فلورینس شہر (2)


شیرازی تاجر کے لائبریری کیفے سے نکل کر ہم بنا سمت کا تعین کیے چمکدار سرمئی پتھروں سے بنی پکی گلیوں میں ہو لیے۔ چند قدم ہی چلے تھے کہ ایک ڈھلوان کی طرف جاتی قدیم سیڑھیوں پر نظر پڑی، دل کے کمپس نے اثبات کی سوئی ہلائی اور ہم دوبارہ دریا سے دوری کے زینے چڑھنے لگے۔ کچھ ہی دیر میں سرخ جھینگروں کے بے چین گیتوں نے ہمارے قدموں کی توجہ اپنی جانب کر لی اور اب ہم آسمان سر پر اٹھا لینے والے اس شور کے تعاقب میں صد ہا سال پرانے صنوبر کے ان بڑے بڑے درختوں کے پاس پہنچے جن کے دامن میں عیسائی صلیب لگی قبریں اور ان پر صداؤں کا طوفان برپا کرتے لال جھینگر تھے۔ ریاست جموں و کشمیر میں شام کی تقریب رخصتی میں جھینگروں کے بینڈ باجوں کا بجنا آم سی بات ہے مگر اس قدر جھینگری شور میرے کانوں نے پہلی مرتبہ سنا تھا۔

کہا کہیے اس مقام نے ہمارے اوپر ایک ملا جلا سا تاثر قائم کیا۔ سرمئی اور سلیٹی پتھروں سے تراشی قدیم سیڑھیوں کے دونوں طرف قطار میں لگے صنوبر کے اونچے درختوں کی خوشبو اور ساؤں کا اثر خوشگوار جبکہ پرانی قبروں پر جھینگروں کا شور ہمارے لیے ایک ڈسٹربنگ ساؤنڈ سکیپ (Soundscape) کے ساتھ اداسی کا منظر نامہ تھا۔

ہم نے قبروں پر فاتحہ پڑھی اور مزید اوپر جانے کی بجائے شہر کے دل، دریائے آرنو کی طرف اتر گئے۔

کیا دیکھتے ہیں دریا کی دونوں جانب قدیم و جدید نوعیت کی مختلف اشیا کی دکانیں ہیں۔ مان لیجیے یہ کسی بھی شہر کے حدودی آغاز کی نشان دہی کرنے والے بازار تھے جہاں ہر طرح کی بازاری یعنی خرید و فروخت کی ضروری و آرائشی اشیا کا سامان موجود تھا۔

ان تنگ بازاروں سے ہم نے ممکنہ حد تیزی سے جان چھڑائی اور شہر کے دو حصوں کو ملانے والے روپہلی پل پر پہنچے۔

پل پر بھی سیاحوں کی بھیڑ، اشیا (souvenirs) سے بھرے آفتاب گیر ٹھیلے اور سائبانوں تلے ٹھنڈے مشروبات کے اڈے سجے تھے۔

دریا سے آتی آوارہ سرد ہوا کو کچھ دیر ہم نے اپنے بالوں کی بھول بھلئیوں میں الجھے رہنے کی اجازت دیے رکھی اور پسینہ خشک ہوتے ہی شہر کی ان اجنبی گلیوں پر گامزن ہو گئے جہاں نہ صرف مصوری، نقاشی، بت تراشی اور عطر سازی کی فروش گاہیں ہماری منتظر تھیں بلکہ انہی فنون کی عکاس فلک بوس عمارتیں، عظمت رفتہ کی یاد دلاتے کلیسے، گرجے، سائناگاگ اور فن تعمیرات کے دوسرے پر کشش تاریخی آثار بھی۔

فلورینس کی گلیوں کو اٹلی کے باقی شہروں سے جو چیز ممتاز بناتی ہے وہ قریہ قریہ جمے مصوروں کے ڈیرے تھے۔ بھری بھیڑ میں ہاتھ میں برش لیے کینوس پر جھکے اپنے کام میں منہمک ان مصوروں کو دیکھ کر محسوس ہوا گویا ہم کسی آرٹ فلم کے سین میں ہوں۔

ہم ان تمام مصوروں سے گفتگو کرنا چاہتے تھے مگر ان کی محویت میں مخل بھی نہیں ہونا چاہتے تھے۔ اس لیے بس دور سے ان کی عکس بندی کیا کی۔

مصوروں کے ٹھکانوں سے ذرا پرے سنگ تراشوں کی گلیاں تھیں۔ جسے دیکھو بت بنا رہا ہے یا مختلف اشیا کے مجسموں پر نقش و نگاری کر رہا ہے۔

انہیں دیکھ کر راشد کے مصرعے یاد آئے
زمانہ، جہاں زاد وہ چاک ہے
جس پہ مینا و جام و سبو
اور فانوس و گلداں
کے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں

آج جب اپنی آنکھوں سے ہم نے اطالوی چاکوں پر کئی بت بنتے بگڑتے دیکھے تو محسوس ہوا شاید کائنات اور دنیا ایک ہی جیسے اصولوں کی پیرو ہیں یا شاید واقعی یہ دنیا کائنات کا عکس ہے اور ہماری مادی حقیقتیں محض سائے ہیں تصوراتی کائنات کی ان سچائیوں کے جو آزاد ہیں زمان و مکاں کی قید سے۔

چاروں اور پھیلے دعوت فکر دینے والے حسن کے بیچ و بیچ

خود سے باتیں کرتے ہم نے کئی پرکشش گرجے پار کیے اور رنگدار شیشے سے بنے اس دریچے کے سامنے توقف کیا جس پر اطالوی زبان میں لکھا تھا Aqua Flor ہمیں لگا یہ یقیناً پھولوں کے عرق و عطر سے متعلق کوئی دکان ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب سے ہم اطالوی سرزمین میں داخل ہوئے تھے کسی پر اسرار اثر یا عنصر کے تحت کسی حد تک ہمیں اطالوی زبان کی سمجھ بوجھ حاصل ہو گئی تھی۔ یہ بات ہم مکمل ذمہ داری کے ساتھ کہہ رہے ہیں بنا کسی لغو شعبدہ بازی کے۔ اس کے پیچھے کا کارن جاننے کا نہ ہمیں تجسس ہوا نہ کوئی حاجت۔ اسے ہم اپنے خواب نگر کی ایک کرامت جان کر ممکنہ حد تک مستفید ہوتے رہے۔ خواب نگر کا تذکرہ آ گیا تو مختصراً بتاتے چلیں کہ اجنبی زبانوں ( لاطینی، عبرانی، سنسکرت وغیرہ) کی آمد ہمارے خوابوں کی ایک Frequent حقیقت ہے اور ایسے خوابوں کی تفصیل ہم باقاعدگی سے اپنے پرسنل ڈریم جرنل میں درج کرتے رہتے ہیں۔

خیر! ہم زیادہ سوچے بنا خوشبوؤں کی اس نگری میں داخل ہو گئے اور کانچ کے مرتبانوں میں قید مختلف رنگوں کے عطر آگین عرقوں کی زیارت کرتے رہے۔ اور ان اجزائے ترکیبی کا مطالعہ بھی جن سے مل کر یہ دماغ پرور خوشبوئیں بنی تھیں۔

پرفیوم ہاؤس سے نکل کر ہم اس سمت ہو لیے جہاں یہودیوں کی عبادت گاہ سے متصل ان کا ایک عجائب گھر بھی تھا۔ فلورینس کے دورے میں یہ وہ واحد جگہ تھی جس پر حاضری کا ارادہ ہم پہلے سے رکھتے تھے۔ اس کی وجہ قوم یہود سے ہماری وہ خاموش محبت ہے جس کا اظہار خوف کے مارے ہم بہت کم کرتے ہیں کہ کہیں کسی ”ایجنڈا“ نامی جرم کے سزا وار ہی نہ ٹھہرا دیے جائیں۔

یہود سے ہماری محبت کی وجوہات سراسر ذہنی، تخلیقی، فلسفیانہ، ادبی، علمی اور فنونی ہیں۔ چاہے کوئی ہمیں ”جو مرضی“ پرست کہے۔

سئانا گاگ کے حیرت انگیز حسن نے ہمیں پہروں مد ہوش کیے رکھا۔
جس جانب نگاہ کیجیے خوشنمائی کے وہ جلوے کہ سبحان اللہ!

دیوار و در کی نقش و نگاری سے لے کر فرش اور سیلنگ کی بناوٹ میں فن تعمیرات کے وہ معجزے کہ جن پر سے آنکھ ہٹانا کسی کفر سے کم نہ تھا۔

ہم نے دیکھا کنیسہ کی جو دیوار یروشلم کی سمت ہے اس کے ساتھ لکڑی سے تراشی ایک خوبصورت الماری ہے جس کو ”ارون قودیش“ کہتے ہیں اور اس میں تورات کے سکرولز (scrolls) رکھے تھے جو اوقات عبادت میں ارون سے نکال کر پڑھے جانے کے بعد وہیں رکھ دیے جاتے ہیں کہ ان کی طرف پیٹھ نہ پھرے۔

صدر ہال کے درمیان سرخ پوش سے ڈھکا لکڑی کا ایک منبر نما چبوترا تھا جس پر کھڑے ہو کر ربی مختلف تہواروں پر تورات سے خزاں / مناجات پڑھتے ہیں۔

ہال کے اوپری حصے میں عورتوں کی جماعت کے لیے علیحدہ گیلری دل کش نشستوں سے پر تھی اور وہاں سے پورے ہال کا مجموعی نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ اس عبادت گاہ کی خوبصورتی میں محو ہونا مثل محو عبادت تھا۔ ایسے میں ہمیں استاد جاوید احمد صاحب غامدی کی کہی ایک بات یاد آئی کہ نماز کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود مذہب کی۔ ہندؤں کا بھجن، پارسیوں کا زمزمہ، عیسائیوں کی دعائیں اور یہودیوں کے مزامیر نماز/عبادت ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔

کنیسہ سے متصل عجائب گھر کے اندر ہم نے مختلف نگار خانوں میں محفوظ چاندی کے اوراق پر لکھے مذہبی سفائن دیکھے۔ کانسی اور سنہرے رنگ کی جلدوں میں لپٹے تورات کے قدیم نسخے۔ عبادت کے لیے مختص سونے کی گوٹا کناری والے یعقوتی رنگ ملبوسات، مقدس پانی کے چھڑکاؤ کے لیے استعمال ہونے والے برش نما قدیمی آلے، عطر افروز دھواں پھیلانے والے اگر دان، ستارہ داؤدی جس کو لسان الاقدس میں Māḡēn Dāwīḏکہتے ہیں کے مختلف نمونے اور ایسی ہی عبادت کی رسوم سے جڑی بہت سی حیرت انگیز روایتی اشیا کی نمائش ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان بنتی رہی۔

سائناگوگ سے نکل کر ہم اس یادگار پر پہنچے جو اطالوی شاعر Divine Comedy کے لکھاری دانتے کی رہائش گاہ سے منسوب کی گئی تھی۔

بڑھتے ہوئے ٹورزم کے تحت اس جگہ کے اندر جانے کے لیے ٹکٹ کے نام پر داخلہ فیس بھرنی پڑتی تھی اور ویزٹ کے اوقات بھی مختص کر دیے گئے تھے۔ خوش قسمتی یا بد قسمتی سے ہم اس وقت یہاں پہنچے جب visiting hours ختم ہو چکے تھے۔

ہم باہر سے ہی گھر کے در و دیوار اور کھڑکیوں کو دیکھا کیے اور یادگار کے طور پر کچھ تصاویر بھی اتار لیں۔

وہاں سے جلد ہی فارغ ہو کر ہم بائیں طرف مڑتی گلی میں چلنے لگے کہ اطالوی زبان میں خوش آمدید کہہ کر ہمارا راستہ ایک نحیف بزرگ نے روک کیا جو اپنے گھر کی اینٹرینس entrance پر کچھ کتابوں سے سجی میز کے پیچھے ایک آرام دہ کرسی لگا کر بیٹھے ہوئے تھے۔

سلام دعا ہوئی،

ہم نے اپنا بستہ اور کیمرہ میز کی ایک طرف رکھ دیا اور پوری توجہ سے ان کی بات سننے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ ان کی تمام گفتگو اطالوی زبان میں تھی ماسوائے Understand؟ کے۔

جیسا کہ ہم نے اوپر بتایا ہمیں اٹلی میں آتے ہی اٹیلین زبان بھی سمجھ آنے لگ گئی تھی۔ جس قدر پلے پڑی ہمیں لگا بزرگ وار ہم سے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہر گز دانتے کا گھر نہیں تھا یا شاید کہ یہ دانتے کا مزار نہیں ہے اور یہ سب جھوٹ من گھڑت کہانیاں ہیں۔

جب جب انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا understand؟

ہم اثبات میں سر ہلاتے رہے۔ پھر ہم نے ان سے جرمن اور انگریزی کے مرکب میں پوچھا کہ کیوں؟ اگر یہ رہائش گاہ دانتے کی نہیں ہے تو یہاں یہ بورڈ کیوں لگا ہے۔

پھر سے ان کے جواب سے جتنی ہمیں سمجھ آئی اس کا مطلب تھا کہ وہ پیپلز میں فوت ہوا تھا

اس کا مزار روینا میں ہے۔ اس بات کی سمجھ شاید ہمیں اس لیے آئی کہ ہم Papals اور Ravenna ناموں سے واقف تھے۔

بہرحال استاد بزرگ کی گفتگو کس کرب کا بیان تھی یہ تو ہم مکمل طور پر نہ جان سکے لیکن ان کی آنکھوں کی سچائی ہمارے دل میں اتری تھی۔

روم لے جانے والی مسافر بس کے انتظار میں ہم شام ڈھلے بے مقصد دریائے آرنو کے کنارے یہ سوچتے ہوئے پھرتے رہے کہ ہمارے اور اطالوی بابا جی کے درمیان اجنبی زبان میں ہونے والا مکالمہ ایک راز کی صورت ہمارے ساتھ قبر تک جائے گا۔

Facebook Comments HS