افغان راجکماری کا سوئمبر اور جالندھر کی کنڈیکٹری

طالبان گذشہ بیس برس میں اتنے بدل گئے ہیں کہ وہ افغانستان میں اقتدار کی خاطر کسی کے ساتھ بھی ہاتھ ملا سکتے ہیں اور ہاتھ کر سکتے ہیں، خواہ وہ پرانا مربی پاکستان ہو یا پرانا دشمن امریکہ، پرانا ‘کافر’ ایران ہو یا بلکل ملحد کمیونسٹ چین اور روس۔
اقلیت نے جب بھی اکثریت پر اپنے نظریات ٹھونسنے اور قابو پانے کا ارادہ کیا ہے مذہبی تقدس کا راستہ اپنایا ہے، یہی واحد راستہ طالبان نے پہلے بھی چنا تھا اور اب بھی اسی راستے سے اکثریت کی مرضی خوشی اور خواہش کے خلاف مذہب کے لبادہ میں اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس لئے ان سے جب بھی انٹرویو میں پوچھا جاتا ہے کہ قوم کی مرضی کا کچھ ادراک ہے؟ وہ اس سوال کا جواب دینے کی بجائے الٹا سوال کرتے ہیں کہ قوم بیس سال کہاں تھی جب ہم امریکہ کے خلاف لڑ رہے تھے؟ ہاتھ میں بندوق پکڑ کر سوال کرنے والے کو ہاتھ میں مائیک پکڑے ہوئے صحافی کیا جواب دے سکتا ہے؟
سوشل میڈیا پر کسی نے ایک آڈیو کلپ بھیجی ہے، جس میں طالبان کے ساتھ لوکل کمیٹی کا ایک نامزد علاقائی عوامی رکن طالبان عہدیدار سے کسی طالب کمانڈر کی شکایت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ لوگوں نے مجھے طالبان کے ساتھ گاؤں کی طرف سے رابطہ ممبر مقرر کیا ہے، آپ نے ہمیں جو قومی جھنڈے بھیجے تھے جب ہم وہ لگا رہے تھے تو فلاں کمانڈر نے بندوق کے زور پر ہمیں روکا۔ طالبان عہدیدار نے اس رابطہ ممبر کو بتایا کہ اس کمانڈر نے ٹھیک کیا ہے۔ سرکاری طور پر ہم کہتے ہیں کہ افغانستان کا پرانا جھنڈا ہمارا بھی جھنڈا ہے لیکن ہمارا حقیقی جھنڈا یہی سفید کلمے والا جھنڈا ہے۔ رابطہ کار اسے آگے کہتا ہے کہ پرانا جھنڈا قومی جھنڈا ہے، کافروں کا نہیں ہے، اس پر بھی کلمہ لکھا ہوا ہے۔ طالبان عہدیدار اسے دھمکاتے ہوئے جواب دیتا ہے کہ قوم کی حیثیت میرے لئے پرِ کاہ کے برابر نہیں، میں آؤنگا تو تجھے بھی سیدھا کردوں گا۔
یوں لگتا ہے افغانستان کروڑوں افغانوں کا ملک نہیں، قدیم زمانے کی کوئی راجکماری ہے، جسے طالبان نے طاقت کے زور پر سوئمبر میں جیتا ہے۔ وہاں کے کروڑوں لوگوں کی اب کوئی آواز ہے، نہ کوئی خواہش اور نہ کوئی حیثیت۔ پہلے امریکیوں نے طالبان کو شکست دینے کیلئے ان کو شطرنج کے بساط پر رکھے ہوئے مہروں کی طرح استعمال کیا اب طالبان اپنی اقتدار کی خاطر ان کو پرِ کاہ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ تبھی تو ڈاکٹر اور قومی فٹ بال ٹیم کے کھلاڑی تک ان سے بھاگنے کیلئے زندگی کا جوا کھیلتے ہوئے جہاز کی ٹائروں کے ساتھ لٹکنے کیلئے تیار ہیں۔
باجوڑ کے نواب کے خلاف ایوب خان کے دور میں فوج بھیج دی گئی تو دوسری طرف کے ملک بھی اپنی لشکروں کو تیار کرنے لگے۔ اس تیاری کے دوران کوئی پاکستانی جہاز صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے لشکر کے اوپر اڑنے لگا، لشکر نے اپنی دیسی بندوقوں سے جہاز پر فائرنگ کی تو جہاز روشنی کے گولے چھوڑتا ہوا پہاڑ کی اوٹ میں غائب ہوا۔ سارے لشکری اس طرف بندوقوں سمیت دوڑ پڑے جہاں ان کے خیال میں انہوں نے جہاز مار گرایا تھا۔ سب سے بڑے ملک نے لشکر پر بندق تانتے ہوئے دھمکی دی کہ خبردار کسی نے جہاز کو ہاتھ لگایا تو، میں نے جہاز گرایا ہے، میں اس کا ڈرائیور اور میرا بیٹا جالندھر اس کا کنڈیکٹر ہوگا۔ طالبان کے وڈیو کلپس جس میں وہ بیانات اور انٹرویوز دیتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں، چیخ چیخ کر اعلان کرتے ہیں کہ میں افغانستان کا ڈرائیور اور جالندھر اس کا کنڈیکٹر ہوگا۔ ہر کوئی بندوق تھامے بول رہا ہے ہر کوئی بندوق سیدھی کرتے ہوئے مذاکرات کر رہا ہے۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ وہ بدل گئے ہیں کیونکہ پہلے وہ گولی مارکر مذاکرات کی بات کرتے تھے اب بندوق تان کر مطالبہ کرتے ہیں۔ اس لئے اب وہ طالبان کم مطالبان زیادہ لگتے ہیں۔
ان کو احساس ہے کہ وہ اقلیت میں ہیں، اس لئے وہ اسلامی شریعت کے لبادے میں چھپ کر الیکشن سے کنی کتراتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عوام ان کو پسند نہیں کرتے اس لئے وہ بندوق لہرا کر کہتے ہیں کہ عوام کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں۔ ان کو کوئی خدشہ ہے اس لئے وہ بیانات اور انٹرویوز دیتے ہوئے بھی بندوق رکھنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ سہ رنگا جھنڈا سفید سے، کابل قندھار سے اور جمہوریت ‘اسلامی نظام’ سے بدل کر وہ پی ٹی آئی کی طرح محض نعرہ بازی سے قوم کو ورغلانا چاہتے ہیں ورنہ دونوں کا سیاسی بیانیہ تک  ایک جیسا ہے۔ یہاں سب کچھ نواز شریف لوٹ کر لے گیا ہے وہاں سے سب کچھ اشرف غنی لوٹ کر لے گیا ہے۔ جس طرح عمران خان نے آسانی سے حکومت قبضہ کی  لیکن حکومت چلانے میں مشکلات کا شکار ہے اسی طرح کابل پر آسانی سے بندوق کی زور قبضہ کرنے کے بعد ان کی اصل مشکلات شروع ہو گئی ہیں، تبھی تو دونوں ریاست مدینہ اور اسلامی نظام حکومت کے لولی پاپ بیچ رہے ہیں۔
افغانی کرنسی تیزی سے گر رہی ہے۔ تعلیم یافتہ، ہنرمند، دولت مند اور درمیانی طبقے سے تعلق رکھنے والے افغان ملک چھوڑ رہے ہیں، جن کے ساتھ ان کا پیسہ، ہنر، روزگار، پیداوار اور ہنر بھی باہر منتقل ہو رہا ہے۔ جب ڈاکٹر ہوگا نہ انجنئیر، پائلٹ ہوگا نہ پروفیسر، سرمایہ اور سرمایہ دار ہوگا نہ کارخانے چلانے والے ہنرمند، تو پھر مدرسہ کے استاد ہی افغان نیشنل بنک کی گورنری کیلئے بچ جاتے ہیں۔ پھر پانی کے وزیر وضو اور غسل میں پانی کفایت سے استعمال کرنے کی تاکید کرتے نظر آئیں گے۔
جس اسلامی نظام کو طالبان رائج کرنا چاہتے ہیں، اس میں امیر کا انتخاب کیسے ہوگا؟ ضرورت پڑنے پر امیر کو کیسے برطرف کیا جائے گا؟ وامرکم بینھم شوری میں عوام شامل ہونگے یا آیت صرف مولویوں کیلئے نازل کی گئی ہے؟ اگر نہیں تو پھر شوری میں ڈاکٹر انجینئر پروفیسر سیاسی اقتصادی اور پیشہ ورانہ ماہرین شامل ہونگے یا صرف پانچ اور آٹھ سال مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے ‘علماء’ ہی ارکان شوری ہونگے؟ کیونکہ آخر کس دلیل کے بناء پر ڈاکٹر پروفیسر سیاسی اقتصادی اور پیشہ ورانہ ماہرین ‘علماء’کے مقابلے میں احمق ٹھہرتے ہیں؟
چاروں خلفائے راشدین کی نامزدگی مختلف طریقہ کار کے تحت ہوئی تھی، کس دلیل کے تحت حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق اور حضرت علی کی نامزدگی اور بیعت کے طریقے کو رد کرکے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنھما کے طریقہ نامزدگی کو اختیار کیا جائے گا؟ کیا نئی حکومت میں خواتین کو حصہ دیا جائے گا؟ آزادی اظہار کا حق اور اقلیتوں کو برابری دی جائے گی؟ کیا افغانستان کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جدید دنیا کے علوم حاصل کرنے کے حقدار ہونگے؟ عدالتیں قانونی ماہرین چلائیں گے یا مولوی؟ وکیل کرنے اور مجرموں کو پکڑنے اور سزا دلوانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے گا؟ سیاسی پارٹیاں اور سیاسی سرگرمیاں ہونگیں؟ سیاسی مخالفین کو برابر کی حیثیت دی جائیگی یا خوارج باور کرا کر قتل کئے جائیں گے؟ غیرملکی شدت پسندوں کو پناہ دی جائیگی یا جلاوطن کئے جائیں گے؟
ان جیسے بہت سارے سوالات کے جوابات، حکومت ملنے کے بعد طالبان سے کئے جائیں گے اور اطمینان بخش جوابات اور اقدامات کے بعد دنیا ان کی حکومت تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔ بصورت دیگر طالبان پر ہر قسم کے فوجی مالی معاشی تجارتی اور سفری پابندیاں لگا دی جائیں گی۔ جس سے نہ صرف حکومتی انتظامی مشینری رک کر ختم ہو جائے گی بلکہ جو بین الاقوامی امداد اور ترقیاتی منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گے۔ اسلامی نظام حکومت شہریوں کے ہاتھ پیر کاٹنے اور سنگسار کرنے کو نہیں کہتے بلکہ عوام کو بہتر زندگی، آسانیاں، روزگار، امن، ضروری سہولیات، تعلیم، تحفظ، صحت اور احترام انسانیت کو کہتے ہیں۔
طالبان تزویراتی طور پر خود کو کابل میں محفوظ محسوس نہیں کرتے۔ کیونکہ کابل غیرملکی سفرا کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم یافتہ شہریوں کا بین الاقوامی معیار کا شہر ہے، جہاں طالبان خود کو اور اپنے طور طریقوں کو اجنبی سمجھتے ہوئے احساس کمتری کے شکار ہیں۔ اس لئے وہ ہر سوال، ہر مطالبے اور ہر مزاحمت کو بندوق لہرا کر روک رہے ہیں۔ کابل جدید نظریات اور ہماہمی پر مبنی ایک کثیر النسلی شہر ہے، جہاں کی اپنی سیاسی معاشرتی اور اقتصادی حرکیات ہیں،جہاں پر قبضہ کرنا آسان اور جہاں کا دفاع بہت مشکل ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں قندھار، جہاں طالبان اپنا دارالحکومت منتقل کرنے کا سوچ رہے ہیں، تقریباً یک نسلی پس منظر کا کم تعلیم یافتہ اور مذہبی طبقے کے گرفت میں موجود ایک خوابیدہ چھوٹا شہر ہے، جو طالبان کو سپلائی کرنے والی نرسری، کوئٹہ سے بہت قریب اور ہم رنگ ہے۔ قندھار کو دارالحکومت کی مشینری منتقل کرنے سے بلکل واضح ہو جاتا ہے کہ امریکہ کو ‘شکست’ دینے والے طالبان کابل میں خود کو کتنا غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں، جب کہ دوسری طرف بین الاقوامی برادری بھی کابل سے اپنے شہری اور سفارتکار نکالنے میں اس طرح مصروف ہیں جیسے وہاں پر کوئی بہت بڑی آفت آنے والی ہو، تبھی تو غریب گاڑیوں میں اور امیر جہازوں میں طالبان کے اسلامی نظام سے بھاگ رہے ہیں۔
Comments - User is solely responsible for his/her words