امریکہ میں اس کی پہلی نماز!

وہ امریکہ کے شہر ٹیکساس میں واقع مسجد النور کے ایک کونے میں بیٹھا اونچی اونچی آواز میں گڑگڑا کر زار و قطار رو رہا تھا۔ وہ اپنی کسی خطا پر رب سے معافی کا خواستگار تھا۔ مسجد میں آنے والے باقی سب نمازی ظہر کی نماز پڑھ کر جا چکے تھے۔ اچانک کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک گیا اور اپنا سر اٹھا کر اوپر دیکھا۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھنے والے مہربان نے پوچھا، اے نوجوان تم اتنے پریشان کیوں ہو۔ کیا تمہیں کسی مدد کی ضرورت ہے۔ رونے والے نے اپنی آستین سے آنسو پونچھتے ہوئے جواب دیا، نہیں مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، بس میرا رب میرے گناہ معاف فرمائے۔ آپ بھی میرے لیے دعا فرمائیں۔

پھر وہ دونوں باتوں میں مصروف ہو گئے اور باتوں ہی باتوں نوجوان نے بتایا کہ وہ پچھلے کئی سالوں سے امریکہ میں رہ رہا ہے، لیکن امریکہ آنے کے بعد یہ اس کی پہلی نماز ہے۔ وہ یہاں آنے سے پہلے، اپنے خدا کے وجود پر شک کرنے لگا، وہ اپنے مذہب سے نفرت کرتا رہا، یہاں تک اس نے اپنی زندگی سے مذہب کا خانہ تک نکال دیا تھا۔ لیکن ایسا کیا ہوا، تم نے اپنے مذہب سے اتنی دوری کیوں اختیار کر لی، ساتھ بیٹھے دوسرے ساتھی نے پوچھا۔

اس نوجوان کا نام خلیل تھا۔ وہ چند سال پہلے ہجرت کر کے عراق سے امریکہ منتقل ہو گیا۔ عراق میں صدام کی حکومت کی خاتمے کے بعد خانہ جنگی شروع ہو گئی اور ریاست کا ڈھانچہ گر چکا تھا۔ خلیل ان دنوں کالج میں پڑھتا تھا اور ایک دن اس کے کسی کلاس فیلو نے اسے ایک ویڈیو کی سی ڈی دیکھنے کو دی جس میں ایک امریکی فوجی کے ہاتھ پیچھے باندھ کر اس کے گلے پر چھری پھیری جا رہی تھی۔ مخالف فوجی کا سر قلم کرنے والے اپنے نہتے دشمن قیدی کا کٹا ہوا سر ہاتھ میں اٹھا کر اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے اور ان کے پیچھے لگے ایک بینر سے بھی صاف ظاہر ہو رہا تھا وہ کس گروہ اور مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

خلیل ایک جنگ زدہ ملک میں پل کر جوان ہوا، بم دھماکوں میں معصوم شہریوں کے مرنے کی خبریں اور مار دھاڑ کی باتیں اس کے لیے کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن کسی انسان کا دوسرے انسان کا گلہ کاٹتے ہوئے دیکھنے کا منظر، پھر اس کی موت پر جشن منانا اور تکبیر کے نعرے، یہ وہ سب کچھ تھا جس سے خلیل کا دل مذہب سے اچاٹ ہو گیا۔ وہ کئی دن تک ٹراما کی کیفیت میں رہا، نیند کی گولیاں لے کر سونے لگا پھر بھی خواب میں کٹا ہوا وہ سر اور مرنے سے پہلے کسی بے بس انسان کی شکل اسے خوف زدہ کر دیتی تھی۔

خلیل کے دل میں مذہب، اس کے ماننے والوں اور خدا کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لینے لگے۔ اس نے مسجد میں آنا جانا ترک کر دیا، اسے ہر داڑھی والا برا لگنے لگا، وہ مذہب کو لوگوں پر قابو رکھنے، ان پر اختیار حاصل کرنے اور انہیں بے وقوف بنانے کا ایک ہتھیار سمجھنے لگا۔ خلیل کے گھر والے اس کے بدلے ہوئے رویے سے پریشان رہتے۔ ماں اسے خدا پر یقین رکھنے کی تلقین کرتی، باپ اسے نماز نہ پڑھنے پر ڈانٹتا اور اس کے کالج فیلو اسے ملحد سمجھ کر اس سے دور رہنے لگے۔

رد عمل کا شکار، خلیل نے کالج میں اپنے ایک پروفیسر کے خیالات سے متاثر ہو کر کامریڈز کا ایک گروپ جوائن کر لیا، جہاں وہ مل کر مذہب پر لے دے کرتے، خدا کے وجود پر بحث و مباحثے ہوتے، عرب قوم پرستوں اور لفٹ ونگ کے سیاست دانوں اور شاعروں کے گن گائے جاتے، عراق میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کے خلاف مذہبی ہتھیار بند جتھوں پر لعن طعن کرتے، ان کے مقابلے میں چی گو ویرا کو اپنا ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا، بائبل اور قرآن کی بجائے کیپٹل داس کے حوالے دیے جاتے، ملک میں انسانی حقوق اور آزادیوں پر بات ہوتی تھی۔

چند منٹ کی ویڈیو دیکھنے اور اس میں موجود خوفناک مناظر نے خلیل کی زندگی کو اتنا بدل دیا کہ اس کا مذہب کے ساتھ ساتھ انسانیت سے بھی اعتبار اٹھنے لگا۔ اس کے خیال منتشر ہو گئے اور اس کی توجہ اپنی پڑھائی سے ہٹ کر قومی اور عالمی سیاست نامے پر مبذول رہنے لگی۔ ملک میں جاری خانہ جنگی اور معاشی بدحالی سے اس کے تعلیم کا سلسلہ بھی آخر کار منقطع ہو گیا۔ وہ اپنی کالج کی تعلیم مکمل کیے بغیر ہی روزگار کی تلاش میں نکل پڑا اور روزی روٹی کمانے کے چکر میں عراق کی نئی حکومت کے تحت بننے والی آرمی میں بھرتی ہوا۔ فوج میں رہتے ہوئے اسے ملک کی انٹلیجنس ایجنسی میں بطور ترجمان کام کرنے کا موقع ملا اور اس نے کئی دہشت گردوں کو پکڑوانے اور ان کا ابتدائی انٹرویو کرنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔

دہشت گردوں کی تفتیش کے دوران خلیل کو ان کی حالات زندگی جاننے کا موقع ملا۔ ان میں کئی ایسے نو جوان بھی تھے جن کا دہشت گرد بننے سے پہلے مذہب سے کوئی گہرا لگاؤ نہیں تھا۔ وہ مذہبی جنگجو بننے سے پہلے، بس نام کے ہی مسلمان تھے لیکن انہوں نے ڈرون اور ہوائی جہاز کی بمباری کے دوران اپنے کئی دوستوں اور رشتے داروں کے جسموں کے پرخچے اڑتے دیکھے جس کے رد عمل میں انہوں نے انتقام کا راستہ چنا اور مذہب کے گھوڑے پر سوار ہو کر بدلے کی آگ اپنے سینوں میں لیے گھر سے نکل پڑے۔ خلیل جوں جوں دہشت گردوں کے حالات زندگی سے واقف ہوتا گیا، توں توں وہ جنگ کی تباہ کاریوں اور انسانوں کے درمیان بڑھتی نفرتوں کی وجوہات سے بھی آگاہ ہوتا رہا۔

خلیل سمجھ چکا تھا کہ جیسے وہ مذہب کے نام پر تشدد کی ایک ویڈیو دیکھ مذہب سے دور ہو گیا بالکل اسی طرح کچھ نوجوان اپنی آنکھوں سے پھٹتے بموں اور اس کے نتیجے میں مرتے معصوم لوگوں کو دیکھ کر مذہب کے قریب آ گئے تھے۔ انہوں مذہب کا سہارا لیا، اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی ٹھانی، انہوں نے تشدد اور خوف کو اپنا ہتھیار بنایا۔ مذہب کو سیاست اور انتقام لینے کے لیے استعمال کرنے کی حقیقت جاننے کے بعد بھی، خلیل کے نقطہ نظر میں کوئی خاص تبدیلی تو واقع نہیں، وہ مذہب سے دور ہی رہا لیکن اتنا ضرور ہوا کہ اس کے دل میں انسانوں کے لیے محبت کا دیپ جلنے لگا۔ اس نے کسی خاص مذہب کی پیروی کرنے کی بجائے، انسانیت کو اپنا مذہب بنا لیا اور اس کا خیال تھا کہ انسانوں میں نفرت کی وجہ مذہب، سیاست یا معاشی جھگڑے نہیں بلکہ انسانیت سے دوری ہے۔

صدر اوباما کے دور میں عراق سے امریکہ کی فوجوں کے انخلا کا اعلان ہوا، جس سے ملک کے حالات مزید خراب ہونے لگے اور خانہ جنگی نے شدت اختیار کر لی۔ حالات اتنے بگڑ گئے کہ شام اور عراق سے لاکھوں لوگوں نے ہجرت کرنا شروع کردی یہاں تک کہ خلیل بھی اپنے خاندان سمیت ایک پناہ گزین بن کر امریکہ منتقل ہو گیا۔ امریکہ میں خلیل اور اس کے گھر والوں کو کچھ عرصہ سکون کی زندگی جینے کو نصیب ہوئی۔ اسے اور اس کے بھائیوں کو اچھا روزگار مل گیا۔ اس کی چھوٹی بہنیں کمیونٹی کالج جانے لگیں اور ان کا بوڑھا باپ اپنے قریبی مسجد جاکر پانچ وقت کی نماز کسی خوف اور خطرے کے بغیر پڑھتا تھا۔

امریکہ میں رہتے ہوئے خلیل کو جہاں انسانی آزادیاں، قانون کی حکمرانی اور معاشی خوشحالی دیکھنے کو ملی، وہیں اسے کام کرنے والی جگہوں پر کچھ نسلی تعصبات کا سا منا بھی رہا، اسے مسلمان، عرب اور انتہا پسند ہونے کے طعنے دیے گئے۔ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے ساتھیوں کے گرم اور سرد لہجوں اور رویوں کو سہتا رہا مگر اس نے ردعمل کے طور اپنا انسان دوست رویہ کبھی ترک نہیں کیا اور وہ اپنے کام سے مطلب رکھتا تھا۔ پھر ایک دن خلیل جب اپنے آفس میں تھا تو اسے ایک خبر ملی کہ ہیوسٹن میں واقع ایک مسجد پر امریکہ کے کسی سفید فام اور تشدد پسند گروہ نے فائرنگ کی ہے اور زخمی اور ہلاک ہونے والوں میں اس کا بوڑھا باپ بھی شامل ہے۔

اپنے باپ کی دہشت گردوں کے ہاتھوں موت کی خبر خلیل کے دل پر ایک بجلی بن کر گری۔ وہ اور اس کا خاندان دہشت گردی اور جنونیت سے نجات حاصل کرنے کے لیے در بدر ہوا، وہ امریکہ میں دوسرے درجے کے شہری بن کر رہنے پر مجبور ہوئے لیکن یہاں بھی انتہا پسندی کے منحوس سائے ان کا پیچھا کر رہے تھے۔ باپ کی بے گناہ موت کا سن کر خلیل کے گھر میں ایک کہرام مچ گیا۔ اس کی ماں اپنے شوہر کی میت واپس عراق لے جانے پر بضد تھی لیکن خلیل کا کہنا تھا اب ہمارا جینا مرنا، عراق میں نہیں امریکہ میں ہے، ہمیں اور ہماری نسلوں کو یہیں رہنا ہے۔ اس لیے باپ کی قبر بھی امریکہ میں بنے گی۔

امریکہ میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں خلیل کے باپ کی موت نے اس کی زندگی میں پھر ہل چل مچا دی۔ اسے وہ دہشت گرد نوجوان یاد آنے لگے جنہوں نے اپنے معصوم رشتے دار مارے جانے کے بعد لڑائی اور گمراہی کا راستہ چنا تھا۔ خلیل اپنے سے زیادہ اپنے چھوٹے بھائیوں کی فکر میں تھا کہ کہیں ان کے دل میں انتقام لینے کا شعلہ نہ بھڑک اٹھے۔ اس کی بہنیں بھی اپنے باپ کے یوں بے موت مارے جانے پر پریشان رہنے لگیں اور وہ کالج جانے سے ڈرتی تھیں، اس کی ماں نے تو اپنے شوہر کے غم میں بس چارپائی ہی پکڑ لی۔ وہ ہر وقت واپس اپنے وطن جانے کا تقاضا کرتی رہتی۔

باپ کے موت کے بعد ، خلیل گھر کا بڑا تھا اور اسے اپنے علاوہ سب گھر والوں کی زندگی کے کئی اہم فیصلے کرنے تھے۔ وہ جانتا تھا کہ اسے اپنے کو سنبھالنا اور مضبوط رکھنا ہے لیکن گھر کے حالات، امریکہ میں مہاجرین کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت، بہنوں کی لا چاری اور ماں کا دکھ سب مل کر خلیل کو اندر سے کمزور بنا رہے تھے۔ وہ امریکہ میں اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے سہانے خواب دیکھ رہا تھا مگر وقت کا دھارا الٹا بہنے لگا۔ وہ اپنا ڈپریشن کم کرنے اور سکون کی نیند سونے کے لیے صبح و شام گولیاں کھانے لگا۔ ایک دن توحد ہی ہو گئی، اس کا اپنے کسی کولیگ سے جھگڑا ہوا جس نے اسے دہشت گرد ہونے کا طعنہ دیا تھا۔ خلیل نے غصے میں آ کر اپنے ساتھی ورکر کو تھپڑ دے مارا جس کی وجہ سے وہ نوکری سے بھی نکال دیا گیا۔

کہتے ہیں مصیبتیں جب آنا شروع ہوتی ہیں تو اکٹھی آتی ہیں۔ خلیل کے ساتھ بھی کچھ یہی ہو رہا تھا، اسے اپنی زندگی ایک عذاب نظر آنے لگی۔ مذہب سے تو وہ پہلے ہی بیگانہ تھا، اب وہ انسانیت اور اپنے آپ سے بھی مایوس رہنے لگا، یہاں تک کہ ایک دن اس نے خود سوزی کا ارادہ کر لیا مگر گھر کی ذمہ داریوں اور اپنی محبوبہ سے کیے گئے وعدے کی وجہ سے وہ کوئی غلط قدم اٹھانے سے باز رہا۔ وہ ایک عیسائی لڑکی سے پیار کرتا اور اس سے شادی کرنے کا وعدہ کر چکا تھا۔ ایک دن جب خلیل بہت پریشان تھا اور اپنی جان لینے کی باتیں کر نے لگا تو اس کی گرل فرینڈ نے اسے اپنے ساتھ چرچ جانے اور پاسٹر سے ملاقات کرنے کا مشورہ دیا۔

چرچ میں خلیل کی ملاقات ایک پادری سے ہوئی جس نے اسے خدا کی ذات پر یقین رکھنے اور امید کا دامن نہ چھوڑنے کی تلقین کی۔ پاسٹر نے اسے سمجھایا کہ اگر انسان کی زندگی کے سب چراغ گل بھی ہو جائیں تو کوئی بات نہیں لیکن امید کی شمع کبھی نہیں بجھنے دینی چاہیے۔ پاسٹر نے خلیل کو چار چراغوں والی کہانی سنائی جس میں دنیا سے امن، عقیدے اور محبت کے چراغ ایک ایک کر کے بجھنے لگے لیکن امید کا چراغ ابھی جل رہا تھا جس کی مدد سے بجھنے والے تینوں چراغوں کو پھر روشن کر دیا گیا۔ خلیل پاسٹر کی باتیں سن کر اپنے باپ کو یاد کرنے لگا جو اسے نماز کے ذریعے اپنے رب سے رابطہ استوار رکھنے اور مدد مانگنے کی ہدایت کیا کرتا تھا۔

پاسٹر کی باتوں سے متاثر ہو کر، خلیل نے کئی برس بعد اپنے خدا سے ملنے اور دوبارہ مسجد میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا۔ وہ خدا جس کا دامن اس سے کہیں عرب کے صحراؤں میں چھٹ گیا تھا، وہ اسے امریکہ کی جگمگاتی روشنیوں میں دوبارہ مل گیا۔ امریکہ میں اپنی پہلی نماز ادا کرنے کے بعد وہ وہاں بیٹھ کر خوب رویا اور اپنے رب سے دور رہنے کی معافی مانگ رہا تھا۔ انسانوں اور اپنی زندگی سے امید ختم ہونے کے بعد بس وہی اس کا آخری سہارا رہ گیا تھا۔ اس نے امید کا دامن پھر سے تھام لیا۔ اس کے اندر جینے کی ایک نئی امنگ پیدا ہونے لگی۔

یوں خلیل کی زندگی کا ایک سرکل مکمل ہو گیا۔ جس تشدد کے منظر کو دیکھ کر وہ خدا اور اپنے مذہب سے دور ہوا، وہی ہولناک کہانی، وہ وحشی منظر پھر اس کے سامنے آ گیا، جس میں اس کے باپ کی گولیوں سے چھلنی لاش اس کے سامنے پڑی تھی۔ اب کی بار وہ تشدد کا چشم دید گواہ اور شکار تھا اور وہی تشدد اسے واپس خدا کے گھر لے آیا۔ سچ کہتے ہیں، جس تن لاگے، سو وہ تن جانے۔

خلیل نے جب انتہا پسندی کی بھیانک شکل اپنی آنکھوں سے دیکھی اور وہ خود اس کا نشانہ بنا تو وہ اندر سے بدل گیا۔ اس نے سوچا، دہشت گردی کا مقابلہ انتقام سے نہیں بلکہ معافی اور درگزر سے کیا جا سکتا ہے۔ اس نے اپنے باپ کے قاتلوں کو بھی معاف کر دیا۔ اب وہ بہت بدل چکا تھا، وہ خدا کی بنائی ہوئی تمام مخلوق سے پہلے سے بھی زیادہ پیار کرنے لگا۔ اب وہ ایک سچا انسان دوست بن گیا۔ مذہب، ذات پات، رنگ و نسل کی تفریق اس کے لیے لایعنی ہو گئے۔ وہ جیو اور جینے دو کے نظریے کا مبلغ بن گیا۔ اس نے دوسروں کو معاف کرنے کا ہنر بھی سیکھ لیا۔ اب وہ خود امید کا ایک روشن چراغ بن کر زندہ رہنے لگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words