احمد فراز : برسوں کے بعد دیکھا ، اک شخص دلربا سا !

” یہ ممکن نہیں ہو گا۔“

یہ جواب کسی قدر حوصلہ شکن تھا جب میں نے 1990 کی دہائی میں، ان سے ان کے بارے میں ایک دستاویزی پروگرام کی رکارڈنگ کے لئے وقت مانگا۔

ٹیلی وژن اور ایسے دوسرے نشریاتی اداروں میں مقررہ وقت پر کسی بھی کام کی خوش اسلوبی سے تکمیل پہلی ترجیح بن جاتی ہے اور پروڈیوسر اپنی غرض میں اتنا لالچی ہو جاتا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ دوسرے لوگ اپنی ساری مصروفیات چھوڑ کر پہلے اس کے لئے وقت نکال لیں۔ کچھ یہی صورت یہاں تھی۔ وہ اپنی مصروفیت کے سبب دستیاب نہ تھے۔ ابھی یہ الجھن اتنی بڑی الجھن نہ بنی تھی کہ چند ہی دنوں میں، ان کا خود فون آیا :

” پرسوں عام تعطیل ہے، سارا دن تمہارا“

ان کا یہ جملہ عملی طور پر، سو فیصد صحیح ثابت ہوا اور اگست جیسے ساون زدہ مہینے میں انھوں نے صبح سے لے کر شام ڈھلے تک پوری دلچسپی سے کیمرے کا سامنا کیا اور کہیں بھی کسی بھی سطح کی اکتاہٹ کا اظہار نہ کیا۔ بلکہ نہایت شفقت ( اور پروفیشنل رویے ) کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریکارڈنگ کا آغاز ہوتے ہی انھوں نے کہا ”اب میں تمہارے حوالے ہوں، جو کہو، جیسا کہو، ویسا ہی ہوگا“

یوں اس دستاویزی پروگرام کی ریکارڈنگ کی شروعات ہوئی اور انھوں نے واقعی اپنے ادا کردہ الفاظ کی پوری پوری پاسداری کی اور سکرپٹ کے مطابق کسی بھی مطلوبہ ریکارڈنگ میں پس و پیش سے کام نہ لیا، بلکہ میں اگر یہ کہوں تو زیادہ مناسب ہوگا کہ ریڈیو سے اپنی ابتدائی وابستگی کے تجربات کے پیش نظر، پروڈکشن کی نزاکتوں کو سمجھتے ہوئے، وہ ریکارڈنگ میں کسی بھی تاخیر یا تعطل کے پس منظر کو بخوبی بھانپ لیتے۔

اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں کے بلند مقامات، دامن کوہ اور پیر سوہاوہ پر، سبزہ زار کے درمیان، ان کی چہل قدمی کا سیکوینس، درمیان میں حائل سیڑھیوں، درختوں کی باڑ اور فاصلے کی وجہ سے ( اور دونوں اطراف کے مابین رابطہ ختم ہونے کے باعث ) کسی قدر دشوار تھا مگر انھوں نے نہایت خوش دلی سے اس دشواری کو در گزر کرتے ہوئے اسے ریکارڈ کرایا۔

اسی بلند مقام پر ہمارے نوجوان کیمرہ مین نے دھند کی موجودگی کو محسوس کرتے ہوئے، اپنے نقطہ نظر سے یہ گھبراہٹ ظاہر کی کہ موسم کہر آلود ہے، شاٹس، شاید بہت واضح نہ ہوں۔ کیمرہ مین، کی اس بات پر، ان کی فوری وضاحت سے معلوم ہوا کہ شاعرانہ خصوصیات کا حامل یہ خوب صورت موسم، بھلا کیسے ممکن ہے کہ خوبصورت شاعری کے ترجمان، ایک خوبصورت شاعر کا پسندیدہ نہ ہو، سو ریکارڈنگ کا وہ حصہ، بے حد خوب صورتی کے ساتھ ان ہی کے پسندیدہ موسم کے دوران مکمل ہوا۔

ان کے روز مرہ کی مصروفیات دکھانے کی غرض سے ان کے جاگنگ کرنے کے مناظر کا طے ہوا جس پر وہ بہ خوشی راضی ہو گئے۔ پچیس منٹ کے پروگرام میں، جاگنگ کے کتنے منظر لگائے جا سکتے ہیں، یہ اندازہ لگانا شاید کسی عام فہم کے لئے بھی آسان ہو، مگر مختلف زاویوں سے منظر کشی کی خاطر، اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس تھری میں ان کی سرکاری رہائش گاہ سے متصل، ان کے پسندیدہ جاگنگ پاتھ پر بہت طویل ریکارڈنگ کی گئی۔ اس خیال سے کہ پروگرام کی ایڈیٹنگ یعنی کانٹ چھانٹ کے دوران، جانے کون سا شاٹ کس جگہ موزوں دکھائی دے۔ اس طویل (اور ضرورت سے زائد) ریکارڈنگ پر بھی، انھوں نے کچھ نہ کہا اور بلا کسی تامل کے، مکمل آمادگی کا اظہار کیا۔

ان ڈور ریکارڈنگ کے دوران وہ لمحہ پوری پروڈکشن ٹیم کے لئے نہایت حیرت اور اس سے زیادہ خوشی کا باعث تھا جب ٹیم میں شامل لائٹ مین نے ان سے پانی پینے کی خواہش کی اور جب وہ دوبارہ کمرے میں داخل ہوئے تو سب یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے کہ وہ خود ٹرے پر سب کے لئے پانی کا جگ اور گلاس اٹھائے ہوئے تھے۔

دوران ریکارڈنگ ان کی دلچسپ اور یادوں پر مبنی گفتگو بھی سب کے لئے توجہ کا مرکز تھی۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ انھوں پی ٹی وی کے پشاور مرکز سے ایک ڈرامے میں بھی حصہ لیا جو ان ہی کا تحریر کردہ تھا۔ یہ ایک منظوم کھیل تھا جس میں ایک شہید کے حوالے سے، زندگی اور موت کے درمیان مکالمہ پیش کیا گیا تھا۔ اس کھیل کا دلچسپ پہلو یہ تھا کہ اس میں باقی دو کردار ادا کرنے والے بھی شاعر ہی تھے۔ یہ ذمہ داریاں خاطر غزنوی اور محسن احسان نے ادا کی تھیں۔ یہ کھیل پی ٹی وی کے نامور پروڈیوسر شہزاد خلیل کی تخلیق تھی۔

اس گفتگو کے دوران، انھوں نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ آج کے قومی اور سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے، اس منظوم کھیل کو کشمیر کے تناظر میں اسی اثر انگیزی اور معنویت کے ساتھ دوبارہ تخلیق کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور انکشاف انھوں نے اپنی بات چیت میں یہ بھی کیا کہ مشہور کشمیری رہنما مقبول بٹ، دوران طالب علمی ان کے کلاس فیلو رہے تھے۔

میں نے ایک موقع پر جب یہ جاننا چاہا کہ انھوں نے کشمیر پر کچھ کہا ہے تو انھوں اپنی یاداشت پر زور دیتے ہوئے، کسی ابتدائی کتاب کا حوالہ دیا کہ اس میں ایک نظم شامل ہے۔ طے پایا کہ اس نظم کی کسی آؤٹ ڈور میں ریکارڈنگ کی جائے۔ کشمیر کی مناسبت سے اسلام آباد سے مری جاتے ہوئے انگوری کے مقام پر اس نظم کی ریکارڈنگ کی لوکیشن کا انتخاب ہوا جہاں کشمیر کی خوب صورتی کی کسی قدر جھلک نظر آتی ہے۔

پی ٹی وی اسلام آباد مرکز سے لوکیشن کا فاصلہ خاصا تھا۔ اس مسافت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، انھوں نے سفر کے دوران، اس مخصوص کشمیری نظم پر مشتمل اپنا مجموعہ کلام کھول رکھا تھا۔ باتیں بھی جاری تھیں اور ان کا قلم مسلسل اپنی اس پرانی نظم کی کانٹ چھانٹ میں مصروف تھا۔ میں یہ کہنے سے قاصر ہوں کہ جب ہم ریکارڈنگ کی غرض سے اپنی لوکیشن ( انگوری ) پہنچے، تو وہ نظم کتنی تبدیل ہو چکی تھی۔ تا ہم، دوران سفر، کہیں کہیں ان کی، کی جانے والی تبدیلیوں کو دیکھ کر اس بات کا بہ خوبی اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ بڑے شاعروں اور دانشوروں کا تخلیقی سفر اپنی تمام تر توانائی کے ساتھ، ہمیشہ جاری رہتا ہے اور ان کی علمی پیاس کبھی نہیں بجھتی۔

اس دستاویزی پروگرام کا اختتام، ان ہی کے کہے ایک خوب صورت شعر پر تھا جو انھوں نے شاید کسی خوش گلو کے لئے کہا ہوگا مگر پیر سوہاوہ کے دلکش مقام پر ان کی طویل چہل قدمی کی وجہ محض یہی تھی کہ اس بصری پس منظر کے ساتھ، الفاظ کو جگنو کا روپ دینے والے شاعر کو اسی کے الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جائے :

الفاظ تھے کہ جگنو، آواز کے سفر میں
جیسے کہ جنگلوں میں بن جائے راستہ سا

Comments - User is solely responsible for his/her words