ویپنگ (Vaping): موثر یا غیر موثر

یہ بات تو سب جانتے اور مانتے ہیں کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ یہ ایسی نعمت ہے جس سے محروم ہونے پر کسی انسان کو اگر سکندر اعظم یا مغل بادشاہ کا رتبہ دیا جائے تب بھی اسے سکون نہ آئے۔ پشتو کی ایک کہاوت ہے ’روغ صورت اختر دی‘ یعنی اصل عید تندرستی ہے۔ تندرستی کا سب سے بڑی نعمت ہونے کی اس مسلمہ حقیقت کے باوجود انسان دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسی چیزیں استعمال کرتا ہے جو صحت کو نقصان پہنچاتی ہیں

ان چیزوں میں گندے پانی، خراب کھانوں اور نیند کی کمی سے لے کر شراب اور تمباکو نوشی وغیرہ شامل ہیں۔ آج ہم اس تحریر میں سگریٹ نوشی کی عفریت کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔

پاکستان میں مختلف اندازوں کے مطابق ڈھائی سے تین کروڑ تمباکو نوش ہیں جن میں اکثر سگریٹ نوش ہیں۔ دنیا میں ہر سال تمباکو نوشی سے مرنے والوں کی تعداد بیاسی لاکھ ہے جبکہ پاکستان میں تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار افراد ہر سال سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے شکار ہو کر جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔

یہ انتہائی مایوس کن اعداد و شمار ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگ سگریٹ نوشی کی لت میں مبتلا ہو کر اپنی جان کے لیے خطرہ پیدا کر دیتے ہیں بلکہ دوسروں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ دوسری طرف سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر بھی مجموعی طور پر اربوں خرچ ہوتے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں اور اموات پر 2019 میں 615 ارب روپے خرچ ہوئے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں بہت سے تمباکو نوش اپنی اس عادت کو ترک کرنے کی کئی ناکام کوششیں کرتے ہیں۔ حکومت کی حانب سے تمباکو نوشی کے خاتمے کی مربوط پالیسی، عوام کی رہنمائی، تدارک کے مراکز اور اس لت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مددگار متبادل اور کم نقصان دہ مصنوعات کو قومی انسداد تمباکو نوشی کی پالیسی میں شامل نہ کرنا اس عفریت کی بڑی وجوہات ہیں۔

دنیا بھر میں انسداد تمباکو نوشی کے لیے ای سگریٹ مددگار اور محفوظ متبادل کے طور سامنے آیا ہے۔ برطانیہ کے نیشنل ہیلتھ سروسز نے اسے 95 فی صد کم نقصان دہ اور تمباکو نوشی ترک کرنے کا موثر ذریعہ قرار دیا ہے اور دنیا بھر میں لاکھوں لوگ سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں مگر امریکہ سمیت مختلف ممالک میں بغیر سائنسی ثبوتوں کے اس کے خلاف مہم جاری ہے۔

پاکستان کا شمار بھی ان بد قسمت ممالک میں ہوتا ہے جہاں کی تقریباً بائیس کروڑ آبادی میں سے تین کروڑ کے قریب سگریٹ نوش ہیں مگر حکومت نے اس عفریت کے تدارک کے لیے کوئی خاطر خواہ انتظامات نہیں کیے۔ حکومت کی جانب سے تمباکو نوشی کے خاتمے میں سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں اس لت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں ای سگریٹ کی مانگ بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر اس کی افادیت، فوائد اور نقصانات پر مباحثے جاری ہیں مگر پاکستان میں سنجیدگی کے ساتھ اس کا جائزہ لینے کی بجائے ذمہ دار حلقے اس پر پابندی عائد کرنا چاہتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے اسی غیر ذمہ دارنہ رویے کی وجہ سے اکثر تمباکو نوش ای سگریٹ کے بارے میں نہیں جانتے یا انہیں اس بارے میں مفید معلومات نہیں۔ مڈل کلاس یا اپر کلاس کے جو لوگ ای سگریٹ کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں وہ سگریٹ نوشی کے خاتمے کے لیے اس کا استعمال کرتے ہیں۔

تمباکو نوشی کے خاتمے میں مددگار متبادل کے طور پر ای سگریٹ کے فوائد، خطرات اور انسداد تمباکو نوشی میں اس کے موثر یا غیر موثر ہونے کے حوالے سے ’ای سگریٹ کے فوائد اور خطرات کا موازنہ‘ ایک جامع رپورٹ سامنے آئی ہے۔ یہ رپورٹ اس شعبے کے بڑے ماہرین نے تیار کی ہے۔

یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ ای سگریٹ کا موضوع متنازعہ ہے۔ اس کے مخالفین نوجوانوں کے لیے اس کے خطرات کو مرکز نگاہ بناتے ہیں جبکہ حامی، تمباکو نوشی ترک کرنے میں سگریٹ نوشوں کی مدد کے لیے اس کی افادیت پر زور دیتے ہیں۔

امریکہ میں صحت کے بیشتر اداروں، ذرائع ابلاغ اور پالیسی سازوں نے بنیادی طور پر نوجوانوں کے لیے اس کے خطرات پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے اور ان کے پیغاموں کی وجہ سے زیادہ تر لوگ۔ جن میں کثیر تعداد تمباکو نوشوں کی ہے۔ اب وہ بھی ای سگریٹ کے استعمال کو خطرناک یا تمباکو نوشی سے بھی زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ اس کے باlکل برعکس، نیشنل اکیڈمیز آف سائنس، انجینیئرنگ اور میڈیسن نے ای سگریٹ کے استعمال کو تمباکو نوشی کی بہ نسبت انتہائی کم خطرناک قرار دیا ہے۔

نیشنل اکیڈمی آف سائنسز، انجینئرنگ، اور میڈیسن کے مطابق ای سگریٹ کے اجزاء کے لیبارٹری ٹیسٹ، وٹرو ٹاکسیجو لوجیکل ٹیسٹ اور قلیل المدتی انسانی مطالعوں سے پتہ چلتا ہے کہ ای سگریٹ جلنے والی سگریٹ کے مقابلے میں بہت کم نقصان دہ ہیں۔

اسی طرح برطانیہ کے رائل کالج آف فزیشنز نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ویپنگ مکمل طور پر خطرے سے خالی نہیں ہے لیکن تمباکو نوشی سے بہت کم نقصان دہ ہے جبکہ زیادہ تر سائنس دان سمجھتے ہیں کہ جلنے والی سگریٹ کے دھوئیں میں کیمiائی مادوں کی تعداد 7000 سے زیادہ ہے جو ای سگریٹ کے ذرات میں مادوں کی بہ بنسبت سو گنا زیادہ ہے۔ ای سگریٹ تمباکو نوشی کا خاتمہ کر سکتی ہے اور مجموعی طور پر آبادی کے مطالعے کے نتائج سے بھی اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ ای سگریٹ تمباکو نوشی کے خاتمے میں موثر ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ ان تمباکو نوشوں کی بہ نسبت جو ویپنگ نہیں کرتے، ویپنگ کا استعمال کرنے والوں کو سگریٹ نوشی ترک کرنے میں 28 فی صد کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ برسوں سے امریکہ میں سگریٹ کی فروخت سالانہ 2 سے 3 فیصد تک کم ہوئی ہے۔ ابھی حال ہی میں جیسے جیسے ویپنگ کی مصنوعات کی فروخت میں اضافہ ہوا تو سگریٹ کی فروخت میں بہت تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

ویپنگ محدود کرنے والی پالیسیوں کے پیش نظر اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس کی شرح کی مناسبت سے ای سگریٹ پر ٹیکس لگانا ایک دہائی کے دوران 2.75 ملین تمباکو نوشوں کو سگریٹ نوشی ترک کرنے کے عمل سے روکنے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس تاثر کو بھی رد کیا گیا ہے کہ نکوٹین کی وجہ سے کینسر کا امکان بڑھتا ہے۔

ویپنگ اس وقت تمباکو نوشی کے خاتمے کا تیزی سے بڑھتا ہوا ذریعہ ہے۔ اگر پبلک ہیلتھ کا شعبہ نوجوان تمباکو نوشوں کے لیے ویپنگ کے ممکنہ فوائد پر توجہ دے تو اس کا اثر بہت زیادہ بڑھ سکتا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں شدید نفسیاتی دباؤ کے حامل تمباکو نوشوں کی عمر تمباکو نوشی نہ کرنے والوں کے مقابلے میں 15 سال گھٹ سکتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز ملک کے کروڑوں تمباکو نوشوں کی زندگیوں کو موت کے کنویں میں دھکیلنے سے بچانے کے لیے ملک گیر آگہی مہم چلانے، ہر شہر اور گاؤں کی سطح پر تدارک کے مراکز قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ای سگریٹ کی افادیت کو پیش نظر رکھ کر اسے قومی انسداد تمباکو نوشی کی پالیسی کا حصہ بنائے تاکہ جتنا جلدی ممکن ہو سکے اس عفریت سے لوگوں کی جان چھڑائی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
جنید علی خان کی دیگر تحریریں