ہندوستان کے رونے اور افغانستان کے شاخسانے

لگتا ہے جیسے ہندوستان کی شہ رگ کو کسی نے آہنی انگوٹھے سے دبا دیا ہے کہ اس کی تو چیخیں نکل گئی ہیں۔ ”ارے بھئی صبر سے سکون سے۔“ چھوٹے چھوٹے چینلز اور یو ٹیوب والوں نے ٹاک شوز اور ٹاکروں کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ان میں مسلمان عورتوں اور مردوں سے بحث کا جو انداز اپنایا گیا ہے وہ اس قوم کی بیمار ذہنیت کا عکاس ہے۔ ایک شو میں مدعو مسلمان خاتون کا کہنا تھا کہ آخر آپ لوگ امریکہ کے کردار پر بات کیوں نہیں کرتے ہیں کہ وہ بیس سال پہلے وہاں کیا کرنے گیا تھا اور اب اس طرح کیوں نکلا۔

تم لوگوں کا تو وہ حال ہے کہ غصہ کمہار کا اور نکال کھوتے پر رہے ہو۔ میں نے تو طالبان کی حمایت میں کچھ بھی نہیں کہا ہے اور آپ ہیں کہ مجھے مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ شریعہ نظام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ اور ہندوستانی مسلمان بھی اسی نظام کے خواہش مند ہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ وہ افغانستان چلے جائیں۔ بھئی کیوں چلے جائیں۔ تم کوئی مامے ہو اس سرزمین کے۔ اظہار رائے کا مطلب کتنا الٹا لے رہے ہو۔

خاتون بھی بڑی دبنگ تھی۔ تکرار جب زیادہ بڑھی۔ وہ کھڑی ہو گئی۔ تم لوگ سچی بات سننا ہی نہیں چاہتے ہو جو میں کہنا چاہ رہی ہوں؟ اور نتیجہ یہ ہوا کہ خاتون واک آؤٹ کر گئی۔

اب مسلمان مرد کی کھلڑی ادھیڑنے لگے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ میں ہندوستانی ہوں۔ ایک محب وطن ہندوستانی ہونے کے ناتے مجھے اس کا احساس ہے کہ میرے ملک نے افغانستان میں بہت سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ہمیں مشتعل ہونے اور گھبراہٹ کی بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے۔ ہمارا ان کی طرف تعاون بھرا ہاتھ بڑھنا چاہیے۔

اب اس شاداب چوہان نامی شخص پر تابڑ توڑ حملے ہونے لگے۔ تان اسی پر توڑی جا رہی تھی کہ آپ لوگوں کی ہمدردیاں پاکستان اور ان طالبان کے ساتھ ہیں۔ جمعرات کی شام ایک چینل پر ایک تیز طرار اینکر پرسن ایک میجر کے ساتھ طالبان کے بخیے ادھیڑ رہی تھی۔ امریکہ کو کم، اشرف غنی پر بہت اور طالبان پر لعن طعن کا سلسلہ زیادہ زور و شور سے جاری تھا۔ عمران خان، چین اور روس پر نکتہ چینی ہو رہی تھی۔ کسی معتدل نے کہا۔ ہمارے لیے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی بہت بہتر ہے۔ مگر ان کے لہجوں کی کاٹ اتنی شدید تھی کہ لگتا تھا کہ جیسے بس نہ چل رہا ہو کہ داڑھیوں اور چپلوں والوں کا قیمہ کردیں۔

اف یہ خونی انقلابوں سے گزرنے والا ملک 1960 کی ساری دہائی، ظاہر شاہ کا عہد حکومت آنکھوں کے سامنے تھا۔ ہماری جوانی کے زمانے کے اس پر امن اور خوش حال ملک کا دارالحکومت کابل بڑا آئیڈیل اور خواب ناک قسم کا شہر تھا۔ جس کی یونیورسٹی میں سکرٹ اور اونچی ایڑی کے جوتے پہننے والی لڑکیاں پڑھتی تھیں جن کے بارے ہم پڑھ پڑھ کر ان پر رشک کرتی تھیں۔ اس شہر کے پارکوں، نہروں اور ریڑھیوں پر بکتے قندھاری اناروں، سیبوں کی تفصیلات سے ہم مستنصر حسین تارڑ کی ”نکلے تیری تلاش میں“ کو پڑھتے ہوئے شناسا ہوئے تھے۔ کابل کی رعنائیوں اور دل ربائیوں دونوں نے اسے دیکھنے کی تمنا دل میں جگائی تھی۔

ظاہر شاہ کے شاہی خاندان کی رسالوں میں چھپی تصویریں آج بھی یاد ہیں۔ ہائے ایسی ہوتی ہیں شہزادیاں اور ملکائیں۔ سوچا کرتے تھے۔ زمانہ شاید 1973 کا تھا جب ایک دن یہ خبر پڑھنے کو ملی کہ شاہی خاندان کا تختہ الٹا دیا گیا ہے۔ شاہ کا فسٹ کزن اور بہنوئی فوج کی مدد سے ملک پر قابض ہو گیا ہے۔ شاہ بیچارہ تو علاج کے لیے اٹلی گیا ہوا تھا۔ اگر یاداشت دھوکہ نہیں دے رہی ہے غالباً 1977 کا ہی سال تھا جب سردار داؤد پاکستان دورے پر آئے تھے۔

شالامار باغ میں استقبالیہ تھا۔ خوش قسمتی سے تقریب کا کارڈ مل گیا کہ گہری دوست کے میاں صدیق علوی منتظم اعلیٰ تھے۔ سردار داؤد فکری طور پر کمیونسٹ تھا۔ آغاز میں سوویت سے بہت متاثر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مسجدوں پر تالے لگا دیے، داڑھیوں پر پابندی لگ گئی۔ عورتوں کے لیے سکرٹ لازمی ٹھہرا۔ ظالم بھی بہت تھا۔ مخالف کو اغوا کرنا اور پار لگوانا اس کے لیے کھیل تماشے جیسا ہی تھا۔ بعد ازاں سوویت سے بھی تعلقات خراب کر لیے۔ 78 کے انقلاب میں پرو کمیونسٹوں کے ہاتھوں ہی مارا گیا۔ بڑی المناک موت تھی۔ اسے خاندان کے تیس ( 30 ) افراد کے ساتھ دو گڑھوں میں پھینک دیا گیا۔ نہ غسل، نہ کفن اور نہ ہی کوئی نماز جنازہ۔

2008 میں ایک اتفاقیہ کھدائی کے دوران دونوں قبریں دریافت ہوئیں۔ سردار داؤد کی شناخت ان کے جوتوں سے ہوئی جو اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہے تھے۔ یہ بڑے خاص الخاص جوتے تھے جو سوئیٹزرلینڈ کی ایک کمپنی اپنے اہم ممبران کے لیے بناتی تھی۔ شاہ ظاہر شاہ بھی یہی جوتے پہنتا تھا۔ یہ بھی اس کا ممبر تھا۔ جب قتل کے بعد لاش گھسیٹی گئی تو وہ یہی جوتے پہنے ہوئے تھا۔ اور پھر انہی سے اس کی پہچان ہوئی۔

کوہ ہندوکش کوہساروں کی اس زمین کے نصیب میں بھی امن چین نہیں۔ خون، وحشت اور بربریت ہی اس کا مقدر بن گیا ہے ۔ کبھی نور محمد ترکئی سے لے کر نجیب اللہ تک کمیونسٹ فکر کی چھتری نے لالوں لال کیا اور کبھی اسلامی سٹیٹ کی چھاؤں میں یہ لہولہان ہوا۔ بڑی طاقتیں بھی بھاگی بھاگی آئیں پر اسے برباد ہونے سے نہ بچا سکیں اور بیچ منجدھار کے چھوڑ کر بھاگ گئیں۔

اب ایک بار یہ پھر آزمائش کی سولی پر چڑھنے لگا ہے۔ ایسے میں دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ یہ نیا انقلاب اس کے لیے چین اور خوشحالی کا باعث بنے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words