اصل شکست کس کی؟

امریکہ کو بالآخر افغانستان میں تقریباً بیس سال بعد شکست کا منہ دیکھنا ہی پڑا۔ افغان طالبان نے دلیری، بہادری اور جذبہ ایمانی کے ساتھ امریکہ جیسی سپر پاور کو گھٹنے ٹیکنے پر جس طرح مجبور کیا اس کی مثال ہی نہیں ملتی ساتھ ہی ساتھ اپنے ملک میں اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے ان سب کو بھی معافی دی جنہوں نے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑ دیے تھے۔ افغانستان کی اس دیدہ دلیری کی داد پاکستان سمیت تمام امت مسلمہ دیتی نظر آ رہی ہے۔

امریکہ کی شکست اس بات ثبوت دے رہی ہے اگر آپ سچی لگن، نیت اور اللہ پر یقین کے ساتھ چل نکلتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت آپ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اللہ اور اس کے رسول سرکار دو عالم حضرت محمد ﷺ کے بتائے ہوئے راستوں پر چل کر ہی کامیابی آپ کے قدم چوم سکتی ہے۔ یہ تو ہو گئی افغانستان کی جیت اور امریکہ کی شکست کی بات، مگر اگر ہم اصل شکست پر نظر دوڑائیں تو وہ کس کی ہوئی ہے۔ ؟ اگر ہم غور فرمائیں تو ہمیں پتہ چلے گا اصل شکست خوردہ کون ہیں؟

ہم پاکستانی امریکہ کی شکست پر تو خوش ہیں امریکہ نے جو بویا اس نے کاٹ لیا اور وہ وہاں سے چلتا بنا، لیکن نے جو پچھلے ستر سالوں سے بویا ہوا ہے وہ ہم ابھی تک کاٹ رہے ہیں۔ ابھی حال میں آ زادی پاکستان 14 اگست والے دن اس مقام پر جہاں قرار داد پاکستان منظور ہوئی اسی مقام پر ہم اپنی اخلاقی شکست کھا گئے۔ واقع اس قدر گھناؤنا تھا کہ میرے تو پاؤں زمین سے نکل گئے۔ ایک ٹک ٹاکر اپنے فینز سے ملنے جاتی ہے اور بدلے میں جس طرح ہمارے ملک کے نوجوانوں نے اس کے ساتھ جو سلوک کیا شاید ہی پچھلے 75 سالوں میں ایسا ہوا ہو۔

چلیں اگر وہ سب پلانٹڈ تھا اگر تو پھر سب سے پہلے اس ٹک ٹاکر کو سزا دی جائے ساتھ ہی ساتھ ان 400 نوجوانوں کو بھی عبرت کا نشان بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات نہ ہوں، اور یہی نہیں، اسی 14 اگست کے روز اسی شہر میں رکشے میں بیٹھی حوا کی بیٹی کو ہراساں کیا گیا۔ کیا اسی چیز کی ہمارے نوجوانوں کو آزادی ملی تھی؟ ہمارا قانون جس لاقانونیت کا شکار ہے اس کی مثال بھی آپ کے سامنے ہے۔ اتنے دن گزرنے کے باوجود مقدمہ تو درج ہو گیا لیکن ابھی تک 400 میں سے کسی ایک کو بھی سزا نہیں ملی۔

چلیں اس بات کو چھوڑیں ذرا تھوڑی اپنی یاداشت پر توجہ ڈالیں۔ ابھی تھوڑے ہی عرصہ پہلے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والا واقعہ، عثمان مرزا لڑکی تشدد کیس، اس کیس سے کون واقف نہیں۔ یہ کیس بھی ہماری اخلاقی شکست کی عکاسی کرتا ہے نہ صرف اخلاقی بلکہ ہمارے عدالتی نظام کو بھی شکست کے طمانچے رسید کر رہا ہے۔ عثمان مرزا جو کہ اس کہانی کا مرکزی کردار ہے وہ تو سلاخوں کے پیچھے جا تو چکا ہے لیکن اس کا ساتھی ایف آئی آر میں نام نہ ہونے کی وجہ سے ضمانت پر رہا ہو گیا، اسی شہر میں کچھ روز قبل دردناک واقعہ بھی رونما ہوا نور مقدم کیس۔

کون نہیں جانتا اس کیس کو، اس میں ملزم اپنے جرم کا اقرار بھی کرچکا ہے لیکن اس کو پورے پروٹوکول کے ساتھ فائیو سٹار ہوٹل جیسا کھانا بھی پیش کیا جا رہا ہے، کس ملک میں ایسا ہوتا ہے؟ باقی کیس کا کیا انجام ہوگا یہ بھی آپ سب کو جلد پتہ چل ہی جائے گا، ہم پاکستانی جو امریکہ کی شکست پر خوش ہو رہے ہیں ان کو میں بتاتا چلوں شکست خوردہ کافر امریکہ کا عدالتی نظام آپ دیکھیں کہ وہاں پر جارج فلائیڈ کا قتل ڈیریک چوون نامی پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہوتا ہے۔

اس واقعہ نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی، اس کے بعد ڈیریک چوون پولیس کی گرفت میں آتا ہے اور اس سے پیٹی بھائیوں جیسا سلوک بھی نہیں کیا گیا ایک سال تک ٹرائل چلا عدالتوں میں پھر آخر میں اسی امریکہ کی عدالت نے اس کو 22 سال قید کی سزا سنا دی جس کو ہم کافر، اور شکست خوردہ ملک کا لقب دیے رہے ہیں۔ ہم تو مسلمان ہیں نا ہمارے لئے تو سب سے پہلے اہم عدل و انصاف نہیں ہونا چاہیے تھا؟ میں یہ سوال اپنے آپ سے بھی اور آپ سب سے بھی پوچھتا ہوں کہ ہم کب دوسروں کو برا بھلا کہنا چھوڑیں گے۔

ہمارا تعلیمی نظام ہی دیکھ لیں جو بار بار چیخ رہا ہے کہ وہ شکست کھا چکا ہے، ہم جس اسرائیل کو یہودی ہونے کا ہر وقت طعنہ دیتے رہتے ہیں ان کے تعلیمی نظام پر اگر نظر ڈالیں تو وہ یہودی ہمیں شکست دے چکے ہیں۔ پاکستان کی شرح خواندگی 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق 59 فیصد اور اسرائیل کا صرف 97 فیصد تو آپ ہی بتا دیں کہ شکست کس کی ہوئی؟ کیا ہمارے پیارے نبی ﷺنے علم اور تعلیم حاصل کرنے پر زور نہیں دیا؟ چلیں زیادہ دور نہ جائیں اپنے پڑوس میں ہی دیکھ لیں بنگلہ دیش وہ ملک جو ہم سے علیحدہ تھا اس کی 74 فیصد شرح خواندگی اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ ہم شکست کھا چکے۔

ہم ہالی ووڈ کو ہر وقت فحاشی کا طعنہ دیتے رہتے ہیں لیکن کبھی خود ہم نے اپنے آپ کو دیکھا ہے ہم خود کیا کر رہے ہیں؟ امریکہ میں ہونے والے 2021 کے آسکر ایوارڈ کی تقریب میں آنے والی خواتین کے کپڑے اور ہمارے ایوارڈ شو میں آنے والی خواتین کے کپڑے دیکھ لیں آپ کو پتہ لگ جائے گا کون زیادہ فحاش بننا چاہ رہا ہے۔ چلیں یہ بھی چھوڑیں ابھی اسی سال مارچ میں گوگل کی ایک رپورٹ آتی ہے جس میں بتایا گیا کہ کن دس ممالک نے سب سے زیادہ پورن سرچ کیا and guess what؟

کس ملک کا نام سر فہرست تھا آپ کا اور میرا اسلامی جمہوریہ پاکستان! مسلمانوں کا ملک پاکستان اس رپورٹ میں دس میں چھ ملک تو مسلمانوں کے تھے۔ اف توبہ! گوگل کی رپورٹ نے بھی صاف صاف بتا دیا کہ فحاشی میں شکست کس کو ہوئی۔ ہمارے مذہب اسلام میں شراب حرام ہے لیکن پھر بھی یہاں ہمارے پیارے پاکستانی بھائی شراب کی دکانوں پر نظر کیوں آتے ہیں؟ ہم نے تو اپنے ہی مذہب کے خلاف جا رہے ہیں۔ کیوں کیا ہم نے ایسا؟ جھوٹ بولنا، کرپشن کرنا، چوری کرنا، اخلاق سے گری ہوئی حرکت کرنا یہ سب کافر امریکہ نہیں بلکہ ہم مسلمان پاکستانی کر رہے ہیں جو کہ افسوس ناک اور تشویشناک ہے کسی بھی محب وطن پاکستانی کے لئے افغانستان کی فتح اور امریکہ کی ہار پر ہم خوش تو رہے ہیں جو کہ ہونا بھی چاہیے مگر ہم خود کب، اپنی گندی سوچ کو شکست دے رہے ہیں؟

ہم کب کرپشن کو شکست دے رہے ہیں؟ ہم کب فحاشی کو شکست دے رہے ہیں؟ ہم کب اس کرپٹ عدالتی نظام کو شکست دے رہے ہیں؟ ہم کب اس برباد تعلیمی نظام کو شکست دے رہے ہیں؟ آخر کب؟ ہمیں شکست دینا ہوگی، ورنہ ہمارا حال بھی وہی ہونا ہے جو ہم سے پہلی قوموں کا ہوا۔ آخر میں شاعر مشرق سے معذرت کرتا ہوا یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اقبال تیرے شاہین اب گدھ بن چکے ہیں جو اس ملک نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words