہ تھا۔ تصویر  میں سیدنا صابر شاہ لاہوری اور احمد شاہ ابدالی کو دیکھا جا سکتا ہے۔ عام طور پر بادشاہ اور بزرگ افغانستان اور وسطی ایشیا سے لاہور اور دہلی کی جانب آئے مگر درویش کی زندگی امتحان ہے۔ ممکن ہے مرشد کے حکم سے کچھ عرصے کے لیے سیدنا صابر شاہ بھی قندھار گئے ہوں۔

احمد شاہ ابدالی جنہوں نے جدید افغانستان کی بنیاد رکھی انہیں قندھار میں جرگے میں لویا نے جمال خان محمد زئی کے مقابلے میں اپنا رہنما اس وقت تسلیم کرلیا جب ان کے سر پر گہیوں کی بالیوں کا تاج رکھا گیا۔ سیدنا صابر شاہ ان دنوں نادر آباد قندھار کے قلعے میںسے متصل شیخ سرخ کے مرقد عالیہ میں فروکش تھے۔ گہیوں کی یہی بالیاں افغانستان کے موجودہ قومی پرچم کا حصہ ہیں۔ طالبان کے خلاف پہلا باقاعدہ مظاہرہ اس پرچم کے تبدیل نہ کرنے کے حق میں ہوا۔ اب افغانستان کا پرچم مانو کسی بڑے بجٹ کی بھارتی فلم کے آئٹم سانگ میں مادھوری ڈکشٹ کی ساڑھیاں یا پی ٹی آئی کا وزیر خزانہ اور مشیر جیسے ہیں جب دل کرے بدل دو اس بوسیدہ ٹرک کی طرح جس پر لکھا ہوتا ہے تسی لنگ جاﺅ ساڈی خیراے۔

 امیر عبدالرحمن کے زمانے یعنی سن 1901 سے اتنی ہی دفعہ بدلا گیا جتنی دفعہ سرکار بدلی حتی کہ کرزئی اور اشرف غنی جو کرپشن کے پرچم تلے تو ایک تھے مگر قومی پرچم کا یکساں سایہ ذوالجلال انہیں بھی قبول نہ تھا۔ سو دونوں کے پرچم جدا تھے۔

طالبان کا نیا مجوزہ پرچم بہت حد تک سعودی پرچم جیسا ہے مگر ان کے اپنی قیادت مزاج کی طرح سادہ اور چھا جانے والا۔ کلمہ طیبہ سے مزین۔

سنہ دو ہزار میں مشہور صحافی کاﺅس جی صاحب کچھ الجھن کا شکار تھے۔ مذہبی عناصر سے واسطہ پڑے تو وہ ذرا جلد پریشان ہوجاتے تھے۔ ایک مرتبہ اپنے کالم میں فجر کی اذان کے بارے میں غیر مہذب الفاظ استعمال کیے تھے تو سہیل احمد خان کی قیادت میں ایک جم غفیر ان کے گھر کے باہر جمع ہوگیا تھا۔ اس کا ڈر ان کے دل میں بیٹھا ہوا تھا۔ جنرل ضیا کا دور تھا۔ ہم نے گجراتی زبان میں سمجھایا کہ انسان کا بچہ بن۔ جنوں کو گدگدی مت کر کیوں کہ جن جب گدگدی کریں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔

اب کی دفعہ پیچا پھر ملاﺅں سے پڑ گیا تھا۔ محتاط تھے۔ سرکاری میل جول میں پروٹوکول فالو کرتے تھے۔ گو ہمیں اکثر ناشتے پر اپنی اسٹڈی میں بلا لیتے تھے جہاں ان کا آسٹریلین سفید طوطا بین ان کا کتا ڈیوک اور ان کی بدمزاج سیکرٹری امینہ جیلانی بھی موجود ہوتی۔ اس دن سیدھے ہوم سیکرٹری بریگیڈئر مختار کے پاس آئے تھے۔ بریگیڈیر صاحب کو ہم دونوں کے مراسم کا علم تھا۔ سیکرٹری صاحب معاملہ ہمیں سونپ کر خود ایک طرف ہو گئے۔ ان کا خیال تھا کہ کراچی کی انتظامیہ سے ایک طویل وابستگی کے باعث ہم الٹرا رائٹ حلقوں سے لے کر موم بتی مافیا تک ہر اک شوخ کا انداز نظر جانتے ہیں

ہم نے اک عمر گزاری ہے صنم خانے میں

bagh e rustam

 کاﺅس جی نے مسئلہ بیان کیا باغ رستم ان کا خاندانی ٹرسٹ کا باغ ہے۔ اس کے عقبی دروازہ سے رسائی بند ہو گئی ہے۔ افغان کاﺅنسلیٹ کے حکم پر وہ سڑک جس کے اختتام پر ایک دروازہ ڈھلوان سے  نیچے کی جانب کھلتا ہے۔ وہاں تک رسائی کا راستہ سڑک کے دھانے پر ایک بدنما بانس کا بیری کیڈ اور اپنے گارڈز بٹھا کر بند کر دیا ہے۔ ہم نے کاﺅس جی کو سمجھایا کہ مین سڑک سے باغ میں داخلے پر تو کوئی پابندی نہیں۔ جانے دیں۔ کمپنی زیادہ دن نہیں چلے گی۔ جب حالات قابو میں آجائیں تب من مانی کر لینا۔ کاﺅس جی میں قانون کی پاسداری اور اپنے انسانی اور شہری حقوق کا غیر معمولی شعور تھا۔ ضد پکڑ لی کہ ایک آزاد مملکت کی سڑک روکنا یہ کسی غیر ملکی کونسلیٹ کے اختیار میں نہیں۔

چند ہفتوں قبل ہماری سفیر عبدالسلام ضعیف اور کاﺅنسلیٹ جنرل سے ایک ماحضر پر مغرب کی نماز کے بعد صدر کی مہاجر مکی مسجد میں ہوئی تھی۔ ہم علاقے میں تھے مغرب کی نماز پڑھنی تھی سوچا امام مسجد مولانا عنایت سے بھی مل لیں کہ یہ حضرات وہاں آگئے۔ قریب ہی کراچی کی مشہور اسٹوڈنٹ بریانی اور اشرفی والا زردہ ملتا ہے۔ سو بہت مزا آیا۔

ہم نے ٹالا کہ ویسے یہ معاملہ تو وزارت داخلہ کو حل کرنا چاہیے۔ کاﺅس جی کہنے لگے کہ وہ جان چھڑاتے ہیں۔ کونسلیٹ فون کیا تو کاﺅنسلیٹ جنرل صاحب نے کہا ہم انہیں لے آئیں۔ سمجھادیں کہ وہ کس طرح کا بندوبست پسند فرماتے ہیں۔ وہ اوپر سے ہدایت لے کر کچھ درمیانی راستہ نکال لیں گے۔

پہنچے تووہاں ہائی ٹی کا بندوبست تھا۔ کاﺅس جی صاحب نے کافی اور شہد طلب کیا مگر ٹیبل پر قاب میں سجے دیگر لوازمات طعام سے گریز کیا۔ اس دوران ہم کونسل جنرل کو بہت تحمل سے سمجھایا کہ کراچی میں باغات کی کمی ہے۔ بابر کو تو ہندوستان میں بھی کابل کے باغات اور گرما یاد آتا تھا۔ یہ نہیں بتایا کہ بابر ”بائی“ تھا۔ وکٹ کے دونوں طرف کھیلتا تھا۔ بلا نوش بھی تھا۔ یاد تو اسے بہت کچھ آتا تھا۔ اس نے سب تزک بابری میں رقم کیا ہے۔ انہیں کابل کے حوالے سے بابر کا یہ شعر سنا دیتے تو اور  بھی آگ لگ جاتی کہ

نوروز و نوبہار و مئے و دلبر خوش ست

بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست

کونسل جنرل صاحب نے سب کچھ تحمل سے سنا۔ نگاہیں البتہ ایک محتاط بے گانگی سے کاﺅس جی صاحب کو تاکتی رہیں۔ کونسل جنرل کچھ دیر کو ا ٹھ کر برابر کے کمرے میں گئے۔ واپس آئے تو مسکرا کر روئے سخن کاﺅس جی کی جانب کر کے کہنے لگے آپ کی بات آگے پہنچا دی ہے۔ درستی کے لیے ہمیں کتنی مہلت دیں گے؟۔ کاﺅس جی صاحب کی شجاعت، اصول پرستی اور قانون کی پاسداری کا ہم نے پہلے ذکر کیا ہے۔

مزید مکالمہ کاﺅس جی اور کاﺅنسلیٹ کی جانب سے اردو میں ہوا اس لیے ویسے ہی لکھتے ہیں۔ ہمیں بس یہ ڈر تھا کہ کاﺅس جی کوئی ایسا لفظ نہ کہہ دیں جو مغلظات کے زمرے میں ہوتے ہوئے بھی ان کے لیے معمول کی بات ہو۔ گجراتی میمن روز مرہ بول چال میں بہت گالیاں بکتے ہیں۔ پارسی گھرانوں میں تو گالیاں خواتین کے بھی نوک زبان پر دھڑلے سے موجیں مارتی ہیں۔ ہم نے اپنے نانا سے پوچھا تھا۔ وہ بھی اس فن میں کم نہ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریز جب سورت میں آئے اور تجارتی کوٹھیاں قائم ہوئیں تو ایک تو گجراتی خواتین میں شروع سے پردہ عام نہ تھا اور گورے کے ساتھ لین دین کے جھگڑے بھی ہوتے۔ ماں بہن تک جب بات چلی جاتی تو گورا سمجھ جاتا کہ مختاریا گل ود گئی ہے اندر وڑ جا۔ گالیوں کی یلغار کی وجہ سے وہ پیچھے ہٹ جاتا تھا:

کاﺅس جی: ہم کب تک امید کرے کہ ایکسی لینسی جو گلط (غلط) ہوا ہے اس کو گلط مان کر ٹھیک کر دیں گے

سی جی: تو جو غلط ہے۔ اور جس کو ٹھیک کرنا ہے۔ اس کو ماننا بھی ہے اور درست بھی کرنا ہے۔ یہ تو دو کام ہوئے۔ اس کا مطلب ہے دونوں کی ذمہ داری بھی اکیلا ہمارا ہے۔

کاﺅس جی: قاعدے کی بات تو یہی ہے

سی جی: اللہ نے چاہا تو جو غلط ہے اور جس کو ٹھیک کرنا ہے اس معاملے میں ہم آپ کی توقع پر پورے اتریں گے مگر ایک کافی کا کپ اور۔

کافی کا کپ ختم ہونے میں دس منٹ لگے تھے۔ سی جی دروازے پر رخصت کرنے آئے تھے۔

باہر نکلے تو کاﺅس جی نے دیکھا کہ رکاوٹ کو کھول کر ایک طرف ڈھیر کر دیا گیا تھا۔ حیرت سے ہمیں دیکھ کر کہنے لگے

Diwan, What are you, their local amir?

ہم نے بھی ایک شرارتی مسکراہٹ سے جواب دیا

As much as you are CIA’s station-chief in Karachi

طالبان کی آمد ثانی پر وہ ہمیں یاد آئے۔ اس کلاس اور رکھ رکھاﺅ کا کوئی اور صحافی پاکستان میں اب پیدا ہونے کے امکانات بہت معدوم ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words