طالبان حکومت اور غامدی صاحب: آتے ہیں غیب سے یہ ”فتاویٰ“ خیال میں

بالآخر افغانستان کے مسئلے پر بیس سال تک خاموش رہنے والی زبان کھل ہی گئی۔ مسلسل اعراض برتنے والی نگاہیں زکٰوۃ التفات دینے کے لیے آمادہ ہو ہی گئیں۔ غامدی صاحب بولے اور ایسے دبنگ، بے دھڑک اور جارحانہ لب و لہجے کے ساتھ کہ ان کی گفتگو میں آج سے پہلے ہمیں اس قدر تلخی اور درشتی کا تجربہ نہیں ہوا۔

یقیناً سانحہ جتنا بڑا ہوتا انسان کو صدمہ بھی اتنا ہی شدید پہنچتا ہے اور صدمے کی شدت کا ایک مقام وہ بھی ہوتا ہے جب اچھے خاصے ضبط اور حوصلے والا آدمی بھی بے قابو ہوجاتا ہے۔ پھر دل کی بھڑاس نکالنے کی دو ہی صورتیں ہوتی ہیں۔ یا تو وہ جسے شاعر نے یوں تعبیر کیا ہے کہ

میں کل جو خوب رویا تو چین سے سویا
کہ دل کا زہر مری چشم تر سے نکلا تھا

کہنے والوں کا کہنا ہے کہ شکست امریکہ کو نہیں ہوئی بلکہ غامدی صاحب اور ان کے مغرب زدہ مقلدین اور ان بیمار ذہنوں کو ہوئی ہے جو امریکہ کو فتح اور طاقت کا ناقابل تسخیر دیوتا تصور کرتے تھے۔ جن کا یہ عقیدہ تھا کہ امریکہ جس کی سمت دست محبت دراز کردے آسمان اس سے دشمنی کا خطرہ مول نہیں لیتا اور جس سے نظریں پھیر لے اس کی سعادتوں اور خوش بختیوں کے سارے چراغ گل ہو جاتے ہیں۔ اب وہ سب حیرت اور حسرت کے مجسمے بن کر ہکا بکا اس شوخ و بے پرواہ خالق تقدیر کی کرشمہ سازیاں دیکھ رہے ہیں اور حیران ہیں کہ دل کو روئیں یا جگر کو پیٹیں۔ سیانے کہتے ہیں کہ مار پڑے تو چیخا زور سے کرو کیوں کہ چپ رہنے سے درد تو کم ہوتا نہیں خواہ مخوا کی گھٹن اور تنگی ہی طبیعت پہ طاری رہتی ہے۔

جیو ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں غامدی صاحب سے سوال ہوتا ہے کہ کیا طالبان کی موجودہ حکومت ”آپ کے نقطۂ نظر“ کے مطابق ”شرعی اعتبار سے“ جائز ہے؟ سوال سن کر ہی میں سوچنے لگا کہ کاش کہ استفتاء کی یہ مجلس اس دن بھی منعقد ہوتی جب کلام اللہ پر حلف لیے جانے اور امان دیے جانے کے بعد دشت لیلی میں ہزاروں انسانوں کو بھوکا پیاسا کنٹینروں میں بند کر کے گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ اس دن بھی غامدی صاحب کا انٹرویو لیا جاتا جب قندوز میں بیسیوں معصوم حفاظ قرآن کی دستار بندی کی تقریب پر بم برسائے گئے اور وہ نونہال اپنی لہو آلود پگڑیاں لے کر اللہ کے دربار میں حاضر ہو گئے۔

جیو ٹی وی المورد ریسرچ سینٹر سے یہ فتوی بھی کبھی طلب کرتا کہ کیا فرماتے ہیں ”معروف مذہبی اسکالر“ اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا پاکستان کے راستے نیٹو سپلائی کا گزرنا جائز ہے جب کہ یہ افغان عوام کے جانی اور مالی حقوق کو پامال کرنے کا سبب بنتی ہے؟ اور نہیں تو کبھی غامدی صاحب اسی بارے میں اظہار رائے فرما دیتے کہ برادر اسلامی ملک کے سفیر کو ننگا کر کے امریکہ کے حوالے کرنے جیسے المیے پر ان کی مجتہدانہ بصیرت کیا حکم صادر فرماتی ہے؟

انہیں لے دے کے یاد بھی آئی تو طالبان ہی کی حکومت کی شرعی حیثیت۔ پھر ذرا سوال پر غور فرمائیے، ”آپ کے نقطۂ نظر کے مطابق“ اور پھر ”شرعی اعتبار سے“ سبحان اللہ!

جواب میں غامدی صاحب بڑے ہی پرجوش انداز میں فرمانے لگے کہ اسلام میں انتخاب حکومت کا ”صرف اور صرف“ ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ مسلمانوں کی باہمی رضامندی سے حکومت بنائی جائے۔ پھر خود ہماری آسانی کے لیے باہمی رضامندی اور امرہم شوری بینھم کے طریقۂ کار کی بھی تعیین فرما دی کہ جمہوری الیکشن کروائے جائیں اور وہ بھی صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ ہر تھوڑے وقت کے بعد بار بار۔

اس سے قطع نظر کہ ووٹنگ کا یہ طریقہ جس میں ”بندوں کو تولنے“ کی ”مشقت“ پر گننے کی سہولت کو ترجیح دی جاتی ہے، خود پولیٹکل سائنس کے ماہرین اور علمائے عمرانیات کی نظر میں کیا مقام رکھتا ہے، ہم صرف یہ سوال پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے عہد سے اس بات کی کوئی نظیر آں جناب پیش فرما دیں گے جس میں مفتوحہ علاقوں مثلاً مکہ، خیبر، ایران، مصر اور شام وغیرہ میں ہر پانچ سال کے بعد الیکشن کا انتظام کروایا جاتا ہو۔

ٹھیک ہے حکومت شورائی نظام پر مبنی ہونی چاہیے، شوری کے اراکین میں تمام طبقوں کے سرکردہ افراد کی شمولیت کو یقینی بنانا چاہیے (اور طالبان اس کا پورا انتظام کر بھی رہے ہیں ) مگر یہ ناکام ترین مغربی جمہوری ووٹنگ تو اسلام اور قرآن کے سر نہ تھوپی جائے۔ جس سے تیسری دنیا میں آج تک کبھی عوام کی نمائندہ حکومت تشکیل نہیں پا سکی۔

پھر ساتھ میں ہم ”جذباتی قوم“ کو بھی تنبیہ فرما دی کہ کہ کملو! امریکہ کی شکست پر زیادہ بغلیں نہ بجاؤ۔ امریکہ ایک عالمی طاقت ہے۔ عالمی طاقتیں اس طرح کے ایڈونچر کرتی رہتی ہیں۔ اصل شکست تو افغان عوام کو ہوئی ہے جو اس اکیسویں صدی میں بھی اس سے محروم ہیں کہ اپنے حکمرانوں کا انتخاب اپنی مرضی اور اپنے آزادانہ انتخاب سے کر سکیں۔

بڑا ہی عبرت کا مقام ہے کہ امریکہ کی بیس سالہ خونی دہشت گردی تو محض ایک ایڈونچر تھی، غامدی صاحب نے اس کا حوالہ دے کر یہ تک کہنا گوارا نہ کیا کہ افغان عوام کی اصل شکست تو یہ ہے کہ ان کے بیس لاکھ معصوم لوگ مارے گئے، ان کا ملک تاراج ہو گیا، خاندان اجڑ گئے، قبیلے ہجرتوں اور خان بدوشیوں کے بار اٹھا اٹھا کر ہلکان ہو گئے۔ اس سب سے صرف اس وجہ سے چشم پوشی کر لی کہ اس کا تذکرہ کرنے سے سارا الزام امریکہ کے سر جائے گا۔

پھر ممکن ہے غامدی صاحب کی وہ شہریت خطرے میں پر جائے جس کے حصول کے لیے انہوں نے برسوں دوڑ دھوپ کی۔ چناں چہ انہوں نے کمال چابک دستی اور مہارت لسانی کے ساتھ سارا ملبہ طالبان کے سر تھوپ دیا کہ اصل نقصان یہ لاکھوں قتل اور اربوں کھربوں کی املاک کی زیاں نہیں بلکہ ”جمہوریت کی آسمانی بادشاہی“ کے فیوض و برکات سے محرومی ہے۔

یوں غامدی صاحب نے اپنی امریکی شہریت کے محضر پر استحکام اور دوام کی مزید تاکیدی مہریں ثبت کروا دیں۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ یہ امریکہ مخالف بیان دینے سے امریکہ والے جلا وطن تو نہیں کرتے۔ یہ نوم چومسکی امریکہ کے قلب میں بیٹھ کر امریکہ اور اسرائیل کی دنیا کی دہشت گرد ترین ریاستیں ہونے کا طعنہ دیتا رہتا ہے، اسے تو کبھی کسی نے کچھ نہیں کہا۔ ہاں! لیکن یہ بات ہے کہ وہ کھاتا اپنی حق حلال کی کمائی ہے۔ عالمی ایجنڈے کے تحت اسلامی تعلیمات کی صورت مسخ کر نے اور مغربی مفادات کی خدمت کرنے پر ملنے والا مشاہرہ اور وظیفہ اس کا ذریعۂ معاش نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words