مینار پاکستان واقعہ پر ردعمل


مینار پاکستان کی چھاؤں میں رونما ہونے والے واقعے پر تصویر کے دوسرے رخ کے حوالے سے کچھ بھی لکھنے سے قبل مجھے بہت اچھی طرح اندازہ تھا کہ لبرلز کی ایک فوج، وہ بمباری کرے گی جس کو سہنا آسان نہیں۔ اس کے باوجود اپنا اور ایک بڑے طبقے کا موقف پیش کیا کہ یہ لبرلز کی مخالفت سے دبایا نہیں جاسکتا۔

طالبان کی سوچ بدلی اور انہوں نے بھی اپنے بدلے ہوئے رویوں سے دنیا کو حیران کر دیا لیکن لبرل طبقے کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ آزادی رائے کے حق میں دھنا دھن تقریریں کریں گے لیکن یہ آزادی صرف اس صورت میں ہے جب بات ان کی سوچ اور مرضی کے مطابق ہو۔ اگر آپ نے ذرا بھی پس و پیش سے کام لیا تو پھر آپ کی خیر نہیں۔ جب کہنے کو کچھ نہیں رہ جاتا تو ماضی میں رونما ہونے والے وہ مکروہ واقعات یاد آ جاتے ہیں جس کا مینار پاکستان کے واقعے سے قطا کوئی تعلق نہیں

گزشتہ بلاگ میں واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ مینار پاکستان پر رونما ہونے والے واقعے کا کوئی جواز پیش نہیں جا سکتا۔ میں دوبارہ وضاحت سے دہرا دیتی ہوں کہ اگر یہ واقعہ پری پلان تھا یا عائشہ کی جگہ کوئی پیشہ کرنے والی خاتون ہی کیوں نہ ہوتیں جنہیں معاشرے میں طوائف کا نام دیا جاتا ہے، یا کوئی بھی انسان یا جانور بھی کیوں نہ ہوتا۔ اس کے ساتھ ہجوم کا یہ وحشیانہ رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اس کا کوئی بھی جواز تلاش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ روح لرزا دینے والے واقعے کے بعد کیا ہوا؟ محترمہ عائشہ کو ڈولفن اہلکار نے ریسکیو کیا تھا۔ جو انہیں تھانے لے گیا۔ اس واقعے کی فوری طور پر ایف آئی آر درج کیوں نہیں کی گئی؟ اگر یہ کہا جائے کہ پولیس اہلکاروں نے جرم کی پردہ پوشی کی غرض سے ایف آئی آر درج کرنے سے گریز کیا تو عائشہ نے کیا کیا؟ چپ رہیں؟ افسوس کے ساتھ اس کا جواب ہاں میں ہے۔

عائشہ نہ صرف اس وقت چپ رہیں بلکہ اس دل دہلا دینے والے واقعے کے اگلے دو روز تک سوشل میڈیا پر عام دنوں کی طرح ایکٹو بھی رہیں۔ یعنی وہ پوری طرح حواسوں میں تھیں۔ خوش قسمتی سے اگر وہ جلدی اپنے حواسوں میں واپس آ گئیں تھیں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انہیں فوری طور پر ایف آئی آر درج کرانے اور میڈیکل پر اصرار کرنا چاہیے تھا۔ اگر پولیس اہلکاروں کی ہٹ دھرمی کے باعث ایسا ممکن نہیں ہو رہا تھا تو تین دن تک اپنی دلکش تصاویر کے اشتراک کے بجائے ایک ٹک ٹاک ویڈیو بنا کر اپنے ساتھ رونما ہوئے ظلم سے دنیا کو آگاہ کر سکتی تھیں۔

لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اگر انہیں یہ خیال نہیں آیا تھا تو ان کے دوست سہیل عرف ریمبو کو تو یہ خیال آ سکتا تھا۔ ریمبو عائشہ کے پارٹنر ہیں جو مبینہ طور پر عائشہ کے والدین کی مرضی کے خلاف کئی مہینوں سے ان کے گھر میں رہائش پذیر تھا۔ اس بارے میں مخالفت برائے مخالفت کے قائل لوگ کیا تبصرہ پیش کریں گے کہ پولیس نے ریمبو کو بھی شامل تفتیش کیا ہے؟

دو تین روز بعد جب ویڈیوز وائرل ہوئیں تو ٹک ٹاک پر بے ہودہ مواد کے حوالے سے پہچانی جانے والی عائشہ کو معاملہ اچھالنے اور ایف آئی آر درج کرانے کا خیال آیا۔ پانچ دن تک ان کا میڈیکل تک نہیں کیا گیا تھا

اگر یہ پلاننگ کا نتیجہ بھی تھا تو یقیناً محترمہ نے اتنا بڑا حادثہ ہونے کی توقع ہرگز نہیں کی ہوگی۔ لیکن قوم کا سر تو شرم سے جھک گیا۔ یہ وہ بدنما داغ ہے جو برسوں تک مندمل نہیں ہوگا۔ ملک کے دوسرے بڑے شہر میں دن دیہاڑے ڈھائی گھنٹے تک شرمناک کھیل کھیلا جاتا رہا، پولیس کہاں غائب تھی۔

پولیس سے یاد آیا گزشتہ روز صحافی خاتون سبین آغا کی جانب سے ٹویٹ کی گئی۔ بختاور بھٹو کے ردعمل نے اس ٹویٹ کو خبر بنا دیا۔ سبین نے بتایا کہ کچھ سال قبل چودہ اگست کے روز صحافتی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے ہجوم نے ان کے ساتھ بھی نامناسب سلوک کیا تھا۔ خوفزدہ ہو کر پولیس سے مدد مانگی تو اہلکاروں نے کہا ہم چار اہلکار ہیں اور وہ ایک سو چالیس، ہم آپ کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟ یہ جواب ہے ہمارے محافظوں کا۔

چار سو درندوں کی تلاش میں

پولیس دھڑا دھڑ گرفتاریاں کر رہی ہے تاکہ میڈیا کا منہ بند کیا جاسکے۔ لیکن گرفتاریوں کے نام پر عجب تماشا ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز ایک اکہتر سالہ بزرگ کو حراست میں لیا گیا جو وقوعہ کے وقت اپنے محلے میں موجود تھے۔ جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی موجود ہے۔ جن تین افراد کو متاثرہ ٹک ٹاکر نے شناخت کیا ہے وہ وہی دلیل دے رہے ہیں کہ ہجوم کا حصہ تھے لیکن شرمناک کھیل میں شریک نہیں تھے۔ ان فوٹیجز کی بنیاد پر قانونی طور پر کسی ایک شخص کو بھی سزا نہیں دی جا سکتی جس میں چہرے واضح نہیں۔ اور اگر کوئی واضح چہرہ ہے تو اس کی دلیل یہی ہے کہ سر جی میں تو باجی کو بچانے کی کوشش کر رہا تھا۔

اگر ہم مستقبل مین اس قسم کے واقعات سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں ذمہ داران کو کٹہرے میں لانا ہی ہوگا۔ پولیس افسرز کے عہدوں سے برطرفی اور معطلی سے کبھی یہ مسئلے حل نہیں ہوئے ساتھ ہی سستی شہرت کی طلب گار متاثرہ خاتون سے بھی سوال کرنے ہوں گے۔ یہ ایسا واقعہ ہے جسے بہت آسانی سے روکا جاسکتا تھا۔

اگر ریاست قانون کے نفاذ میں سختی سے کام لیتی تو سیکیورٹی کی سنگین غفلت ممکن تھی نہ ہی عائشہ صاحبہ کو اتنی جرات ہوتی کہ وہ اپنے بے ہودہ فینز کو یوں مدعو کر کے دھماکے دار ویڈیوز ریکارڈ کرنے کا منصوبہ بناتیں۔

ٹک ٹاکر عائشہ کے متعلق بات کرنا ان چار سو بھیڑیوں کی حمایت بالکل نہیں

Facebook Comments HS