مردانگی کی بیماری کا علاج انسانیت سے کریں


کیا آپ کے باپ بھائی بھی ایسے ہیں؟ لگتا ہے آپ نے زندگی میں کوئی اچھا مرد نہیں دیکھا تبھی آپ مردوں کے خلاف ہیں، دیکھیں چند گنے چنے مردوں کی وجہ سے ہم سب مردوں کو برا نہیں کہہ سکتے، جن مردوں نے خواتین کو ہراساں کیا وہ جاہل تھے لیکن معاشرے میں اچھے مرد بھی ہیں جو ہمیں بیٹی، بہن، ماں سمجھ کر تحفظ دیتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

پچھلے چند دنوں سے خواتین کے ساتھ پیش آنے والے بیہودہ واقعات نے غیرت مند مردوں اور مشرقی اقدار کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے لیکن ظاہر ہے جس جرم کو ملک میں نظریاتی تحفظ حاصل ہو معاشرے میں اس سے بھڑنا آسان تو نہیں۔ افسوس تب ہوتا ہے جب نرد کی بورڈ جہادیوں کے علاوہ کچھ مراعات یافتہ خواتین بھی اپنی پاکدامنی جھاڑنے کے لئے مردوں کی شان میں قصیدے پڑھتی نظر آتی ہیں اور باپ، بھائی، بیٹوں کے کردار یاد دلا کر اپنی ہی جنس کو مورد الزام قرار دیتی ہیں۔

دیکھیں جب ہم بات کرتے ہیں ”مرد“ کی تو اس سے مراد کسی کے باپ، بھائی یا بیٹے پر انگلی اٹھانا نہیں ہوتا بلکہ اس سے مراد معاشرے کی اس تعصبانہ سوچ کو نشانہ بنانا ہوتا ہے جو مرد اور عورت میں مرد کا پلڑا بھاری کر کے دونوں کے درمیان توازن قائم نہیں ہونے دیتا۔ جب مردوں پر تنقید کی جاتی ہے تو اس تنقید کا مقصد عورتوں کے مقابلے میں مرد کو ملنے والی اس بے جا آزادی کو نشانہ بنانا ہوتا ہے جس کی وجہ سے مرد اپنی حدیں پھلانگتا ہوا عورت کی زندگی میں مداخلت کرنا اپنا فرض سمجھنے لگتا ہے۔ آپ کا یا میرا بھائی، باپ، بیٹا کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو ہم معاشرے میں بحیثیت انسان ان کے کردار کے بارے میں کوئی حتمی رائے نہیں دے سکتے۔

قصور وار ہوتے ہوئے بھی ہر واقعے ہر حادثے کی ذمہ داری عورت پر ڈالنے والے مرد کو یہ حق کس نے دیا کہ وہ عورت کو بتائے کہ اسے کیسے کپڑے پہننے ہیں اور کیسے نہیں؟ میرا جسم میری مرضی کے نعرے پر بلبلا کر اللہ کا دیا جسم اور اللہ کی مرضی کا نعرہ بلند کرنے والے مرد اپنی آنکھیں اللہ کے بنائے حکم پر نیچی کیوں نہیں کرلیتے؟ سب سے اہم سوال اگر آپ کے خیال میں مرد کو خدا نے عورت سے اونچا درجہ دیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ برتر درجہ رکھنے والا مرد عورت کا ٹخنوں سے اوپر پائنچہ دیکھ کر ہی اپنے حواس کھو دیتا ہے؟

یہ واقعی برتری ہے یا غنڈہ گردی ہے کہ میں تو سب کروں گا کیونکہ میں مرد ہوں اور برتر ہوں۔ نفسیات کی تھوڑی بہت بھی سوجھ بوجھ رکھنے والا عام سا انسان یہ سمجھ سکتا ہے کہ برتری کا درجہ اپنے ساتھ گھمنڈ بھی لے کر آتا ہے۔ اس کے بعد بھی آٹے میں نمک کے برابر مردوں کی نیکی کے قصے سنا کر باقی مردوں پر لعن طعن سے باز رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، مرد کو محافظ کہہ کر غلامی برقرار رکھنے کی نئی تاویلیں گھڑی جاتی ہیں۔ بھئی دو ہاتھ اور دو پاؤں رکھنے والا ہمارے جیسا ہی انسان کا طرح سے ہمارا محافظ ہو گیا؟

اور ہمیں نہیں چاہیے انسانی تحفظ۔ تحفظ دینا تو ریاست کا کام ہے ریاست کی ذمہ داری ہے۔ کون سا ترقی یافتہ ملک ہے جہاں لڑکی کے ساتھ اس کا بھائی اسکول، کالج، یونیورسٹی چھوڑنے لازمی جاتا ہے؟ کہیں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ مرد ہو یا عورت ان کو تحفظ دینا ان کی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں نہیں چاہیے کوئی مرد جو راستوں میں ہمیں اپاہج اور کمزور سمجھ کر سامان اٹھانے میں مدد کرے اور اس مہربانی کے عوض ہم وہ کرنے کے پابند ہوں جس کو کرنے کی اجازت انسانی غیرت نہیں دیتی۔

مینار پاکستان میں پیش آیا واقعہ صرف چار سو مردوں کا گھٹیا پن نہیں ہے بلکہ معاشرے میں مرد کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ وہ ذہنیت ہے جس نے چنگ چی میں جاتی لڑکیوں سے بیہودگی کی، وہ ذہنیت ہے جو قبر میں لیٹی عورت اور مدرسے میں پڑھنے والے بچے کو بھی نہیں چھوڑتی۔ یہ ذہنیت ہے کہ میں مرد ہوں میں برتر ہوں مجھے معلوم ہے میں کچھ بھی کروں گا گالی مجھے نہیں بلکہ کسی کمزور کو ہی پڑے گی۔ یہ ذہنیت ان تمام مردوں کے لئے آب حیات کا درجہ رکھتی ہے جو کسی نہ کسی صورت کسی کمزور پر غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اسی وجہ سے چار سو ان پڑھ مردوں کا دفاع سوشل میڈیا پر پڑھا لکھا طبقہ بھی کرتا نظر آتا ہے کیونکہ وہ ہر حال میں معاشرے میں اپنی برتری قائم رکھنا چاہتے ہیں اور اسی لئے ہر واقعے کی ذمہ داری واقعے کا شکار ہونے والے پر ڈال دی جاتی ہے۔

جب کچھ نہیں بن پڑتا تو وحشیانہ سزائے موت کی تجویز پیش کر دیتے ہیں تاکہ بھلے ایک دو لوگ مر بھی جائیں لیکن ان کی اجارہ داری اور معاشرے میں برتر ہونے کا احساس سلامت رہے۔ مردانگی نامی بیماری سے جڑا کوئی بھی جرم اس وقت تک روکنا ممکن نہیں جب تک عورت کو مرد کے برابر انسان کا درجہ نہ دیا جائے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داری کا احساس نہ کر لیں۔ پھر جس طرح مردوں کو سڑک پر رفع حاجت کرتے ہوئے دیکھ کر بھی عورتوں کی شہوت نہیں بھڑکتی، ٹھیک اسی طرح عورت کو ٹک ٹاک وڈیو میں ڈانس کرتے دیکھ کر مرد کی شہوت بھی قابو میں رہے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words