یکساں قومی ”نصاب“ اور ”نظام“

16 اگست 2021 سے موجودہ وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ کے سوا ملک بھر میں یکساں قومی نصاب کے نفاذ کا اعلان کیا۔ جس کے بعد ملک کے تعلیمی حلقوں میں ایک قسم کی بحث چھڑ گئی، اساتذہ بھی اس نہیں نصاب سے متعلق تذبذب کا شکار نظر آئے چونکہ اس نصاب کے حوالے سے کوئی تربیت نہ دی گئی تھی، اور والدین بھی پریشان معلوم ہوئے۔

بلوچستان کی صوبائی حکومت نے رواں سال سے یہ نصاب نافذ کرنے سے معذرت ظاہر کردی، البتہ اگلے تعلیمی سال مارچ 2022 میں اس نصاب کو صوبے میں نافد کرنے کی یقین دہانی ضرور کرائی گئی ہے۔ جبکہ حکومت سندھ اس نصاب پر آمادہ ہونے کے لئے تیار نہیں۔ وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے ساتھ یکساں قومی نصاب پر بات چل رہی ہے امید ہے کہ سندھ میں بھی اس نصاب کا نفاذ ہو جائے گا۔ جبکہ سندھ کے وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ وہ صوبے میں وفاقی حکومت کا یکساں نصاب نہیں پڑھائیں گے۔

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں کے صوابدید ہے۔ اس لیے صوبوں کو حق ہے کہ وہ اپنا نصاب تیار کریں۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا تھا کہ یکساں قومی نصاب پی ٹی آئی کے منشور کا حصہ ہے۔ اس لیے سندھ حکومت پر یہ فرض نہیں ہے کہ وہ تحریک انصاف کے انتخابی منشور کو پورا کرے۔ یکساں قومی نصاب سندھ کی شرکت کے بغیر قومی اور یکساں نصاب نہیں بن سکتا۔

وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ سندھ سائنس کے مضامین میں چند بہتر تبدیلیاں قبول کر سکتا ہے۔ لیکن سماجی علوم میں، ہر صوبے کی اپنی تاریخ، ثقافت اور ہیرو ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنے نصاب میں قومی ہیروز کے اسباق کو شامل کیا ہے۔ اگر ہم اردو اور انگریزی کے ساتھ سندھی پڑھانا چاہتے ہیں تو یہ ہمارا آئینی اور تاریخی حق ہے اور ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔

میرے خیال سے ایک حوالے سے وزیر تعلیم سندھ کا یہ موقف کافی حد تک درست ہے۔ لیکن، یکساں نصاب پر صرف سندھ کو ہی اعتراضات نہیں بلکہ دیگر تعلیمی ماہرین نے بھی نصاب پر مختلف اعتراضات و خدشات کا اظہار کیا ہے۔ آئیے سب سے پہلے شفقت محمود کا نصاب کے حوالے سے موقف جانتے ہیں اور آگے چل کر مختلف اعتراضات آپ کے سامنے عرض کرنے کی جسارت کریں گے۔

یکساں تعلیمی نصاب کی ضرورت کیوں پڑی؟

15 اگست کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفقت محمود کا کہنا تھا کہ موجودہ تعلیمی نظام نا انصافی پر مبنی ہے۔ ایک چھوٹا طبقہ خاص قسم کی تعلیم حاصل کر رہا ہے اس کے لئے زندگی میں آگے بڑھنے کے بے شمار مواقع ہیں اور ایک طبقہ وہ ہے جو سرکاری اسکولوں اور مدارس میں تعلیم حاصل کرتا ہے اور ان کے لئے دشواریاں بے پناہ ہیں۔

اور اسی طرح موجودہ نظام نے معاشرے کو بھی تقسیم کر دیا۔

وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ یکساں تعلیمی نصاب کے مطابق ناظرہ تک قرآن شریف کی تعلیم لازمی کی گئی ہے۔ بچوں کی تربیت کے لئے سیرت النبی نبی صلی اللہ علیہ والہٖ و سلم کی زندگی کے واقعات کو بھی نمایاں حیثیت دی گئی ہے۔

شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ یکساں تعلیمی نصاب ملک کے لئے ایک انقلابی قدم ثابت ہوگا۔
یہ تھا شفقت محمود کی پریس کانفرنس کا کل حاصل۔
اس وقت ہمارا تعلیمی نظام تین حصوں میں تقسیم ہے :

پہلا ہے پرائیویٹ اسکول، جہاں پر صرف وہی بچے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ہوں۔ ان اسکولوں میں تعلیمی اخراجات صرف وہی والدین برداشت کر سکتے ہیں، جن کے پاس بے دریغ دولت کے خزانے ہوں۔

دوسرا سرکاری اسکول: یہاں درمیانی طبقے سے تعلق رکھنے والے والدین کی اولاد کچھ حد تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

تیسرا ہے مدارس کا نظام: جہاں پر صرف غریب ترین طبقے سے تعلق رکھنے والے طلباء ملیں گے۔
شفقت محمود نے بجا فرمایا کہ یہی نظام آگے چل کر معاشرے میں واضح تقسیم لے کر آتا ہے۔

جیسے کہ پرائیویٹ اداروں، ایچیسن، بیکن ہاؤس جیسے اداروں میں پڑھنے والے ہی ملک سیاسی اور معاشی طور پر غالب ہیں۔

سرکاری اسکولوں میں پڑھنے والے درمیانی طبقے سے تعلق رکھنے والے ہمیں اکثر سرکاری نوکریوں کے لئے ڈگریاں فوٹوکاپی کراتے نظر آتے ہیں، ان کی سوچ اکثر چھوٹی موٹی (معاشرتی لحاظ سے ) سرکاری نوکری تک ہی محدود ہوتی ہے۔

اور اسی طرح انتہائی پست حال مدارس کے غریب طلباء بھی مختلف روزگار حیات کے ساتھ منسلک ہو جاتے ہیں۔

وطن عزیز میں روز اول سے ہی تعلیمی نظام کو کوئی خاص توجہ تو نہیں دی گئی تھی، البتہ اس کا مزید بیڑہ غرق کرنے اور طبقاتی تقسیم کو مزید وسعت دینے کا سہرا جنرل ضیاء الحق کو ضرور جاتا ہے۔ جنرل صاحب ملک میں اسلامی نظام کا نعرہ بلند کر کہ میدان عمل میں کود پڑے۔ ہر جگہ، ہر شعبے میں اسلامی نظام متعارف کرانے کی ٹھان لی، اور پھر وطن عزیز ایسا بھٹکا کہ آج تک سنبھل نہیں پایا۔ اسی تسلسل میں مدارس میں بھی ایک خاص قسم کی ذہنیت پیدا کی گئی اور پھر ان سے مجاہدین کا کام لیا گیا۔ اسی دوران نجی تعلیمی ادارے بھی خوب پھلے پھولی اور یونہی یہ طبقاتی تقسیم پروان چڑھتی گئی۔ مدارس کے غریب پاکستانی بچے افغان جہاد کے محاذ کے لئے تیار کیے گئے اور دوسری طرف بڑے بڑے چم چماتے ہشاش بشاش محل نما نجی ادارے آل اشرافیہ کے لئے مختص کیے گئے۔

یکساں نصاب کے حق میں کچھ ماہرین و تجزیہ نگار یہ بھی لکھتے ہیں کہ دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کے لئے کسی بھی ترقی پذیر ملک کے لئے تعلیم کے لئے ایک متفقہ فریم ورک رکھنے کا ایک صحیح وقت کئی دہائیاں پہلے تھا اور ہمارے لئے دوسرا صحیح وقت اب ہے۔

یکساں نصاب کے حق میں ایک عام تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ اس سے امتحانی عمل کے ذریعے ملک کے بچوں کے درمیان تفریقات ختم ہو جائیں گے۔ پورے ملک میں بچے بلا صنفی، سماجی و معاشی امتیاز یکساں کورس پڑھیں گے، اور ان کا امتحان بھی یکساں انداز میں لیا جائے گا۔ کئی لوگ یہ مانتے ہیں کہ اس طرح بچوں میں پائی جانے والی تفریقات کو ختم کیا جاسکے گا اور سب کو برابر مواقع کی دستیابی ممکن ہو سکے گی۔

کچھ لکھاری اس نصاب کے فائدے بیان کرتے ہوئے یہ بھی لکھتے ہیں کہ یکساں نصاب سے اسکول جانے والے بچے بھی اسلام کی تعلیم سے آشنا ہوں گے اور مدارس کو بھی باقاعدہ اسکولنگ کے دائرے میں لایا جائے گا، لاکھوں مدرسے کے طباء کو ملک کے دیگر طلباء کی طرح تعلیم حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

جبکہ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ یکساں نصاب سے تفریقات میں کمی لانے میں مدد نہیں ملے گی۔ پاکستان میں بچوں کا تعلق مختلف سماجی و اقتصادی طبقات اور مختلف تعلیمی پس منظر رکھنے والے خاندانوں سے ہے۔ بچوں کی تعلیم پر کہیں زیادہ سرمایہ مختص کیا جاتا ہے اور کہیں کم، تمام بچے زبان پر یکساں انداز میں عبور نہیں رکھتے ہیں، ان کا تعلق مختلف ثقافتی و مذہبی پس منظر سے ہے جبکہ یہ الگ الگ جغرافیائی ماحول میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ یکساں نصاب، ایک جیسی کتابوں یا یکساں امتحانی عمل سے تفریقات میں کمی واقع نہیں ہوگی الٹا اس طرح تفریقات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اگر امتحانات بہت ہی مشکل ہوئے تو ان میں کامیابی حاصل کرنے والوں اور ناکام ہو جانے والوں کے درمیان تفریق پیدا ہوگی۔ کسے ملازمتوں تک رسائی مل سکتی ہے اور کسے نہیں اس تناظر میں جب میٹرک پاس اور میٹرک فیل کے درمیان فرق کو ادارتی صورت دی جائے گی تو تفریقات میں کمی کے بجائے اضافہ ہوگا۔

پاکستان کے ایٹمی طبیعیات دان اور ماہر تعلیم ڈاکٹر پرویز امیر علی ہودبھائی یکساں نصاب پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ مدارس میں سائنس کیسے پڑھائی جائے گی۔ جس طرح سائنس پڑھائی جانی چاہیے، اس طرح سے مدارس میں کبھی پڑھائی نہیں گئی۔ سائنس میں رٹا کام نہیں آتا بلکہ عقل و خرد کا استعمال کیا جاتا ہے۔ پرویز ہودبھائی کے مطابق مدارس کی تعلیم ہمیں زندگی بعد الموت کے لئے تیار کرتی ہے، جبکہ اسکولوں کی جدید تعلیم ہمیں اس دنیا کے لئے تیار کرتی ہے۔ ان دو مقاصد کو یکجا کرنا ناممکن ہے۔

ڈاکٹر اے ایچ نیئر نے لکھا کہ یکساں نصاب میں مذہبی مواد بے حد زیادہ شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صرف پہلی سے پانچویں جماعت تک ہی اتنا مذہبی مواد ڈال دیا گیا ہے جتنا مدارس میں بھی نہیں پڑھایا جاتا۔

اس سے یہ قطعاً مقصود نہیں کہ بچوں کو اسلام کی تعلیمات سے آشنا نہ کرایا جائے بلکہ اس میں بچوں پر بہت ہی زیادہ اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔

کچھ ماہرین نے یکساں قومی نصاب کے اقدام کو ریاستی انجنئیرڈ تجربے کا تسلسل قرار دیا ہے۔ جس کا مقصد صرف طلباء میں دلائل و منطق کے جوہر کو ختم کرنا ہے۔

جس میں ریاست کافی حد تک کامیاب بھی ہوئی، جیسے کہ ملک کی ایک بڑی آبادی سائنس کو دھوکہ سمجھتی ہے اور زمین کے جامد ہونے پر یونیورسٹیز تک میں بحث چھڑ گئی۔ نصابی کتابوں کے ذریعے مذہب کو قومی نفسیات کے ساتھ ملانے کا ثمر یونیورسٹیز کیمپس میں ہجومی قتل جیسے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے۔

یکساں نصاب پر ایک اعتراض یہ بھی ہے کہ پاکستان کے ہر صوبے کی الگ الگ ثقافت اور ان کے الگ الگ علاقائی ہیروز ہیں، اگر نصاب اور کتب یکساں ہوں تو سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا میں رہنے والے اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے بچوں کو یکساں کتابیں پڑھنی ہوں گی اور یوں ان کی علاقائی ثقافتیں، روایات، تاریخ اور ادب نظر انداز ہو جائے گا، اب کیا بلھے شاہ، شاہ عبدالطیف، رحمان بابا اور گل خان نصیر کا کلام سرے سے نہ پڑھایا جائے یا پھر سب کو لازماً پڑھایا جائے؟

ایک بات یاد رکھنی چاہیے کہ حکومت نے ملک میں یکساں قومی ’نصاب‘ کے نفاذ کا اعلان کیا ہے نا کہ یکساں قومی ’نظام‘ ۔

چلو مان لیتے ہیں کہ ملک کے سب مدارس و اسکول حکومت کے متعارف کرائے گئے اس نصاب کی پیروی کریں گے، لیکن کیا ان مدارس، سرکاری اسکول اور نجی اسکول میں معیار ایک جیسا ہوگا، مثلاً: کیا سرکاری اسکول اور مدارس میں طلباء کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے گا جو ایچیسن، کانوینٹ اور بیکن ہاؤس میں فراہم کیا جاتا ہے۔

ملک میں تقریباً دو لاکھ اسکول ہیں جن میں کئی ایسے ہیں جو غیر فعال پڑے ہیں، کئی ایسے ہیں جو خستہ حال ہیں اور تقریباً 48 فیصد اسکول تو ایسے ہیں جہاں چاردیواری ہے، واش روم کی سہولت ہے اور نا ہی پینے لائق پانی ہے۔ مدارس کی اکثریت تو عوام کے چندوں پر چلتی ہے۔ کیا ان حالات میں یکساں نصاب رائج کرنے سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟

پاکستان دنیا کا دوسرا نمبر ملک ہے جہاں سب سے زیادہ بچے اسکول نہیں جاتے۔ کیا یکساں نصاب سے وہ جو دو ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں وہ پڑھنے لگ جائیں گے؟ کیا سرکاری اسکولوں میں اس اقدام سے تعلیم کا معیار بہتر ہو جائے گا؟

یقیناً مدرسے کے طلباء کو قومی دھارے میں لانے کی اشد ضرورت ہے لیکن یہ ملک بھر کے اسکولوں کے نصاب میں بنیاد پرست تبدیلیاں متعارف کرانے کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ ملک بھر میں فعال ہر تعلیمی نظام میں بہتری لانی چاہیے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ بہتر امتحانی طریقے متعارف کرائے جائیں اور اساتذہ کو مناسب تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ تعلیمی ادارے جن کی کارکردگی قدرے اچھی نہیں ان کا معیار بہتر کیا جائے۔ درسی کتابوں اور کیمپسز میں نفرت انگیزی اور عدم برداشت سے متعلق مسائل کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ہمیں اس وقت ایک ایسا نظام مرتب کرنا چاہیے جو جدید دنیا کے خطوط سے آراستہ ہو، جس سے وطن عزیز دنیا بھر سے معاشی و سائنسی لحاظ سے قدم بہ قدم چل سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words