طالبان اور پاکستان کی پوزیشن

کیا افغانستان میں جلد یا دیر بعد امن قائم ہو جائے گا؟ یہ امن صرف اسی صورت قائم ہوگا جب طالبان کی حکومت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا کے ساتھ چلنا سیکھے۔ بدلے ہوئے عالمی منظر نامے کے ساتھ ہم قدم ہو کر چلے۔ اقوام عالم کی عالمی امن کی کاوشوں میں شرکت کرے۔ بین الاقوامی برادری کے ساتھ شانہ بشانہ چلے لیکن اپنا ایک امیج بنائے اور اسے اپنی دیر پا پر امن افغانستان کی پالیسی پر چپکا دے۔ یہ نہ ہو کہ کسی قوت کے سامنے ایک مسئلے کے حل کے لئے بجائے مذاکرات کرنے کے رائفل اٹھا لے اور ایک بار پھر افغانستان کو میدان جنگ بنا دے اور پھر باقی طاقتیں نام نہاد امن کی خاطر اپنا اپنا حصہ ڈالتی پھریں۔ اگر یہ ہو گیا تو پھر سارے کا سارے ملبہ پاکستان پر گرے گا اور پاکستان ایک بار پھر نائن الیون کے بعد والی صورتحال کا شکار ہو جائے گا۔

نائن الیون کے بعد افغان سرزمین امریکہ، روس، ایران اور بھارت کے لئے ایک خونی کھیل کا مید ان بن گئی تھی۔ امریکہ کا موقف اور محاذ جنگ واضح تھا۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ امریکہ اپنے اس موقف کے در پردہ کیا کھیل کھیلتا رہا لیکن اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہوئی۔ ایران اپنی حمایت یافتہ ملیشیاز کی افغانستان میں مالی و عسکری معاونت کرتا رہا کیونکہ ایران پراکسی جنگوں میں ایکٹو ہے اور امریکہ بھی اسے دھول نہیں چٹا سکا۔

بھارت تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں ہر ممکن مدد فراہم کرتا رہا جس کا خمیازہ پاک سرزمین کے عوام اور اداروں کو بھگتنا پڑا۔ باقی بچا روس تو وہ امریکہ اور پاکستان کے ہاتھوں اپنی شکست نہیں بھول سکا۔ روس امریکہ کے افغانستان میں قدم رکھتے ہی افغان طالبانوں سے ہاتھ ملانے کی کئی بار سعی کرتا رہا اور آخر کار کامیاب ہو گیا۔ روس نے طالبان کی ہر فورم پر مدد کی جس سے ہزاروں امریکی فوجی اس جنگ کا ایندھن بنے۔ اور پھر امریکہ کے لئے افغانستان ایک دلدل بنتا چلا گیا۔

پراکسی جنگ کے اس کھیل میں سب سے زیادہ ملک جس کو نقصان پہنچا وہ پاکستان تھا۔ افغانستان میں جاری پراکسی جنگ کی آگ میں ہر ابھرتا ہوا شعلہ پاکستان کی سرزمین پر گرتا۔ ایک طرف پاکستان میں بم دھماکے ہوتے جس سے پاکستانی جاں بحق ہوتے دوسری طرف عالمی طاقتیں پاکستان کے امیج کو ہر حد تک متاثر کرتی۔ اس جنگ میں پاکستان پر ایک ایسا وقت بھی گزرا کوئی دن خودکش دھماکوں سے خالی نہ جاتا۔ پاکستان کے سول و ملٹری تعلقات کے اتار چڑھاو کے باوجود دہشت گردی کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی گئی جس سے پاکستان کا امن بحال ہوا۔ ان کاروائیوں میں در پردہ اندرونی و بیرونی قوتوں کی نشاندہی بھی ہوئی اور ہمیں اپنی پالیسیاں اور گھر درست کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا پڑا۔ اس سے ایک روڈ میپ بھی تشکیل پا گیا جس پر عمل کے ثمرات آج بھی قائم ہیں۔

طالبان جو ایک طویل پراکسی جنگ لڑنے کے بعد افغانستان میں اقتدار پر براجمان ہیں اب ان کی کیا شناخت ہے؟ یہ وہی ماضی کے جنگجو ہیں جو صرف اپنے ایک لیڈر کی خاطر پورے افغانستان کو آگ میں دھکیل دیتے ہیں یا یہ اب مستحکم ہو کر عقل مند ہوچکے ہیں؟ عالمی برادری کی رائے طالبان کے حق میں بھی ہے اور خلاف بھی۔ پاکستان طالبان کو مذاکرات کی میز پر بٹھا کر اپنا کردار ادا کرچکا ہے۔ بھارت طالبان کو اب بھی جنگجو اور بنیاد پرست عقل و شعور سے عاری تصور کرتا ہے۔

شاید بھارتی پالیسی ساز افغانستان میں اپنی شکست ہضم نہیں کر پا رہے۔ شاید ہندوستان کو افغانستان میں اپنی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اب گنگا میں بہتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ شاید انڈیا پاکستان کی کمر کو کمزور کرنے میں ناکام ہو چکا ہے اور کلبھوشن جیسے ایجنٹس بھارت کے چلے ہوئے وہ کارتوس ہیں جو اپنے ٹارگٹ کو مکمل طور پر ہٹ نہیں کر پائے اور بھارت کی جگ ہنسائی بنے۔

عالمی منظر نامے اور ان کے سہارے بیانیے کے درمیان پاکستان کی کیا پوزیشن ہے؟ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ پاکستان پر امن افغانستان کا خواہاں ہے۔ افغانستان میں دو دہائیوں پر محیط جنگ کا خاتمہ پاکستان کا کردار بھی ہے اور مثبت خارجہ پالیسی بھی۔ یہ ہمارے حساس اور عسکری اداروں کی جیت بھی ہے اور پر امن پاکستان ہونے کی ایک دلیل بھی۔ بھارت کو یہ بات اب سمجھ آ جانی چاہیے کہ سوائے پچھتاوے کہ اب کچھ نہیں بچتا۔ شمالی اتحاد کے تتر بتر جنگجو اب دیوار کے ساتھ لگے ہوئے ہیں جو صرف بقا کی خاطر طالبان سے جھڑپیں کر رہے ہیں۔

پاکستان کا افغان سرزمین پر بدلتے ہوئے حقائق کی روشنی میں یہ موقف ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو اور نہ ہی افغانستان میں اب شورش کی کوئی گنجائش ہے۔ پر امین افغانستان ہی پر امن پاکستان کی ضمانت ہے۔ ڈیورنڈ لائن پر اب کسی بھی جارحیت کو طالبان اور پاکستان کے باہمی اعتماد کو ٹھیس پہنچا سکتی ہے۔

روس کی پوزیشن حالیہ صورتحال پر ڈھکی چھپی نہیں۔ افغانستان میں روس اور چین کے سفارت خانے ورکنگ میں ہیں۔ وہ مسلسل طالبان سے رابطے میں ہیں اور ان کو جذبہ خیر سگالی کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوجاتا ہے کہ روس افغانستان میں اب اپنی غلطی سے سیکھ چکا ہے اور وہ طویل عرصہ کے لیے یہاں رہنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ماضی میں جائیں تو یہی طالبان روس کے لیے گلے کی ہڈی بن گئے تھے اور پھر روس نے انہی کو امریکہ کے خلاف استعمال کر کے اپنا حساب چکایا۔

اب وہ ان سے اپنے تعلقات استوار کر رہا ہے۔ روس چین کی طرز پر پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک سے برابری کے تعلقات تشکیل پا رہا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ روس سی پیک کا حصہ ہے۔ اس کا اظہار کسی نہ کسی سفارتی فورم پر ہوتا رہتا ہے۔ روس اور چین کا افغانستان کے معاملات میں مفاد اور شرکت امریکہ اور اس کے دیگر اتحادیوں کی پسپائی ہے۔

طالبان کا افغانستان میں سیاسی استحکام اور حکومتی پائیداری کسی طور بھارت، امریکہ اور دیگر قوتوں کو ایک آنکھ نہ بھائے گی۔ امریکہ حسب روایت اپنی ساری شکست کا ذمہ دار پاکستان کو ہی کہے گا۔ پاکستان اس امریکی روایت کو بخوبی جانتا ہے۔ پاکستان نے اس کے متبادل عین وقت پر اپنا بیانیہ دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے جس کے دیر پا اثرات ہوں گے۔ لیکن ہمیں اس حوالے ہائبرڈ وار فیئر کے خلاف چکنا رہنا ہوگا۔ جلد یا بدیر افغانستان میں امن پاکستان کی اقتصادی ترقی اور علاقائی سیاست میں مددگار ثابت ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
سمیع اللہ رفیق کی دیگر تحریریں