وہ در جو پھر کُھلا

گورنمنٹ کالج لاہور کا حالیہ دورہ میرے لیے ایک سادہ ناسٹیلجِک ٹرپ نہیں تھا بلکہ ایسا تھا جیسے کوئی ایک نیا در، نیا باب کُھل گیا ہو۔ وہی پرانے سنگِ مرمر، وہی قدیم درخت، وہی پُر اسرار راہداریاں، مگر جیسے کسی نئے شعور، نئے جذبات اور نئی پہچان کے ساتھ مجھے ملی ہوں۔ سماجیات کی زبان میں خاندان کی کئی تعریفیں ہوتی ہیں نسلی، ذاتی، طبقاتی۔ لیکن میرے نزدیک سب سے بامعنی خاندان وہ ہوتا ہے جو آپ کے اندر

Read more

ایک خط: میونخ کی غم انگیز دوپہروں سے

! عزیزانِ من یاد تھیں ہم کو بھی رنگا رنگ بزم آرائیاں لیکن اب نقش و نگار طاق نسیاں ہو گئیں شب غم میں گھلتے ہمارے ظلمت کدے پر روشنی کی شال اوڑھے جو سحر نمودار ہوئی تو چلمنوں کی اوٹ سے برستی بارش دکھائی تو دی مگر سنائی نہ دی۔ برسن کا یہ طور اس قدر خاموش اور متوازی تھا کہ نہ ہوا کا زور نہ برسنے کا شور۔ یوں گمان ہوا گویا سارے میں فلک سے زمیں تلک

Read more

کچھ سردار کاشان مسعود کے بارے میں

کاشان مسعود! صرف ایک نام نہیں بلکہ وہ صدائے بازگشت ہے جس سے، مجھ سمیت آزاد کشمیر کے کئی نوجوانوں کے اذہان پر ثبت وہ نقوش ابھر آتے ہیں جو کسی انسان کی شخصی تشکیل کے ابتدائی مراحل سے متعلق ہوتے ہیں۔ آزاد کشمیر کے ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ میں سن 2000 کی دہائی کے اوائل میں آزادی کی تحریک اپنے عروج پر تھی۔ اس تحریک کے بانیوں میں سردار کاشان مسعود کا نام سر فہرست تھا۔ یہ ان

Read more

تنہائی کے سو سال: ریویو

یہ سلسلہ مئی کی آخری تاریخوں میں اس صبح شروع ہوا جب لاہور کی گہماگہمی میں بیٹھے اپنی نوعیت کے تنہا شاعر اور میونخ میں بیٹھی لاک ڈاؤن کے دنوں کی گرم دوپہریں اور سرد راتیں تنہا گزارتی ایک لڑکی نے مل کر قدیم مصریوں کی نہ قابل فراموش ایجاد، نظام وقت، کو (جس کو ماپنے کا ایک آلہ صدیوں بعد جرمن قفل ساز نے گھڑی کی صورت میں بنایا تھا) مات دی اور یوں انہوں نے کرہ ارے دو

Read more

فلورینس شہر (2)

شیرازی تاجر کے لائبریری کیفے سے نکل کر ہم بنا سمت کا تعین کیے چمکدار سرمئی پتھروں سے بنی پکی گلیوں میں ہو لیے۔ چند قدم ہی چلے تھے کہ ایک ڈھلوان کی طرف جاتی قدیم سیڑھیوں پر نظر پڑی، دل کے کمپس نے اثبات کی سوئی ہلائی اور ہم دوبارہ دریا سے دوری کے زینے چڑھنے لگے۔ کچھ ہی دیر میں سرخ جھینگروں کے بے چین گیتوں نے ہمارے قدموں کی توجہ اپنی جانب کر لی اور اب ہم

Read more

فلورینس شہر!

اٹلی کے علاقے ٹسکنی کا کیپیٹل فلورینس، سبز پہاڑوں کے پیالے میں بہتے دریائے آرنو کے دونوں کناروں پر آباد ہے۔ آرنو کا پہروں سے وہی رشتہ ہے جو سورج مکھی کا سورج سے، میگ ملہار کا بارش سے اور بانسری کا بانس سے ہے۔ وقت کے دائروں پر رنگ ایسے گردش کرتے ہیں کہ دریا کا پانی کبھی آسمانی نیلا، کبھی اودا، کبھی دھانی، کبھی فیروزی دکھائی دیتا ہے۔ ؀ بدلتا ہے رنگ آرنو کیسے کیسے! حیدر علی آتشؔ

Read more

شہر وینس

شہر وینس جس کو پلوں کا شہر بھی کہتے ہیں، اٹلی کا وہ طلسماتی شہر ہے جس کا جادو اس لمحے ہی مجھ پر طاری ہو گیا تھا جب میں نے مقید پانیوں کی پر نم فضا میں پہلا سانس بھرا تھا۔ غالباً صبح کے نو بج رہے تھے جب حیرت میں ڈوبی پچھلی رات کی جاگتی آنکھوں نے زرد پھولوں سے ڈھکا لکڑی کا پل پار کرتے ہوئے نیچے بہتے سبزی مائل نیلے پانی پر جھولتے شکارے (گوندولے )

Read more

سر طارق فارانی: حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

کبھی کبھی سر ہمارے معاشرے کی اس ریت کا بہت مذاق اڑایا کرتے تھے کہ لوگ قبر کے تختوں پہ نام اور ولدیت مع سن پیدائش اور وفات کیوں لکھتے ہیں۔ کہا کرتے تھے قبرستان کے پاس سے گزرو تو تختوں پر رن گدار حروف میں لکھا نظر آتا ہے بی بی فلاں ولد فلاں یا محمد فلاں ولد فلاں، ”او انہاں کولوں کوئی جا کے پچھے کون نے اے لوک؟ کی کم کیتا اے اینہاں نے زندگی وچ؟ انہاں دی پہچان جے اینہاں دا کم نی اے تے ہون مر جان توں بعد تسی اینہاں نوں کیوں ناں دے رہے ہو، اے کر کے کی گئے نے اس دنیا وچ؟“

Read more

یاراں جہانِ انٹرنیٹ کے نام ایک کُھلی چِٹھی

سمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے زمانے سے صبح نیند کھلتے ہی (میری) آنکھیں اور انگلیاں موبائل فون ٹٹولنے کی عادی ہو چکی ہیں۔ سرِ آغازِ صبح کس کو کیا دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے یہ منحصر ہے اُس کی اور اُس کے دلبرانِ جہانِ انٹرنیٹ کی شخصیات اور دل چسپیوں پر۔ مجھے تو کبھی کبھی سوشل میڈیا رحمتِ خدا وندی سے کم نہیں لگتا بالخصوص جب میرا فاصلہ اپنی جنم بھومی اور اس میں جنمے احباب سے

Read more

عیداں تے شبراتاں آئیاں!

عید کی خوشی یقیناً ایک الگ خوشی ہوا کرتی تھی جس کو میں نے بالخصوص اپنے بچپن میں سب سے زیادہ محسوس کیا ہے۔ لڑکپن (عورتوں کے لیے بھی عمر کے اس حصے کے لئے غالباً لڑکپن کا لفظ ہی مستعمل ہے، مجھے کنفرم نہیں ) میں بھی محسوس کیا ہے مگر بچپن کی خوشی سے ذرا مختلف پیرائے میں۔ بچپن میں چاند رات کو عید کی صبح تک جگائے رکھنے والی شیریں بے چینی اکثر نئے لباس، نئے جوتے،

Read more

راجا فاروق حیدر خان: ایک مست درویش

میں نے راجا فاروق حیدر خان کی اکثر ایسی تصویریں دیکھی ہیں، جن میں وہ کسی محفل، بیٹھک یا جلسے میں بیٹھے، بیٹھے گھڑی دو گھڑی کے لیے اس دنیا کی ریل پیل کے بیچوں بیچ، دو آنکھوں کے پٹ بند کر کے اپنے الکھ نگر، اپنے خواب نگر میں پہنچے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کی قریبی نشستوں پر براجمان نر، ناریاں اپنی انگشتِ تعجب ہونٹوں کی اور بڑھاتے ہوئے دبی دبی ہنسی کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں

Read more

روحی بانو: تری یاد آئی ترے جانے کے بعد

اِن پری زادوں سے لیں گے خُلد میں ہم انتقام قدرتِ حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گیئں مرزا غالب کا یہ شعر خدا جانے کس ضمن میں کہا گیا مگر اس کو روحی بانو جیسی خوب رو پری زاد کی ستائش میں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔ عین ممکن ہے ان کی زندگانی میں کسی شوخ دل نے ایسا انہیں کہا بھی ہو۔ آج صبح سے سوشل میڈیا نیوز فیڈ میں روحی بانو کی خوبصورت تصاویر

Read more

میرا کشمیر جو عورت دوست ہے

جنوبی ایشیا کا وہ علاقہ کہ جسے تابہ فلک بلند تاج نما ہمالیہ، زنسکر، نانگا پربت، پیر پنجال اور دوسرے پہاڑی سلسلوں کے برف پوش کہسار ہزاروں سال سے اپنے دامن سے لگائے ہوئے ہیں۔ یہ پہاڑ اس سرزمین کو اپنی پیوستگی، ٹھنڈک، چمک، مخلتف دریاؤں کا منبع و مرکز، برفانی دلکشیاں، شفاف جھرنے، نیلی ندیاں، سرو کے میٹھے سائے اور اساطیری رستوں پر بنی تنگ گھاٹیاں بخشتے جم کر کھڑے ہیں۔ اسی جادوئی سر زمین پر تاریخ کا سفر بتلاتا ہے کہ جہاں مختلف راجاؤں، نوابوں اور بادشاہوں کی حکومت رہی وہیں ملکہ دیدا، لال دید، ملکہ کوٹا رانی، حبا خاتون، راج بیگم اور شاملی بیگم جیسی روشن بخت عورتیں بھی اسی خواب نما دھرتی پر جنمی اور پروان چڑھیں۔

Read more

سردار خالد ابراہیم مرحوم کے نام ایک خط

محترم خالد ابراہیم صاحب! آپ کے عرصہِ حیات کے دوران آپ سے ملاقات نہ ہو سکنا میرے لیے کسی بد بختی سے کم نہیں۔ مجھے دکھ و عار کے ساتھ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ مجھے آپ سے متعارف بھی آپکی بے وقت موت نے ہی کروایا کہ جب سوشل میڈیا پر آپ پر برین ہیمریج اٹیک کی خبر دعا کی اپیل کے ساتھ جنگل میں آگ کی طرح پھیل رہی تھی۔ میرے احباب میں شامل سبھی کشمیری آپ

Read more

حامد ڈار شیرینی بانٹنے والا رخصت ہوا

بوڑھ کے پرانے درختوں جیسا جھریوں زدہ مفکرسا ایک چہرہ جس کو اکثر میں نے گورنمنٹ کالج کے اندر یا تو بخاری آڈیٹوریم کی طرف جانے والی راہداری یا انٹر کیفے سے مین گیٹ کی جانب جانے والے راستے پر سفاری سوٹ پہنے، ہاتھ پیچھے باندھے خراماں خراماں چلتے یا کبھی سکالرز گارڈن کے برابر رستے پر کھڑے مخلتف اسٹوڈینٹس کے ساتھ ہنستے دیکھا تھا۔  زندگی سے بھر پور چہرے والے اس پروفیسر کا نام حامد ڈارتھا۔ اور حماد ڈار

Read more