پاکستان میں پشتون محفوظ کیوں نہیں؟
14 اگست یوم آزادی پاکستان کے دن، پاکستان کے سب سے بڑے، روشنیوں کے شہر کراچی میں خوازہ خیلہ سوات سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 13 خواتین اور بچوں کو شہید کیا گیا۔ یہ واقع 14 اگست کی شام پیش آیا۔ جب ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے خواتین اور بچے شادی کی تقریب سے شازور ٹرک میں واپس گھر آرہے تھے۔ تو بلدیہ ٹاؤن کی حدود میں نامعلوم حملہ آوار نے روسی ساختہ گرنیڈ سے گاڑی پر حملہ کر دیا۔ جس سے موقع پر 13 افراد جن میں 7 عورتیں اور 6 بچے شامل ہیں۔ جاں بحق ہو گئے۔ جبکہ 7 بچے اور خواتین شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں بستر مرگ پر پڑے ہیں۔ ان بچوں کے ماتھوں پر یوم آزادی پاکستان کی مناسبت سے بنے سٹیکر لگے تھے۔ کسی بھی معاشرے میں عورتوں اور بچوں پر حملہ نہایت بزدلانہ فعل ہے۔ ان بچوں اور عورتوں نے کسی کا کچھ بھی نہیں بگاڑا تھا۔ یہ تو خاندان کی شادی میں شرکت کے بعد گھر واپس آرہے تھے۔ خوازہ خیلہ سوات سے تعلق رکھنے والا یہ خاندان پیٹ پالنے کی خاطر عرصہ دراز سے کراچی میں مقیم ہیں۔
ان پھول جیسے بچوں کو کیا پتہ کہ وہ ملک جس کی آزادی منانے کے لیے وہ اپنے چہروں پر سٹیکرز سجھا رہے ہیں۔ اس ملک کے باسیوں کو ان سے اتنی نفرت ہوگی۔ کہ ان کے حق کے لیے آواز نہ اٹھا سکے۔ پاکستانی میڈیا نے خبر تک کو شائع نہیں کیا۔ کیوں کہ ملک خدا داد پاکستان میں پشتون قوم کی خون کی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ سوات 1965 تک آزاد ریاست تھی۔ جنہوں نے پاکستان کے ساتھ یک جہتی کے طور پر پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ ریاست کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ریاست کے تمام باسیوں کو یکساں نظر سے دیکھے۔
اور ان کو تحفظ فراہم کریں۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کراچی جو اس وقت پشتونوں کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یعنی دنیا کے کسی بھی شہر میں سب سے زیادہ پشتون کراچی میں مقیم ہیں۔ اس وقت کراچی سے 7 ایم این ایز کا تعلق پشتون قوم سے ہیں۔ لیکن پشتون قوم کو 1965 کے بعد سے کراچی میں ہمیشہ ٹارگٹ کیا جاتا رہا ہے۔ ہزاروں لاشیں اٹھ چکی ہیں۔ پشتون قوم کے کسی قاتل کو سزا نہیں ملی۔ محض چند سال پہلے کراچی میں نقیب اللہ محسود کو شہید کیا گیا۔ ان کے قاتل انور راؤ کو آج بھی سرکار کی سرپرستی حاصل ہے۔
آخر کب تک پشتون قوم کو ٹارگٹ کیا جائے گا؟ آخر پشتون قوم کا خون اتنا ارزاں کیوں؟ آخر پشتون قوم کا گناہ کیا ہے؟ پشتون قوم کے مسائل پر میڈیا خاموش کیوں ہیں؟ کراچی، کوئٹہ، پشاور، سوات میں پشتون قوم کا قتل عام کیوں؟ کیا سٹیٹ پشتون قوم کو تحفظ فراہم نہیں کر سکتی؟ ہمیشہ پشتون قوم کو کیوں قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے؟ پشتون قوم کے ساتھ نا انصافیاں بند کی جائے! ہمیں ہمارے گناہ بتائے؟
صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا۔ ہمیں سر پر کفن باندھ کر میدان میں نکلنا ہوگا۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر پشتون قوم کی خاطر لڑنا ہوگا۔ حق کو بہت مانگا اب زبردستی چھیننے کا موقع ہیں۔ ورنہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔


