روحی بانو: تری یاد آئی ترے جانے کے بعد

اِن پری زادوں سے لیں گے خُلد میں ہم انتقام قدرتِ حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گیئں مرزا غالب کا یہ شعر خدا جانے کس ضمن میں کہا گیا مگر اس کو روحی بانو جیسی خوب رو پری زاد کی ستائش میں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ عین ممکن ہے ان…

Read more

میرا کشمیر جو عورت دوست ہے

جنوبی ایشیا کا وہ علاقہ کہ جسے تابہ فلک بلند تاج نما ہمالیہ، زنسکر، نانگا پربت، پیر پنجال اور دوسرے پہاڑی سلسلوں کے برف پوش کہسار ہزاروں سال سے اپنے دامن سے لگائے ہوئے ہیں۔ یہ پہاڑ اس سرزمین کو اپنی پیوستگی، ٹھنڈک، چمک، مخلتف دریاؤں کا منبع و مرکز، برفانی دلکشیاں، شفاف جھرنے، نیلی ندیاں، سرو کے میٹھے سائے اور اساطیری رستوں پر بنی تنگ گھاٹیاں بخشتے جم کر کھڑے ہیں۔ اسی جادوئی سر زمین پر تاریخ کا سفر بتلاتا ہے کہ جہاں مختلف راجاؤں، نوابوں اور بادشاہوں کی حکومت رہی وہیں ملکہ دیدا، لال دید، ملکہ کوٹا رانی، حبا خاتون، راج بیگم اور شاملی بیگم جیسی روشن بخت عورتیں بھی اسی خواب نما دھرتی پر جنمی اور پروان چڑھیں۔

Read more

سردار خالد ابراہیم مرحوم کے نام ایک خط

محترم خالد ابراہیم صاحب! آپ کے عرصہِ حیات کے دوران آپ سے ملاقات نہ ہو سکنا میرے لیے کسی بد بختی سے کم نہیں۔ مجھے دکھ و عار کے ساتھ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ مجھے آپ سے متعارف بھی آپکی بے وقت موت نے ہی کروایا کہ جب سوشل میڈیا پر آپ پر…

Read more

حامد ڈار شیرینی بانٹنے والا رخصت ہوا

بوڑھ کے پرانے درختوں جیسا جھریوں زدہ مفکرسا ایک چہرہ جس کو اکثر میں نے گورنمنٹ کالج کے اندر یا تو بخاری آڈیٹوریم کی طرف جانے والی راہداری یا انٹر کیفے سے مین گیٹ کی جانب جانے والے راستے پر سفاری سوٹ پہنے، ہاتھ پیچھے باندھے خراماں خراماں چلتے یا کبھی سکالرز گارڈن کے برابر…

Read more