اقبال پارک میں بچی پر حملہ اور پکچر آف ڈورین گرے
لاہور میں مینار پاکستان کے سائے تلے اور 14 اگست کے پر مسرت موقع پر ہم نے ایک مرتبہ پھر اپنا اصلی چہرہ دنیا کو دکھا دیا۔ ایک لڑکی ٹک ٹاکر ویڈیو بنا رہی تھی اور چار سو غیور پاکستانی مردوں نے قومی حمیت سے مجبور ہو کر اس پر حملہ کر دیا۔ میں نے اپنے ایک دوست کو اس کے متعلق مواد واٹس اپ بھجوایا تو ان کا جواب موصول ہوا مجھے ایسا مواد نہ بھجوایا کرو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔ ہاں۔ ہم بہت نرم دل ہیں۔ ہم یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ ایسے معاشرے کا خاموش فرد بن کر زندہ رہیں لیکن ہم میں یہ ہمت نہیں کہ اپنا مسخ شدہ چہرہ دیکھ سکیں۔
میں نے عرصہ قبل آسکر وائلڈ کا ناول پکچر آف ڈورین گرے پڑھا تھا۔ اس ناول کی کہانی یہ ہے کہ ایک مصور ایک معصوم اور بہت خوبصورت لڑکے کی تصویر بناتا ہے۔ یہ لڑکا اس تصویر کو دیکھ کر خود بھی سحر زدہ ہوجاتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ کاش میری شکل اسی طرح کی رہے اور میری جگہ عمر کے ماہ و سال کا اثر اس تصویر پر نمودار ہو۔ اور یہ دعا قبول ہو جاتی ہے۔
یہ لڑکا بد اعمالیوں میں بڑھتا جاتا ہے اور لڑکیوں کو دھوکے پر دھوکے دیتا ہے۔ لیکن کئی برس گزرنے کے بعد بھی اس کا چہرہ ویسا ہی معصوم اور کم عمر دکھائی دیتا ہے اور اس کی جگہ اس پینٹنگ میں بنائی ہوئی اس کی شکل بھیانک اور مکروہ ہوتی جاتی ہے۔ یہ لڑکا جب بھی اس پینٹنگ کو دیکھتا ہے گھبرا جاتا ہے۔ اس لئے اسے ایک تہہ خانے میں چھپا دیتا ہے البتہ جب بھی اس تصویر کو دیکھتا ہے اس تصویر میں شکل پہلے سے زیادہ بھیانک اور مکروہ دکھائی دیتی ہے۔
ہم بھی اپنی اصل شکل دیکھ کر گھبرا جاتے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا عذر تراش کر ہمیں لوریوں کی طرح سنایا جا رہا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ اس لڑکی کے اعمال ہی ایسے تھے۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ سب پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش تھی۔ اس لڑکی نے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ کوئی کہتا ہے کہ اس کے اپنے دوست اس میں ملوث تھے۔ اگر کوئی شخص بالفرض یہ ساری کہانیاں مان بھی لے۔ اور ان کی صداقت کے بارے میں کوئی بحث نہ کرے۔ تو اس عاجز کو صرف یہ سمجھاؤ کہ چار سو مردوں کے اس وحشیانہ حملے کا کیا جواز تھا؟ کون سا اخلاقی جواز؟ کون سا مذہبی جواز؟ کون سا قانونی جواز؟
اگر یہ سازش بھی تھی تو حملہ کرنے والے ویسے ہی مجرم تھے۔ اور ان چار سو بے شرموں نے کہاں پر کھڑے ہو کر اس بربریت کا مظاہرہ کیا۔ اس مقام پر جہاں قرارداد لاہور منظور کی گئی تھی۔ اور ہم نے ایک ملک کا مطالبہ کیا تھا۔ اس ملک کا مطالبہ کن عزائم کو پورا کرنے کے لئے کیا گیا تھا؟ قائد اعظم سے بہتر کون بتا سکتا تھا؟ وہی قائد اعظم جنہیں اس دور کے کچھ باریش احباب نے کافر اعظم قرار دے دیا تھا۔ بہر حال 23 مارچ 1940 کو قائد اعظم نے اپنے خطاب وقت ضائع کیے بغیر اہم کاموں پر ہونے والی پیش رفت کا ذکر کیا۔ پہلا نکتہ یہ تھا کہ ہر صوبے میں مسلم لیگ کی شاخیں قائم کر دی گئی ہیں اور ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
اس کے بعد دوسرے کام کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ یہ کام ہمارے لئے بہت زیادہ اہم ہے۔ اور وہ کام یہ ہے کہ ہم خواتین کو اپنی اس جدوجہد میں شامل کریں اور اس غرض کے لئے پٹنہ میں ایک مرکزی کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔ اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ تمام صوبوں میں خواتین میں سیاسی شعور بیدار کیا جائے۔ اگر ہم اس مقصد میں کامیاب ہو گئے تو ہمیں اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں کوئی خوف نہیں رہے گا۔ اور اس بارے میں کچھ پیش رفت ہوئی بھی ہے۔
یہ منزل پانے کے لئے ہم نے سفر شروع کیا تھا اور انجام یہاں پر ہوا کہ اسی مقام پر یوم آزادی کے دن قوم کے سپوتوں نے ایک خاتون پر حملہ کر کے اس کے کپڑے پھاڑ دیے۔ 1940 میں جب قرارداد لاہور منظور کی گئی تو اس موقع پر ایک خاتون یعنی بیگم مولانا محمد علی نے بھی خطاب کیا تھا۔ اور اس تقریر میں انہوں نے فرمایا تھا کہ مسلمان عورتوں کو سیاسی میدان میں کام کرنے کا موقع ملا ہے اور عورتوں کی مدد کے بغیر مرد کچھ نہیں کر سکتے۔
لیکن بیگم مولانا محمد علی کی یہ بات پوری طرح صحیح نہیں تھی۔ پاکستانی مرد عورتوں کی مدد کے بغیر بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ اگر الیکشن نہ جیت سکیں تو مارشل لا لگا سکتے ہیں، نوے ہزار مرد ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال سکتے ہیں، خود کش دھماکے کر سکتے ہیں، خاتون سابق وزیر اعظم کو قتل کر کے گاڑی کے کسی ہینڈل کو قصوروار قرار دے سکتے ہیں اور اب تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ پاکستانی مرد یوم آزادی کے دن مینار پاکستان کے سائے میں تنہا نہتی لڑکی پر وحشیانہ حملے کر سکتے ہیں۔ اس کے بعد اس حملے کا جواز ثابت کرنے کے لئے اس طرح کے بہانے تلاش کرتے ہیں کہ ابلیس بھی سوچتا ہو گا کہ اگر مجھے ابن آدم کے ان کرتوت کا اندازہ ہوتا تو روز ازل خوشی سے ان کے جد امجد کو سجدہ کر میں ہمیشہ کے لئے طویل رخصت پر چلا جاتا۔
بے قابو ہجوم کی پر تشدد ذہنیت کیوں پیدا ہوتی ہے؟ یا یوں کہنا چاہیے اسے کس طرح پروان چڑھایا جاتا ہے۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ یہ اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ ایک گروہ سے غیر مشروط وابستہ ہونے اور اپنی انفرادیت کھونے کے احساس کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ اور ہر فرد ایک گروہ سے وابستہ ہو کر اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے آزاد خیال کرتا ہے۔ جذبات کو ہوا دے کر ہر ناپسندیدہ فعل کو پسندیدہ اور ضروری بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اور کوئی برا کام کرتے ہوئے ایسے افراد یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ یہ سب کچھ اپنے گروہ کے لئے کر رہے ہیں، اس لئے ان پر کسی قسم کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔
(The Psychology of Mob Mentality:Is this what happened with the infiltration of the Capitol on Jan. 6?Posted January 24, 2021. Psychology Today)
ہاں! آپ کو ڈورین گرے کا انجام تو بتانا بھول گئے۔ ڈورین گرے نے یہ تصویر ایک تہہ خانے میں تو چھپا دی لیکن جب بھی کبھی اس پر نظر پڑتی تصویر میں اس کی شکل پہلے سے زیادہ بھیانک نظر آتی۔ جبکہ دنیا صرف اس کا معصوم اور خوبصورت چہرہ دیکھ رہی تھی۔ آخر ایک دن اس نے تنگ آ کر فیصلہ کیا کہ اس تصویر کو ہی ختم کر دیا جائے جو اس کی حقیقت کو ظاہر کر رہی تھی۔ اس نے ایک چھری پکڑ کر تصویر پر وار کیا۔ باہر سڑک پر لوگوں نے ایک دہلا دینے والی چیخ سنی۔ جب وہ گھر کے اندر داخل ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک مکروہ اور بھیانک چہرے والے شخص کے سینے میں چھری پیوست ہے اور وہ مرا پڑا ہے۔ وہ صرف اس کی انگوٹھی سے ہی پہچان سکے کہ یہ شخص ڈورین گرے ہے۔ اور سامنے ایک پینٹنگ پڑی تھی جس میں ڈورین گرے کا چہرہ نظر آ رہا تھا۔ پہلے والا معصوم اور خوبصورت چہرہ۔
آپ سن تو چکے ہوں گے حکومت صحافیوں کے لئے کچھ پروگرام مرتب کر رہی ہے تاکہ وطن عزیز میں مثبت رپورٹنگ کے رجحان کو فروغ دیا جائے۔
[نوٹ : اس ناول کے تمام کردار فرضی ہیں۔ موجودہ حالات سے کسی قسم کی مماثلت محض اتفاقی ہو گی۔]

