دنیا کا پہلا گھریلو کمپیوٹر کیسے اور کیوں تیار کیا گیا؟

ہمارے گھر کا ایک لازمی جزو بننے سے بہت پہلے کمپیوٹر جامعات، تحقیقی مراکز اور کاروباری اداروں میں چھا گئے تھے۔ سن ساٹھ کی دہائی کے بڑے کمپیوٹر اتنے بڑے ہوتے تھے کہ انہیں رکھنے کے لیے ایک پورا کمرہ یا کئی کمرے درکار ہوتے تھے۔ کمپیوٹر اس وقت مختصر ہونا شروع ہوئے جب مائیکرو پروسیسر ایجاد ہوا اور انٹیل نے اپنا مشہور زمانہ 4004 پروسیسر پیش کر کے سب کچھ بدل ڈالا۔ جس کے بعد اتنے مختصر کمپیوٹر بننے لگے جو کہ پورے کمرے کی بجائے کمرے کے ایک حصے میں سما سکتے تھے۔

لیکن اس کے باوجود کمپیوٹر بنانے والے اداروں کے سامنے ایک بڑا سوال یہ تھا کہ کیا عوام کی ایک بڑی تعداد کو کمپیوٹر خریدنے کے لیے قائل بھی کیا جا سکتا ہے کہ نہیں۔ مسئلہ اس وقت ٹیکنالوجی کا نہیں تھا بلکہ اسے عوام کے سامنے اس موثر انداز میں پیش کرنے کا تھا کہ اسے دیکھتے ہی خریدنے کو دل چاہے۔ یہ کہنا ہے لکھاری اور صحافی الیکس ولٹ شائر کا۔ ”ٹیکنالوجی نے تو کمپیوٹرز کو مختصر کرنا ممکن بنا دیا تھا“ الیکس نے وضاحت پیش کی۔

”اصل اہمیت اس معاملے کی تھی کہ کیسے اسے ایسی شکل اور انداز میں پیش کیا جائے کہ اسے دیکھتے ہی خریدنے کو دل چاہے اور وہ استعمال میں بھی آسان ہو“ ۔ اس کام کی ابتداء کی ”کٹ کمپیوٹرز“ نے۔ یہ ٹکڑوں کی شکل میں بکنے والے کمپیوٹر الیکٹرانکس کا شوق رکھنے والے افراد کے دل میں اتر گئے۔ یہ کمپیوٹر بہت بنیادی قسم کے حساب کتاب کا کام کر سکتے تھے لیکن ان کی خاص کشش ان میں مختلف دیگر پرزوں (جیسے فلاپی، کیسٹ، وی سی آر کیسٹ، لیزر ڈسک اور سی ڈی کو چلانے اور ان پر معلومات محفوظ کرنے والے آلات) کا اضافہ کرنے کی خوبی یعنی کمپیوٹر میں ترمیم و اضافہ کرنا تھا۔

لیکن اس وقت ان کی کوئی خاص معیاری شکل و صورت نہیں ہوتی تھی۔ یہ بس کمپیوٹر کا شوق رکھنے والے افراد کے لیے کمپیوٹر تھے لیکن عام فرد کو ان میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ اس وقت بدل گیا کہ جب ”کموڈور پیٹ 2001“ اور ”ایپل ||“ کمپیوٹر سن 1977 ء میں پیش کیے گئے جو اس زمانے میں استعمال میں بہت آسان تھے۔ ”یک بیک سوچ ہی بدل گئی کہ کیسے ان کمپیوٹرز کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا بھی ان کو استعمال کرسکے اور کمپیوٹر چلا نے کے لیے کسی بقراط کی ضرورت نہ پڑے“۔

الیکس بیان کرتے ہیں۔ ”اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے ان کمپیوٹرز کو چلانے کے لیے ٹانکے لگانا، پیچیدہ زبانوں میں پروگرام لکھنے کی ضرورت ہی نہ رہی، بلکہ کمپیوٹر ہارڈوئیر اور سافٹ وئیر تیار کرنے والے ماہرین میں یہ سوچ پیدا ہونے لگی کہ کیوں نہ ایسے کمپیوٹر ہوں جیسے کہ ٹی وی سیٹ کہ جسے بازار سے خرید کر صرف بجلی اور اینٹینا یا کیبل سے منسلک کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔“

اور یہی وہ لمحہ تھا کہ جب صحیح معنوں میں ایک ”گھریلو کمپیوٹر“ کی سوچ کا راسخ ہوئی۔ اور یوں کسی کمپیوٹر کو پرکشش انداز میں عوام کے سامنے پیش کرنے کا انداز ہی اس کی کامیابی یا ناکامی کی معراج بنا۔ ”ایک بڑا امتحان کمپیوٹر کو ڈراؤنی شے سے پرکشش چیز بنا کر دکھانے کا تھا“ ۔ الیکس کہتے ہیں۔ ”چنانچہ کمپیوٹر تیار کرنے والے اداروں نے اپنے کمپیوٹروں میں ہر ایسی شے مثلاً گیمز اور گیم کنٹرولر وغیرہ شامل کرنا شروع کر دیے جو ان کی مصنوعات کو پر کشش بناتے ہوں اور ہر ڈراؤنی اور بیزار کرنے والی شے کو نکال دیا“ ۔

الیکس بتاتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ابتداء میں تو تشہیر کرتے وقت ان کمپیوٹروں کی پراسیسنگ طاقت پر زور دیا گیا جیسے کہ انٹرٹیک کا ”سپر برین کمپیوٹر“ ۔ لیکن اس کے بعد ان کو ایسے نام دیے جانے لگے جو خریدار کو یہ احساس نہ دلائیں کہ وہ ایک پیچیدہ چیز خرید رہے ہیں۔ چنانچہ کمپیوٹروں کو جینی (یعنی جن) ، ایکیوائرس (حوت) رین بو (قوس قزح) ایپریکاٹ (لوکاٹ) اور ایلس جیسے ناموں سے فروخت کے لیے پیش کرنے لگے۔ اس پیغام کو مزید راسخ کرنے کے لیے رنگین تختہ کلید (کی بورڈ) ، گول لمبوترے جسم والے کمپیوٹر کہ جنھیں عموماً سفید یا گرے جیسا آنکھوں کو سکون دینے والا رنگ دیا جاتا تھا، کے ساتھ پیش کیے جانے لگے۔

لیکن پھر بھی ابتداء میں کمپیوٹر ساز ادارے اس بات پر متفق نہیں تھے کہ ایک کمپیوٹر کو کیسا دیکھنا چاہیے۔ کیوٹری تختہ کلید جو ٹائپ رائیٹر سے کمپیوٹر میں آیا تھا، وہ تو سبھی نے شروع ہی سے اپنا لیا۔ جو کہ کمپیوٹر میں معلومات داخل کرنے کے لیے ضروری تھا۔ لیکن اس کے علاوہ دیگر آلات کے حوالے سے صارفین کی پسند و ناپسند جانچنے کے لیے تجربات کا سہارا لیا گیا۔ بعض کمپیوٹروں میں سی پی یو کے ساتھ ہی چھوٹا مانیٹر بھی دیا گیا ہوتا تھا تو بعض سی پی یو ٹی وی سیٹ کے ساتھ منسلک ہوتے تھے۔

دستاویزات ذخیرہ کرنے کے لیے ہارڈ ڈسک سی پی یو کے ایک طرف یا بالکل نیچے بھی ہو سکتی تھی یا ہارڈ ڈسک سرے سے لگائی ہی نہ جاتی اور صارف ڈوس کی فلاپی ڈسک کے ذریعے کمپیوٹر کو آن کرتا، پھر اسی ڈرائیو کے ذریعے یا دوسری ڈرائیو کے ذریعے دوسری فلاپی پر تحریر کی گئی دستاویزات محفوظ کر دی جاتیں۔ شاپ کے ”ایم زیڈ 80 کے“ کمپیوٹر میں ایک چھوٹی کیسٹ لگتی تو ”آئی سی ایل مرلین ٹونٹو“ میں ایک الگ سے خصوصی ریسیور بھی تھا جس کے ذریعے کمپیوٹر سے منسلک فون لائن پر کالز بھی کی جا سکتی تھیں۔

لیکن سبھی کمپیوٹر بنانے والوں نے اپنی توجہ کمپیوٹر کو آسان سے آسان تر اور وزن میں ہلکا کیے جانے پر توجہ مرکوز ہی رکھی۔ مثال کے طور پر ”اوزبورن ون“ نامی بیٹری سے چلنے والا دنیا کا پہلا لیپ ٹاپ کمپیوٹر جس کا وزن بھلے ہی گیارہ کلوگرام ہوتا تھا۔ چار میگا ہرٹز پروسیسر، 64 کلو بائیٹ ریم، پانچ انچ مونوکروم سی آرٹی سکرین اور 37 واٹ بیٹری تھی۔ یہ بیس انچ چوڑا اور 13 انچ کی گہرائی رکھتا تھا اور یہ ایک بڑے سے بریف کیس میں سماء جاتا تھا۔

اسے سنء 1981 ء میں کاروباری افراد کے لیے یہ کہہ کر پیش کیا گیا کہ یہ کمپیوٹر فلاپی ڈسک پر تحریر کیے گئے 1600 صفحات اپنے اندر ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھتا ہے۔ جو کہ عام بریف کیس میں کاغذ پر لکھی گئی دستاویزات رکھنے سے کئی گنا زیادہ تھے۔ لیکن یہ ابتدائی کمپیوٹر اپنے استعمال میں پیچیدہ ہوتے تھے۔ ان میں استعمال کنندہ کو پروگرامنگ زبان میں کوڈ لکھ کر اور تحریری طور پر کمانڈ پرامپٹ پر احکامات لکھنا پڑتے تھے۔

ایلکس کا کہنا ہے کہ اس وقت اس صنعنت کا ڈیزائنگ کی مجموعی صنعت سے زیادہ واسطہ نہ تھا۔ زیادہ تر کمپیوٹروں میں جس آسانی کی تشیر کی جاتی، وہ صرف تشہیر تک ہی محدود ہوتی اور صارف کو کمپیوٹر خریدنے کے بعد بھی اسے مانیٹر اور ڈسک ڈرائیو سے منسلک کرنے کے لیے مختلف تاروں اور کنکٹرز سے نبرد آزما ء ہونا پڑتا۔ ان کی قیمتیں بھی صارف کو دھوکہ دیتیں کیونکہ اضافی ڈسکیں اور دیگر آلات خریدنے کے بعد کمپیوٹروں کی قیمت تشہیر کردہ قیمت سے بہت زیادہ ہو جاتیں۔

اور قیمت ہی وہ پیمانہ تھا کہ جس کی وجہ سے اس صنعت میں کسی کمپیوٹر بنانے والے ادارے کو کامیابی یا ناکامی کا سامنا ہوتا تھا۔ سنہ اسی کی دہائی میں کئی ایسے کمپیوٹر بنانے والے ادارے آئے اور چلے گئے جیسے کہ ”رائیزیک کمپیوٹرز“ ، ”کموڈور کمپیوٹرز“ ، ”اوزبورن“ اور دیگر کتنے ہی۔ ”اوزبورن“ دنیا کا پہلا پورٹیبل کمپیوٹر پیش کرنے کے دو ہی سالوں کے اندر دیوالیہ ہو گئی۔ رائیزیک، اورک، اور کموڈور وغیرہ اسی کی دہائی کے آخر میں پی سی کمپیوٹروں کی گرتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ نہ کرتے ہوئے ختم ہو گئے۔

اس وقت اس صنعت میں کمپیوٹر کے ہارڈ وئیر میں کسی قسم کا معیار نہ ہونے کا مطلب یہ تھا کہ ایک کمپیوٹر پر چلنے والے گیمز اور سافٹ وئیر دوسری قسم کے کمپیوٹر پر نہیں چل سکتے تھے یا انہیں دوسری قسم کے کمپیوٹر پر چلانے کے لیے سورس کوڈ میں بہت ساری ترمیم و اضافہ کرنا پڑتا۔ یوں سافٹ وئیر بنانے والوں کو دوہری تہری مشقت اٹھانا پڑی۔ لیکن اس دہائی کے تیز رفتار مقابلے نے تیز تر پروسیسر دیے جن کی وجہ سے گرافیکل یوزر انٹرفیس بنانے میں مدد ملی جس سے استعمال کنندہ کو کمپیوٹر چلانے میں بہت آسانی ہو گئی۔

اور اگلی نوے کی دہائی آتے آتے اس حوالے سے ایک معیار سامنے آ گیا۔ مائیکروسافٹ ونڈوز وہ پہلا بڑا پروگرام تھا جو کسی ایک خاص کمپیوٹر پر چلنے تک محدود نہیں تھا۔ یوں مائیکروسافٹ کو آپریٹنگ سسٹم کے میدان میں اجارہ داری حاصل ہو گئی۔ اس حوالے سے بھی ایک معیار طے پا گیا کہ ایک کمپیوٹر کو کیسا دیکھنا چاہیے۔ یعنی ایک چوکور ڈبہ جو مانیٹر کے ساتھ کھڑا ہو یا اس کے نیچے ہو۔ ساتھ ہی ایک کی بورڈ اور ماؤس سامنے دھرے ہوں۔

اس کا ایک مطلب یہ تھا کہ لوگ یہ جان گئے کہ ایک کمپیوٹر کیسا نظر آتا ہے اور کمپیوٹر کی تشہیر کرنے والے بھی جان گئے کہ انہیں لوگوں کو کیسے انہیں استعمال کرنے کی جانب راغب کرنا ہے۔ یہ کوئی بہت زیادہ خوبصورت بندوبست نہیں تھا، یہ کمپیوٹر ایک خاص طرح کی میز پر رکھنے پر ہی استعمال میں آسان ہوتے تھے لیکن یہ عمل کمپیوٹر کو گھر گھر پہنچانے کے لیے ناگزیر تھا۔ لوگوں نے بھی قبول کر لیا تھا کہ کمپیوٹر ایسے ہی رہیں گے۔

پھر سن 1998 ء میں آیا ایپل کا آئیکونک ”آئی میک جی تھری“ ۔ جس کی باڈی خوشنما کئی رنگوں میں ہوتی تھی۔ اس ٹی وی جیسے کمپیوٹر میں مانیٹر، سی پی یو، ہارڈ ڈسک اور سی ڈی روم سب ایک ہی ڈبے میں سمو دیے گئے تھے اور استعمال کنندہ کو کسی قسم کی تاروں سے مختلف آلات منسلک کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ یہ اس وقت دنیا کا پہلا کمپیوٹر تھا جس میں سی ڈی کو فوقیت دیتے ہوئے فلاپی ڈسک ڈرائیو کو نکال باہر کر دیا گیا تھا۔ اس کے اشتہار دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں پھیل گئے۔

ایک انتہائی یادگار اشتہار کے جملے کچھ یوں شروع ہوتے۔ پہلا مرحلہ :بجلی اور انٹرنیٹ کی تاریں لگائیں۔ دوسرا مرحلہ :انٹرنیٹ سے منسلک ہوں۔ تیسرا مرحلہ:تیسرا کوئی مرحلہ نہیں ہے۔ اس کمپیوٹر نے ایک عہد کے رخصت ہونے اور دوسرے کی آمد کی نوید دی۔ جہاں ذاتی کمپیوٹر بھی ایک خوبصورت چیز رکھنے کی علامت بن گئے۔ یوں ایپل نے سب کو دکھا دیا کہ کمپیوٹر خوبصورت بھی ہو سکتے ہیں اور ایک کی فرد کی نزاکت اور اعلیٰ ذوق کی علامت بن سکتے ہیں۔ یہ اس عہد کا آغاز تھا کہ جس میں آج ہم جی رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words